History

 


 


سبھاش چندر بوس
 
1897-1945
 


1897میں پیداہوئے۔ انڈین سول سروس میں داخل لیکن غیر تعاون احتجاج میں شامل ہونے کیلئے 1921میں استعفی۔ 22-1921میں دیش بندھو داس کے ساتھ گرفتاری۔ 1923-24 فارورڈ کے صدر۔ 1924میں کلکتہ نگرنگم اور بنگال اسمبلی کے ممبر بنے۔ 1924میں قانونی خلاف ورزی کے تحت گرفتاراور 1927میں رہا۔ سائمن کمیشن کی مخالفت میں اہم حصہ لیا۔ 1930میں کلکتہ کانگریس سویم سیوکوں کے جنرل آفیسر کمانڈنگ۔ 1930میں کلکتہ کے میر(مہارہور)کئی سالوں تک بنگال ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر۔ نمک ستیہ گرہ میں شرکت اور قید۔ 1932میں ملک بدر کی شکل میں اخراج لیکن رہا ہوگئے اور علاج کیلئے یورپ جانےکی اجازت۔ 1938میں ہری پور میں کل ہند قومی کانگریس کے صدر 1939میں تری پورہ اجلاس میں دوبارہ صدرمنتخب ہوئے لیکن کانگریس ہائی کمان کے ساتھ اختلاف کی وجہ کر استعفی۔ فارورڈ بلاک کا قیام اوراسکا اجرا۔ 1940میں جیل میں رہتے ہوئےمرکزی اسمبلی کے رکن نامزد۔ صحت خراب ہونے کی وجہ کر جیل سے رہا کردئے گئے۔ 26 جنوری 1941سے اپنے کلکتہ کی رہائش گاہ سے غائب ہونے کی خبرآئی۔ لیکن سبھاش چندر ہوس بچ کر جرمنی پہونچے اوروہاں سے بعد میں مشرقی مورچے پر۔ آزاد ہند حکومت اور آزاد ہند فوج کا قیام ۔ جہاز حادثہ میں ان کے موت کی خبر آئی۔ نیتاجی کے نام سے سب سے مقبول عام وطن پرست لیڈر کی حیثیت سے مشہور ہیں۔

 

 


وقت کی لکیر

کانگریس کے گذشتہ صدور

کل ہند کانگریس کے اجلاس

1885سے 1946

کانگریس قیام کی زمینی حقیقت

آزادی کی جنگ

کانگریس اور تحریک آزادی

جدوجہد آزادی پر دوبارہ نگاہ

مہاتماگاندھی کی سیتہ گرہ کے مراکز

قومی پرچم

تعمیری پروگرام اور کانگریس