All India Congress Committee - AICC
 
 
 

کانگریس اور تحریک آزادی

 

کانگریس کی پیدائش 

کانگریس کا ابتدائی دور

عدم تعاون تحریک 

ستیہ گرہ کا دور 

دوسری عالمی جنگ اور کانگریس 

ہندستان چھوڑو تحریک

کرو یا مرو 

آزادی کے منصوبے 

فسادات- تقسیم -فسادات 

طلوع آزادی 

 

کانگریس کی پیدائش

 

پس منطر

 

1857 کی بغاوت کچل دی گئی اورہندستان میں برطانوی سلطنت کو بچا لیا گیا۔ اس کے بعد ملکہ وکٹوریہ ہندستان کی فرماں روا ہوگئیں اورایک نئی پالسی شروع کی گئی ۔ لیکن یہ پہلے سے سے بھی زیادہ رجعت پسندانہ تھی اورآگے چل کر بہت ضرررساں چابت ہوئی ۔ اب ہنوستان کے رجواڑوں کو برطانوی راج کے مہروں کے طور پراستعمال کیا جانے لگا اورمزاحمت اور ترقی کی طاقتوں کومات دینے کیلئےان کی حوصلہ افزائی کی جانےلگی ۔ حکومت کو اب سماجی اصلاحات کو بڑھاوا دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ اس غیرمداخلت پسند اقتدار کےدوران پوری طرح سوچ سمجھ کر زوال پذیر طبقئہ اشرافیہ ، توہمات اورباہم متصادم عقیدوں اوررسوم کو باقی وبرقراررکھنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس رویئے نےاس برطانوی استعمارکو پروان چڑھایا جس کی جڑیں مذہبی اختلافات، ذات برادری اور چھوا چھوت ، رجواڑوں اور اشرافیہ کے نظام میں گہرائی تک اتری ہوئی تھیں۔

 

اقتصادی اور سیاسی بے چینی

 

اقتصادی استحصال کی پالسی پہلےسےکہیں بدتر ہوگئی مگروہ چالاکی سےبھری ہوئی تھی۔ کسانوں کی غریبی اوربےبسی میں اضافہ ہوتھا چلاگیا جس کےنتیجےمیں سیاسی بے چینی برھنے لگی۔

 

عام ہندو مسلمان لوگوں نےجب بھی موقع ملا اور جوبھی طریقہ میسرہوا اس بھیانک ظلم وجبر کےخلاف جدوجہد کی۔ ایک نیا انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ پیدا ہوچکا تھا جسے حکومت کا انتظام چلانے کیلئے استعمال کیا جانا تھا۔ یہ طبقہ ہر مغربی چیز کا زبردست شائق تھااور حکومت کی حمایت کرتا تھا۔

حکومت کےمختلف اقدامات کے نتیجے میں لبرل تصورات اور اداروں کی برطانوی روایت پر نئے تعلیم یافتہ طبقوں کے یقین کو ٹھیس پہنچی۔ میٹکاف نے پریس کی آزادی کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ جلد ہی ختم کردیا گیا۔ 1878میں مقامی پریس کی آزادی دبادی گئی اور بنگالی زبان کےاخبار‘‘ امرت بازارپتریکا ‘‘ کو راتوں رات انگریزی کا چولا پہننا پڑا۔ 1879 میں اسلحہ قانون منظورکیا گیا۔ یہ بےیقینی اورنا امیدی اس وقت اوربڑھ گئی جب پوری برادری اورسول سروس کی زبردست مخالفت کی وجہ سے‘ نسلی فرق پرمبنی عدالتی امتیازات‘ کو ختم کرنے سے متعلق فلبرٹ بل کو واپس لےلیا گیا۔ یورپی برادری نے وائسرائےلارڈرپن کو دھمکی دی کہ بل منظور کیا گیا تو تشدد ہوگا۔ ہندستانیوں کیلئے اس میں ایک سبق تھا۔ 1853 میں پہلی سوت مل بمبئی میں قائم کی گئی۔ 1880 تک ان ملوں کی تعداد بڑھ کر 156 تک جاپہنچی ۔ ترقی کی یہ رفتار بہت چونکانےوالی تھی۔ لنکا شائر کےدباؤ میں 1882 میں ہندستان درآمد کی جانےوالےسوت کو تمام محصولات سے بری کردیا گیا۔

 

سماجی بیداری

 

کانگریس صرف اقتصادی استحصال اور سیاسی طور پر زیر فرمان ہونے کےاحساس کے نتیجے میں ہی وجود میں نہیں آئی ۔ کانگریس کی پیدائش سے کوئی پچاس سال پہلےسے قومی احیاء اور بیداری کا خمیر اٹھ رہا تھا۔ درحقیقت راجہ رام موہن رائےکے زمانے ہی سے جنہیں ہندستانی قوم پرستی کا پیغمبراور جدید ہندستان کا بانی کہا جا سکتا ہے قومی زندگی میں ایک زبردست ہلچل پیدا ہوچکی تھی۔ ان کی نگاہ اور نقطئہ نظر بہت وسیع تھا۔ اگرچہ انہوں نے اپنے زمانے کےسماجی اورمذہبی حالات کواپنےاصلاحی سرگرمیوں کا خصوصی مید ان بنایا مگر انہیں ان سنگین سیاسی نا انصافیوں کا شدید احساس تھا جن سےملک اس زمانےسےدوچار تھا اورانہوں نےان نا انصافیوں کے خاتمےکیلئےزبردست کوششیں کیں۔ راجہ رام موہن رائے 1776 میں پیدا ہوئےاور1883 میں برسٹل میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کا نام ہندستان میں کی گئی دوزبردست اصلاحات سےوابستہ ہے۔ یہ اصلاحات ہیں ستی کی رسم کا خاتمہ اورملک میں مغربی تعلیم کا آغاز۔ انہوں نےاپنی عمرکےاواخرمیں انگلینڈ جانےکا فیصلہ کیا اوران کا جذبہ آزادی اتنا شدید تھا کہ جب وہ کیپ آف گڈہوف، پہنچےتوانہوں نےاصرارکیا کہ کسی فرانسیسی جہازپر لےجایا جائے۔ جس پرآزادی کا پرچم لہرارہا ہواوراس پرچم کو دیکھتے ہی وہ چیخ اٹھے‘ اس پرچم کی عظمت کو سلام ‘۔ اگرچہ وہ مغل شہنشاہ کےسفیر کی حیثیت سےانگلینڈ گئےتھے جہاں انہیں بعض امور میں اس کی پیروی کرنی تھی مگر اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئےانہوں نےبرطانوی پارلیمنٹ کےایوان زیریں کی ایک کمیٹی کے سامنے ہندستا ن کی بعض سنگین شکایات بھی رکھیں۔ انہوں نے ہندستان کےمالیاتی نظام عدالتی نظام اور ہندستان کی مادی صورت حال کے بارے میں تین مقالات پیش کئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سےان کےاعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ 1832 میں جب پارلیمنٹ میں چارٹرایکٹ پربحث ہورہی تھی تو انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل منظور نہ کیا گیا تو وہ برطانیہ کے زیراقتدار علاقےکو چھوڑ کرامریکہ جابسیں گے۔

 

1858میں ہونیورسیٹیاں قائم کی گئیں اور1861 سے1863 کے درمیان ہائیکورٹ اورقانون ساز کونسلیں وجود میں آئیں۔ ‘غدر‘ کےذرا پہلے بیواؤں کی شادی سےمتعلق قانون اور عیسائیت اختیار کرنے متعلق قانون کو منظوری دی گئی ۔19 ویں صدی کی چھٹی دہائی میں مغربی تعلیم سے رسم وراہ شروع ہوئی اور مغربی قانونی اداروں اور پارلیمانی طریقوں کو متعارف کرایا گیا جس سے قانون اور قانون سازی کےایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ مغربی تہذیب نے براہ راست زیراثرآنے والے ہندستانیوں کے عقائد اورجذبات پر گہرے اثرات مرتب کئے۔

 

بنگال، بمبئی اورمدارس ہی وہ ہندستانی صوبےتھے۔ جہاں جدید تعلیم کا تھوڑاسلسلہ شروع ہواتھا۔ ان صوبوں میں بھی تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد بہت کم تھی ۔غدرکےبعد ہونے والی مصالحتی کوشوں کےزیراثران تعلیم یافتہ لوگوں کواپنےعزائم کو بروئےکار لانےکےخاصےمواقع حاصل ہوئے۔ نئی تعلیم کےنتیجےمیں پیدا ہونےوالے‘ بابو‘ لوگ اپنےانگریز آقاؤں کی طرح سوچتے تھےاورمغرب سےآنے والی ہرچیز کو پسند اوراس کی تقلید کرتےتھے۔

 

جلد ہی ملک سے بیگانگی کے اس عمل کے خلاف ردعمل ہوا جس نے کئی شکلیں اختیار کیں۔ ان میں ایک صورت مغرب اور مشرق کے اتحاد اور آمیزش کی تھی اور دیگر صورتیں ماضی کی طرف مرجعت اور احیاء پسندی کی تھیں۔

 

برہموسماج اور پرارتھنا سماج

 

راجہ رام موہن رائےکے زمانے میں بوئے گئے مذہبی اصلاح کے بیج برگ وبار لانے لگے ۔ کیشپ چندر سین نے جو رام موہن رائے کی وارثت کے امین تھے برہمو سماج کے پیغام کو دور دور تک پہنچایا اوراس کےاصولوں کو ایک نیا سماجی رخ دیا ۔ انہوں نےاصلاحی تحریک پر توجہ مرکوزکی اور انگلینڈ کےمصلحین کے ساتھ اشتراک کے رشتے قائم کئے۔ 1872 کے سول میرج ایکٹ !!! کو منظور کرانے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔

 

بنگال کے برہمو سماج کےاثرات سارے ملک پر پڑے ۔ پونا میں اس نے پرارتھنا سماج کی صورت اختیار کی جس کے قائد ایم جی رانا ڈے تھے۔ وہ سماجی اصلاح کی ایک ایسی تحریک کے بانی تھے جس نے کئے برسوں تک کانگریس کے ساتھ مل کر کام کیا ۔ تاہم اس اصلاحی تحریک میں ماضی سے ایک طرح کی روگردانی اور ملک کے قدیم اور روایتی عقائد کے خلاف بغاوت کا رویہ بھی شامل تھا جو مغربی اداروں کی تڑک بھڑک کےزیر اثر پیدا ہوا تھا جس نے ان اداروں کی سیاسی قدروقیمت کے سبب مزید شدت پیداکردی تھی ۔

 

آریہ سماج

 

شمال مغربی ہند میں قابل احترام سوامی دیانند سرسوتی کےقائم کردہ ‘ آریہ سماج‘ اور جنوبی ہند کی تھیوسوفیکل تحریک نےمغربی تعلیم اورعلوم کےزیراثرپیدا ہونےوالی مذہبی آزاد خیالی اورمذہب بیزاری کی ضروری اصلاح کی ۔ یہ دونوں شدید قوم پرستانہ تحریکیں تھیں ۔ ان میں سے‘ آریہ سماج‘ تحریک جارحانہ جذبہ حب الوطنی کی حامل تھی۔ اس نے ویدوں میں ناقابل خطاہونےاورویدک کلچرکی برتری پرزوردیا مگر وہ وسیع تر سماجی اصلاحات کےخلاف نہیں تھی ۔ اس طرح اس نےقوم میں ایک پرشجاعت مردانگی کو فروغ دیا جووراثت اورموجودہ ماحلول کےبہترین عناصرکی آمیزش سے پیدا ہوئی تھی۔ آریہ سماج تحریک نےبرہمو سماج کی طرح بہت سی سماجی برائیوں ، ہندو مذہب میں رائج توہمات اورکثرت الہٰ ، بت پرستی اور کثرت ازدواج کے خلاف جدوجہد کی۔

 

تھیوسوفیکل تحریک

 

تھیوسوفیکل تحریک کا دائرہ علم اور وابستگیاں بہت وسیع تھیں اور اس نے اپنی ثقافتی روایت کے عظیم عناصرکی تجدید اور بازآبادکاری پر خصوصی توجہ دی۔ اسی جذبے کے تحت محترمہ اینی بیسنٹ نے بنارس میں ایک کالج قائم کیا۔ اس تحریک کی سرگرمیوں نے ایک طرف بین الاقوامی بھائی چارے کے جذ بے کو فروغ دیا تو دوسری طرف مغرب کی عقلی برتری کے روئے پر روک لگائی اور ہندستان میں ایک نیا ثقافتی مرکز قائم کیا جس کی وجہ سے مغرب کے اہل دانش نے ایک بار اس قدیم سرزمین کی جا نب توجہ دینی شروع کی۔

 

رام کرشن مشن

 

کانگریس کےوجود میں آنے سے قبل ہندستان میں جاری قومی بیداری کا ایک اور پہلو بنگال کے عظیم روحانی پیشوا رام کرشن پرم ہنس سے وابستہ ہے جنہں سوامی وویکا نند کی صورت میں ایک خاص شاگرد حاصل ہوا جس نے ان کے پیغام کو مشرق اور مغرب میں عام کیا ۔ رام کشن مشن محض روحانیت کو فروغ دینے والی تنظیم نہیں بلکہ ایک گہری ماورائیت کا سرچشمہ تھا جس نے ‘لوک سنگھرش ‘ یا سماجی خدمت کے فریضے کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔

سوامی وویکا نند کو امریکہ میں ‘ طوفانی ہندو‘ کا نام دیا گیا۔ انہوں نے ہندستان کے پیغام کو امریکہ ، یورپ ۔ مصر ، چین اور جاپان میں عام کیا مگر وہ مغرب سےبھی حددرجہ متاثر تھے

اورانہوں نے ہندستان میں کیپ کمودن سے ہمالیہ کی بلندیوں تک تجدید واحیاء کا ایک نیا پیغام دیا۔ انہون نے آزادی ، مساوات اور عوام کو اوپر اٹھانےپرزوردیا ۔ وہ مغرب کی مادی ترقی اور ہندستانی روحانیت کا امتزاج چاہتےتھے۔ ان کی تقریروں اورتحریروں میں ‘ ابھے‘ یعنی بے خوفی کا عنصر مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ وہ کہتے تھے۔‘‘ بے خوف بنو۔ طاقتور بنو کیونکہ کمزوری گناہ ہے، کمزوری موت ہے۔‘‘

 

وویکا نند کے ہم عصرمگران کے بہت بعد کی پیڑھی سےوابستہ ربیندرناتھ ٹیگورتھے۔ ٹیگور خاندان نے19 ویں صدی کےدوران بنگال کی کئی اصلاحی تحریکوں میں حصہ لیا ۔ اس نے ہمیں اربیندرناتھ ٹیگوراوردیگر عظیم روحانی رہنما اورفن کاردئے۔ ٹیگورنے سارے ہندستان کو حد درجہ متاثر کیا اورانہوں نےادب ، شاعری ، ڈرامہ ، موسیقی ، سماجی تعلیمی تعمیرنو اورسیاسی فکر کے شعبوں میں اپنے جو نقوش ثبت کئے ہیں ان کے حسن اور گہرائی کا کوئی ثانی نہیں۔ ٹیگور کی شخصیت انسانی صفات کا ایک عجوبہ تھی جس نے بعد کی نسلوں کے ذہن کو متاثر کیا اور ان کی رہنمائی کی ۔ ٹیگور کی خاص عطا مشرق ومغرب ، جدید اور قدیم اور ملک میں جاری قومی لہر اور بین الاقوامییت کے درمیان امتزاج پیدا کرنا تھا۔

افکاروجذبات کی انہی لہروں اور تحریکوں نے اس نئے قومی شعوراور آرزؤوں کوزندگی بخشی جنہوں نے دھیرے دھیرے اور منزل بہ منزل انڈین نیشنل کانگریس کی صورت اختیار کی۔

 

ایک کل ہند تنظیم کا خیال

 

کانگریس کووجود میں لانےکا اعزازاکثر ایلن آکٹیوین ہیوم کو دینےکی کوشش کی جاتی ہے جنہوں نے وائسرائے لارڈ افرن کی سرپرستی میں اس کا اافتتاح کیا ۔ اس طرح یہ کہنے کی کوشش کی جاتی ہےکہ ہندوستانی قوم پرستی کو پروان چڑھانے والےانگریز تھے۔ یہ سچ ہےکہ ہیوم نے1885 کے کانگریس اجلاس کا اہتمام کیا تھا۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ کانگریس مختلف سیاسی ، اقتصادی اور سماجی قوتوں کی فطری اور ناگزیر پیداوار تھی۔

 

زیادہ چاق وچوبند برطانوی حکام اوراہل انتظام ملک میں ابھرتی اوربڑھتی ہوئی بے چینی سے بےخبر نہیں تھے۔‘‘نوکر شاہی پر مبنی ناعاقبت اندیش حکومت اس وقت ایک طرف اپنے چھوٹے کرّوفرکےاڑتے ہوئےپرزوں اوردوسری طرف لاکھوں لوگوں کےامنڈ تے ہوئےاضطراب سےخوف زدہ اورلرزہ براندام تھی۔‘‘ جناب ہیوم نےبھک مری جیسےحالات اورشدید مایوسی کے شکار لوگوں کےذریعے عنقریب برپا ہونے والی ‘‘ بھیانک انقلاب‘‘ کے بھرپور شواہد جمع کئے اوران عوامی جذبات کوایک پرامن راہ اظہار دینےکےطریقے تلاش کرنےکی کوشش کی۔

 

جناب ہیوم نے یکم مارچ 1883 کو کلکتہ یونیورسیٹی کے گریجوٹوں ‘ کے نام ایک خط لکھا اور اس کے جواب میں 1884 میں انڈین نیشنل یونین ، قائم کی گئی جس کا مقصد کل ہند سطح پر ایک آئینی احتجاج منظم کرتا تھا۔ اس کا اجلاس پونا میں ہونا طے پایا۔ حکومت نےشروع میں اس تنظیم کی سرپرستی کی مگربعد میں جب اسےاحساس ہوا کہ یہ اس کےمنصوبوں اور توقعات سے تجاوز کرگئی ہے تو یہ سرپرستی جلد ہی ختم کردی گئی ۔ چند برسوں کے اندر ہی اسے بغاوت کی فیکٹری ، کہا جانے لگا اور خود لارڈافرن نےاسے ہندستان کی آبادی کے ایک ‘‘ نہایت غیر اہم اقلیت ، کی نمائندگی کرنے والی تنظیم قراردے کراس پر لعن طعن کی۔

 

