| وزیراعظم کی تقریر وزیر اعظم ڈاکڑ منموہن سنگھ کا خطاب اے آئی سی سی مکمل اجلاس ، جنوری 2006 قابل احترام سونیا جی، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے معزز اراکین ، اے آئی سی سی کے اراکین ، پی سی سی کے مندوبین ، خواتین وحضرات! سب سےپہلے میں آپ تمام حضرات کونئےسال کی مبارکباد پیش کرتاہوں ۔ میں ان تمام کانگریس کارکنوں کا شکرگذارہوں اورانہیں اپنی نیک خواہشات پیش کرتاہوں جنہوں نےحیدرآباد میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئےدن رات محنت کی ۔ یہاں موجود تمام لوگوں کی جانب سےمیں حیدرآباد کےشہریوں کی فراخ دلانہ اورپرتپاک مہمان نوازی کیلئےانہیں ہدیہ ممنونیت پیش کرتا ہوں ۔ کانگریس پارٹی کوہمیشہ آندھرا پردیش کے لوگوں کی محبت اور شفقت حاصل رہی ہے ۔ میں انہیں یقین دلاتاہوں کہ ہماری پارٹی اورہماری سرکاراس کیلئےانکی شکرگذار ہےاور اس محبت اور شفقت کا جواب اس سے بھی زیادہ محبت وشفقت سےدے گی۔ خواتین وحضرات! 2004 میں کانگریس کی زیر قیادت یوپی اے حکومت کے برسراقتدارآنےکےبعد یہ ہمارا پہلا مکمل اجلاس ہے۔ اقتدار میں ہماری واپسی اس زبردست ناراضگی کےزور پر ممکن ہوئی تھی جوNDA حکومت کی پالسیوں کےخلاف عوام میں پایا جاتا تھا۔ یہ ایسی پالسیاں تھیں جن میں عام آدمی کی کوئی پرواہ نہیں تھی ،جنہوں نےہمارے شہریوں کی بنیادی ضرورتوں پرتوجہ نہیں دی اورجوہمارے سماجی اورسیکولرنظام کیلئےتباہ کن تھیں۔ جیسا کہ سونیا جی نےکہا ہے، یہ کامیابی سارے ملک کےلاکھوں کانگریس کارکنوں کی بےلوث کوششوں کا نتیجہ تھی جنہوں نےاس عظیم ملک کےگوشےگوشےمیں امن، ہم آہنگی، تعمیروترقی اورخوشحالی کےپیغام کوعام کیا۔ آخرکارملک کی قدیم ترین پارٹی ہونےکی حیثیت سے، جوملک گیروسعت رکھتی ہےاورقوم سےمتعلق اپنےبانیوں کی بخشی ہوئی بصیرتوں اورنگاہ کی حامل ہے، ہماری پارٹی کی ذمےداری تھی کہ ملک میں سلگتےہوئےاس اضطراب کوسمجھےاوراسےسیاسی تبدیلی کی عوامی اجازت میں تبدیل کرے۔ اگر ہمیں اس میں کامیایی حاصل ہوتی ہےتواس کا سبب وہ سخت محنت اورمشقت ہےجوہرکانگریسی کارکن نےسونیا جی کی جرائت مندانہ اوربےلوث قیادت میں انجام دی ہے۔ اقتدارحاصل کرنےکےبعد، اس سےقبل کئےگئےوعدوں پرمنصوبہ بند عمل درآمد کےاقدامات بھی ہونےچاییں۔ یہی کام ہم گذشتہ تقریباً 20 ماہ سےپوری تندہی سےانجام دینےکی کوشش کررہے ہیں۔ یہ بات پورےفخرسےکہی جاسکتی ہےکہ حکومت نےگذشتہ 20ماہ کےدوران جواقدامات کئےہیں، ہمارے سیاسی نظام، سماج، قانونی ضابطوں، طرزحکمرانی، معیشت، کمزورطبقات،اقلیتوں،خواتین اوراپنےپڑوسیوں کےساتھ ہمارے تعلقات پران کےپائیداراثرات مرتب ہوں گے۔ ہم نےاپنےعوام کی فلاح وبہبود، سلامتی اورترقی کےتئیں اپنی پرخلوص وابستگی کامظاہرہ کیا ہے۔ ہم نےاپنےسیاسی حلیفوں اورشریکوں پرظاہرکیا ہےکہ ہم متحدہ ترقی پسند اتحاد کی کامیابی کا عزم رکھتےہیں۔ ہم نےاپنےپڑوسیوں اورساری دینامیں بین الاقوامی امن اورعالمی خوشحالی کےتئیں اپنی پائیداروابستگی بھی ظاہر کی ہے۔ بھائیو اور بہنو! کانگریس پارٹی آج اس وسیع وعریض بر اعظم جیسے ملک کی واحد اور حقیقی نیشنل پارٹی ہے۔ یہ واحد پارٹی ہے جو ہمارے معاشرے کےتمام طبقوں کی نمائندگی کرتی ہے ۔ یہ واحد پارٹی ہےجوکشمیرسےلےکر کنیا کماری تک اوراروناچل پردیش کےپہاڑیوں سےلےکرراجستھان کےریگستان تک اپنےممبروں کی موجودگی کا دعوہ کرسکتی ہے۔ یہ واحد پارٹی ہے جس میں اس وسیع ملک کی ہرزبان بولی جاتی ہے۔ یہ واحد پارٹی ہے جس میں ہرہندستانی، ذات برادری اورفرقے کی کسی بھی تفریق کےبغیراپنےآپ کو ایک دوسرے کےبرابر محسوس کرتاہے۔ کانگریس پارٹی قوم کو حاصل ہونے والا تحریک آزادی کا قابل فخر ورثہ ہے۔ کانگریس پارٹی ہماری آزادی اورہماری قومی سلامتی کی بہترین محافظ ہے۔ بھائیو اور بہنو! یہی وجہ ہےکہ ہم اپنے لوگوں کو دوبارہ ایک ایسی حکومت کو بحال کرسکے ہیں جسے عوام کی پروا ہے، ایک ایسی حکومت جسے سب کی پروا ہے ۔ اپنی پارٹی صدر محترمہ سونیا جی کی قیادت میں کانگریس پارٹی نے ہندستان کےعوام کےساتھ پھرسے رشتہ قائم کیا ہے۔ اس نےعوام کی امیدوں اورامنگوں کو آواز دینےمیں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم سب سونیا جی کی حوصلہ افزا قیادت،ان کی جرائت مندی اوران کی وابستگی کیلئےان کےممنون ہیں۔ ہماری پارٹی، ہمارےاتحاد اورہماری حکومت، سب کوان کی دانشمندی اورقیادت کا فائدہ پہنچاہے۔ میں ہماری پارٹی کےتمام ممبروں کی سخت محنت اور لگاؤ کیلئےان کا شکرگذارہوں ۔ ہماری حکومت کی کامیابی ہماری پارٹی کے تمام اراکین کی کوششوں پر منحصر ہے۔ National Common Minimum Programme پر عمل درآمد گذشتہ ڈیرھ سال کے دوران ہم نےمخلوط حکومت چلانے کے نئےتجربےکو کامیاب بنانے کیلئےسخت محنت کی ہے۔ یہ ہمارے لئےایک نیا تجربہ ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے بےحدخوشی ہورہی ہے کہ یمارے اتحاد نے نیشنل کومن مینمم پروگرام میں کئےگئے بیشتروعدوں کو پوراکردیا ہے۔ ہم نےایک تفصیلی ریپورٹ تیار کی ہےاورمیں چاہوں گا کہ آپ میں سےہرایک اسےپڑھےاور دوسرے لوگوں کو بتائےکہ ہم نےحکومت میں رہتے ہوئےکیا کچھ کیا ہے۔ ہم نے نیشنل کومن مینیمم پروگرام میں مندرج ترجیحی شعبوں کیلئےسالانہ اخراجات میں دوسال کےدران 35,000 کروڑ روپئے کا اضافہ کیا ہے ۔ یہ ایک ایساقدم ہے جو ہماری تاریخ میں پہلے کبھی نہیں اٹھایا گیا۔ نیشنل کومن منیمم پروگرام کےذریعہ قوم سےکئے گئے یوپی اے کے 6 اہم وعدے ۔ پہلا، وعدہ یہ تھا کہ ہم سماجی ہم آہنگی کا تحفظ کرنے، برقراررکھنےاور فروغ دینےکی کوشش کریں گے۔ اور فرقہ پرستی کی ہر شکل کےخلاف جدوجہد کریں گے۔ ہم نےاپنےآئین کی قدروں اور اصولوں کےساتھ اپنے عوام کی وابستگی کی تجدید کی ہے۔ یہ قدریں ہیں سیکولرزم ، کثرت پسندی ، قانون کی حکمرانی کا احترام اورسماجی انصاف کا عزم ۔ آج تمام اقلیتو میں فخر اور سلامتی ، وقار اور عزت نفس کا ایک نیا احساس پایا جاتاہے۔ ہم نے بے اطمئنانی کے احساس کو دورکیا ہے اور جذبہ وابستگی کی تجدید کی ہے۔ دوسرے، یہ کے ہم نے7٪ فیصد سے 8٪ فیصد ترقی کی شرح نمو کو برقرار رکھنےاور روزگار پیداکرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہم نے7٪ فیصد سےزیادہ کی شرح نموکو یقینی بنایا ہے اور ہم اس میں مزید بہتری لائیں گے۔ اس سےخود بخود روزگار میں اضافہ ہوگا۔ ہم نے قومی دیہی روزگارضمانت قانون منظور کرایا اور روزگار بڑھاؤ ، کا نعرہ دیا ہے جو ہماری حکومت کا حرف عزم ہے ۔ ہم نے مشکل حالات کے باوجود افراط زرکو قابو میں رکھا ہے جس کیلئے آپ تمام لوگ اعزاز حاصل کرسکتے ہیں۔ تیسرے ، ہم نےاپنے کسانوں ، کھیت مزدوروں اور، مزدوروں ، خاص طورپر وہ جوغیر منظم زمرے سے وابستہ ہیں، کو یقین دلایا تھا کہ ان کےکنبوں کو ایک محفوظ ترمستقبل حاصل ہوگا، ہمارے بہت سے اقدامات ، بطور خاص بھارت نرمان اور دیہی تعلیم ، صحت اورروزگار پیداکرنے سےمتعلق پروگرام اسے یقینی بنائیں گے۔ ہمارا دیہی ہندستان سےمتعلق نیا معاملہ ، جس کے تحت دییہی قرضوں میں بھاری اضافہ اور کوآپریٹیو قرضہ جاتی سوسائیٹیوں کی مالی امداد کئے جائیں گے جو اسے یقینی بنائے گا۔ چوتھے، ہم نے خواتین کو سیاسی ، تعلیمی ، اقتصادی اور قانونی طورپربااختیار کرنے کاعزم ظاہر کیا تھا ۔ ان میں سےہر شعبےمیں ہم نےاہم پیش رفت کی ہے۔ ہم نے خواتین کو گھریلو تشدد سے محفوظ کرنے کیلئے قانون بنایا ہے۔ ہم نے خواتین او بچوں کی بہبود سے متعلق پروگراموں کو تقویت دی ہے۔ ہم نے بچیوں اور نوبالغ لڑکیوں کی تعلیم اور صحت پر اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ حکمران کےتمام اداروں اورزندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی تمائندگی بڑھانےکےتئیں ہماری وابستگی آج بھی برقرار ہےمگرمجھےافسوس ہےکہ ہم خواتین ریزرویشن بل کومنظورنہیں کراسکے۔ پھر بھی ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ مستقبل قریب میں پارلیمنٹ اور اسمبلی میں خواتین کو 33 فی صد تحفظ حاصل ہوسکے۔ پانچویں،یہ کہ ہم نےSC/ST اوردیگرپسماندہ طبقوں اوراقلیتوں کوبطورخاص تعلیم اور روزگار میں بااختیار کرنےکےعزم کی توثیق کی تھی۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس سلسلے میں ہم نے حالیہ حافظےمیں موجود کسی بھی حکومت کےمقابلیےمیں کہیں زیادہ کام کیا ہے۔ گذشتہ دوسال کےدوران سروشکشا ابھیان سےمتعلق فنڈ دوگنےکردئےگئےہیں۔ ایس سی/ ایس ٹی اوردیگرپسماندہ طبقوں کواعلی تعلیم کےزیادہ مواقع دئےجارہےہیں ۔ دلت اورآدیوسی خاندانوں کی لڑکیوں کیلئےکستوربا گاندھی بالیکا ودیالیوں کو رہائشی مراکز کے طورپرقائم کیا جارہاہے۔ راجیوگاندھی اسکالرشپ اسکیم شروع کی ہے جویم فل اور پی ایچ ڈی سطح کے صرف ۔ ایس سی / ایس ٹی طلبہ کیلئےہے۔ ہم نے Reserve عہدوں کی خالی اسامیاں پرکرکے مرکزی حکومت میں ایس سی اورایس ٹی لوگوں کو 30,000 روزگارکے مواقع فراہم کئے ہیں۔ ہم جنگلاتی علاقوں میں قبائلی لوگوں کو زمین کا حق ملکیت دینے کیلئے بل پیش کیا ہے۔ صرف اسی قانون کےتحت کروڑوں قبائلی کنبوں کوفائدہ پہنچےگا جومحروم کئےجانےکےخوف سےآزاد ہوکرزندگی گذارسکیں گے۔ اسکے ساتھ ہی ہم اپنےماحول کےتحفظ کےاقدامات بھی کریں گے۔ آخرکارہمارے بہترین جنگلات وہی ہیں جن کا ہمارے قبائلی بھائی اوربہن خیال رکھتے ہیں۔ اقلیتوں کیلئےایک نیا 15پوائنٹ پروگرام تیارکیا جا رہا ہے۔ ہماری حکومت نےاقلیتوں کی تعلیم پرخصوصی توجہ دی ہے کیونکہ تعلیم لوگوں کوبااختیار کرنےکا اہم ترین ذرریعہ ہےیہ معلوم کرنےکیلئےقومی کمیشن قائم کیا گیا ہےکہ ہم مذہبی اورلسانی اقلیتوں کےسماجی اوراقتصادی طورپرپسماندہ طبقوں کی بہبود پرخصوصی توجہ کس طرح دے سکتےہیں۔ اورکئی دہائیوں میں پہلی باریہ ہوا ہےکہ ایک کمیٹی اقلیتوں کےسماجی واقتصادی حالات کا جائزہ لےرہی ہے۔ مجھے یقین ہےکہ ان تمام کوششوں سے ہمارے سماج کےکمزورطبقوں اوراقلیتوں میں بااختیار ہونےکا ایک نیا احساس پیدا ہواہے۔ آخر میں یہ کہ ہم نےاپنےصنعت کاروں، تاجروں، سائنسدانوں، انجیئروں اوردیگرتمام پیشہ وروں اورسماج کے پیداوارعناصر کی تخلیقی صلاحیتوں کوآزاد کرنےکےاقدامات کا وعدہ کیا تھا ۔ ساری دنیا اس بات سےواقف ہوچکی ہےکہ ہندستان ترقی کےآسمانوں میں اڑان بھر چکا ہے۔ آج ملک کےاندر اور باہر کے سرکردہ تاجروں اور پیشہ وروں میں ہندستان کےمستقبل کےبارے میں زبردست امید اورحوصلہ منددی پائی جاتی ہے جواس سے پہلے کبھی نظرنہیں ائی تھی ۔ ہم نے اپنےمینوفیکچرنگ زمرے کو نئی زندگی دینےکیلئے کئی اقدامات کئےہیں ۔ کئی برسوں کے بعد صنعتی پیدوار ایک بار پھر دوفیصد کی شرح نمو کےقریب نظر آرہی ہے ۔ اس سے پہلے1996-1995میں ایسا ہوا تھا جب کانگریس حکومت برسراقتدار تھی۔ بھائیو اور بہنو! ہماری حکومت نے منصفانہ اورمساویانہ ترقی پر پورے عزم وارادے کے ساتھ توجہ مرکوز کرکے کروڑوں ہندستانیوں کی امید یں جگائی ہیں ۔ ہم سرمایہ کاری میں ، بطور خاص زراعت اور بنیادی ڈھانچےکےزمروں میں اضافےکےذریعے روزگار پیداکرنے کو اعلاترین ترجیح دیتے رہےہیں ۔ ہمارے پانچ اہم اقدامات مجموعی طور پر ہندستان کےچہرے اور عام لوگوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیں گے۔ یہ اقدامات ہیں : 1. قومی دیہی روزگار ضمانت قانون ،2005 2۔ قومی دیہی صحت مشن 3۔ جواہرلال نہرو نیشنل شہری تجدید مشن 4۔ راجیوگاندھی دیہی ویودتی کرن یوجنا 5۔ بھارت نرمان روزگار ضمانت قانون، جس کا نفاذ شروع میں زیادہ پسماندہ 200 اضلاع میں میں کیا گیا ہے، دھیرے دھیرے سارے ملک میں روبہ عمل لایا جائےگا۔ نیشنل دیہی روزگارضمانت قانون ایک تاریخی قانون ہے۔ دنیا کےچند ملکوں میں اس قسم کی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ صرف ہماری پاڑی ہےجس نے یہ ضمانت فراہم کی ہے۔ اوراس سےمتعلق بل کو پارلیمنٹ میں سونیا جی نے پیش کیا تھا۔ ہماری حکومت دیہی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر قابل لحاظ توجہ دیتی رہی ہے۔ بھارت نرمان کےتحت ہرگاؤں کوایک پکّی سڑک، پینے کا پانی ، بجلی اورایک ٹللیفون فراہم کیا جائیگا ۔ یہ کام ہم2009 تک انجام دے لیں گے۔ اس کےعلاوہ ہم 100 لاکھ ہیکڑاراضی کیلئےآپ پاشی کی سہولت مہیا کرائیں گےاور60 لاکھ مکانات تعمیر کریں گے۔ راجیو گاندھی گرامن ودیوتی کرن یوجنا کےتحت ہم نے2009 تک ملک کےتمام دیہات میں بجلی پہنچانےکا عزم کیا ہے، قومی شہری تجدید مشن عالمی معیارکےشہر بنانےکی ہماری کوشش کی علامت ہے۔ اگرچہ ہمارے پیشتر لوگ اب بھی دیہات میں رہتےہیں مگروہ دن دورنہیں جب تقریباً پچاس فیصدی لوگ شہروں میں رہ رہےہوں گے۔ ہمیں اس بات کویقین بنانا ہےکہ ہمارے شہراورقصبات کےلوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کریں اورعالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کےحامل ہوں ۔ دہلی میڑو کی کامیابی اورمقبولیت سےتحریک پاکر دوسرےشہر بھی بہترشہری ٹرانسپورٹ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہم اس بات کویقینی بنائیں گےاگلےچند برسوں کےدوران ہمارے شہروں کو بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری حاصل ہو۔ اس سےروزگار پیداہوگا۔ نئی سرمایہ کاری عمل میں آئےگی اور شہروں میں رہنے والے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔ ہمارے بنیادی ڈھانچےکی صورتحال امید افزا ہے۔ سڑکوں کےزمرے میںزبردست سرگرمی نظرآرہی ہے۔ ہمیں امیدہےکہ اگلےسات برسوں میں قومی شاہراہ پروگرام کیلئےتقریباً 170000کروڑ روپئے سرمایہ کاری ہوگی۔ ہوائی آڈوں کی جدید کاری کا عمل بھی جاری ہے۔ حیدرآباد اور بنگلور کو جلد ہی نئے ہوائی اڈے حاصل ہوجائیں گے۔ نئی بندرگاہیں زیر تعمیر ہیں اور کئی اور بندرگاہیں تعمیر کی جانی والی ہیں۔ ریلوے نہ صرف قابل ستائش کارکردگی ظاہر کررہی ہے بلکہ مال کے نقل وحمل کا ایک پرعزم پراجکٹ بھی شروع کرنے جارہی ہے۔ 25000 کروڑ روپئے کا یہ پراجکٹ مال کے نقل وحمل کے سلسلے میں ایک اہم پیش قدمی ثابت ہوگا۔ ہم بہت جلد بجلی زمرے کے مسائل پر توجہ دیں گے۔ اور ان کے پائیدار حل تلاش کریں گے۔ بھائیو اور بہنو! اس موقعےپرمیں ایک خاص بات کہنا چاہتاہوں۔ مرکزی سرکار نےبڑی تعداد میں اسکیمیں اورپروگرام شروع کئےہیں جن سےملک کےکونےکونےمیں رہنےوالےغریب لوگوں کوفائدہ پہنچےگا۔ اقلیتوں، ایس سی/ ایس ٹی عورتوں،اوربچوں کےحقوق کی حفاظت کرنےکیلئےایک قانونی ڈھانچہ تیارکیا گیا ہے۔ تاہم کئی ریاستیں جہاں ان چیزوں کےفائدے بڑے پیمانےپر پہنچےگےکانگریس حکومت کےزیراقتدارنہیں ہیں ۔ لہذا ہمارےسیاسی حریف ان اسکیموں اورپروگراموں کوروبہ عمل لاکران کا سہرا اپنےسرباندھنے کی کوشش کریں گے۔ میں کہنا چاہتاہوں اورپورازوردے کر کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا نہیں ہونےدیا جاسکتا۔ میں صوبےاورضلع پردیش کانگریس کمیٹیوں سےاورتمام کانگریس کارکنوں سےاس بات کو یقینی بنانےکی گزارش کرتاہوں کہ وہ دلّی میں کی جانے والی ان زبر دست کوششوں سےمستفید ہونےوالوں کواُن کوششوں میں کانگریس پارٹی کےعمل دخل سےپوری طرح باخبر کیا جائے، خواہ یہ شہری تجدید مشن ہو یا بھارت نرمان یا راجیو گاندھی دیہی فلاحی منصوبےہوں ہمیں اس بات کوبھی یقینی بنانا ہےکہ ریاستی حکومتیں ان پروگراموں کو شفاف انداز سےروبہ عمل لائیں اوریہ کہ ان کےفوائد حقیقی طورپرغریب لوگوں تک پہنچےسکیں۔ کانگریس پارٹی کےہر رکن کوچاہیےکہ اسے یقینی بنانےمیں ذاتی دلچسپی لے۔ میں آپ سےدومطالبےکرتاہوں۔ پہلا یہ کہ لوگوں کوان تمام پروگراموں کےجاری ہونے میں ہمارے کردارسےواقف کرائیں ۔ دوسرے یہ کہ ان پروگراموں کواپنی سرپرستی میں لیں اوراس بات کو یقینی بنائں کہ انہیں شفاف اورموثرانداز سے روبہ عمل لایا جائے۔ ان ریاستوں میں جہاں ہم اقتدار میں نہیں ہیں ۔ کانگریس پارٹی پران دونوں باتوں کی خاص ذمےداری عائد ہوتی ہے۔ ہمارے پارٹی کےاراکین کو چاہیے کہ تمام ریاستوں میں ہمارے پروگراموں پرمناسب عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئےاطالاعات کےحق سےمتعلق قانون 2005 کا بھرہور استعمال کریں۔ اطلاعات کےحق سےمتعلق قانون کوپارلیمنٹ تک لےجانےکی کوشش کیلئےہمیں ایک بارپھرسونیا جی کا شکرگزارہونا چاہیے۔ ہمیں سارےملک میں اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئےاس قانون کا استعمال کرنا چاہیے۔ بھائیو اور بہنو! ہماری سرکار نے ملک کے اندر قومی سلامتی کے ماحول میں بہتری پیداکی ہے ۔ ہم نے شمال مشرقی خطے ، جموں وکشمیراور دیگر شورش زدہ علاقوں میں امن وسلامتی بحال کی ہے ۔ ہم ان تمام لوگوںسے جوسیاسی زندگی کے بنیادی دھارے سےالگ ہیں بات چیت کررہے ہیں تاکہ انہیں مسائل کےپرامن حل پرآمادہ کیا جاسکے۔ ہم نے یہ کام اپنےقومی مفادات پرسمجھوتا کئے بغیرانجام دیا ہے۔ ہم ملک کےتمام خطوں کی سلامتی کیلئےعہد بستہ ہیں ۔ میں سرزمین ہند پر رہنےوالےہر شخص کے باعزت اورپروقار زندگی گزارنےکےحق کوتسلیم کرتا ہوں ۔ ہم تمام قوم دشمن اورتخریبی طاقتوں کامقابلہ کریں گے۔ ہم دہشت گردی کوشکست دیں گے۔ جیسا کہ میں نےاکثر کہا ہے، ہندستان کےعوام نےبارباریہ ثابت کیا ہےکہ سیاسی اقتداربندوق کی نلی سےنہیں بیلٹ باکس سےحاصل ہوتا ہے۔ تشدد کی مذمت کی جانی چاہیےاورہماری پولس فورس اس کا جرات مندی کےساتھ مقابلہ کرے گی مگراسی کےساتھ ہی ہم اس علاحدگی اوربرگشتگی کے بنیادی اسباب، حددرجہ غریبی، ناخواندگی اوربے زمینی پر بھی توجہ دیں گے۔ ہماری حکومت نےاس بات کیلئے بھی اہم قدم اٹھائے ہیں کہ دنیا ہمارے تئیں زیادہ دوستانہ رویہ اختیار کرے ۔ ہم نےاپنےسب سے بڑے پڑوسی چین سمیت اپنے بہت قریبی پڑوسیوں کے ساتھ اپنےتعلقات بہترکرنےمیں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم پاکستان کےساتھ جامع مذاکرات کررہے ہیں، اس خیال کےساتھ کہ جنوبی ایشیاء کےلوگوں کاماضی ہی مشترک نہیں ہےبلکہ ہمارا مستقبل اورتقدیر بھی مشترک ہے۔ اپنے تمام پڑوسیوں کی ترقی اور سلامتی ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔ ہم نے اپنی معیشت کومشرقی ایشیاء ، جنوب مشرقی ایشیاء، جنوبی ایشیاء اورمغربی ایشیاء کےساتھ مربوط کرنے کیلئےاہم اقدامات کئے ہیں ۔ مشرق میں واقع ملکوں نےایک بار پھرہمیں اپنے پاس بلایا اورنئی ایشیائی برادری میں شامل ہونےکی دعوت دی ہے۔ اگلے ہفتےسعودی عرب کے شاہ پچاس برس میں پہلی بار ہمارے یہاں تشریف لائیں گے۔ ہم نےخاص طور پر امریکہ ، یورپی یونین ، روس اور جاپان سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کیا ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں میں فرانس اورامریکہ کے صدور کا استقبال کرنے والا ہوں۔ اس دنیا کو انسانی زندگی کیلئےمحفوظ ترجگہ بنانے کیلئےہم دنیابھر میں اپنےدوستوں اور خیرخواہوں سے رابطہ کررہے ہیں ۔ ہم دہشت گردی کےخلاف جدوجہد اورایک زیادہ انسان دوستانہ اورمنصفانہ عالمی نظام تعمیر کرنےسےمتعلق کوششوں میں تمام ہم خیال ملکوں کےساتھ مل کر کام کریں گے۔ کانگریس پارٹی ہماری تحریک آزادی کےدوران وجود میں آئی تھی ۔ کوئی بھی ہماری حب الوطنی یا قومی مفادات کےساتھ ہماری وابستگی پرسوال نہیں کرسکتا ۔ ہماری خارجہ پالسی ہمیشہ قومی مفادات کےتحفظ اورہمارے عوام کی بہبود اور سلامتی پر مبنی رہی ہے ۔ میں آپ کویقین دلاتا ہوں کہ ہم جو کچھ کریں گےاس میں قومی سلامتی اور ترقی کے بنیادی مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ اس کیلئےہم نے اپنی دفاعی افواج کو تقویت دی ہے۔ ہمیں اپنےبہادرجوانوں کی پرواہےاورہم نے بہت پہلےسبکدوش ہونے والےسابق فوجیوں کے مسائل پرتوجہ دینےکیلئے پنشن کےنظام میں سدھار کیا ہے۔ قومی سلامتی ہمارے لئےاعلاترین اہمیت رکھتی ہےاورہم اس پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ بھائیواور بہنو! آج ساری دنیا کی نگاہیں ہم پر ٹکی ہوئی ہیں۔ ساری دینا چاہتی ہے کہ ہندستان ترقی کرے ۔ ساری دنیاکےلوگ ہندستان کی اہمیت کوتسلیم کرتے ہیں کیونکہ وہ ہندستان کے پیغام ، ہندستان کے بنیادی تصورکی قدر کرتےہیں۔ ہماری جمہوریت کی کامیابی دنیا کےان کروڑوں لوگوں میں امید جگاتی ہےجو ایک کھلے ہوئے سماج میں اور کھلےہوئی معیشت میں اپنی ترقی اور خوشحالی کی راہیں تلاش کررہے ہیں۔ کافی عرصےکےبعد دنیا کا رویہ یمارے ملک کےموافق ہوا ہےبہت دن بعد عالمی ماحول ہمارے لئےاس قدرفائدہ مند ہوا ہے۔ اس میں ہمارے لئےبڑاموقع ہے۔ ساتھ ہی اس سے ہم پرایک بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ ہمیں دنیا پرثابت کرنا ہےکہ ہندستا ن اپنی صلاحیتوں کوبروئےکارلاسکتا ہے۔ ہمیں اپنےلوگوں پرظاہر کرنا ہےکہ ہم ان کی امیدوں اورامنگوں کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ یہ ساراکام ہمیں اپنےگھرمیں کرنا ہے۔ یہ ساراجیلنج ہمیں اپنےگھرمیں درپیش ہے۔ ہمیں اپنی معیشت کومضبوط کرنا ہے۔ ہمیں اپنےلوگوں کی مہارتوں کوفروغ دینے کیلئے سرمایہ کاری کرنی ہے۔ ہمیں سب کو تعلیم دینی ہے۔ ہمیں سب کیلئےاچھی صحت کو یقینی بنانا ہے۔ ہمیں سب کوغذا اورمکان فراہم کرنا ہے۔ ہمیں عالمی معیارکا بنیادی ڈھانچہ بشمول سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں ، ہوائی اڈے، بجلی اور پانی سپلائی ، تعمیر کرناہے۔ کانگریس پارٹی کو اپنےلوگوں سے کئےگئے وعدوں کی تکمیل کا ، مجاہدین آزادی کے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کا ، اپنے ملک کے اس وقار اور عزت وناموس کو بحال کرنے کا جس کیلئےہمارے اجداد نےجدوجہد کی تھی، ایک تاریخی موقع حاصل ہواہے۔ کانگریس پارٹی مستقبل کی نقیب واحد پارٹی ہےجو جدید کاری اور قومی ترقی کا عزم رکھتی ہے۔ ہمیں لوگوں کی جانب سےدئےگئےدوبارہ اقتدار میں آنےکےاس موقع کوکامیاب کرنا ہے۔ ہماری حکومت کی کامیابی کانگریس پارٹی کی کامیابی ہوگی کیونکہ ہم یوپی اے حکومت اورملک کی بنیاد، محوراور مرکز ہیں۔ ہم نے اچھی شروعات کی ہے۔ درحقیقت دشواریوں اور اپنے مخالفوں کی جانب سےڈالی جانے والی رکا وٹوں کے باوجود ، ہم نے جو شروعات کی ہے وہ قابل رشک ہے۔ اہم بات یہ ہےکہ ہم اسی راہ پر جمےرہیں ، ہمیں قابل محسوس اورواضح اثرات مرتب کرنے کیلئے، اور یہ دیکھنے کیلئے کہ ملک کو دیرینہ غریبی اور متعلقہ مصیبتوں سےنجات مل گئی ہےاور ہمارے کسانوں ، کھیت مزدوروں ، بنکروں ، کامگاروں، اقلیتوں، دلتوں ، قبائلیوں اورکمزور طبقوں کا مستقبل روشن اور خوش حال ہوگیا ہے، ہمیں ایک طویل عرصے تک اقتدار میں رہنا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سب ممکن ہے ۔ مجھے یقین ہےکہ اپنی سخت محنت ، عزم محکم ، بے غرضی اور والہانہ لگاؤ کےساتھ ایک نیزشا ہندستان بنانےکے کگار تک پہنچ سکتے ہیں۔ میں آپکو یہ یقین دلاتاہوں کہ ہماری حکومت اپنےلوگوں اور اپنی پارٹی سےکئے گئے وعدے کو پورا کرنے کیلئےسخت جد وجہد کرے گی اور پوری تندہی سے کرے گی۔ میں کانگریس پارٹی کےہررکن کودعوت دیتا ہوں کہ ہم سے تعاون کرےاورہمیں طاقت دےتاکہ ہماری حکومت ، کانگریس پارٹی کا پرچم بلند رہے، ہم مہاتما گاندھی ، پنڈت نہرو، اندراجی اورراجیو جی کے خوابوں اورآدرشوں پر پورے اتر سکیں ۔ جئے ہند! |