| محترمہ سروجنی نائڈہ کی پیدائش 1879میں ہوئی۔ حیدراباد اور کیمبرج میں تعلیم پائی۔ برطانیہ میں نظموں کے تین حصوں کو شائع کیا جن کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیاگیا۔ 1914میں رائل آف لٹریچر کی فیلو رہیں۔ خود بنگالی برہمن تھیں لیکن شادی مدراس کے ایک غیر برہمن سےکی۔ 1915میں کل ہند کانگریس میں شامل ہوئیں۔ 1920میں برطانیہ گئیں اوراشتہار کیا۔ کسرِہند تمغہ حکومت کو واپس کردیا۔ کانگریس کی کارکارنی کمیٹی کی رکن تھیں۔ مشرقی افریقہ اورکینیا کا سفرکیا۔ کانگریس کے ذریعہ انکے کاموں کی تعریف کی گئی۔ 1925میں کانپور میں کل ہند کانگریس کی صدربنیں۔ 1928میں امریکہ کاسفرکیا اوروہاں تقریر کی۔ نمک ستیہ گرہ میںشامل ہوئیں اور گرفتار ہوئیں۔ 1931میں کانپور میں۔ گول میز کانفرنس ہندستانی وفد کے ساتھ شریک ہوئیں۔ 1932میں کانگریس کی کاگذار صدر بنیں اور گرفتار ہوکر جیل بھی گئیں۔ خواتین تحریک سے جڑی رہیں۔ ذاتی طور پر سول نافرمانی احتجاج میں ستیہ گرہ کا تجویز پیش کی۔ پھر گرفتار ہوئیں اور صحت ٹھیک نہ ہونے کیوجہ کر وقت سے پہلے ہی رہا ہوگئیں۔ 9 اگست 1942 کو پھرسے گرفتارہوئیں اورآغا خاں پیلس میں گاندھی جی کے ساتھ نظربند کردی گئیں۔ 1943میں گاندھی جی کے مشہورانشن کے دنوں میں انکی خدمت کی۔ خراب صحت کی وجہ سے جلد ہی رہاہوگئیں۔ 1947میں ایشیائی ملکوں سےمتعلق اجلاس کی صدربنیں اور آئینی مجلس کی ممبر1947میں اترپردیش کی کارگذار گورنر بنیں۔ |