کانگریس سےپہلےکئی صوبائی سیاسی تنظیمیں موجود تھیں۔ بنگال میں، جو ان دنوں ترقی میں پیش پیش تھا1843میں برٹش انڈین سوسائیٹی قائم کی گئی جوبعد میں برٹش انڈین ایسوسییشن میں ضم ہوگئی ۔ اس تنظیم میں راجندرلال مترا، رام گوپال گھوش، پیارے چند مترّ اور ہریش چندر مکھرجی جیسے مشاہیر شامل تھے۔ بمبئی میں بامبے ایسوسیشین تھی جس سےجگن ناتھ شنکرسیٹھ ، دادابھائی نوروجی ، وی این مانڈلک اور نوروجی فردن جی جیسےافراد وابستہ تھے۔

 

بعد میں کئی اور تنظیمیں مثلا بنگال میں انڈین ایسوسیشن ، پونا میں راناڈے کی قیادت میں ساروجنک سبھا اور مدراس میں مہا جویا سبھا قایم کی گئیں ۔ سریندر ناتھ بنرجی نے1877 اور بعد کے برسوں میں سارے ملک کا دورہ کیا اور انڈین ہوم رول اور وقت کے اہم سیاسی سوالات کے بارے میں ایک مہم کا سلسلہ شروع کیا ۔ انہوں نے اسی سال دہلی دربار میں شرکت کی جس میں ایک کل ہند سیاسی تنظیم کا خیال پیش کیا گیا۔

 

دسمبر1884میں مدراس میں تھیوسوفیکل سوسائیٹی کا سالانہ اجلاس ہواجس میں کئی ممتاز شخصیات نےشرکت کی اورایک کل ہند قومی تحریک شروع کرنےکا فیصلہ کیا۔ اس طرح حکومت کی جانب سےنیشنل کانگریس قائم کرنے،اس کے قیام کا اعزاز حاصل کرنےاوراسےاپنے ماتحت رکھنے کیلئے زمین تیار ہوئی۔

 

کانگریس کا ابتدائی دور 

 

ہنددستانی قوم پرستی کی تحریک بنیادی طور پر بیرونی تسلط سے چھٹکارا پانے کی تحریک تھی۔ اس میں قومی زندگی کے تمام شعبوں پر مشتمل جامع کوششیں شامل تھیں۔

انڈین نیشنل کانگریس ، جوغالبا دنیا کی سب سےپرانی اورسب سے بڑی جمہوری تنظیم ہے، کی پیدائش کسی دھوم دھڑاک کےماحول میں نہیں ہوئی اور نہ اس نے تڑک بھڑک والی قراردادیں منظور کرکے کوئی سنسنی پیداکی۔

 

ہیوم کی پہل قدمی

 

جناب ایلن آکٹیوین ہیوم نے 1884میں، اڈیار ، مدراس میں تھیوسوفیکل سوسائیٹی کے سالانہ اجلاس کے دوران کانگریس کو تشکیل دینے سے متعلق اپنے منصوبے کو دوستوں پر ظاہر کیا ۔ 1885 میںپونا میں اس کا اجلاس کرنے کی تیاریوں کےلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ یہ کمیٹی جناب ہیوم، جناب ایس سبرامنیہ ایرّ ، جناب پی آنند چارلو، جناب وی این مانڈلک ، جناب ٹی ٹی تیلگ ، سردار دیال سنگھ اور لالہ شری رم پر مشتمل تھی۔

 

جناب ہیوم نے، جو اب بھی سرکاری ملازم تھے، بعض ‘‘ قرارداوں ‘‘ پراظہار خیال کیا جو کلکتہ یونیورسیٹی کےگریجوٹوں کے نام ایک کھلےخط کی شکل میں تھیں اورانہیں منظوری دی گئی ۔ ان قراردادوں میں اپنی مدد آپ کرنے کی پرجوش اپیل کی گئی تھی۔

جناب ہیوم نےکہا ‘‘ اور اگر ان تمام برسوں کے دوران فکر وخیال کےرہنما، ہندستان میں ان قراردادوں سے متعلق احتاجج ، کو چھوڑکر، یا تو ایسےلاچار اور بے کس رہے ہیں یا اپنے ذاتی مفادات سےاتنےوابستہ رہے ہیں کہ اپنے ملک کی خاطر ذرا بھی اقدام کرنے کی جرائت نہ کرسکیں تو پھر منصفانہ اوربجا طور پر دیا ئےاورکچلےجارہےہیں کیوں کہ وہ اس سے بہتر سلوک کےمستحق ہیں ہی نہیں ۔ ہر ملک کو باکل ویسی ہی حکومت حاصل ہوتی ہے جس کا وہ مستحق ہوتاہے۔ اگر آپ سب، جومنتخب اورملک کےسب زیادہ تعلیم یافتہ افراد ہیں اپنےذاتی عیش وآرام اورخود غرضیوں کوترک کرکے، اپنےاوراپنےملک کیلئےزیادہ آزادی ، ایک زیادہ غیر جانبدار انتظامیہ، اپنےمعاملات کے بند وبست میں زیادہ حصے داری حاصل کرنے کیلئےپرعزم کوششیں نہیں کرسکتے تو پھر ہم ، جو آپ کے دوست ہیں ، غلطی پرہیں اورہمارے مخالفین راہ راست پر، اور آپ کی بھلائی کیلئےلارڈ رپن کی تمام نیک خواہشات بےثمر اور محض وہم وخیال ہیں اور اس طرح، کم ازکم فی الحال، ترقی کی تمام امیدیں ختم ہوچکی ہیں اورہندستان سچ مچ اس بہترحکومت کا مستحق نہیں جیسی کہ اسےحاصل ہے۔‘‘ اگر سچائی یہی ہےتو پھر اب ہمیں یہ فرقہ بندی والی تنک مزاج شکایتیں اور سنائی نہیں دینی چاہیں کہ آپ لوگوں کو پابندیوں میں رکھا جاتا ہےاوربچوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے کیونکہ آپ لوگوں نےاپنےآپ کوایسا ہی ثابت کردکھایا ہے۔ انسانوں کوسمجھنا چاہیے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اب یہ شکایت نہیں کی جانی چاہیےکہ تمام اہم عہدوں پرانگریزوں کوترجیح دی جاتی ہےکیونکہ اگرآپ مفاد عامہ کےاس جذبےاوران اعلاترین فلاحی عزائم سےعاری ہیں انسانوں کو اپنےذاتی امورکو اجتماعی بہود کےماتحت کرنے پرآمادہ کرتے ہیں اور حب الوطنی سےمحروم ہیں جس نے انگریزوں کو وہ بنایا ہے جو وہ آج ہیں تو پھر انہیں آپ پربجا طورپر ترجیح دی جاتی ہےاور وہ بجا طور پر ناگزیر طور پرآپ کے حکمراں بنے ہوئے ہیں اورانہیں آپ کو حکمراں اورمالک بنے رہنا چاہیے یہاں تک کہ آپ کےکاندھوں پررکھاہواجوا حد دردجہ تکلیف کا باعث نہ بن جائےاورآپ اس دائمی سچائی کومحسوس نہ کرنے لگیں اوراس پرعمل کرنےپرآمادہ نہ ہوجائیں کہ ایثار ذات اوربےغرضی ہی آزادی اور خوشی حاصل کرنےکے ناقابل شکست اصول ہیں‘‘

 

پہلا اجلاس

 

کانگریس کا پہلا اجلاس پونا میں ہونا تھا مگر ہیضہ پھیل جانے کے سبب اسے بمبئی منتقل کردیا گیا اور یہ اجلاس 28 دسمبر 1885 کو کلکتہ بار، کی ممتاز شخصیت جناب ڈبلو سی بنر جی کی صورت میں منعقد ہوا۔ اگر چہ پہلے طے کیاگیا تھاکہ انڈین نیشنل کانگریس کا پہلا صدر ہونے کیلئے لارڈ ری۔ اے، گورنر بمبئی ، سے گذارش کی جائے مگریہ نہ ہوسکا کیون کہ وائسرائے نے گورنر کو مشورہ دیا کہ وہ یہ پیش کش قبول نہ کریں ۔ ملک کے مختلف حصوں کے 72 مندوبین نے اس اجلاس میں شرکت کی جن میں دادابھائی نوروجی ، فیروز شاہ مہتا، کے ٹی ٹیلگ ، دنشاواچا وغیرہ اہم تھے۔ یہ ملک کے تمام حصوں کے ممتاز افراد پر مشتمل ایک حقیقی طورپر قومی اجلاس تھا۔

اجلاس کےصدر نے کانگریس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا یہ ‘‘ برطانوی راج کے مختلف حصوں میں ہمارے ملک کےمعاملات کیلئے نہایت لگن سے کام کرنے والوں کے درمیان قربت اور دوستی کو فروغ دینے اورنسلی ، عقیدے یا صوبوں کے تعصبات کو ختم کرنےاور قومی اتحاد کو پوری طرح ترقی دینے‘‘ کیلئے تمام کام کرے گی۔

کانگریس کی تنظیم نے اپنے ابتدائی اجلاسوں میں اپنی سرگرمیوں کو کم وبیش بحث مباحثے تک محدود رکھا۔

1887میں مدراس اجلاس کے بعد رائے عامہ ہموار کرنے کی ایک زبردست مہم شروع کی گئی ۔ ہیوم نے ‘ایک بوڑھے شخص کی امید ‘ کےعنوان سے ایک پمفلٹ شائع کیا جس میں انگلینڈ کے لوگوں سے ان الفاظ میں خطاب کیاگیا تھا‘‘ اے خوش خوراک اور خوش حال لوگوں ! کیا تمہیں ان بے شمار لوگوں کی حالت زار کا احساس ہے ؟ تمہارے خیال میں پیدائش سے موت تک سورج کی کتنی شعائیں ان کی غم زدہ اور اداس راہوں کو روشن کرپاتی ہوں گی؟ صرف محنت ومشقت ، بھوک اور بھوک ، بیماری ، غم وآلام ہائے افسوس ، صد افسوس ان کے مختصر اور اداس وجود کے بنیادی نشانات ہیں‘‘ ۔

دسمبر1889میں کانگریس کا اجلاس سرویلیم ویڈربرن کی صدارت میں بمبئی میں متعقد ہوا۔ اس میں برطانوی پارلیمنٹ کے رکن چارلس بریڈلےنے شرکت کی۔ انہوں نےاجلاس سےان لفظوں میں خطاب کیا ‘‘عوام نہیں تومیں اورکس کیلئے کام کروں ؟میں عوام میں پیدا ہواہوں، مجھےعوام کا اعتماد حاصل رہا ہےاورمیں عوام کیلئےہی اپنی جان دونگا ، اورمیں کسی بھی جغرفیائی یا نسلی حدود کو نہیں مانتا‘‘۔

دسمبر1893 میں ہونے والےکانگریس کےلاہوراجلاس کیلئے دادابھائی نوروجی کو دوبارہ صدرمنتخب کیا گیا۔ بمبئی سےلاہور تک کا ان کا سفر ایک جلوس کی طرح تھا اور راستے میں جگہ جگہ لوگوں نےان کا اعزاز واکرام کیا۔ امرتسر کے گولڈن ٹمپل میں انہیں سروپا پیش کیا گیا۔ کانگریس کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دادا بھائی نوروجی نے کہا‘‘ ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہم اپنی مادروطن کی اولاد ہیں۔ بے شک میں نے کوئی کام اس جذبے کے بغیر نہیں کیا کہ میں ایک ہندستانی ہوں اوراپنے کام اوراپنےاہل وطن کیلئے مجھ پر کچھ فرائض عائد ہوتےہیں ۔ میں خواہ ہندو ہوں یا مسلمان ، پارسی ہوں یا عیسائی یا میرا کوئی بھی عقیدہ ہو، میں سب سے پہلے ہندوستانی ہوں۔ ہندسستان ہمارا ملک ہے اور ہندستانی ہونا ہماری قومیت ہے ‘‘

 

اعتدال پسند

کانگریس سے وابستہ ابتدائی لوگ جو 1885 سے 1905 تک انڈین نیشنل کانگریس کے امور پر حاوی رہے اعتدال پسند کہلاتے تھے۔ ان کا تعلق اس طبقے سے تھا جو خون اور رنگ سے تو ہندستانی تھا مگر ذوق ، خیالات ، طورطریقوں اور ذہن کے لحاظ س انگریز تھا۔ یہ لوگ برطانوی اداروں کے حامی تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس وقت ہندستانی کیلئے ضروری تھا کہ وہ انگریزوں اور ان کی پارلیمنٹ کے سامنے اپنی ضرورتوں کو متوازن اور شائستہ انداز سے پیش کریں۔ انہیں برطانوی انصاف پسندی پر یقین تھا۔

اعتدال پسند لوگ باسلیقہ ترقی اور آئینی احتجاج پر یقین رکھتے تھے۔ انہیں صبر وتحمل،استقلال ، مصالحت پسندی اوراتحاد کی قدروں پر یقین تھا۔ سیریندر ناتھ بنرجی کے لفظوں میں ‘‘ آزادی کی فتوحات ایک دن میں نہیں کی جاسکتیں ۔آزادی ایک صدی اورپرملال دیوی ہے جو سخت پرستش مانگتی ہےاوراپنےپجاریوں س ایک طویل اور سخت عقیدتوں کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘ 1887 میں ،بدرالدین طیب جی نے کہا ‘‘ اپنے مطالبات اور اپنی نکتہ چینی دونوں میں اعتدال کا انداز اختیار کیجئے، آپ کے پیش کردہ حقائق درست ہونے چاہییں اورآپ کو منطقی انداز سے نتائج اخذ کرنے چاہیں ۔‘‘

اعتدال پسند لوگ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئےآئینی احتجاج پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک ان کا خاص کام عوام کو بیدار کرنا، قومی سیاسی شعور ابھارنا اور سیاسی سوالات کے بارے میں ایک متحدہ رائےعامہ ہموار کرنا تھا۔ اس کیلئے وہ میٹیگیں کرتے تھے، اخباروں کے توسط سے حکومت پر نکتہ چینی کرتے تھے اور حکومت، حکومت کے حکام اور برطانوی پارلیمنٹ کو عرضداشتیں پیش کرتے تھے۔ وہ برطانوی پارلیمنٹ اور برطانوی رائے عامہ کو متاثر کرنے کیلئے بھی کوششیں کرتے تھے۔ ان عرضداشتوں کا مقصد برطانیہ کے لوگوں اور سیاسی رہنماؤں کوہندستان کےحالات سے باخبر کرنا تھا ۔1889 میں ممتاز ہندستانی رہنماؤں کے وفود برطانیہ روانہ کئےگئے۔ انڈین نیشنل کانگریس کی ایک برٹش کمیٹی 1906 میں تشکیل دی گئی اوراس نے انڈیا ‘ نام کا ایک رسالہ جاری کیا ۔ دادابھائی نوروجی نے اپنی زندگی اور آمدنی کا ایک بڑا حصہ برطانیہ میں عوام اورسیاست دانوں کی رائے ہموار کرنے پر صرف کیا۔

اعتدال پسندوں کا مقصد ‘‘ اعلا سرکاری عہدوں پر بڑے پیمانے پر ہندستاننیوں کا تقرر اور نمائندہ اداروں کا قیام ‘‘ تھا۔

اعتدال پسندوں کے اقتصادی اورسیاسی مطالبات ہندستا کے لوگوں کو ایک مشترک سیاسی پروگرام کی بنیاد پر متھد کرنے کی غرض سے وضع کئے گئے تھے۔ ان لوگون نے سوت کی درآمد محصولات کے خاتمے اور ایکسائز ڈیوٹی عائد کئے جانے کے خلاف ایک طاقتور کل ہند احتجاجی مہم چلائی۔ اس مہم نے لوگوں کا شعور پیدارکیا اور ہندستان میں برطانوی حکومت کے اصل اغراض ومقاصد کا احساس ہوا۔ اعتدال پسندوں نے حکومت سےاپیل کی کہ وہ کسانوں کو زرعی بنکوں کے ذریعے آسان قرضےاور بڑے پیمانےپرسنچائی کی سہولتیں فراہم کرے۔ انہوں نے نوآبادیات میں کام کرنے والے مزوروں کے حالات بہتر کرنے اور ٹیکسوں اوراخراجات کےنظام میں بنیادی تبدیلیاں لانےکا مطالبہ کیا جوغریبوں پر حدردجہ بار ہیں اور دولت مندوں ، خصوصا غیر ملکیوں پر بہت کم بوجھ ڈالتے ہیں۔

اعتدال پسندوں نے ہندستن کی بڑھتی ہوئی غریبی اور اقتصادی پسماندگی کی شکایت کی اور اس کیلئے پوری طرح برطانوی حکومت کو ذمے دار قراردیا ۔ انہوں نے انتظامی اقدامات پر نکتہ چینی کی اور نطم ونسق کی صورتحال کی اصلاح کےلئے بھر پور کوششیں کیں۔ انہوں نے حکومت کے ذریعے اطہار خیال اور پریس کی آزادی پر عائد پابندیوں کی سخت مخالفت کی۔ 1887 میں ، تلک اور دیگر رہنماؤں کو اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے حکومت کے خلاف بدگمانی پیدا کرنے کے الزام میں گرفتار کرکے طویل مدت کےلئے قید میں ڈال دیا گیا۔ پونا کے ناٹو بھائیون کو کسی عدالتی کارروائی کے بغیر شہر بدرکردیا گیا ۔ تلک کی گرفتاری قومی تحریک کےایک نئےمرحلے کا نقطئہ آغاز ثابت ہوئی۔ ‘امرت بازار پتریکا ‘ نے لکھا‘‘ اس وسیع وعریض ملک میں شائد ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جہاں تلک اظہار افسوس کا موضوع نہ ہوں اور جہاں انہیں قید کئے جائے کو قومی ابتلا نہ سمجھاجارہا ہو‘‘

اعتدال پسندوں کی بنیادی کمزوری ان کی محدود سماجی بنیاد تھی۔ ان کی تحریک میں وسیع ترعوامی کشش نہیں تھی ۔ ان کا دائرہ اثرمحض شہر کے لوگوں تک محدود تھا۔ چونکہ انہیں عوام کی حمایت حاصل نہیں تھی اس لئےانہوں نے کہا کہ بیرونی حکمرانوں کو نکال باہر کرنےکا چیلنج پیش کرنےکا وقت ابھی نہیں آیا ہے۔ گوکھلے کےلفظوں میں ‘‘ آپ کو حکومت کی بے پناہ طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔ اگر کانگریس نے ایس کوئی قدم اٹھایا جیسا کہ آپ لوگ کہتے ہیں تو حکومت کواسے کچلنے میں پانچ منٹ بھی نہیں لگیں گے۔‘‘ اس کے باوجود یہ خیال نہین کیا جانا چاہیے کہ اعتدال پسند رہنما اپنے محدود ذاتی اغراض کے لئے کوشاں تھے۔ ان کے پروگرموں اور پالیسوں نے ہندستنی سماج کے تمام طبقوں کیلئےآواز اتھائی اور نوآبادیاتی استحصال کے خلاف سارے ملک کےمفادات کی ترجمای کی ۔ وہ دراصل یہ چاہتے تھے کہ حکمرانی کے موجودہ نظام میں پرامن ، تد ریجی اور ائینی طریقوں سے اصلاح کی جائے یا اسے نرم بنایا جائے۔

اعتدال پسندوں کےاثرات انتہا پسندوں کے ابھرنے کے ساتھ ہی ختم ہوتے چلے گئے جو تدریجی انداز پر یقین نہیں رکھتے تھےاور برطانیہ اور برطانوی سیاسی اداروں پر اعتدال پسندوں کے بھرپور اعتماد پر نکتہ چینی کرتے تھے۔

 

انتہا پسندی کا ابھار

اعتدال پسندوں نے صوبائی قانون ساز اداروں کو زیادہ نمائندہ بنائے جانےاور سول سرویسیز میں ہندستانیوں کے تناسب میں اضافے کیلئے کوششیں کیں مگر اس معاملے میں پیش رفت بہت سست رفتاررہی۔ لہذا برطانوی نوکر شاہی کے غیر ہمدردانہ روئے پر نالاں اور وائسرائے لارڈ کرزن کی نامقبول پالیسوں اورخاص طورپر تقسیم بنگال کے ان کے فیصلے پر برہم نوجوان انتہا پسندانہ سیاست اور راست اقدام کی راہ پر چل پرے۔ بنکال کی تقسیم ( اکتوبر1905 ) کے خلاف احتجاج کے طور پر قوم پرستوں نے برطانوی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔

 

1907 میں بپن پال نے یہ پرتضاد بیان جاری کیا کہ ‘‘ لارڈکرزن کا وائسرائے ہونا اگر ہندستان کے تمام وائسرائیوں کےزمانوں میں سب سے نفع بخش نہیں تو سب سےنفع بخش زمانوں میں ایک ہے ‘‘ کیوں کہ کرزن نے، اپنی نامقبول پالیسوں کے ذریعے ہندستانیوں کو اس قدر نا مطمئن اور مضطرب کردیا کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ عزم وارادے کے ساتھ خود حکومتی کا مطالبہ کرنےلگے۔ اروند نےبھی اعلان کیا کہ وہتقسیم بنگال کوسب سےنفع بخش اقدام تصور کرتے ہیں کیونکہ اس اقدام نے عوام میں شدید مخالفت پیداکرکے قومی جذبات کو ابھارا اور تقویت دی۔

برطانوی حکمرانوں کی سرگرمیوں سے بڑھتی ہوئی بیزاری کے نتیجے اور کرزن تقسیم بنگال کے فیصلے کے خلاف ردعمل میں انتہا پسند عناص کو فروغ ملا جنہوں نے بائیکاٹ ، سودیشی اورقومی تعلیم کی وکالت کی۔ جنوری1907میں، تلک نےاعلان کیا‘‘ ہم مسلح نہیں ہیں اوراسلحہ کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہمارے پاس بائیکاٹ کی شکل میں ایک زیادہ طاقتور، سیاسی ہتھیار ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا۔‘‘ جب آپ سودیشی کو ترجیح دینے لگیں تو اپ کیلئے ودیشی چیزوں کا بائیکاٹ کرنا لازمی ہے۔ بائیکاٹ کے بغیر سودیشی کو فروغ نہیں مل سکتا۔‘‘

آروند، تلک اورپال نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت سے تعاون نہ کریں ۔ ان کا بنیادی خیال ، جس پر بعد میں مہاتما گاندھی نےوسیع ترعوامی پیمانےپرعمل کیا، یہ تھا کہ چونکہ حکومت لوگوں کے تعاون پر منحصر ہے اس لئے جس دن بھی لوگوں نے حکومت کے ساتھ تعاون کرنا بند کیا حکومت کا سارا کام کاج ٹھپ ہوجائے گا یا وہ باقی ہی نہیں رہے گی۔

انتہا ہسندانہ تحریک کے بڑھنے اور پھیلنے کے ساتھ ہی انگلینڈ اور برطانوی اداروں کی چمک دمک ماند پڑنے لگی اور برطانوی اثرات کی جگہ دیسی ذرائع اور یورپی ادب یا باغیانہ خیالات سے پیداہونےوالےاثرات غالب ہونے لگے۔ برطانوی ائین کی تاریخ کے مطالعےسےاعتدال پسندوں میں ڈومنین حیثیت کی حمایت اور یقین پیدا ہواتھا۔ مگر ان قصوں سے کہ کس طرح اٹلی کے لوگوں نے آسٹریا کے لوگوں کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کیا انتہا پسند قوم پرستوں کو مکمل ازادی کا ایک نیا تصور اور آدرش حاصل ہوا۔ اعتدال پسندوں کا مقصد برطانیہ کی چتر چھایا کے تحت خود حکومتی کا حق حاصل کرنا تھا جب کہ انتہا پسند یا شدت پسند مکتب خیال کے سامنے مکمل خود مختاری اور تمام بیرونی تسلط کے خاتمےکا آدرش تھا۔

بال گنگا دھرتلک (1856 تا 1920) اوردیگرانتہا پسند رہنما راست اقدام اور مزاحمت کا طریقہ اختیار کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نےاعتدال پسندوں کی ‘‘سیاسی گداگری ‘‘ کی مذمت کی ۔ بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں تقسیم بنگال کےخلاف احتجاج کےدوران تلک نے لکھا۔‘‘سوراج مانگنےکا وقت اگیا ہے۔ کسی جزوی اصلاح سے بات نہیں بنے گی۔ موجودہ نظم ونسق ملک کیلئے تباہ کن ہے۔ اسے اپنی اصلاح کرنی ہوگی یا یہ ختم ہوجائے گا؛‘‘ ان کےنزدیک سوراج ہر ہندستانی کا پیدائشی حق تھا۔ ایک اورانتہا پسند رہنما بپن پال (1858تا 1932) کا کہنا تھا۔‘‘ سوراج محض سیاسی نہیں بلکہ بنیادی طور پر اخلاقی اصلاح ہے۔ ہماری زبان میں اس کیلئے مستعمل لفظ غیر محکومی نہیں ہے جو انگریزی لفظ انڈی پنڈنس کا لفظی ترجمہ ہوگا بلکہ خود محکومی ہے جو ایک مثبت تصور ہے۔ خود محکومی کا مطلب ہے۔۔انفرادی اور آفاقی کے درمیان مکمل ہم آہنگی۔ ‘‘

تلک کی طرح سوراج کےآدرش پرزوردینے والےایک اور رہنما آروند گھوش (1872تا 1950 ) بھی تھے۔ انہوں نے کہا‘‘ ہم نئے مکتب خیال کے لوگ اس مکمل سوراج کے آدرش سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے جیسا کہ برطانیہ میں پایا جاتاہے‘‘ انہوں نے مزید کہا ،‘‘ ہم بیرونی لوگوں کی ، ہم پر ہماری اپنی تہذیب سے کم تر تہذیب تھوپنے یا برتر اہلیت کی کمزور بنیادوں پر ہمیں ہمارے ورثے سے محروم کرنے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں‘‘

بال گنگا دھر تلک بپن پال اور لالہ لالجپت رائے (1865تا 1928) ‘‘ لال- بال پال ‘‘ کے نام سے معروف سوراجی تکون کے حصے تھے۔ دیگر انتہا پسندوں کی طرح لاجپت رائے کا بھی خیال تھا کہ ہندستان کو آپ اپنی طاقت پر بھروسا کرنا چاہیے اور انگریزوں سے کوئی مدد نہیں لینی چاہیے۔

سوراجی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی حکومت کتنی ہی بہتر یا نرم کیوں نہ ہوجائے، ہندستانیوں کیلئے خود ان کی اپنی حکومت سے زیادہ فائدے مند نہیں ہوسکتی ۔ ان کا رویہ آئرلینڈ کے ‘ فینی ‘ رہنما آرتھرگریفتھ جیسا تھا جن کا کہنا تھا؛‘‘جولوگ برطانوی حکومت کی خرابیاں ختم کرنےکی بات کرتے ہیں وہ غلام ہیں ۔ ہم آئرلینڈ میں برطانوی حکومت کی خرابیاں نہیں بلکہ خود برطانوی حکومت کےخلاف ہیں، وہ اچھی ہو یا بری‘‘ سوراج پسند رہنما آزادی کو اپنا پیداائشی حق مانتے تھے۔

 

سورت تقسیم

1907 میں، کانگریس دوحصوں میں تقسیم ہوگئی اوراعتدال پسندوں نے انتہا پسندوں کا ساتھ چھوڑدیا۔ اس کےکئی اسباب تھے۔ اعتدال پسند لوگ کانگریس کی ابتدا ہی سےاس پر حاوی رہے تھے اور انہیں اب بھی اس پر غلبہ حاصل تھا۔ ان کا سوچنے کا اپنا الگ اندز تھا مگر وہ نئی نسل کےلئے قابل قبول نہیں تھا کیونکہ وہ اعتدال پسندوں کی کوششوں کی رفتار اور طرز قیادت سے سخت نامطمئن تھے۔ ان حالات میں دونوں میں ٹکراؤ ناگزیر ہوگیا تھاجو 1907 میں واقعی عمل میں آگیا۔

اس تقسیم کےسرے 1906کے کلکتہ اجلاس میں تلاش کئے جاسکتے ہیں جہاں اعتدال پسندوں کوہرجانب سےپڑنےوالےدباؤکےتحت سوراج ، قومی تعلیم ، بائیکاٹ اورسودیشی سے متعلق قرار دادیں منظور کرنی پڑی تھیں۔ مگر انہؤں نے یہ سب دل سے قبول نہیں کیا تھا۔ انہیں اندیشہ تھا کہ قومی جدوجہد کی اس بڑھتی ہوئی تیزرفتاری کےنتیجےمیں لاقانونیت پیدا ہوسکتی تھی اوراس سےانگریزوں کو یہ موقع مل سکتا تھا کہ وہ ایک طرف تمام اصلاحات سےانکارکردیں اوردوسری طرف تمام تر سیاسی سرگرمیوں کوکچل دیں۔ اعتدال پسندوں میں خود اعتمادی نہیں تھی۔ انہیں یقین نہیں تھا کہ ایک پائیداراورپروقار قومی جدوجہد ممکن اورمطلوب ہے۔ وہ انتہا پسندوں کوغیرذمےدارافراد سمجھتےتھے۔ جو ملک کےمستقبل کو خطرے میں ڈال دیں گے۔ برطانوی حکومت نےبھی انتہا پسندوں کےمقابلےمیں اعتدال پسندوں کوہم نوابنانےکی کوشش کی ۔ حکومت نےانتہا پسندوں کےساتھ ناروارویہ اخیتار کیا جب کہ اعتدال پسندوں پرنوازش کیں۔ لالہ لاجپت رائے، سرداراجیت سنگھ ، تلک اور بنگال کے خاص خاص رہنماؤں کو شہر بدر کردیا گیا۔

سورت میں ہونے والی کانگریس کی تقسیم بلا شبہ ایک ناخوش گوار واقعہ تھی۔ اس نہ صرف مہاراشڑ بلکہ ملک بھر میں اعتدال پسندوں اورقوم پرست جماعتوں کے درمیان ایک واضح خلیج نمایاں ہوگئی۔ کانگریس کی تاریخ میں پہلی بار ، سورت میں کانگریس کےمندوبین کے درمیان کھلے عام ٹکراؤ ہوا۔ اور معاملہ یہیں نہیں ختم ہوگیا ۔ اس تقسیم نے اس لحاظ سے ایک خلیج کی صورت اختیارکرلی کہ انڈین نیشنل کانگریس کےنام کو فی الحال التوا میں ڈالدیا گیا اور اسکی جگہ کنونشن کے نام سےایک نئی تنظیم قائم کی گئی ۔ مگر جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے یہ کنونشن محض ایک عارضی انتطام تھا جس کا مقصد کانگریس کی جگہ اس وقت تک کام کرنا تھا جب تک کہ اس کا اجلاس اپنی پرانی شکل میں دوبارہ منعقد نہ یو۔ کانگریس کی پرانی شکل کی خاص بات یہ تھی کہ اس کےمندوبین کےانتخاب کیلئے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جاتا تھا۔ رکنیت کیلئے کوئی شرائط نہیں تھیں۔ کانگریس کا کوئی باضابطہ دستور بھی نہیں تھا اور مندوبین کا انتخاب بھی نہیں ہوتا تھا۔ دراصل رکنیت ہراس شخص کیلئے کھلی ہوئی تھی جومندوبین کی حیثیت سےکانگریس اجلاس میں شرکت کرے۔ مندوبین کےانتخاب میں کوئی مقابلہ آرائی بھی نہیں تھی کیونکہ مختلف صوبوں کیلئے کوئی کوٹہ مطئین نہیں تھا۔ کانگریس اجلاس میں کوئی بھی شرکت کرسکتا تھا۔

تلک اوران کے ہم نواؤں کو کنونشن سےاس لئےنکالاگیا کیونکہ وہ اس سیاسی نقطئہ نظرکو تسلیم کرنے کوتیار نہیں تھے جس میں سےآزادی کےآدرش کو خارج کردیا گیا ہو، حالانکہ آزادی ابھی تک محض ایک عینیت پسندانہ خیال ہی تھی سورت میں کنونشن اور نیشنلسٹ پارٹی کےالگ الگ اجلاس ہوئے۔ یہاں یہ قابل غور ہےکہ کانگریس میں اس واضح تقسیم کے باوجود دونوں میں سے ہرفرئق نے اپنی محبت اور وابستگی کا اقرار کیا جوان کے نزدیک ملک کی اصل قومی اسمبلی تھی اوردونوں خیموں میں یہ امید ظاہر کی گئی کہ جلد یا بہ دیر کانگریس پھر متحد ہو جائےگی ۔ کسی نے بھی کانگریس کی تقسیم کومجرمانہ فعل قرارنہیں دیا مگر حکومت سے تلک کو سزاہونے کے بعد ان کی زیر قیادت نیشنلسٹ پارٹی پژمردہ ہوکر تقریبا روپوش ہوگئی ۔ 1908سے1914 تک پورے چھہ سال تک یہ پارٹی یہ فیصلہ نہ کرسکی کہ اسےکانگریس میں شامل ہونے کیلئے کیا کرنا چاہیے۔ ناگپورمیں حریف کانگریس کا اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کی گئی مگر ایک طرف حکومت اس پر پابندی لگادی تو دوسری طرف خود پارٹی میں ایک حریف کانگریس تشکیل دینے پر اتفاق رائے نہ ہوسکا کیونکہ اس سے کانگرس کی تقسیم مستقل ہوسکتی تھی۔ پارٹی کے نرم مزاج عناصر نے سوچاکہ پرانی کانگریس کے مقابلے پرایک نئی کانگریس تشکیل دینا دانش مندی نہیں ہوگی کیونکہ سیاسی جماعتوں میں اتحاد کے بغیر مختلف پارٹیوں کی الگ الگ کارکردگی کا رگر نہیں ہوسکتی ۔ تلک کی پارٹی کا ایک گروہ اعتدال پسند دھڑے کے رہنماؤں کے ساتھ کانگریس میں اپنے ہم خیالوں کے خود اپنی شرطوں پر داخلے کیلئے بات چیت کررہا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ انہیں کسی خاص نقطئہ نظر حاوی رہا جو یہ تھا کہ اس سلسلے میں تلک کے منڈالے سے واپسی تک کچھ نہیں کیا جانا چاہیے۔

 

تلک کا وفادارانہ رویہ

تلک کی واپسی کے بعد کش مکش اور بڑھ گئی ۔ یہ بات جلد ہی کھل گئی کہ تلک کسی حریف کا نگریس کی تشکیل کے خلاف ہیں، حالانکہ اب تک یہ ظاہر ہوچکا تھا کہ کانگریس میں اعتدال پسند دھڑے کی حمایت بہت کم ہے، یہاں تک کہ ایک وقت میں ان کے حامی مندوبین کی تعداد 350 تک بھی نہیں پہنچ سکی تھی، جب کہ یہ اجلاس پنڈت مدن موہن مالویہ جیسی سربرآوردہ شخصیت کی صدارت میں اور شمالی ہند کے سازگار ماحول میں منعقد ہوا تھا۔ اعتدال پسند گروپ کانگریس کے تئیں تلک کے وفادار نہ روئے سے اچھی طرح واقف تھا مگر اس نے اسکی قدر نہ کی ۔ درحقیقت اعتدال پسندوں نے تلک اور ان کے ہم نواؤں کی کانگریس میں دوبارہ شامل ہونے کی تمام کوششوں کی اپنی پوری طاقت سے مخالفت کی۔

اب تلک اور محترمہ اینی بیسنٹ میں اتحاد قائم ہوگیا اور دوہوم رول لیگ وجود میں آئیں ، ایک مہاراشڑ میں اور دوسری مدارس میں۔ 1916 میں لکھنئو کانگریس اجلاس کے وقت تک بیشتر ظاہری زخم بھرچکے تھے۔ دونوں دھڑوں میں باعزت بنیادوں پردوبارہ متحد ہونے کا خیال اورخواہش موجود تھی۔ کانگریس کی رکنیت سےمتعلق بعض شرائط پر اتفاق رائے ہوگیا اوراعتدال پسند دھڑے نےنینشنلسٹ پارٹی کےاستقبال میں باہیں پھیلادیں ۔ تلک آٹھ سال کےوقفےکےبعد کانگریس کے لکھنئو اجلاس میں شریک ہوئےاورانہیں اس زمانےکےواحد سیاسی ہیرو ہننےکا اعزاز دیا گیا۔ یہاں یہ ذکربھی ضروری ہے کہ کانگریس کےاعتدال پسند دھڑے نےاب تک تلک کو کانگریس کا صدر بنانےکےبارے میں فیصلہ نہیں کیا تھا۔ مگر یہ بھی سب جانتےتھےکہ تلک نےکبھی بھی اس اعزاز کیلئے کوئی کوشش نہیں کی اس کےبرخلاف انہوں نےاس معاملےمیں ترک وایثار کا تہیہ کررکھا تھا کیونکہ سب کومعلوم تھا کہ 1907 میں ناگپور میں استقبالیہ کمیٹی کےزریعہ ناگپورکا نگریس اجلاس، جو نہ ہوسکا، کاصدر منتخب کئے جانےکےباوجود انہیوں نےاپنی جگہ لالہ لاجپت رائےکانام تجویز کردیا تھا۔ دوسال یعنی1916اور1917 کےدوران تلک کو سالانہ کانگریس کے اجلاسوں اوربمبئی کےخصوصی اجلاس میں بلاشبہ مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ جب تلک کو کانگریس کا صدر اس وقت منتخب کیا گیا جب وہ چرول معاملے کی پیروی کیلئےانگلینڈ کیلئے روانہ ہونےوالے تھے۔ مگران حالات میں وہ اسےقبول نہیں کرسکتے تھے کیونکہ انہیں انگلینڈ جانےکو پاسپورٹ صرف چرول معاملے کیلئےدیا گیا تھا اوران سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ انگلینڈ میںقیام کےدوران سیاسی امور کیلئے وقت نکال سکیں گے۔ وہ صدارت سےدست بردار ہوگئے کیونکہ فی الحال یہ اعزازعملا ان کےکام کا نہیں تھا۔ مگروہ تلک ہوم رول لیگ کےصدرکی حیچیت کے حامل ضرور تھے۔ انہوں نے مانٹیگ کےگورتمنٹ آف انڈیا بل کےسلسلے میں پارلیمانی سلیکٹ کمیٹی کےسامنےشہادت دی۔ چرول معاملہ ختم ہوگیا اوربرطانوی حکومت نے تمام ہندستانی سیاسی جماعتوں کواس معاملےمیں اپنےوفود انگلینڈ بھیجنےکی کھلی دعوت دی۔ تلک اور کانگریس کے تعققات کے سلسلےمیں آخری قابل ذکر بات یہ ہے کہ مہاتما گاندھی نے تلک سوراج فنڈ کے نام سےایک کروڑ روپئے کی رقم جمع کی مگر یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اس فنڈ کا استعمال ایسی سرگرمیوں اور پروپگنڈے پر صرف کیا گیا جس کیلئے خوشی خوشی اجازت نہ دیتے یعنی عدم تعاون کی پالسی اوراہنسا بطور سیاسی ہتھیار ۔

 

ہوم رول تحریک

جب برطانیہ پہلی عالمی جنگ میں الجھا ہوا تھا تو تلک اور اینی بیسنٹ جیسے ہندستانی رہنماؤں نے ملک میں قومی تحریک میں جان ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ انگریز لفظ سوراج کوناپسند کرتے تھے اوراسے‘‘ باغیانہ اور خطرناک ‘‘ سمجھتے تھےاس لئےتلک نے اپنی تحریک کے نصب العین کیلئے سوراج کے بنائے‘ ہوم رول‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ دسمبر 1915 میں انہوں نےاپنے ساتھیوں سےصلاح مشوری کیا اور 28 اپریل 1916 کو انڈین ہوم رول لیگ قائم کی گئی جس کا صدر مقام پونا طئےکیا گیا ۔ اس لیگ کا مقصد‘‘ مملکت برطانیہ کےاندرتمام آئینی طریقوں کا استعمال کرتےہوئےملک میں رائےعامہ بیداراورمنظم کرنا‘‘ تھا۔ ایسی ہی ایک اور ہوم رول لیگ 15 ستمبر1916 کواینی بیسنٹ نے قائم کی جس کا صدر مقام مدراس کے نزدیک اڈیار مقرر کیا گیا۔

ہوم تحریک کےحامی آئینی طریقوں میں یقین رکھتے تھےاور تشدد اورانقلابی احتجاج کےخلاف تھے۔ وہ برطانوی حکومت کو پریشان کرنا نہیں چاہتے تھے جوجرمنی اورآسڑیا- ہنگری کے خلاف جنگ میں الجھی ہوئی تھی ۔ وہ برطانوی حکومت کوتعاون دینے پربھی آمادہ تھے تاکہ وہ جنگ جیت سکے۔ تاہم وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ہندستان کو ہوم رول کا اختیار دینا جرمنی اور آسڑیا - ہنگری کے خلاف جنگ میں الجھی ہوئی برطانوی حکومت کے حق میں ہوگا کیوں کہ اس طرح وہ زیادہ اخلاقی قوت کے ساتھ لڑسکے گی۔

1917 کا سال اس لحاظ سے پرانہ واقعہ تھا کہ تلک اوراینی بیسنٹ کی زیرقیادت ہوم رول لیگوں نےباہمی اشتراک سے کام کیا۔ تلک نے اپنی سرگرمیاں بامبے پریزیڈنسی اورمرکزی صوبوں تک محدود کرلیں اور باقی ملک کو اینی بیسنٹ کیلئے چھوڑیا۔ ہوم رول لیگ کی شاخیں سار ملک میں قائم کردی گئیں جن کیلئے خاصا عوامی جوش وخروش پایا جاتا تھا۔

تلک نے1916میں سارے ملک کا ایک طوفانی دورہ کیا اوراہل وطن سےہوم رول لیگ کےپرچم تلےمتحد ہونےکی اپیل کی ۔ ان کا نشانہ مملکت برطانیہ یا ملکہ نہیں بلکہ ہندستان کی بیوروکریسی تھی۔ انہوں نےاپنی عوامی تقریووں میں زور دیکر کہا کہ ہوم رول ہی ہندستان کےسارے سیاسی دکھوں اورشکایات کا واحد علاج ہے، کہ آزادی ہرشخص کا پیدائشی حق ہے اور یہ کہ آزادی حاصل کرنےکا جزبہ انسانی فطرت کا جوہر ہے۔ انہوں نےکہاکہ ہندستان کےباہر ک چند مٹھی بھر لوگوں کومن مانےانداز سے ملک پر حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اینی پیسنٹ نے بھی ملک گیر دورہ کیا جس سےلوگوں میں قومی مقاصد کیلئے خاصا جوش وخروش پیداہوا۔ ‘ کامن ویل ‘اور ‘ نیوانڈیا‘ میںشائع ہونے والےان کےمضامین کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ سی وی چنتا منی کہتے ہیں۔‘‘اینی بیسنٹ نےاپنی تقریروں اورتحریروں سے سارے ملک میں ہلچل پیدا کردی ، اس طرح جیسا کسی اورسےممکن نہیں ۔‘‘ اینی بیسنٹ نے خاصطور پر عورتوں میں کام کیا جو ‘‘ بے پناہ شجاعت ، قوت برداشت اور نسوانی فطرت کے بے غرض ایثار ‘‘ کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

برطانوی حکومت سےوہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ ہوم رول لیگوں اوران کے رہنماؤں کے زریعے پیداکردہ ہلچل کےپیش نظر چپ چاپ بیٹھی رہے گی۔ اس نےاس تحریک کے سرکردہ لیڈروں کو دبانے کا فیصلہ کیا۔ موجودہ قانونی انتطامات کو پختہ ترکیا گیا ۔ ناپسندیدہ بیرونی لوگوں کے ہندستن میںداخلے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ایک آرڈیننس پہلے سے ہی موجود تھا۔ ملک کے عام قانون تعزیر کی جگہ ڈیفنس آف انڈیا قانون 1915 وضع کیا گیا جس کے تحت کسی بھی احتجاج کرنے والےکےخلاف کارروائی کی جاسکتی تھی۔ ہوم رول لیگ والوں کے پرارکی روک تھام کیلئے اندڈین پریس ایکٹ 1910 کی دفعات کا سختی سے استعمال کیا گیا۔ اسکولوں اورکالجوں کے طلبہ پرہوم رول تحریک میں شریک ہونےکی پابندی لگانے کیلئے سرکولر جاری کئے گئے۔ جولائی 1916میں تلک کے خلاف باغیانہ تقریریں کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیااور 20 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ دینے کا حکم دیا گیا۔ پھر ان کے اخراج کا احکامات جاری کئے گئے اور دیلی اور پنجاب میں داخل نہ ہونے کا حکم دیا گیا ۔ اس طرح کی کارروائی اینی بیسنٹ کے خلاف بھی کی گئی ۔ انہیں اپنے پریس ، ‘ کامن ویل‘ اور‘ نیو انڈیا ‘ کی سیکورٹی پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ انہوںنے کل ملاکر20 ہزار روپے جمع کئے اور یہ ساری رقم حکومت نے ضبط کرلی۔ حکومت نےان کے ساتھیوں بی ۔ پی واڈیا اور جی ۔ ایس ارونڈیل کے خلاف نے بھی کارروائی کی۔ گورنر مدراس نے اینی بیسنٹ کوبات چیت کیلئے بلایا اوران سےکہا کہ انہیں نطربند کیا جاتا ہے۔ اس کے خلاف سارے ملک میں زبردست برہمی پیداہوئی ۔ سارے ملک میں احتجاجی جلسے ہوئے جن میں پولس کے ظلم وزیادتی کی مذمت کی گئی۔

 

عدم تعاون تحریک  

جنگ کے آخری سال برطانوی حکومت کی جابرانہ اور استبدادی پالسی بد سے بد تر ہونے لگی ۔ پریس ایکٹ نہایت سختی سے لاگو کیا گیا۔ تلک اوراینی بیسنٹ کے خلاف پابندیاں لگادی گئیں ۔ بنگال میں نطر بند کئےجانےوالےنوجوانوں کی تعداد تقریبا تین ہزارتک جاپہنچی سارے ملک اورخاص طورپرپنجاب میں حکومت کی جانب سےفوجی بھرتی اورجنگ فنڈ سےمتعلق سرگرمیوں کے نتیجے میں زبردست تکلیف اور بےچینی پیدا ہوگئی۔

1918میں پنڈت مدن موہن مالویہ کی صدارت میں کانگریس کا دہلی اجلاس ہوا تو جنگ ختم ہوچکی تھی۔ اتحادیوں کو کامیابی حاصل ہوچکی تھی اور صدر ونس لائڈ جارج اور دیگرمدبروں کی جانب سے حق خودارادیت کے اصولوں کا اعلان کیا جاچکا تھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر، دہلی کانگریس نے مانٹینگ ۔ چیمس فورڈ اسکیم سے متعلق اپنے موقف پر نظر ثانی کی ، ڈومنین حیثیت اورامن کانفرنس میں نمائندگی کا مطالبہ کیا اورلوک مانیہ، گاندھی جی اورحسن امام کو اپنا نمائندہ مقررکیا۔ کانگریس نےتمام استبدادی قوانین کوواپس لینے کی بھی اپیل کی ۔ مگر دہلی کانگریس کے مطالبات پرنہ صرف یہ کہ کوئی توجہ نہیں دی گئی بلکہ جیسا کہ 1919 میں ظاہرہواحکومت جنگ جیتنےکےبعد اب ہندستان میں جاری احتجاج اور باغیانہ سرگرمیوں سےاپنے طریقےسےنمٹنے میں زیادہ آزاد محسوس کرنے لگی۔ فروری 1919 میں سپریم قانون ساز اسمبلی میں رولٹ بل منظور کئےگئے جن کےتحت شہری آزادیوں پربھاری پابندیاں عائد کرنے کےانتطامات کئے گئےتھے۔

 

گاندھی کا سرگرم سیاست میں داخلہ

یہ وقت تھا جب گاندھی جی نےسرگرم سیاست میں قدم رکھے۔ انہوں نے ملک میں پہلی باررولٹ ایکٹ کے خلاف ستیہ گرہ کی تحریک چلانے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ گاندھی جی نے 18مارچ کو یہ عہد نامہ شائع کیا ؛ پوری ایمانداری کےساتھ یہ رائے قائم کرتے ہوئے کہ تعزیرات ہند ہنگامی اختیاربل نمبر 2 مجریہ 1919 غیر منصفانہ، آزادی اورانصاف کےاصولوں کیلئے ضرررساں اور افراد کےان بنیادی حقوق کیلئےتباہ کن ہے جن پرمجموعی طور پرسارے ہندستان اورخود ریاست کی سلامتی منحصر ہے ہم پوری سنجیدگی اورمتانت کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ ان بلوں کے قانون بنائے جانے کی صورت میں اورجب تک انہیں واپس نہیں جاتا ہم اس قانون اورایسےدیگر قوانین ، جنہیں بعد میں تشکیل دی جانے والی کمیٹی مناسب سمجھے گی، کی تعمیل نہیں کرینگے ، اور ہم مزید اعلان کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہونےوالی جدوجہد میں ہم پوری طرح سچائی پرعمل کریں گےاورجان، ذات یا مال کےخلاف تشدد سے باز رہیں گے۔ ‘‘

30 مارچ 1919 کا دن ہڑتال ، برت ، گناہوں سے معافی مانگنے اور عبادتوں کا اہتمام کرنے کیلئے مقرر کیا گیا مگر بعد میں یہ تاریخ بدل کر 6 اپریل کردی گئی جسے ہندستان کی تاریخ میں ایک عہد ساز دن کہا جاسکتا ہے۔ لوگوں کے جوش وخروش نے حکومت کو حیرت میں ڈالدیا اور جنگ جیتنےکے تازہ تازہ نشے میں چور حکومت نےاپنا ذہنی توازن کھودیا ۔ کئی جگہ گولیاں چلائی گئیں ۔ دہیلی میں جب سوامی شردھانند کو برطانوی سپاہیں نے گولی مارنے کی دھمکی دی تو انہیوں نے اپنا سینہ کھول دیا ۔ جگہ جگہ ہندومسلم دوستی کے شاندار منظر دکھائی پڑے ۔ سوامی شردھانند کو جامع مسجد ، دہلی کے منبر سےخطاب کرنے کی اجازت دی گئی ۔ ملک نےاس نئے خیال کواس طرح اخیتار کرلیا جیسے وہ برسوں سےاس کا منتظررہا ہو۔ قومی جدوجہد کا ایک نیا باب شروع ہوچکا تھا۔ پنجاب میں ہونے والے واقعات جلد ہی سارے میں قومی بیداری کے ایک شدید سیلاب کا ذریعہ ثابت ہوئے۔

 

پنجاب میں مظالم

پنجاب کےواقعات اس قدرمعروف ہیں کہ انہیں دوہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پنجاب ہمیشہ سے برطانوی استعمارکا گڑھ اورغاصب فوج کےلئے بھرتی کا مرکز رہا ہےاور برطانوی حکومت کے آگاز سے انگریزوں کی رخصت تک پنجاب حکومت زبردست بے رحمی کی پالیی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ اس پالسی کے اثرات آج بھی ہمارے ذہنوں میں موجود ہیں اور پنجاب کی صورت حال اج بھی ملک کے لئے باعچ تکلیف ہے۔ 1919میں پنجاب ایک حد درجہ استعماریت پسند شخص سرمائکل اور ڈائر کے زیر تسلط تھا جس نے پنجاب کو دوسرے مقامات پر جاری احتجاج کی آلوگی سے پاک رکھنے کا تہییہ کررکھا تھا۔

1919میں امرتسر میں کانگریس کا اجلاس ہونے والا تھا۔ سرمائکل اور دائر نے مقامی کانگریس رہنماؤں ڈاکڑ کچلو اور ڈاکڑ ستیہ پال کو اپنےگھر طلب کیا اور انہیں نہ جانے کہاں پہنچادیا ۔ یہ 10 اپریل 1919 کی بات ہے ۔ اس کے بعد لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا جو ضلع مجسٹریٹ سےمل کران دونوں مقبول رہنماؤں کی خیریت معلوم کرنا چاہتا تھا۔ ان لوگوں پر گولیاں اورپتھر چلائےگئےجس سےلوگ زخمی اور ہلاک ہوئے۔ اس پر برہم ہوکر لوگوں نے پانچ انگریزوں کو ہلاک کردیا اور ایک بینک اورچند دیگر عمارتوں کو آگ لگادی ۔ گجراں والا اور قصورمیں بھی ایسے ہی واقعات اور دیگر مقامات پر چُٹ ُپٹ واقعات ہوئے۔ اسی دن پنجاب میںمارشل لاء لگادیا گیا۔

 

جلیاں والا باغ قتل عام

12 اپریل 1919 کو جنرل ڈائر کی جانب سے، جس نے ایک دن پہلے ہی فوج کی کمان سنبھالی تھی یہ اعلان جاری کیا گیا کہ شہر میں کوئی جلسہ یا اجتماع نہیں ہوسکتا ۔ لیکن اس کی کوئی کوشش نہیں کی گئی کہ شہر کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اس اعلان سےواقف کرادیا جائے۔ نتیجہ یہ ہواکہ 12 اپریل کی شام کو اعلان کیا گیا کہ 13اپریل 1919کی شام 30۔4 بجے جلیاںوالا باغ میں ایک جلسہ عام منعقد ہوگا۔ جنرب ڈائر یا دیگر حکام نے اس جلسے کو روکنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا ۔ جلسہ مقررہ وقت پر شروع ہوا جس میں تقریبا 6000 سے10000 لوگ موجود تھے۔ سارے لوگ غیرمسلح اور بے دفاع تھے۔ جلیاں والا باغ چاروں طرف سےدیواروں سےگھراہوا ہے جن میں صرف ایک دروازہ ہے۔ جنرل ڈائر بکتر بندگاڑیوں اورفوجیوں کےساتھ جلیاوالا باغ میں داخل ہوا اوراس نے لوگوں کو کوئی انتباہ دئے بغیر اپنے فوجیوں کو گولیاں چلانےکا حکم دے دیا اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک اس کے پاس موجود سارا گولہ بارود ختم نہیں ہوگیا۔ تقریبا ایک ہزارلوگ ہلاک ہوئے۔ جنرل ڈائر کا یہ کہنا تھاکہ وہ لوگوں کوسبق سکھانا چاہتا تھا کہ وہ اس کی ہنسی نہ اڑائیں۔ اس نےکہ اگر اس کے پاس مزید گولہ بارود ہوتا تو وہ گولیاں چلائے جانے کا سلسلہ اورجاری رکھتا اور یہ کہ اس نے صرف 1600 راؤنڈ گولیاں چلوائیں کیونکہ گولیاں ختم ہوگئی تھیں۔ جنرل ڈائر کے نظام نے لوگوں کو بعض اورناقابل تصور تکلیفیں بھی دیں ۔ امرتسر کی بجلی اور پانی کاٹ دیا گیا۔ لوگوں کو سرعام کوڑے لگائےگئے ۔ مگر‘‘ کہنیوں کے بل پر گھسٹتے ہوئے چلنے کا حکم ‘‘ بد ترین تھا۔

پجناب کےواقعات کی خبر جسےشروع میں دبا دیا گیا تھا سنتےہی سارے ملک میں خوف اورغم وغصے کی شدید لہر دوڑگئی ۔ یہ قتل عام تحریک آزادی کی تاریخ کا ایک نیا موڑ ثابت ہوا۔

حکومت آٹھ ماہ تک پنجاب کے قتل عام پرپردہ ڈالنے کی کوشش کرتی رہی۔ جب کانگریس نے گاندھی جی ، موتی لال نہرو، سی۔ آر۔ داس ، عباس طیب جی اورجیکر پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے واقعات کی تفتیش کرائی اوراس کی رپورٹ شائع کی اوراس قتل عام کےخلاف بڑے پیمانےپراحتجاج شروع ہوگیا توحکومت نےلارد ہنڑکی قیادت میں ایک کمیٹ تشکیل دی۔ اس کمیٹی نے ہلکےسےاظہارافسوس کےساتھ ان واقعات پرپردہ ڈالنےاورقتل عام کاارتکاب کرنےوالوں کوحق بجانب قراردینےکی کوشش کی ۔ برطانوی پارلیمنٹ کا ایوان عام بھی جنرل ڈائرکے سرپرعظمت کا تاج رکھنےمیں پیجھے نہیں رہا۔ انگلینڈ میں اس کواعزاز دینے کیلئےعوامی چندہ کیا گیا۔

 

گاندھی جی فیصلہ

مہاتما گاندھی کو اب تک برطانوی حکومت کی انصاف پسندی پریقین تھا۔ انہوں نے تلک جیسے افراد کی مخالفت کے باوجود پہلی جنگ کے دوران حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا تھا۔ مگر جلیاںوالا باغ کے المیے ، پنجاب میں مارشل لاء کے نفاذ اور قتل عام سے متعلق ہنٹر کمیٹی کےنتائج نےانگریزوں کی بھلمنساہٹ کے بارے میں گاندھی کےیقین کو ہلا کر رکھ دیا۔ لہذا انہوں نے عدم تعاون تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ اب پرانے طریقوں کو ترک کردیا جانا چاہیے۔

کانگریس کا ایک خصوصی اجلاس 4 سے9 ستمبر 1820 تک کلتکہ میںمنعقد کیا گیا۔ اس میں خود گاندھی جی نے عدم تعاون کی قرارداد پیش کی۔ اجلاس کے منتخب صدرلالہ لاجپت رائے اور چترنجن داس جیسے بڑے رہنماؤں نےان کی مخالفت کی مگر آخر کار انہیں کامیابی حاصل ہوئی ۔ پنڈت موتی لال نہرو فوری طورپر گاندھی جی کے سااتھ ہوگئےاور وکالت چھوڑدی - یہ قرارداد 873 کے مقابلے 1855 ووٹوں سے منظور کرلی گئی ۔

ملک کو اب آزادی کی اپنی شدید خواہش کےاظہار کا ایک موقع میسر آگیا اورجلد ہی سارے ملک کے حلات بدلنے لگے۔ عدم تعاون کے پروگرام پر حتمی غوروخوض اوراسےمنظوری ناگپور اجلاس دی جانی تھی ۔ ناگپور اجلاس میں غیر معمولی تعداد میں مندوبین نے شرکت کی۔ ناگپور کانگریس نےواقعی تحریک آزادی کے ایک نئےدورکا آغاز کیا۔ بے بس غصے اورلجاجت آمیز درخواستوں کے دیرینہ احساس کی جگہ اب ذمےداری اورخود اعتمادی کےنئے احساس نےلےلی ۔ لالہ جی اور دیش بندھو شروع میں قراردادوں کی مخالفت کرتے رہے مگر بعد میں راضی ہوگئے۔

ناگپور اجلاس نے گاندھی جی کو کانگریس کےاندراورباہر غیر متنازعہ طور پر غالب ترین حیثیت دے دی ۔ بی ۔ سی لال اورمدن موہن مالویہ ، جناح اورکھاپرڈے جیسے جہاں دیدہ اور سی ۔آر۔ داس اورلالہ لاجپت رائے جیسے سربرآوردہ رہنما بھی ان کےہم نواہو گئے۔ ناگپور اجلاس نے کانگریس کےنصب العین کو بھی اسی طرح تبدیل کردیا کہ ‘‘اس تنظیم کی برطانیہ اورآئینی طریقئہ احتجاج کے ساتھ علانیہ وابستگی کو ختم کردیا گیا‘‘۔

 

پروگرام

عدم تعاون کی قراردادمیں عدم تعاون کے پروگرام کو واضح طور پر بیان کیا گیاتھا۔ اس میں خطابات اور اعزازی عہدوں سے دست بردار ہونا اورمقامی اداروں کے نامزد عہدوں سے مستعفی ہونا شامل تھا۔ عدم تعاون کرنے والوں کو درباروں اورحکومت کے حکام کے ذریعے یا ان کےاعزازمیں کی جانے ولای کسی بھی دیگر سرکاری یا نیم سرکاری تقریب میں شرکت نہیں کرنی تھی۔ انہیں رفتہ رفتہ اپنےبچوں کوسرکاری اسکولوں اورکالجوں سےاٹھالینا تھا اور قومی اسکول اورکالج قائم کرنے تھے۔ انہیں بتدریج برطانوی عدالتوں کا بائکاٹ کرنا تھا اورغیر سرکاری عدالتیں قائم کرنی تھیں۔ انہں میسوپوٹامیہ میں فوجی خدمات انجام دینےکےلئےجوج میں بھرتی نہیں ہونا تھا ۔ انہیں قانون ساز اداروں کےانتخابات کےلئےامیدوارنہیں بننا تھا اور نہ ووٹ دینا تھا۔ انہیں سودیشی کپڑے پہننے تھے۔ ہاتھ سے بنائی کرنےاورچرخہ چلانے کی حوصلہ افزائی کی جانی تھی۔ چھواچھوت کا خاتمہ کرنا تھا کیونکہ اس اصلاح کے بغیر سوراج ممکن نہیں تھا۔ مہاتما گاندھی نےایک سال میں سوراج دلانےکا وعدہ کیا بشرطے کےلوگ اس پروگرام پرپورے خلوص اورپوری لگن سےعمل کریں ۔ عدم تعاون کرنےوالوں کوعدم تشدد پر سختی سے عمل کرنا تھا اور کسی بھی حال میں سچائی کی راہ نہیں چھوڑنی تھی۔

عدم تعاون تحریک دھیرے دھیرے لوگوں کے دل ودماغ پرحاوی ہوتی چلی گئی ۔ ہندو اورمسلمان دونوں اس میں شریک تھے۔ بیرونی اشیاء کو بڑے پیمانے پرنذر آتش کیا گیا۔ بہت سے طلبہ نہ اسکولوں اورکالجون کو چھوڑدیا اور کانگریس نے کاشی ودیا پیٹھ، بنارس ودیاپیٹھ ، یا گجرات ودیاپیٹھ ، بہار ودیاپیٹھ ، بنگال نیشنل یونیورسیٹی ، نیشنل کالج لاہور، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، علی گڑھ اورپھر دہلی جیسے قومی تعلیمی ادارے قائم کئے ۔ سیٹھ جمنا لال نے عدالتوں کو ترک کرنےوالےوکیلوں کی کفالت کےلئےسالانہ ایک لاکھ روپے کی رقم فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ کانگریس نے چالیس لاکھ رضاکار بنائے۔ بیس ہزار چرخےتیار کئےگئے۔ لوگوں نے نجی عدالتوں سے اپنے تنازعات فیصل کرانے شروع کردئے ۔

عدم تعاون تحریک کےمثبت اورمنفی دونوں پہلو تھے۔ مثبت پہلوؤں میں ہاتھ سے بنائی اور کتائی کی تجدید ،چھواچھوت کےخاتمےکی کوشش ، ہندو مسلم اتحاد اور ترک شراب جیسے اقدامات شامل تھا۔ اس کے منفی پہلو تین قسم کے تھے۔ قانون ساز اداروں ، عدالتوں اور سرکاری تعلیمی اداروں کا بائکاٹ ۔ بائکاٹ کی یہ تحریک جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی ۔ حکومت نے بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کرتے اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کی مگراس سے اس تحریک کو اورزیادہ طاقت حاصل ہوئی۔

جولائی 1921میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے حکومت کی جبر واستبداد کی پالسی کے خلاف ردعمل میں پرنس آف ویلز جو نومبر - دسمبر 1921 میں ہند کا دورہ کرنےوالے تھے کے جشن استقبال میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پرنس آف ویلز کی ہند امد پر سارے ملک میں ہڑتال کے ذریعے ان کا خیر مقدم کیا گیا ۔حکومت اپنی استبدادی پالی پر قائم رہی، کانگریس اور خلافت رضاکاروں کی تنظیم غیر قانونی قرار دی دی گئیں اور بری تعداد میں کانگریس کارکنوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔

 

سول نافرمانی

مہاتما گاندھی کو محسوس ہوا کہ حکومت کو ہوش میں لانے اور معقول رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ سول نافرمانی کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ لہذا انہوں نے باردولی ، گجرات سےسول نافرمانی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ کانگریس ورکینگ کمیٹی نے ہندستان کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ باردولی کےلوگوں سے تعاون کریں اورمہاتما گاندھی کی واضح پیشگی اجازت کے بغیر جارحانہ انداز کی اجتماعی یا انفرادی سول نافرمانی سے گریز کریں ۔‘‘ مہاتما گاندھی نےوائسرائے کو خط لکھا اوراپنے مطالبات کو منظور کرنے کیلئے سات دن کا وقت دیا۔ وائسرائےنے ملک میں جاری لاقانونیت کیلئے کانگریس کو ذمے دار قرار دیا۔ اب مہاتما گاندھی کے سامنے سول نافرمانی تحریک شروع کرنے کے سوا اور کوئی جارہ کار نہ تھا۔ بد قسمتی سے اسی وقت ‘چوری چورا‘ کا المیہ پیش آگیا جس نے ہندستانی تاریخ کا رخ پلٹ دیا ۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ 5 فروری 1922 کو تقریبا تین ہزارلوگوں کے ایک ہجوم نے 25 پولس والوں اورایک انسپکٹر کو ہلاک کردیا ۔ ایسے ہی المناک واقعات 17نومبر 1921 کو بمبئی اور13جنوری 1922 کو مدراس میں بھی پیش آچکے تھے۔ یہ سب مہاتما گاندھی کیلئے ناقابل برداشت تھا اورانہیوں نے عدم تعاون تحریک کو فورا ملتوی کرنے کا حکم دیا۔ حکومت مہاتما گاندھی اور کانگریس کےاس اقدام سے مطمئن نہیں ہوئی ۔ اسےاندیچہ تھا کہ مہاتما گاندھی کوئی اور بڑا ہنگانہ برپا کرسکتے ہیں۔ جنانچہ 13مارچ 1922 کو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ احمد آباد میں ان کے خلاف عدالتی کارروائی شروع ہوئی اور انہوں نے تمام الزامات اپنے سرلےلئے۔ انہوں نے مدراس ، بمبئی اورچوری چورا کے تمام واقعات کی ذمہ داری قبول کی اورانگریز جج جناب بروم فیلڈ سے کہا کہ اگر وہ رہا کردئے گئے تو‘‘ پھر وہی سب کریں گے ‘‘۔ انہیں چھے سال کی سزائے قید سنائی گئی ۔

کئی حلقوں کی جانب سےتحریک واپس لینےکے مہاتما گاندھی کے فیصلے پر نکتہ چینی کی گئی ۔ ڈاکڑ پٹبھی سیتا رمییہ کے مطابق ‘‘ پنڈت موتی لال نہرو اورلالہ لاجپت رائےنے سلاخوں کے پیچھے سے طویل مکتوب لکھے ۔ انہوں نے صرف ایک جگہ کے گناہوں کیلئے سارے ملک کو سزادینے پر مہاتما گاندھی کی سرزنش کی ۔‘‘

ڈاکڑ آر۔ سی مجمدارکا کہنا ہےکہ عدم تعاون تحریک کا ممتاز ترین پہلو یہ تھا کہ لوگوں نےعام طور پرحکومت کی جانب سے دیگئی تکلیفوں اورسزاؤں کو پورے عزم واردے کے ساتھ برداشت کیا۔ یہ سچ ہےکہ اس تحریک نےدم توڑ دیا مگراس کی طاقت اورجلال کی یادیں باقی رہیں جنہیں ملک کو ایک اور سخت تر مہم چھیڑنے پرآمادہ کرنا تھا۔ یہ تحریک پہلی جنگ کا تجربہ ثابت ہوئی جس نےلوگوں میں ایک نیا یقین اورایک نئی امید جگائی اوران میں آزادی کیلئےجدوجہد کرنے کی اپنی طاقت پرایک نیا اعتماد بخشا ۔ اس تحریک کے نتیجے میں کانگریس پہلی بارایک حقیقی عوامی تحریک بنی ۔ لوگوں میں بڑے پیمانےپرنہ صرف قومی شعوراوربیداری پیداہوئی بلکہ انہیں آزادی کی جدوجہد کا سرگرم سپاہی بھی بنادیا۔ مزید یہ کہ انڈین نیشنل کانگریس حقیقی معنوں میں ایک انقلابی تنظیم بن گئی ۔ یہ اب محض بحث مباحثےاورغوروفکر کرنے والی جماعت نہ رہی بلکہ انقلاب کےعزائم کی حامل ایک آمادئہ پیکار منظم جماعت بن گئی ۔

 

سوراج پارٹی

سی ۔آر داس اور بنگال کے دیگر رہنما جب علی پور سنڑل جیل میں تھے تو انہوں نے قاقنون ساز اداروں کے ذریعے حکومت سے عدم تعاون کا ایک نیا پروگرام ترتیب دیا ۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ بڑے پیمانے پر قانون ساز اداروں میں داخل ہوا جائےاور‘‘ وہاں کی حکومت کی یکساں ، مسلسل اور مستقل مخالفت کی پالسی پر عمل کیا جائے‘‘ موتی لال نہرو بھی سی۔ آر۔ داس کے اس خیال سے متفق تھے۔ جولائی 1922 میں سی۔ آر۔ داس جیل سے باہر آئے اور ‘ کونسل - داخلے ‘ کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنا شروع کیا۔

نومبر1922میں کلکتہ میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں کونسل - داخلے کے سوال پر کانگریس کےرہنماؤں میں اختلاف رائے پایا گیا۔ سی۔ آر۔ داس ،موتی لال نہرواور حکیم اجمل خاں اس کے حق میں تھےاور سی۔ گوپال اچاری ،ڈاکڑ انصاری وغیرہ خلاف تھے۔ طویل بحث ومباحثے کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ دسمبر 1922 میں گیا میں منعقد ہونےوالے کانگریس کے سالانہ اجلاس میں ‘ تبدیلی ناپسندوں ‘(نوچینجرز) کو کامیابی ملی اور کونسل - داخلے کا پروگرام مسترد کردیا گیا۔ سی۔ آر۔ داس نےجوکانگریس کے صدر تھے پارٹی سےاستعفی دے دیا اورسوراج پارٹی بنانے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ سوراج پارٹی کامقصد کونسلوں کےاندررہ کرگورنمنٹ اف انڈیا ایکٹ 1919کوضرب پہنچانا تھا۔ مارچ 1923میں الہ آباد میں موتی لال نہروکی رہائش گاہ پرسوراج پارٹی کی پہلی کانفرنس ہوئی اور پارٹی کا آئندہ پروگرام طےکیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت بنیادی سرگرمی رکاوٹ ڈالنے کی تھی۔ طے کیا گیا تھا کہ اس کےاراکین برطانوی نوکرشاہی کی زیادتیوں کو درست کرنےکے سوال پرچناؤ لڑیں گےاورقانون سازی کےہراقدام کی مخالفت کریں گے۔ سوراجیوں کا خیال تھاکہ قانوساز اداروں کی نشستوں پر قبضہ کرنا لازمی تھا تاکہ وہ ایسے لوگوں کے پاس نہ چلی جائیں جو ہندستان کی برطانوی انتظامیہ کے آلئہ کار ہیں۔ سوراج پارٹی کے لیڈروں نےاعلان کیا کہ وہ کونسلوں کے باہر مہاتما گاندھی کی زیر قیادت کانگریس کے تعمیری پروگرام میں تعاون کریں گے اور اگر ان کا طریقہ کار ناکام رہا تو مہاتما گاندھی جب کبھی بھی سول نامرمانی تحریک شروع کریں وہ اس میں بلا تامل شریک ہوں گے۔

سوراج پارٹی نے1923 کےانتخابات لڑے اور لبرل فیڈریشن کے ساتھ کسی بھی مفاہمت سےانکار کیا۔ سوراج پارٹی نے مرکزی صوبوں کی قانون سازکونسل کی اکثرنشستیں جیت لیں۔ بنگال میں وہ غالب پارٹی رہی ۔ یوپی اور بمبئی میں بھی اسے خاصی حمایت حاصل ہوئی ۔ مگرسوراج پارٹی کو سب سے زیادہ کامیابی موتی لال نہرو کی قیادت میں مرکزی اسمبلی میں حاصل ہوئی۔ نیشنلسٹ پارٹی اور چند دیگر اراکین کی حمایت حاصل کرلینے کےبعد، سوراج پارٹی کو کارگذاراکثریت حاصل ہوگئی اور اس طرح اب وہ بہت کچھ کرنے کی حیثیت میں تھی۔ 18 فروری 1924 کو سوراج پارٹی نے ایک قرارداد منظور کرانے میں کامیاب ہوئی جس کے ذریعے حکومت سے ہندستان میں مکمل ذمے داری حکومت قائم کرنے کی درخواست کی گئی ۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ہندستان کیلئےایک آئین مرتب کرنے کیلئے ہندستان کےنمائندوں پر مشتمل ایک گول میز کانفرنس جلد از جلد منعقد کی جائے۔ سوراج پارٹی کی ایک قرارداد کے نتیجے میں مڈل مین کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ موتی لال نہرو سےاس کمیٹی کا رکن بننے کی درخواست کی گئی مگرانہوں نےانکار کردیا ۔ سنڑل اسمبلی نے سوراج پارٹی کی کوششوں کے زیر اثر 25-1924 کے بجٹ کےبعحض مطالبات مسترد کردئے۔ اسمبلی نے حکومت کومکمل فائنانس بل پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔ فروری 1925میں ، وی ۔ بی پٹیل نے بعض قوانین کا کالعدم قرار دینے سے متعلق ایک بل پیش کیا اور صرف ایک قانون کو چھوڑکر ، اس بل کومنظوری حاصل ہوگئی ۔ سوراج پارٹی کی مدد سے بعض سیاسی قیدیوں کی رہائی سے متعلق ایک قرار داد بھی منظورکی گئی ۔ سوراجیوں نے حکومت کی پالیسی کے خلاف احتجاج کیلئےواک آوٹ کا طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے حکومت کےزیر اہتمام تمام استقبالیوں ، دعوتوں اور تقریبات کا بائکاٹ کیا۔ جوکچھ مرکزی اسمبلی میں کیا جارہا تھا وہی ان صوبائی اسمبلیوں میں کیا گیاجہاں سوراجیوں کے کچھ اثرات تھے۔

آر۔ سی مجمدار کے مطابق سوراج پارٹی نے ملک کی ایک نہایت متاز اورنمائندہ خدمت انجام دی۔ قانون سازاسمبلی پہلی بار حقیلقی معنی میں ایک قومی اسمبلی کی صورت میں نظر ائی جہاں قومی شکایات کو پوری وضاحت سے پیش کیا گیا، قومی مقاصد اور امنگوں کا کسی بھی پس وپیش کے بغیر اظہار کیا گیا اور برطانوی حکومت کےاصل چہرے کو بے نقاب کیا گیا۔ برطانوی مطلق العنانی اور ہنددستانی نوکر شاہی ساری دنیا کے سامنے برہنہ ہوگئی ۔

 

سائمن کمیشن اور نہرورپورٹ

گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919میں کہا گیا تھا کہ ہر دس سال بعد آئینی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم برطانوی حکومت نے 1927 میں ، اس مدت کے دوسال پہلے ہی آئینی اصلاحات کے سوال پر غورکرنے کیلئے سرجان سائمن کی سربراہی میں ایک رایل کمیشن مقرر کردیا۔ اس کمیشن کا کوئی رکن ہندوستانی نہیں تھا۔ اس میں صرف سفید فاموں کی شمولیت کواہل ہندنے قومی وقار کے منافی تصور کیا۔ سائمن کے بمبئی میں قدم رکھتے ہی ان کا کالے جھنڈوں اور‘‘ سائمن ! واپس جاؤ‘‘ کے نعروں سے استقبال کیا گیا اور ملک گیر ہڑتال کی گئی ۔ سارے ملک میںسائمن مخالف مظاہرے ہوئے ۔ ایسے ہی ایک مطآہرے کے دوران ‘‘ شیر پنجاب‘‘ لالہ لاجپت رائے پولس کی لاٹھیوں سے زخمی ہوئے اور ان کا انتقال ہوگیا۔

دوسری طرف کانگریس نے ہندستان کیلئے ایک نیا آئین مرتب کرنے کیلئے ایک کل جماعتی کمیٹی مقررکی۔ اس کےنتیجے میں موتی لال نہرو کی سربراہی میں ایک رپورٹ تیار کی گئی جسے نہرو رپورٹ کانام ملا۔ نہرو رپورٹ ہندستانی قوم کے ائینی تصورات کا ایک سنگ میل تھی۔ کلکتہ کانگریس میں اسے منطوری کیلئے پیش کیا گیا ۔ 1928میں ہونےوالےاس اجلاس میں مکمل آزادی کوہندستان کا نصب العین قراردیا گیا۔ گاندھی جی نے یقین دلایا کہ اگر برطانوی حکومت نے 1929 تک ہندستان کو ڈومنین کی حیثیت نہیں دی تووہ خود آزادی کیلئے تحریک کی قیادت کریں گے۔ لہذا 1929 کا سال انتظار کا سال بن گیا۔

 

آزادی کا حلف

1929 میں لاہورکے نزدیک دریائے راوی کے کنارے کانگریس کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں برطانوی حکومت کے رویے پرمایوسی ظاہر کی گئی ۔ جوہرلال نہرو، سبھاش چندر بوس اورشری نواس آینگر جیسے رہنماؤں نے حکومت کے خلاف سخت اقدامات کی بات کی۔ جواہرلال نہرو نےاپنے صدارتے خطبے میں برطانوی استعماریت ، شاہوں اور شہزادوں کی مذمت کی اوراپنےآپ کوسوشلسٹ اورریپبلیکن قراردیا۔ انہوں نے وہاں موجود رہنماؤں سےان الفاظ میں سخت قدم اٹھانےکی گذارش کی؛‘‘بڑے مقاصد قائم کرے اورخطروں سے کھیل کرہی بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مکمل آزادی ہی کانگریس کا نصب العین ہونا چاہیے۔ مہاتما گاندھی بھی اس نصب العین س متفق تھےمگروہ عجلت سے کام نہیں لینا چاہتے تھے۔ لہذا یہ قراد داد منظورکی گئی کہ کانگریس کےآئین میں لفظ سوراج کا مطلب‘ مکمل آزادی ‘ہے۔ قومی تحریک میں شریک تمام کانگریسوں سے کہا گیا کہ وہ آئدہ انتخابات میں براہ راست یا بالواسطہ طورپرکوئی حصہ نہ لیں۔ موجودہ اراکین سےاستعفی دینے کو کہاگیا ۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اختیار دیا گیا جس میں ٹیکسوں کی عدم ادائیگی بھی شامل ہو۔31 دسمبر1929کی آدھی رات کونئےسال کے نمودارہوتے کانگریس کے صدرجواہرلال نہرو نےدریائے راوی کےکنارے‘ پورن سوراج‘ ( مکمل آزادی) کا ترنگا جھنڈا لہرایا۔

26جنوری 1930 کو یوم آزادی قراردیا تھا۔ اور اس دن ہندستان کے لوگوں نے حلف لیا جسے بعد کے ہرسال دوہرایا گیا۔ آزادی کا حلف ان الفاظ سے شروع ہواتھا۔‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ دیگر تمام لوگوں کی طرح ہندستان کےلوگوں کا بھی ناقابل شکست حق ہے کہ انہیں آزادی ملے، وہ اپنی محنت کے ثمرات سےمستفید ہوں اور ان کی زندگی کی تمام ضرورتیں پوری ہوں تاکہ انہیں ترقی کا پوراپورا موقع میسرآئے۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی حکومت لوگوں کو ں حقوق سے محروم کرتی ہے اور ان پر ظلم کرتی ہے تو لوگوں کو بھی حق ہے کہ اسے بدل دیں یا بے دخل کردیں۔ ہندستان کی برطانوی حکومت نے نہ صرف اہل ہند کو ان کی آزادی سے محروم کیا ہے بلکہ ہندستان کو اقتصادی ، سیاسی ، ثقافتی اور روحانی لحاظ سے تباہ کردیاہے۔‘‘

ستیہ گرہ 

مشہورلاہوراجلاس کے جلو میں 26 جنوری 1930 کو سارے ملک میں ہونے والی پورن سوراج کی تقریبات سے لوگوں کے دبے ہوئے جذبات ، جوش وخروش اور ہرقربانی کیلئے تیار ہونےکا عزم ظاہرہوا۔ آزادی کے حلف نے سلگتی ہوئی آگ کو بھرکا دیا اور ہرطرف ایک جذبوں کا سیلاب امنڈتا ہوا نظرآنے لگا۔ اسی ماحول میںفروری میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا اجلاس سابرمتی میںمنعقد ہواجس میں گاندھی جی کواپنی مرضی کےمطابق کسی بھی وقت سول نافرمانی تحریک شروع کرنے کا اختیار دیا گیا۔ ابھی یہ واضح نہیں تھا کہ اس اقدام کی صورت کیا ہوگی۔ گاندھی جی کی حکمت عملی ان کےنذدیک ترین رفقاء پر بھی واضح نہیں گھی۔ مگر ملک کو گاندھی جی کی قیادت پر بے پناہ یقین تھا۔ اس سے پہلے وہ وائسرائے کو11نکاتی مطالبات پیش کرچکے تھے اور بعض واقعات کے پیش نظر سول نافرمانی تحریکی واپس بھی لے چکے تھے۔ ان مطالبات میں مکمل شراب بندی ، روپے کی شرح میں کمی ، زمین کی مالگذاری آدھی کرنا، تمام فوجی اخراجات کو آدھا کرنا، بیرونی کپڑوں پر تحفظاتی محصول لگانا، اسلحہ قانون میں حفظ نفس سے متعلق رعایت دینا اور نمک ٹکیس ختم کرنا شامل تھا۔

جلد ہی معلوم ہوگیا کہ سول نافرمانی تحریک کا نشانہ نمک ٹیکس ہوگا۔ یہ سلسلہ شروع ہوا تو حکومت کے نرم مزاج افراد نےاسےعجیب وغریب اورمضحکہ خیز جانا۔ مگرجلد ہی سارا ملک اس طاقتورتحریک سےبھڑک اٹھا جسےآج بھی فخر کےساتھ ان لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے‘‘۔ کہا جاسکتا ہے کہ اس میں ایک ہزارسال کی کامیابی ایک سال کےواقعات کےذریعے حاصل کرلی گئی ۔‘‘

گاندھی جی سمندر کےکنارے حکومت کےنمک ڈپو کےذریعے جمع کئے جانے والےنمک کو اپنی تحویل میں لینےکیلئے‘ ڈانڈی مارچ‘ کرنےوالےتھے۔ مارچ پرنکلنےسےپہلےانہوں نےوائسرائےکوایک خط کے ذریعےاپنے منصوبے کی اطلاع دی۔ اس خط میں جو گاندھی جی کےآشرم میں رہنے والےایک انگریز جناب ریجی نالڈ رینالڈس کے ہاتھوں بھیجا گیا تھا۔ برطانوی راج کےتحت ہندستان کی تباہی و بدحالی ، غریبی اورغلامی کا بیان کیا گیا تھا اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ 11نکاتی مطالبات کے مطابق ان شکایات کاازالہ کیا جائے۔ خط میں مزید کہا گیا تھا کہ اگر کوئی تدارکی اقدام نہیں کیا گیا تو‘‘ اسی ماہ کے11ویں دن میں اپنےآشرم کےایسےساتھیوں کےساتھ جنہیں میں لےجاسکوں، نمک قوانین کی خلاف ورزی کیلئےروانہ ہوں گا۔ میں اس ٹیکس کو غریبوں کے نقطئہ نظر سےسب سےغیر منصفانہ تصورکرتا ہوں۔ چونکہ تحریک آزادی ملک کےغریب ترین لوگوں کیلئے ہے، اس لئےاس کا آغاز اس برائی کے خلاف کیا جائے گا۔ حیرت کی بات یہ کہے کہ ہم اتنے دنوں سےاس ظالمانہ اجارہ داری کو قبول کرتےآئے ہیں۔ میں جانتاہوں کہ آپ کیلئےمجھےگرفتار کرکے میرے منصوبوں پر پانی پھیرنے کا راستہ کھلا ہواہے۔ مجھےامید ہے کہ لاکھوں لوگ ہیں جو میرے بعد پورے نظم وضبط کے ساتھ اس کام کو جاری رکھنے اور نمک قانون کی خلاف ورزی کرکےاپنےآپ کوایک ایسے قانون کےتحت سزائیں بھگتنے کیلئے پیش کرنےکو تیار ہوں گے جسےکتاب قوانین کو داغدار کرنےکا موقع ہی نہیں ملنا چاہیے تھا‘‘۔

وائسرائے کیجانب سے اس انتباہ کا جواب فورا ہی موصول ہوگیا جو دوٹوک تھا۔ وائسرائے نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا تھا کہ گاندھی جی ‘‘ ایک ایسے اقدام کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس کے دوران واضح طورپر قانون شکنی ہوگی اور امن عامہ کیلئے خطرہ پیدا ہوگا‘‘۔

گاندھی جی نےجواب دیا۔‘‘ میں نے نہایت عاجزی سے روٹی مانگی اور اس کے جواب میں پتھر پایا۔ انگریز قوم صرف طاقت کا جواب دیتی ہے اور مجھے وائسرائے کے جواب پر کوئی حیرت نہیں ہوئی ۔ یہ ملک صرف ایک قسم کےامن وسکون سے واقف ہےاور وہ ہے جیل کا سکون ہندستان ایک وسیع وعریض جیل خانہ ہے۔ میں اس (برطانوی ) قانون کو مسترد کرتاہوں اور میں اسے اپنا مقدس فریضہ سمجھتا ہوں کہ اس جبری امن وسکون کی ماتمی یکسانیت کو توڑ دوں جو آزادانہ اظہار سے محرومی کے سبب ملک کا دم گھوٹے دی رہی ہے‘‘۔

 

تاریخی ڈانڈی مارچ

گاندھی جی نے 12مارچ 1930 کوصبح 30۔6 بجےاپنےآشرم کے79 ساتھیوں کے ساتھ مارچ شروع کیا۔ یہ ایک تاریخی منظر تھاجو شری رام اور پانڈؤوں کے قدیم قصوں کی یاد تازہ کررہا تھا۔ موتی لال نہرو نے اسےشری رام چندر کے سری لنکا کو چ کرنے جیسا قرار دیا۔ سی۔ ایف ۔ اینڈ ویوز نےاسےموسٰی کےذریعے آل اسرائیل کےاخراج کی قیادت کے مماثل قرار دیا۔ امریکیوں نےاس تاریخی مارچ کا موازنہ لنکن کے یونین کو باقی رہنےاورجنوبی ریاستوں کیلئےفوج بیھجنےکےفیصلےسے کیا۔ اوریہ سب ایک 61 سالہ نحیف ونزارشخص کررہا تھا جواس وقت کی طاقتورترین سلطنت کو للکارتا ہوا چل پڑا تھا۔

ڈانڈی مارچ کےبارے میں بڑے پیمانے پرخبریں شائع کی گئیں اورسارے ملک کی نگاہیں اس پرمرکوزرہیں۔ دن بدن جوش وخروش میں اضافہ ہوتا چلاگیا ۔ گاندھی جی جن علاقوں سے گذرے ان کے300 دیہی افسروں نےاستعفےدے دئے ۔ گاندھی جی پہلے ہی کہہ چکے تھے۔‘‘میرے مارچ پر نکلنے تک انتظار کیجئے۔ جب میں مقررہ مقام تک پہنچ جاؤں گا تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ کیا کرنا ہے۔‘‘ اس مزاحمتی سفر کا پورا نقشہ ان کےذہن میں تھا جب کہ اور لوگ اس سے ناواقف تھے۔ حکومت نے ابھی تک گاندھی جی کوگرفتار نہیں کیا تھا مگرسردار ولبھ بھائی پٹیل اوربعض دیگررہنما جیل پہنچائے جاچکےتھے۔ ڈانڈی مارچ کےراستےمیں جگہ جگہ پانی کا چھڑکاؤ کیا جارہا تھا اورپھول پتیاں بچھائی جارہی تھیں۔ ساراراستہ جھنڈوں، جھنڈیوں، ہاروں سےسجاہوتھا۔ ان عجیب وغریب لوگوں کی فوج اوراس کے سالار کو دیکھنےاورعقیدت کا اظہار کرنے کیلئے جگہ جگہ لوگوں کی بھیڑ امنڈی پڑرہی تھی ۔ گاندھی جی اس سفر کی راہ میں اپنےدیرینہ پیغام کا اعادہ کیا جو کھدر اختیار کرنے، شراب ترک کرنےاورچھواچھوت ختم کرنے پرمشتمل تھا۔ انہیوں نے یہ تلقین بھی کی کہ سارے لوگ ستیہ گرہ میں شامل ہوں۔ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ سوراج حاصل ہونےتک یا تو وہ اس راستےمیں جان دے دیں گے یا آشرم سےدوررہیں گے۔ گاندھی جی کا مارچ 24 دن جاری رہا جس کےدوران 200 میل کی مسافت طے کی گئی ۔ س پورے عرصےمیں وہ اس بات پرزور دیتےرہےکہ یہ مارچ ایک تیرتھ یاتراہےاوریہ عرصہ گناہوں سےتوبہ اورخود احتسابی کا عرصہ ہے جسےدھوم دھام اورجشن منانے میں ضائع نہیں کیا جانا چاہئے۔

 

5 اپریل کی صبح گاندھی جی ڈانڈی پہنچے ۔ صبح کی عبادت سے فارغ ہوتے ہی گاندھی جی اور ان ساتھی رضاکاروں نے سمندر کے ساحل پر موجود نمک اٹھاکر نمک قانون کی خلاف ورزی کی۔ اس کےبعد گاندھی جی نے یہ بیان جاری کیا ۔‘‘ اب جب کہ نمک قانون تکنیکی یا علامتی طورپر توڑا جاچکا ہےہرشخص جو نمک قانون کے تحت کی جانے والی عدالتی کارروائی کا خطرہ اٹھانے کو تیار ہو جہاں چاہے اور جس طرح چاہے نمک بنانے کیلئے آزادہے۔‘‘

 

گاندھی جی کی گرفتاری

ساراملک اب تک دم سادھےڈانڈی مارچ کو دیکھ رہا تھامگر6 اپریل سےنمک ستیہ گرہ کا اعلان ہوجانے کےبعد ملک کےایک کونے سےدوسرے کونےتک جوش وجذبے کا سیلاب آگیا ۔ جگہ جگہ بڑے بڑے جلسے ہوئے جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نےشرکت کی۔ کراچی ، شروڈا، رتناگری، پٹنہ ، پشاور، کلکتہ ،مدراس اورشولاپور کےواقعات سےعوام کے جذبئہ قربانی کا زبردست مطاہرہ ہوامگراس کے ساتھ ہی برطانوی حکومت کی بندھی ہوئی مٹھیاں بھی کھل چکی تھیں ۔ جگہ جگہ فوجیوں کی فائرنگ ,لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ تحرکی کوکچلنےکیلئےایک خصوصی آرڈیننس جاری کیا گیا۔ پریس پرسخت ضرب لگائی گئی ۔ گاندھی جی اب تک اپنی تقریروں اور‘ نوجیون‘ میں شائع ہونےوالےاپنےمضامین کےذریعےتحریک کی قیادت کررہے تھے۔ حکومت کا خیال تھا کہ گاندھی کو تنہا چھوڑدیا جائےتو یہ تحریک ختم ہوجائے گی۔ مگر گاندھی جی نےوائسرائے کو ایک خط لکھا جس میں دھرسانا اورچھرساڈا کےنمک کارخانون پرہلّہ بولنےکا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اب انکی گرفتاری کا وقت آپہنچا تھا۔ رات کو ایک بج کر دس منٹ پرانہیں ایک پولس کی کار میں بٹھاکر بڑوداجیل بھیج دیا گیا۔

لندں ٹیلی گراف‘ کے جناب ایشمیڈ با لیٹنھےنےلکھا؛ ‘‘ وہاں جب ہم لوگ ٹرین کا انتطار کررہےتھےتو سارے ماحول میں ایک نہایت شدید ڈرامائی عنصر شامل ہوگیا تھا، کیونکہ ہمیں محسوس ہورہا تھا کہ ہم ایک ایسےمنظر کےواحد چشم دید گواہ ہونےوالےہیں جو تاریخی حیثیت اختار کرسکتا ہے، ایک پیغمبر کی گرفتاری کا منظر کیونکہ گاندھی کو،غلط یا صحیح ، لاکھوں ہندستانی اب ایک مقدس شخص اورسادھوسمجھنےلگے ہیں۔ کسے خبر کہ آج سے سوسال بعد ملک کے30 کروڑ لوگ ان کی پوجا کرنے لگیں گے۔ ہمارے لئےان خیالات کو اپنےذہن سے جھٹک پانا محال تھا اور صبح سویرے ایک لیول کراسنگ پر اس پیغمبر کوحراست میں لیا جانا عجیب لگ رہا تھا‘‘ گاندھی جی نےاپنی گرفتاری سےپہلےڈاندی میں اپنا آخری پیغام جاری کردیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تحریک کےسلسلےمیں آئندہ کیا کیا جانا ہے۔ انہوں نےکہا تھا۔‘‘ میری گرفتاری کےبعد لوگوں اورمیرے ساتھیوں کوپست حوصلہ نہیں ہوجانا چاہیے۔ اس تحریک کو چلانےوالا خدا ہے، میں نہیں ‘‘انہوں نےمزیدکہا ‘‘ پورے پورے گاؤں کو نمک اٹھانےیا بنانے کیلئےآگے بڑھنا چاہیے۔ عورتیں شراب، افیم اوربیرونی کپڑوں کی دکانوں پردھرنا دیں۔ ہرگھرمیں نوجوان اور بڑے سارے لوگ تکلی سے کتائی کریں اور روزانہ بڑی مقدار میں کتائی کی جائے۔ بیرونی کپڑوں کی ہوری جلائی جائے۔ ہندو کسی کو اچھوت نہ سمجھیں ۔ ہندو، مسلمان ، پارسی اور عیسائی سب خوشی خوشی ایک دوسرے کے گلے لگیں ۔ بڑی برادریاں، چھوٹی برادریوں کے مطمئن ہوجانے کے بعد جو کچھ بچ رہے اس سے مطمئن ہوں ۔ طلبہ سرکاری اسکول چھوڑدیں اور سرکاری ملازمین مستعفی ہوجائیں اورمستعفی ہوجانے والے بہادر پٹلیوں اور تلاتیوں کی طرح عوام کی خدمت میں لگ جائیں ۔ اس طرح ہم سوراج کو بہ آسانی مکمل کرسکیں گے۔ ‘‘

 

گرفتاری کے بعد

گاندھی جی کی گرفتاری کےبعد ملک کےایک کونے سےدوسر کونےتک مظاہرے ہوئے۔ بمبئی ، کلکتہ اوربہت سے دیگر مقامات پررضاکارانہ اورمکمل پڑتال کی گئی ۔ پورے بمبئی شہر میں ایک بہت بڑے جلوس اور جگہ جگہ ہونے والے جلسوں سے ہلچل مچ گئی ۔ تقریبا 50 ہزار مل مزدوروں نےکام روک دیا۔ ریلوے ورک شاپ بند کئے جانے پڑے ۔ کپڑا تاجروں نے 6 دنوں کی ہڑتال کا فیصلہ کیا۔ تیزی کے ساتھ اعزازی عہدوں اور ملازمتوں سے استعفے کے اعلانات کئے جانے لگے۔ شولاپور اور کلکتہ میں بڑے پیمانے پر ہنگامے ہوئے۔

گاندھی جی کی گرفتاری پر ساری دنیا میں احتجاج کیا گیا۔ پناما اور سومترا جیسے دوردراز علاقوں میں ہندستانی تاجروں نے ہڑتال کی ۔ برطانیہ جرمنی اور فرانس کی پریس میں بائکاٹ کی تحریک پر تشویش ظاہر کی گئی۔ امریکہ ڈاکڑ جان بین ہومز کی قیادت میں بعض با اثر پادریوں نے جناب ریمزے میکڈانلڑ کو اس سلسلے میں ایک پیغام ارسال کیا۔

 

سول نافرمانی کی توسیع

جناب عباس طیب جی نےگاندھی کی جگہ پرنمک ستیہ گرہ کی قیادت سنبھالی تھی مگرانہیں جلد ہی گرفتارکرلیا گیا ۔ مختلف قصبوں اوردہیاتوں میں گرفتاریوں، لاٹھی چارج اور دیگرجابرانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رہا مگر اس سےلوگوں کےمزاحمتی جوش وخروش مزید بڑھ گئے۔ گاندھی جی کی گرفتاری کےبعد، مئی میں الہ آباد میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں سول نامرمانی کےدائرے کومزید وسعت دی گئی ۔ اس نے لوگوں سےاپیل کی کہ وہ ہرممکن قربانی پیش کریں جس کی وہ قدرت رکھتے ہیں ۔ یہ اپیل بھی کی گئی کہ سارےملک میں بلاتاخیر بیرونی کپڑوں کا مکمل بائکاٹ ہونا چاہیےاور کھادی کی پیداوارمیں شدت لائی جانی چاہیے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ممنوعہ نمک کی پیداوار بڑھائی جائےاورجنگلات سےمتعلق قوانین کی خلاف ورزی کی جائے۔ اس بات پربھی زوردیاگیا کہ برطانوی اشیاء کےساتھ ساتھ برطانوی بنکوں اور بیمہ، جہازرانی اورایسے ہی دیگر اداروں کا بھی بائکاٹ کیا جائے۔ آخر میں کمیٹی نے کہا‘‘ کمیٹی کی رائے ہےکہ وقت آگیا ہےکہ بعحض صوبوں میں خصوصی ٹیکس ادانہ کرنےکےذریعے‘ ٹیکس نہیں مہم شروع کی جائےاورگجرات، مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا، تامل ناڈواور پنجاب میں جہاں دیوت وادی نظام قائم ہےاراضی ٹیکس ادانہ کرنےاور بنگال ، بہاراوراڑیسہ جیسےصوبوں میں چوکیداری ٹیکس ادانہ کرنےکی شروعات کی جائے۔ کمیٹی ان صوبوں سےاپیل کرتی ہے کہ صوبائی کانگریس کمیٹیوں کے ذریعے منتخب علاقوں میں اراضی ٹیکس یا چوکیداری ٹیکس ادانہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔‘‘

 

دھرسانہ کی کارروائی

جناب طیب جی کی گرفتاری کے بعد محترمہ سروجنی نائڈو کودھرسانہ میں کارروائی کی قیادت کرنی تھی مگر انہیں بھی ان کے رضاروں کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد رضاکاروں کے جتھے نمک ڈپو کی جانب بڑھنے لگے۔ انہیںمارا پیٹا اور بھگادیا جاتا۔ اسی شام220 رضاکاروں کےایک اور جتھے کو گرفتار کیا گیا۔ رضاکاروں کے مزید جتھے جمع ہوگئے اور مزید حملےکئے گئے۔ دھرسانہ میں 21 مئی کو زبردست ہلّہ بولا گیا جس میں تقریبا ڈھائی ہزار لوگون نے شرکتکی۔ ان لوگوں کی قیادت جنوبی افریقہ میں مہاتما گاندھی کے62 سالہ رفیق امام صاحب کررہے تھے۔ رضاکاروں نے یہ کارروائی صبح سویرے ہی شروع کردی اورا نہوں نے جگہ جگہ نمک کے ٹیلوں پر حملے کئے۔ پولس ان پر لاٹھیاں برساتی اور پیچھے دھکیل دیتی ۔ امام صاحب اور دیگر رہنما گرفتار کرلئے گئے۔ سیکڑوں رضاکار زخمی ہوئے جن میں سے بعض ہلاکت خیز طور پر زخمی تھے۔ ان لوگوں کو اسپتال یا جیل بھیجا گیا تو ان کی جگہ دوسرے جتھے آپہنچے۔

 

وڈالا کے حملے

وڈالا نمک ڈپو پر بھی کئی حملےکئے گئے جن میں سیکڑوں رضاکاروں نےحصہ لیا۔ مگر سب سے طاقت ورحملہ یکم جون کو کیا گیا۔ اس دن صبح سویرے تقریبا 15ہزار رضاکار جمع ہوئے اور مختلف جتھوں کی شکل میں پورٹ ٹرسٹ لیول کراسنگ کی جانب بڑھے جہاں پولس نے رکاوٹیں کھڑی کررکھی تھیں۔ اس پر حملہ آوروں نے جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے پولس کے گھیرے کو توڑ کر پیش قدمی کی اور نمک کے ڈھیروں تک پہنچ گئے۔ پولس نے جو ہوم ممبرکی ماتحتی میں کام کررہی تھی انہیں واپس کھدیڑ دیا۔ ایسے ہی حملے ملک کے دیگر حصوں میں بھی کئے گئے۔ ان حملوں کےخلاف پولس کی کارروائی کےاندازپر سارے ملک میں شدید عوامی غم وغصہ پیدا ہوا۔ جناب ویب ملر نے‘ نیو فری میں‘ دھرسانہ کےمناظر پر کراہت اور تنفر ظاہرکرتےہوئے لکھا۔

‘‘بائیس ملکوں میں اٹھارہ برس رپورٹنگ کرنےکےدوران میں نےبے شمارہنگامے، فسادات، سرک لڑائیاں اوربغاوتیں دیکھیں مگرایسےبھیانک مناظر کہیں نہیں دیکھےجیسےکہ دھرسانہ میں نظرآئے۔ بعض اوقات یہ مناظر اتنے تکلیف دہ تھے کہ کچھ لمحوں کیلئے نظر ہٹالینی پڑیں۔ ان کا ایک حیرت ناک پہلو رضاکاروں کا نظم وضبط تھا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ گاندھی جی کے عدم تشدد کےاصول میں ہوری طرح غرق تھے۔‘‘

 

سول نافرمانی کا پھیلاؤ

سول نافرمانی تحریک نےمختلف صورتیں اختیار کیں اورمختلف صوبوں میں الگ الگ انداز سے چلائی گئی۔ بیرونی کپڑوں کا بائکاٹ زیادہ موثر رہا۔ بمبئی کی تاجر برادری بشمول مل مالک نےپرجوش تعاون دیا۔ بمبئی اس تحریک کا خاص مرکزاورسارے ملک کیلئےرہنما ثابت ہوا۔ یہ تحریک ایک جانب برطانوی اقتدارسےبغاوت اور حکم عدولی کی تھی تو دوسری جانب اس میں عوام کوتعمیری سرگرمیاں بھی انجام دینی تھیں۔ بیرونی کپڑوں کےبائکاٹ کےساتھ کھادی کا فروغ بھی شامل تھا۔ شراب بندی کےجذبےکےتحت تاڑی کےبہت سےدرخت کاٹ ڈالے گئےاورشراب کی دکانوں پردھرنےدئے گئے۔ اخباروں پرپابندی لگائی گئی تواس کےجواب میںسائکلواسٹائل خبرنامے شائو کئے جائےلگے ۔ پولس کی حکم عدولی کرنےکیلئے جگہ جگہ جلسوں اورجلوسوں کا اہتمام کیا گیا۔

اس نئے جذبےاورصورتحال کو دبانے کیلئے مختلف انداز کی استبدادی کا رروائیں کی گئیں جو روز بروز شدید تر ہوتی چلی گئیں ۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا اور موتی لال نہرو گرفتارکرلئے گئے۔

مگراستبدادی کارروائیوں میں جتنا اضافہ ہوا یہ تحریک اتنی ہی شدید تر ہوتی گئی، خاصطورپر اپنے بائکاٹ کے پہلوسے ۔ بمبئی کی رضاکار تنظیمیں اور زیادہ سرگرم ہوگئیں ۔ عورتیں بھی سامنے آگئیں ۔ دھوپ اوربارش ، لاٹھیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرتے ہوئے نوعمر لڑکیوں اورعورتوں شراب اور بیرونی کپڑوں کی دکانوں پرنہایت موثر انداز سےدھرنےدئے۔ جب کوئی دکان داراپنا سامان بیچنےسے باز نہ آتا توخود اس کی بیوی یا بیٹی دکان کےآگےدھرنے پر بیٹھ جاتی ۔ گھروں کی تنہائی اور حفاظت میں پلی بڑھی نوعمراوربڑی عورتیں اس تحریک کی آوازپراٹھ کھڑی ہوئیں اورانہیں اپنےملک کیلئے قربانی اورتکلیف اٹھانےکی ایک نئی دنیا کا تجربہ حاصل ہوا۔ ان لڑکیوں اورعورتوں کی اس شرکت نےان میں ایک نئی تحریک پیدا کی اوراس کی وجہ سےانہیں ایک نئی سماجی آزادی حاصل ہوئی۔

اس تحریک کے دوران بہادری کے اتنے واقعات پیش آئےاوراتنے لوگوں اورمقامات نےاپنے آپ کو نمایاں کیا کہ ان سب کا فردا فردا ذکر ناممکن ہے ۔ مگرچند مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ پیشاور میں کشت وخون اور بہادری کیلئے مشہور پٹھان لوگ خان عبدالغفار خاں جنہیں محبت سےسرحدی گاندھی کہا جاتا ہے کی قیادت میں عدم تشدد پریقین کرنے والے لوگوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔ اس تحریک کےدوران انہوں نے ایسا طرزعمل ظاہر کیا جس نے سارے ملک کیلئےایک داستانی حیثیت اختیار کرلی ۔ پشاور میں کئی جگہ پولس نے شدید گولی باری کی مگراس کے باوجود لوگوں کےحوصلےپست نہیں ہوئے۔ ایک جگہ تو یہ ہوا کہ جوجی پولس نے ایک جلوس کےقائد کو گولی مارکر ہلاک کردیا تو اس کی جگہ ایک اورشخص آگیا اور جب اس کا بھی یہی حال ہوا تو ایک تیسرے شخص نےاس کی جگہ لے لی اوراس طرح بہت سےلوگ ہلاک ،جاں بحق ہوگئے۔

پشاور کا ایک اور واقعہ بھی ہمیں فخر سے بھردیتا ہے۔ غیر مسلح لوگوں پربڑے پیمانےپرفائرنگ کی جارہی تھی180 گڑھوالی رائفلز کی سکنڈ بٹالین کےدو پلاٹونوں نے جو ہندو فوجیوں پر مشتمل تھیں مسلما نوں کےایک ہجوم پر فائرنگ کرنےکا حکم ماننےسےانکار کردیا اوراس طرح وطنی بھائیوں کےساتھ وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ ان پلاٹونوں کے17 فوجیوں کو کورٹ مارشل کا رروائی کےبعد سخت سزائیں دی گئیں جن میں ایک فوجی کو عمر قید ، 15 فوجیوں کو 15 سال کی قید بامشقت اور باقی کو تین سے دس سال کی قید کی سزائیں دی گئیں۔ اس واقعےسے لوگوں میں ایک نیا جذبہ بیدارہوگیا اور25 اپریل سے4 مئی تک پورا پشاورعوام کےزیراقتداررہا اوریہاں دوبارہ قبضہ کرنےکیلئے فضائی دستوں کےساتھ بڑے پیمانے پرفوجی دستے بھیجےگئے۔ بنگال میں، ضلع مدناپور کئی ماہ تک بنگال حکومت کی پہنچ سےباہررہا۔ گاندھی جی کےعدم تشدد سےاختلاف رکھنے والی انقلابی پارٹی بھی یہاں سرگرم تھی۔ چٹگام کے اسلحہ خانےپرحملےنےجسے گاندھی جی نے‘‘جرائت مندانہ اقدام ‘‘ کہا سارے فوج میں ایک برقی لہر دوڑادی ۔غیر قانونی طورپرنکالےجانےوالےخبرناموں اورپیغام رسانوں کےذریعےقصبوں اوردیہات میں لوگوں کےمزاحمتی کارناموں کی خبریں پھیلنے لگیں۔ نوجوانوں اوربوڑھوں، مردوں اورعورتوں نےپولس کی لاٹھیوں کا مقابلہ کیا۔ جلوسوں پرپابندی لگائی گئی تولوگ سڑکوں پرغیرجارحانہ مزاحمت کےاندازمیں گھنٹوں دھرنے پربیٹھےرہےاورستیہ گرہوں کوان کےگھروالوں اوردوستوں نےپھولوں کےہاردے کراورجشن مناتےہوئےجیلوں کیلئےرخصت کیا۔ بمبئی میں بابو گنؤنام کا لڑکا کلبادیوی روڈ پرایک پولس لاری کوآگے بڑھنےسے روکنےکیلئےاس کےسامنے کھڑا ہوگیا اور کچل دیا گیا۔

 

ایک بار پھر باردولی

گجرات میں، ٹیکس نہ دینے کی تحریک باردولی اوربورساد کےتعلقوں میں کامیابی سےانجام دی گئی ۔ اس کےخلاف حکام کےمظالم اتنے شدید اورعوام کی مزاحمت اتنی پرزور تھی کہ تقریبا 80 ہزارلوگ اپنے گھروں کوچھوڑکرپڑوس کی ریاست بڑودا منتقل ہوگئے۔ جناب بریلس فورڈ نےعوام کےاس طرح گھربار چھوڑنےکواس طرح بیان کیا ہے۔ جس کے کچھ اقتباسات یوں ہیں۔‘‘ اور تبھی تاریخ کی سب سےحیرت انگیز نقل مکانی شروع ہوئی۔ ان گاؤں والوں نے،اس اتحاد کا مظاہرہ کرتےہوئے جس کےاہل صرف ذات برادری کےسخت نظم وضبط سے بندھے ہوئے ہندستانی ہی ہوسکتے ہیں ایک کےبعد ایک اپنا سامان اپنی بیل گاڑیوں پر لادا اوربڑودا کی جانب چل پڑے ۔ بعض لوگوں نے اپنی بھرپورفصلیں جلادیں جنہیں وہ کاٹ نہیں سکتے تھے۔ میں ان کے ایک کیمپ میں گیا۔ انہوں نے چٹائیوں کی دیواروں اوران کےاوپرکھجور کےپتوں سےبنائی گئی چھت کےذریعےعارضی پناہ گاہیں بنالی تھیں۔ برسات گذرچکی تھی، لہذا انہیں مئی تک موسم کی کوئی زیادہ سختی برداشت نہیں کرنی تھی۔ اس جگہ وہ سب اپنےعزیز مویشیوں کےساتھ جمع تھےاور نہایت تنگ جگہ میں ان کا تمام سامان حیات بھراہواتھا، بڑے بڑے برتن جن میں چاول رکھے جاتے ہیں، کپڑے اورصندوق اور بستر، پیتل کے چمک دارپیالے، اس طرف ایک ہل اورادھر دیوی دیوتاؤں کی تصویریں اوران ساری چیزوں کے درمیان ، جگہ جگہ ، کیمپ کی عزیز ترین چیز یعنی مہاتما گاندھی کا فوٹو گراف ۔ میں نےان لوگوں سے پوچھا کہ انہوں نےاپنا گھربار کیوں چھوڑدیا ۔ سب سے پہلےاورسادہ ترین جواب عورتوں نےدیا‘‘ کیونکہ مہاتما جی جیل میں ہیں‘‘۔ مردوں نےمعاشی پریشانیاں بیان کیں‘‘ کھیتی باڑی سے کچھ نہیں ملتا اور لگان بہت غیرمنصفانہ ہے'‘دوایک لوگوں نے جواب دیا‘‘ سوراج پانے کیلئے‘‘میں سورت کی کانگریس تنظیم کےصدرکے ہمراہ ان ویران دیہات میں گھومتےہوئے دو یاد گاردن گذارے۔ اسی دوران ان گاؤں میں جگہ جگہ بند مکانات نظرآئے جن میں کواڑوں کی جھریوں سےصرف خالی کمرے دکھائی دے رہےتھے۔ گللیاں دھوپ کی خاموش جھیل بنی ہوئی تھیں۔ ہرچیزساکت وصامت تھےسوائےان بندروں کے جو کبھی کبھی کسی چھت پراچھل کود مچاتے تھے۔‘‘

یہاں بورساد کی عورتوں کےبہادری کے چند کارناموں کا ذکر بھی کیا جانا چاہیے۔ 21 جنوری 1931 کو بورساد میں ایک مظاہرہ کیا جانا تھا۔ پولس نےجو اسے ناکام بنانے کو تیار بیٹھی تھی رضاکاروں کوخوف زدہ کرنے کی کوشش کی ۔ اس پربورساد کی عورتیں نہایت بے خوفی سے سامنےآگئیں ۔ ان کے برتن توڑ ڈالے گئے ۔ پولس نے تتربتر کرنے کیلئےطاقت کا استعمال کیا جس کے دوران عورتیں گرپڑیں اور پولس والے ان کے سینوں پر بوٹ رکتھے ہوئے گذرے۔

پولس نے کسی کو نہ بخشا اورنہ کسی کے ساتھ مہذب برتاؤکیا۔ سردارولبھ بھائی کی 80 سالہ ماں اپنے گھر میں کھانا پکارہی تھیں کہ پولس والوں نے کھانےکا برتن پھینک دیا۔ متحدہ صوبہ واحد صوبہ تھا جہاں عام غیرٹیکس مہم چلائی گئی ۔ زمین داروں اور کسانوں دونوں سے کہاگیا کہ وہ لگان نہ دیں۔

بہار کےبہت بڑے علاقے میں جہاں چوکیداری ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ۔ سارے صوبے میں سخت جرمانےعائد کئےگئےاور چھوٹے چھوٹے رقوم کے بدلے میں بڑی بڑی املاک ضبط کرلی گئیں ۔ سنڑل صوبوں میں کئی ستیہ گرہیں بھاری جرمانےاور پولس کی زیادتیوں کے باوجود کامیابی سے چلائی گئیں اورجاری رہیں ۔ کرناٹک میں بھی ٹیکس کے خلاف مہم چلائی گئی جس میں تقریبا 800 کنبوں نے حصہ لیا۔

پنجاب میں خاص طورپر بیرونی کپڑوں کے بائکاٹ کےمعاملے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مسلم خواتین سمیت بہت سی خواتین نےدھرنے دئے ۔ بیرونی کپڑے فروخت کرنے والوں کے مکانوں کے سامنے احتجاج کیا گیا ۔ 31 دسمبر 1931 کو آزادی کی قرارداد کی سال گرہ منائی گئی ۔ لاہور میں سبھاش چندر ہوس کو جو ایک سال قید کی سزاکاٹ کر رہا ہوئے تھے ایک جلوس کے دوران بری طرح زودکوب کیا گیا۔

یہ لرزہ خیز قصےاور قومی جدوجہد کے اس عظیم دور کےواقعات ہماری تحریک آزادی کےسب سے یادگاردنوں کے باقیات ہیں۔

1930 کی سول نافرمانی تحریک کےنتائج اوراثرات کےبارے میں لوئی فشر نے لکھا؛‘‘ گاندھی نے1930 میں دوکام کئے۔ انہوں نے انگریزوں کو بتادیا کہ انہوں نے ہندستان پر بےرحمی کے ساتھ غلام بنارکھا ہےاورہندستانیوں کو یہ اعتماد بخشا کہ اگروہ اپنے سراونچےرکھیں اوراپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی رکھیں تو غلامی کا جوااپنے کاندھوں سےاتار کر پھینک سکتے ہیں۔ انگریزوں نے ہندستانیوں کو بٹنیوں اور رائفل کے کندوں سے پیٹا مگر ہندستانیوں نےاس کا بدلہ لیا نہ شکایت کی اور نہ افسوس ظاہر کیا ۔اس سےانگلینڈ کمزور ہوا اور ہندستان ناقابل شکست ہوگیا۔ ۔‘‘

 

گاندھی ارون معاہدہ اور پہلی گول میز کانفرنس

ایک جانب ناقابل بیان استبدادی کا ررروائیںکے باوجود سول نافرمانی تحریک جاری تھی تو دوسری طرف مصالحتکی کوششیں بھی کی جارہی تھیں۔ سرتیج بہادر سپرو اور جناب ایم آر۔ جیکر کی کئیکوششوں سے مہاتما گادندھی اور وائسرائے کے درمیان پندرہ روز تک بات چیت ہوئی جس کےنتیجےمیں ایک معاہدہ عمل میں آیا ۔ اس معاہدے پر جسے گاندھی جی -ارون معاہدہ کہا جاتاہے 5 مارچ 1931 کو سوتخط کئےگئے۔ معاہدے کےتحت، حکومت کو بعض رعایتیں دینی تھیں اور دوسرے گول میز کانفرنس میں کانگریس کے نمائندوں کی شرکت کیلئے اقدامات کرنے تھے اور کانگریس کو سول نافرمانی تحریک واپس لےلینی تھی۔

اسی دوران1931 کے اوائل میں ایک گول میز کانفرنس لندن میں منعقد کی گئی ۔ اس کا مقصد غالبا ہندستانیوں کے‘ نمائندہ اجلاس‘ کیلئے ، جس میں اہل ہند کو اپنے ملک کی آئندہ حکومت کے بارے میں کسی متفقہ فیصلے پر پہنچنا تھا، سازگار ماحول تیار کرنا تھا۔ اس کانفریس میں شریک نمائندوں کا انتخاب ہندستانیوں نے نہیں بلکہ وائسرائے اور ان کے حکام نے کیا ۔ انہوں نے کیا یہ تھا کہ برصغیر کے ہرعقیدے ، ہر جماعت اور فریق ، ہر نسلی اقلیت ، ہر مفاداتی گروپ کے متنوع عناص کو جمع کرلیا تھا۔ اس کانفرنس میں راجہ مہاراجہ ، رانیاں اور شہزادیاں، اچھوت ، عیسائی، سکھ ، مسلمان، ہندو، زمین دار، بڑے بڑے تاجر ، لیبر پارٹی ک سرکاری نمائندے سب تھے مگر نہیں تھے تو ہندستان کے اصل نمائندے یعنی کانگریس کے رہنما ۔ وہ جیلوں میں سرکاری میزبانی کا لطف اٹھارہے تھے۔

گاندھی ارون معاہدے جس جذبے کے تحت عمل میں آیا تھا وہ زیادہ دن باقی نہیں رہا۔ پرجانب سے احتجاج کے باوجود حکومت نے 23 مارچ کوبھگت سنگھ، سکھ دیو، راج گرواورراج دیو کو پھانسی پرچڑھا دیا ۔ لارد ارون کی جگہ لارد ویلنگٹن وائسرائے ہوگئےاورنئے وائسرائے کا اس معاہدے کی پابندی کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔

 

دوسری گول میز کانفرنس

اسی دوران کانگیس ورکنگ کمیٹی نےیہ قراد داد منظور کی کہ مہاتما گاندھی کو1931 میں لندن میں ہونے والی دوسری گول میز کانفرینس میں کانگریس کی نمائندگی کرنی چاہیے۔ چناچہ گاندھی جی نے کانگریس کے واحد نمائندے کی حیثیت سے اس کانفرنس میں شرکت کی ۔ مگر جیسے کہ توقع تھی ، فرقہ وارانہ سوال اور اہل ہندستان کے اختلافات کانفرنس پر چھائے رہےاور انہیں حل کرنے کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ہرکوشش ناکام رہی۔ گاندھی جی اس صوورت حال کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ان کی بعض تقریریں حددرجہ پراثر رہیں۔ انہوں نے کانگریس کے بارے میں جس کی وہ نمائندگی کررہے تھے کہا۔‘‘ میں انڈین نیشنلہ کانگریس کا ایک ناچیز اور حقیر ایجنت ہوں جو، اگر میں غلط نہیں وہں، تو ہندستان کی سب س پرانی سیاسی جماعت ہے۔ یہ تقریبا 50 سال سے موجود ہےاور اس تمام عرصےمیں اس کےسلالانہ اجالس بلا وقفےکےہوتے رہے ہیں۔ یہ اپنے اعلان کے مطابق ایک قومی جماعت ہے ۔ یہ کسی خاص فرقے، کسی خاص طبقے، کسی خاص مفاد کی نہیں بلکہ تمام ہندستانیوں کےمفادات اور تمام طبقات کی نمائندگی کی دووے دار ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے حددرجہ خوشی ہورہی ہے کہ اس خیال سےسب پہلے ایک انگیز ایلن آکیٹوین ہیوم کےذ ہن میں ایا تھا۔ اسے دوعظیم پارسیوں ، فیروزشاہ مہتا اور دادابھائی نیروجی نے پرواز چڑھایا اور دادا بھائی نیروجی کو سارے ہندستان نےنہایت مسرت کے ساتھ ‘قومی بزرگ‘ قرار دیا ۔شروع سے ہی مسلمان ، عیسائی ، اینگلو انڈین او رمیں کہہ سکتاہوں کہ تمام مذاہب ، کے مالک اور عقیدوں کے لوگوں کو کم وبیش پوری طرح کانگریس میں نمائندگی حاصل رہی ہے۔ مرحوم بدرالدین طیب ی نے اپنےآپ کو کانگریس سے وابستہ کیا تھا۔ کانگریس کےکئی مسلم صدررہےہیں۔ ہمارے صدورمیں خواتین بھی رہی ہیں، سب سے پہلے ڈاکڑ اینی بیسنٹ اوران کے بعد محترمہ سروجنی نائیڈو ‘‘

" کانگریس نے بالکل ابتداہی سے نام نہاد ‘ اچھوتوں ‘ کا مسئلہ اپنے پیش نظر رکھا ہے۔ جس طرح کانگریس ہندومسلم اتحاد یعنی تمام طبقوں کے درمیان اتحاد کو آزادی کے حصول کیلئے نگزیر جانتی ہے اس طرح اس کے لئے چھواچھوت کی لعنت کو مٹانا بھی مکمل آزادی حاصل کرنے کی ناگزیرشرط ہے۔ ‘‘

 

" مجموعی طورپر کانگریس ،اپنی اصل میں ، ہندستان کے طول وعرض میں بکھرے ہوئے سات لاکھ دیہات کے ان بے آواز آدھے بھوکے ننگے کروڑوں لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے، خواہ ان کا تعلق بقول شخصے برطانوی ہندستان سے ہویا ہندستانی ہندستان سے ‘‘

" میں نام نہاد اچھوتوں کےبارے میں کشھ اور باتیں عرض کانا چاہتاہوں ۔ میں دیگر فرقوں کی طرف سےپیش کردہ دعوؤں کو سمجھ سکتا ہوں مگر ‘اچھوتوں ‘ کی جانب سے پیش کئے گئے دعوے میرے نزدیک حددرجہ بے رحمانہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے ایک مستقل علاحدگی ۔ ہم نہیں چاہتے کہ ‘اچھوتوں ‘ کو ایک علاحدہ طبقہ قراردیا جائے۔ سکھ مستقلا ایک علاحدہ طبقہ ہوسکتے ہیں اوراسی طرح مسلمان اور عیسائی بھی مگر کیا اچھوتوں کو بھی مستقلا ایک علاحدہ طبقے کے طورپر رہنا ہوگا چھواچھوت باقی رہنے سے تو بہتر ہے ہندو مذہب ختم ہوجائے ۔ جولوگ اچھوتوں کے سایسی حقوق کی بات کرتے ہیں وہ ہندستان کو نہیں جانتے اور نہیں جانتے کہ ہندستانی سماج کی تشکیل کس طرح ہوئی ہے۔ لہذا میں مقدور بھر زور دے کر کہنا چاہتاہوں کہ اگر میں اس چیز کی مزاحمت کرنےوالا آخری شخص ہوں تو میں اپنی جان دے کر بھی اس کی مزاحمت کروں گا۔‘‘

دوسرے گول میز کانفرنس میں حکومت کا ارادہ ہندستان کوایک ذمے دارحکومت دینےکے بجائے بیوروکریسی کے اختیارات میں ہندستانیوں کو حصے داری دینے کا معلوم ہوتا تھا۔ گاندھی جی کہا‘‘ میں ان کیلئے نیک خواہشات رکھتا ہوں مگر کانگریس اب ان معاملات سے پوری طرح باہر ہے۔ کانگریس لاتعداد برسوں تک بے مقصد بھٹکتی پھرسکتی ہے بجائے اس کے کہ ایک ایسی تجویز کےآگے سرتسلیم خم کردے جس کےتحت آزادی اورذمےدارحکومت کا درخت کبی بارآور نہیں ہوسکتا۔‘‘فرقہ وارانہ سوال پر بھی بات چیت میں رخنہ پڑا۔

یکم دسمبر کو کانفرینس انجام کو پہنشی تو گاندھی جی صدرمجلس کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ اب رخصت کا وقت آپہنچا ہے اور آئندہ انہیں الگ الگ راہوں پر جانا ہے۔ انہوں نے کہا۔‘‘ انسانی فطرت کا واقار اسی میں ہے کہ ہم زندگی کے طوفانوں کا سامنا کریں۔ میں نہیں جانتاا کہ اب مجھے کس طرف جاناہ ۔ مگر اس کے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر مجھے آپ سے بالکل مختلف سمت میں بھی جانا ہواتب بھی آپ تہہ دل سے مرے شکریے کے مستحق ہیں۔‘‘

گاندی جی دوسرے گول میز کانفرنس سے خالی ہاتھ واپس آئے۔ بھیانک جبر واستبداد ختم کرنے کی وہ شرط بھی جس کے ساتھ کانگریس کانفرنس میں شرکت پر راضی ہوتی توڑی جاچکی تھی ۔ جواہر لال نہرو اور ٹی اے کےشیروا گرفتار کرکے دوبارہ جیل بھیجے جاچکے تھے۔ شمال مغربی سرحدی صوبے میں خان عبدالغفار خاں اور ڈاکڑ خان صاحب بھی گرفتار کئے جاچکے تھے۔ متحدہ صوبہ جات، شمال مغربی سرحدی صوبے اور بنگال میں خصوصی آرڈیننس نافذ کئے جاچکے تھے۔

 

کانگریس غیر قانونی قرار دی گئی

گاندھی جی نے کانگریسوں کو سختی سے تلقین کی تھی کہ وہ کوئی شدید مہم نہ چلائیں مگر اس کے ساتھ ہی قومی عزت نفش پر پڑنے والی کسی ضرب کو بھی برداشت نہ کریں ۔ عارضی صلح کا زمانہ حکومت کیلئےدراصل نئے مظالم کی تیاریوں کا وقفہ تھا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے سخت مطالم اور دہشت گردی کی پالسی کے تحت بے گناہ لوگوں کو بھیانک زیادتیوں اورہتک کا نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ۔ اس سال کے کانگریس صدر سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کئی بار حکومت سےبات چیت کرنے کی کوشش کی مگر بے سود ۔ گاندھی جی نے وائسرائے سے ملاقات کا وقت مانگا مگر ادھر سےانکار کردیا گیا ۔ بیوروکریشی اب کانگریس کو سبق سکھانا چاہتی تھی ۔ چنانچہ ٤جنوری 1932 کو گاندھی جی گرفتار کرلئےگئے اور اس کے ساتھ ہیسارے ملک کے تمام خاص خاص کانگریس رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ کانگریس کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ۔ اس کےفنڈ ، دفاتر اور املاک ضبط کرلی گئیں او رپریس پر پابندی عائد کردی گئی فوری طور پرکئی آرڈیننس مرتب اور نافذ کئے گئے۔

کانگریس اور سارے ملک نے اس بے رحمانہ اقدام کی مذمت کی ۔ 2 مارچ 1937 تک تقریبا ٨٠ہزار گرفتاریاں کی جاچکی تھیں۔ اپریل آتے آتے انکی تعداد 120000 تک جاپہنچی ۔ اس بار مظالم کی شدت 1931سے کہیں زیادہ تھی۔ بڑے پیمانے پر فائرنگ او تشدد برپا کیا گیا ۔ افراد اور دیہات کے لوگوں پر زبردست جرمانے عائد کئے گئے اور گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ زمینوں اور املاک کی ضبطی کی گئی ۔ حکومت نے سوچا تھاکہ تحریک چھہ ماہ میں ختم ہوجائے گی مگر اس کے ختم ہوتے ہوتے 29 ماہ لگ گئے۔

اس عرصے میں، حکومت کی تمام تراحتیاطی تدابیر اور بھیانک بے رحمانہ مظالم کے باوجود دہلی اور کلکتہ میں مختصر مگر شدید حالات میں کانگریس کے سالانہ اجلاس منعقد کئے گئے۔

 

گاندھی جی کا تاریخی برت

گاندی جی نے اس وقت کے وزیر اعظم ریمزے میکڈونالڈ کے ذریعے ہندستان کے دبے کچلے طبقات کو علاحدہ نمائندگی دینے سے متعلق ‘ کمیونل ایوارڈ ‘ کے منصوبے کو ختم کرانے کی غرض سے ستمبر 1932میں مرن برت رکھنے کا اعلان کیا کیوں کہ یہ منصوبہ ہندومذہب کی تقسیم کے دربے تھا۔

مئی 1932 میں گاندھی جی نےایک اوربرت رکھا جو حکومت کے خلاف نہیں بلکہ‘‘ میری اورمیرے ساتھیوں کی تطہیراورہریجنوں کے سوال پر زیادہ توجہ مرکوز کرانے کیلئے‘‘ تھا۔ صدر کانگریس نے گاندھی کے مشورے سے سول نافرمانی تحریک کو چھے ماہ کیلئے ملتوی کرنےکا اعلان کیا جولائی 1932 میں انہوں نےوائسرائےسے ملاقات کاوقت مانگا جونہیں دیا گیا ۔ دوسرے جانب حکومت کے جبرواستبداد کا سلسلہ جاری تھا۔ گاندھی جی نےجو اب رہا کئے جاچکے تھےاپنا وقت ہریجنوں کے معاملےمیں لگانے کا فیصلہ کیا۔

آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے جسے پٹنہ میں اجلاس کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی بالآخر سول نافرمانی تحریک بلاشرط واپس لینے کا فیصلہ کیا مگر اس اضافے کے ساتھ کہ صرف گاندھی جی جب ضروری سمجھیں سول نافرمانی انجام دے سکتے ہیں۔

گاندھی جی نے یکم اگست 1933 سے انفردی طور پر سول نافرمانی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا مگر اس کے پہ