| اقتصاد صورتحال سے متعلق قرار داد پس منظر اندین نیشنل کانگریس کا 82 واں مکمل اجلاس ایک ایسے وقت پرہورہا ہے جب کانگرس کی زیرقیادت والی متحدہ ترقی پذیر محاذ سرکار لگ بھگ بیس مہینے سے مرکزمیں برسر اقتدار ہے۔ اس دوران حکومت نے نیشنل کامن منیمم پروگرام میں کئےگئےوعدوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے سرکار نےاقتصادی پالیسی سےمتعلق کئی اہم پروگرام شروع کئے ہیں ۔ متحدہ ترقی پسند محاذ کی لیڈر کانگریس صدرمحترمہ سونیا گاندھی سرکار کے کامن منیمم پروگرام کےمطابق اقتصادی پالسی کے لحاظ سےکئی اہم پیش قدمیاں کی ہیں۔ یوپی اے کی سربراہ اورکانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی کے مطابق یہ پروگرام گذشتہ لوک سبھا انتخابات سے متعلق کانگریس کےمنشور کی طرح ہے۔ ان اقدامات کا مقصد اقتصادی نموکےعمل کو تیز تر اور وسیع ترکرنا اور ترقی کے عمل کو زیادہ سے زیادہ غریبوں کا حامی اور سب کو شامل کرنے والا بنانا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس ترقی کے ساتھ آنے والی بے روزگاری کے تصور کو پوری طرح مسترد کرتی ہے جو بی جے پی این ڈی اے کےعرصے حکومت میں نمایاں ہواتھا۔ انڈین نیشنل کانگریس بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کے عرصئہ حکمت کےدوران فروغ پانے والےاس خیال کو بھی سختی سےمسترد کرتی ہے کہ ترقی کے ساتھ نا برابری میں اضافہ ہوا ہے ۔ درحقیقت بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کے زمانے میں اقتصادی نمو کی شرح 1980-89 یا 1992-96 کےمقابلے میں کم تھی جب کانگریس برسراقتدار تھی ۔ انڈین نیشنل کانگریس یاد دلانا چاہتی ہےکہ مئی 2004 میں جب ترقی کےتمام اشاریے2003 میں اچھے مانسون کےسبب پوری طرح صحت مند نظرآرہے تھےایسےعوامل بھی درپردہ موجود تھے جن سے اقتصادی ترقی کی بنیادوں کےکمزور ہونے کا اندیشہ پیداہورہا ہے ۔ ان میں سےاندیشے کی پہلی وجہ سرمایہ کاری، خاصطورپر زراعت اورآپ پاشی میں ، ہونےوالی کمی تھی ۔ مجموعی سرمایہ کاری بھی کم ہورہی تھی ۔ دوسرے یہ کہ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت زرمبادلہ کےذخیرے میں اضافےسےوابستہ اندیشوں کوپوری طرح سمجھ نہیں سکی اور افراط زرکو بڑھنے دیا۔ تیسری بات یہ ہےکہ معیشت کی مجموعی ترقی کے مقابلے میںٹیکس سے ہونے والی آمدنی کم ہوگئی اور اس سےمالی خسارے کادباؤ بڑھا جسے بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت نےضروری اخراجات پر پابندی لگا کر روکنے کی کوشش کی ۔ انڈین نیشنل کانگریس ان امورکےبارے میں جرائت مندی اور سوجھ بوجھ کا مظاہررہ کرنےکیلئے کانگریس کی زیرقیادت یوپی اے حکومت کو مبارکباد دیتی ہے۔ حال ہی میں ریلوے ایڈیڈٹیکس ( واٹ) جاری کیا گیا ہے۔ جسےآزادی کے بعد ہونے والی اہم ترین ٹیکس اصلاحات میں شامل سمجھا جارہا ہےانڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ ٹیکس کا ری اور مالی انتظام کےشعبےمیں اس قسم کےمزید اصلاحی اقدامات کرے معیشت کو تیز رفتار کی راہ پر ڈال دیا گیا ، افراط زرپرجو 28 اگست 2004 کو 8.7 فی صد تک جاپہنچا تھا قابو پالیا گیا ہے جو اب 4.5 فیصد کےآس پاس ہے ۔ تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافےسےپید اہوئےصدمےسے نمٹنےمیں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ تجارتی اعتماد کی فضانہ صرف بحال ہوتی بلکہ مزید بہتر ہوگئی ہےاورصنعتی ترقی کی رفتارتیزترہوئی ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ سرکاری اورنجی دونوں زمروں میں سرمایہ کاری کی صورت حال پوری طرح بدل گئی ہےاوردونوں کوتیزی سےفروغ مل رہا ہے۔ 05-2004 کے سال کےاختتمام پرشرح نمو6.9 فیصد تھی۔ 06-2005 کےنصف اول کےدوران شرح نمو 8.1 فیصد رہی۔ اگر 2006-2005کےدوران اقتصادی نمو کی شرح 8 فیصد رہےاور یہی شرح07-2006 کےدوران بھی برقراررہے تو دسویں منصوبے کی اوسط شرح نمو7.1 فیصد ہوگی۔ معیشت کی رفتارکو اس قدرتیز کرنےکی کوشش کی جانی چاہیے کہ اس سے بھی زیادہ شرح نموحاصل کی جاسکے۔ اس طرح اب جب کہ معیشت میں ابھارآچکا ہےاوردسویں منصوبےکےآخری دوبرسوں کےدوران شرح نمو8 فیصد ہونےکی توقع ہےتو11ویں منصوبےکیلئےاس سےزیادہ شرح نمو کا نشانہ مقررکیا جاسکتا ہے۔ لہذا انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ وہ اس شرح نمو کو برقراررکھےاور11 ویں منصوبےکےدوران 10 فیصد شرح نموحاصل کرنے کی بنیاد ڈالے۔ کانگریس کا ہمیشہ سےیہ یقین رہا ہےکہ اقتصادی ترقی، استحکام اورمساوات ایک دوسرے کوتقویت دینےوالےمقاصد ہیں۔ ہندستانی معیشت کی لچک داری کےپیش نظرانڈین نیشنل کانگریس محسوس کرتی ہےکہ اب بے روزگاری، تعلیم ، صحت اوربنیادی ڈھانچہ جیسےشعبوں سےمتعلق نئے پرعزم پروگراموں کےسرمایہ فراہم کرنا ممکن ہے۔ روزگار انڈین نیشنل کانگریس نیشنل گرامن گارنٹی ایکٹ کو منظورکرانےکیلئےحکومت کی ستائش کرتی ہے ۔ جس کا نفاذ شروع میں ملک کے100اضلاع میں کیا جائیگا۔ کانگریس یہ بات یاد دلانا چاہتی ہےکہ یہ خیال سب سے پہلےاپریل 2002 میں گوہاٹی میں منعقد وزرائےاعلی کےاجلاس میں پیش کیا گیا تھا جسےبعد میں2004 کے پارلیمانی انتخابات سے متعلق کانگریس پارٹی کےانتخابی منشورمیں نمایاں جگہ دی گئی تھی ۔ انڈین نیشنل کانگریس سےوابستہ تمام مردوں اورعورتوں سےگذارش کرتی ہےکہ وہ لوگوں کواس عہد ساز قانون اوراس کےذریعے حاصل ہونےوالےحقوق سےباخبر کرکےاس پرعمل درآمد میں پوری سرگرمی سےشریک ہوں۔ انڈین نیشنل کانگریس کویقین ہےکہ نیشنل دیہی روزگارگارنٹی ایکٹ سےدیہی بنیادی ڈھانچے کو فروغ حاصل ہوگا اورپانی کی فراہمی ، زمین کے بندوبست ، بنجر زمینوں کےانتظام، بارش پرمبنی کاشتکاری اور جنگلات کےفروغ کو تحریک ملےگی۔ حکومت کوچاہیےکہ خود اسکیموں کو تقویت دینےکیلئےمہارتوں کےفروغ کوبھی اس ایکٹ سےمتعلق سرگرمیوں میں شامل کرے۔ مہارتوں کےفروغ کیلئےتربیت دیتے ہوئے نوجوانوں اورخواتین پرخصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ انڈین نیشنل کانگریس تعلیم یافتہ لوگوں کیلئے روزگار کےمواقع کو بڑھانے کیلئے اور نوجوانوں کی مہارتوں کو فروغ دینے کےجیلنج کوقبول کرتی ہے۔ خواتین سے متعلق اسکیموں کو بہتر کرنےکیلئے خصوصی پروگرام چلائےجانے چاہیے۔ یہ کام صنعت اور خدمات دونوں شعبوں میں سرمایہ کاری کےعمل کو فروغ دینے کے ذریعے اقتصادی ترقی کو تیز تر کیا جاسکتا ہے ۔ اس صنعت میں روزگار پیداکرنےکی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کویقین ہے کہ اب منظم زمرے میں روزگار کےمواقع بڑھانےکیلئے قوانین اورضابطے وضع کرنے کا وقت آگیا ہے۔ غریبی کا خاتمہ انڈین نیشنل کانگریس غریبی کےخاتمےاورعام آدمی کودرپیش مسائل حل کرنےکےعزم پرقائم ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ وہ خط افلاس سےنیچے زندگی گزارنے والی آبادی کی حالت سدھارنےکیلئےایک مقررہ مدت والےحد ف پر پروگرام جاری کرے۔ یہ حکومت سےاس بات کو یقینی بنانے کی بھی اپیل کرتی ہےکہ 11 ویں منصوبےمیں خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کی تعداد آدھی ہوجائے۔ زراعتی، دیہی قرض انڈین نیشنل کانگریس دیہی قرضوں کےدائرے کووسیع تر کرنے کو ترجیح دئے جانے کو اچھی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس حکومت سے اس بات کو یقینی بنانے کی اپیل کرتی ہےکہ چھوٹےاوراوسط درجے کےکاشت کاروں کوبطور خاص قرضےکی ضروریات کی بروقت تکمیل کی جائے۔ کانگریس مرکزی حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ دیہی کوآپریٹیو قرضوں کے نظام کو مکمل طور پر بحال کرنے میں قائدانہ کردار اداکرے۔ انڈین نیشنل کانگریس این ۔ ڈی ۔ اے۔ سرکار کےاقتدار کےدوران زراعت کونظرانداز کئےجانےکی روش کا جس کے نتیجےمیں کسانوں کی اجتماعی خود کشی کا سلسلہ شروع ہوا ازالہ کرنے کو دی جانےوالی زبردست ترجیح کا خیر مقدم کرتی ہے۔ کانگریس کسانوں کی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کرنے کیلئے ملک میں کارگر اور موثر فصل بیمہ اسکیموں کو روبہ عمل لائے گی۔ معقول شرح سود پر زرعی دیہی قرضوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا تاکہ کسانوں کو قرضوں کے جال میں پھسنے سے دور رکھا جاسکے اور قرضے بہ آسانی حاصل ہوسکیں۔ ساتھ ہی اس سلسلے میں بچولیوں اور سودخوروں کا خطرہ دورکرنے کو مناسب ترجیح دی جائے گی۔ کانگریس حکومت سے اپیل کرتی ہےکہ وہ کسانوں سے متعلق قومی کمیشن کی سفارشات کو ایک مقررہ مدت میں روبہ عمل لائے۔ کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ وہ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنائے،چھوٹے واوسط درجے کےکسانوں کی ضرورتوں پر توجہ دینے اور زمینوں کی خرابی کا سلسلہ روکنے کیلئے نئی ٹکنالوجی کوزیر استعمال لانے کی غرض سے دوسرا زرعی انقلاب لانےکی کوشش کرے۔ اس سلسلے میں کی جانےوالی کوششوں میں کمزور طبقوں ، خاص کر درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کو با صلاحیت بنانے کا عمل بھی شامل ہونا چاہیے تکہ وہ زراعت کے فروغ میں شریک ہوسکیں زرعی اصلاحات کی مزید توسیع اور عمل درآمد کےطورپراس کو ششوں میں زمین کی ملکیت کا تحفظ بھی شامل ہونا چاہیے ۔ کسانوں اورکھیت مزدوروں کی فلاح وبہبود پر ہماری دیرینہ توجہ کااظہاراس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اس سلسلےمیں ایک علاحدہ قرارداد لائی جائےگی۔ زراعت میں سرکاری سرمایہ کاری میں بھاری اضافہ کیا جانا چاہیے۔ تمام ملک میں زرعی پیداوار کی کم سےکم سہارا قیمت کو یقینی بنایا جانا چاہیےاورملک کی تمام ریاستوں میں سرکاری خریداری کی مشینری لازمی طورپرموجود ہونی چاہیے۔ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیےکہ سہارا قیمت / کم سے کم قیمت کا اعلان فصل بوئے جانے سے بہت پہلے کردیا جائے۔ باغ بانی کے سیکڑ کے مسائل پر کارگر طریقے سے توجہ دی جانی چاہیےاور اس سلسلے میں مناسب اقداامات کئےجانےچاہییں ۔ قومی باغبانی مشن جیسے نئے اقدامات پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ بھارت نرمان ہماری اقتصادی اصلاح پروگرام کا ایک بڑا چیلنج ترقی کےعمل اورمختلف تقسیموں میں توازن قائم کرناہے ہندستان میں ایک بڑی تقسیم شہری اور دیہی ہندستان کے درمیان پائی جاتی ہے۔ ہمیں اس رجحان کوپلٹنا ہوگا۔ انڈین نیشنل کانگریس 174000 کروڑروپےکا نہایت بلند عزم بھارت نرمان پروگرام جاری کئےجانےکی ستائش کرتی ہےجو آب پاشی ، سڑکوں، رہائش ، پینے کےپانی، بجلی اورٹیلی مواصلات کےچھےمنصوبوں پرمشتمل ہے۔ اس پروگرام میں صفائی ستھرائی اورسیوج نظام کی دیکھ ریکھ کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ کانگریس حکومت سے اس بات کویقینی بنانےکی اپیل کرتی ہےکہ اس پروگرام کیلئےبھرپورسرمایہ فراہم کیا جائےاوراس کواعلان شدہ نظام الاوقات کےتحت روبہ عمل لایا جائے۔ انڈین نیشنل کانگریس کانگریس کےزیراقتدارریاستوں کی حکومتوں سےاپیل کرتی ہےکہ وہ اس پروگرام میں پوری طرح شریک رہیں۔ غیر کانگریس ریاستوں میں انڈین نیشنل کانگریس، کانگریس کےتمام مرد وخاتون کارکنوں سےاپیل کرتی ہےکہ وہ اپنی اپنی ریاستوں کی حکومتوں پر مرکزی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کیلئےزیادہ سے زیادہ زور ڈالیں ۔ صحت، خواتین اور بچے انڈین نیشنل کانگریس قومی دیہی صحت مشن کی جاری کرنے کیلئےسرکار کو مبارکباد دیتی ہے۔ یہ ایک زبردست اہمیت کا حامل مشن ہےاوراس تحت سارے ملک میں خاصطورکےغریب اور پسماندہ علاقوں میںصحت سےمتعلق بنیادی ڈھانچہ کھڑاکرنےکی دی جانےوالی توجہ قابل غورہے۔ اس کےساتھ ہی غریب کنبوں کیلئےصحت بیمہ کا نظام جاری کرنا بھی ضروری ہے۔ حکومت کوتمام ریاستی حکومت کوہدایت دینی چاہیےکہ وہ UPA حکومت کےذریعےپہلےہی جاری کردہ اسکیم کےتحت غریب کنبوں کیلئےصحت بیمہ کا سلسلہ جاری کریں۔ صفائی ستھرائی عوامی صحت کی بنیاد ہے۔ اس سلسلےمیں انڈین نیشنل کانگریس کی رائےہےکہ جہاں ایک طرف صفائی ستھرائی کا ایک پروگرام مرکزی حکومت کی جانب سےچلایا جارہا ہے وہیں پارٹی کارکنوں کیلئےضروری ہےکہ وہ گاندھی جی سےتحریک لےکراس کام میں شریک ہوں۔ انڈین نیشنل کانگریس، کانگریس کےتمام مرد وخاتون کارکنوں سےاپیل کرتی ہےکہ وہ گذشتہ کانگریس صدرکےاعلان کردہ سوچھ واتا ورن ابھیان ( صاف ماحول مہم ) میں سرگرم حصہ لیں ، انڈین نیشنل کانگریس ہاتھوں سےفضلہ اٹھانےکےعمل کےمکمل خاتمےاوراس سے نہایت تذ لیل کن عمل سےچھٹکارہ پانےوالےکنبوں کی بازآبادکاری سےمتعلق ایک موثراورمقررہ مدت والےمنصوبے کی زبردست اہمیت کونشان زد کرنا چاہتی ہے۔ کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ ایڈس کےپھیلاؤ کی روک تھام کیلئےفوری اقدامات کرے۔ ہندستان ان ملکوں میں ہے جہاں صحت پر ہونے والا سرکاری خرچ بہت کم ہے۔ ایک اندازے کےمطابق صحت پر ہونےوالے تمام تراخراجات میں نجی اخراجات کا حصہ 78 فیصد ہے ۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اگلے تین سال میں اس سلسلےمیں ہونے والے سرکاری اخراجات کو GDB کےموجودہ 0.9 فیصد سے دوگنا کردے ۔ انڈین نیشنل کانگریس خواتین اوربچوں کی فلاح وبہود سےمتعلق اسکیموں پردی جانے والی توجہ کا خیر مقدم کرتی ہے جس کا اظہار( ICDS) اوراضافی تغذیہ پروگرموں کیلئےمختص رقوم میں اضافےسےہوتاہے۔ کانگریس، UPA حکومت کےذریعےمڈڈے میل پروگرام کی بڑے پیمانےپرتوسیع کی ستائش کرتےہوئےاپیل کرتی ہےکہ اس سلسلےمیںخوراک کےمعیاراورغذائیت کوبرقراررکھنےکےاقدامات کئےجانےچاہیں ،اس پروگرام کا خاص مقصد طلبہ کی تعداد کوبرقراررکھنا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس، کانگریس کےتمام مرد وخاتون کارکنوں سےاپیل کرتی ہےکہ وہ اس پروگرام سےواقفیت حاصل کریں اس کےعمل درآمد کی نگرانی میں حصہ لیں۔ حکومت کوچاہیےکہ بچہ مزدوری کےخاتمےاوربچہ مزدوروں کی بازآبادکاری کیلئےمناسب اقدامات کرے۔ کانگریس حکومت سے یہ اپیل کرتی ہےکہ وہ شراب نوشی کےاندیشوں کوکم سےکم کرنےسےمتعلق ایک پالیسی وضع کرے تاکہ خواتین اوربچوں کی کفالت کو یقینی بنایا جاسکے۔ انڈین نیشنل کانگریس خواتین کو گھریلو تشدد سےبچانےسے متعلق بل لانےکیلئےحکومت کی ستائش کرتی ہے جسے پارلیمنٹ کےدونوں ایوانوں نےمنظور کرلیا ہے۔ اس عہد سازقانون کا مقصد خواتین کوہرقسم کےگھریلو تشدد سےمحفوظ کرناہے۔ انڈین نیشنل کانگریس ہندوقانون کا وراثت میں حالیہ ترمیم کا خیرمقدم کرتی ہےجس سےخواتین کوجائداد کےورثےپرمساوی حقوق حاصل ہوجائیں گے۔ کانگریس بچوں کےحقوق کےتحفظ سےمتعلق بل کی منظوری کا بھی خیرمقدم کرتی ہےاورحکومت سےاپیل کرتی ہےکہ اس پرپوری طاقت سےعمل درآمد کرے۔ اس سلسلےمیں انڈین نیشنل کانگریس بطورخاص اپنی محاذی تنظیموں سےاپیل کرتی ہےکہ دیگرسرگرم کارکنوں اورشہری حقوق کےگروپوں کےاشتراک سےسماجی اصلاح سےمتعلق ان قوانین اور ان پرعمل درآمد کی نگرانی کےبارے میں رائےعامہ پیدا کرنے میں قائدانہ کردار ادا کریں ۔ اقتصادی نموکیلئے علم کا استعمال ہندستان کوسائنس ،انجیرننگ وٹکنالوجی ، اطلاعاتی ٹکنالوجی اور بایوٹکنالوجی کے شعبوں سے متعلق اپنے علمی وسائل اور اس کے ساتھ ہی ہنر مند انسانی وسائل کی ایک وسیع بنیاد کے سبب عالمی معیشت میں ایک مسابقتی سبقت حاصل ہے۔ یہ ہندستان کیلئے ان وسائل کو استعمال کرکےاقتصادی نمو کو تیزتر کرنے کا ایک زبردست موقع ہے ۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت کی ایسی پالسیاں بنانے اور اقدامات کرنےکی اپیل کرتی ہے ۔ جس سے ملک علم اور ٹکنالوجی کی طاقت کا ایک بڑا مرکز بن سکے۔ خودامدادی گروپ انڈین نیشنل کانگریس ہندستان میں غریبی کو کم کرنےکیلئےمائکرو فائنانسنگ کوایک کلیدی تدبیر تصور کرتی ہے۔ اس قوت سےسارے ملک میں مائکروفائنانس حاصل کرسکنےوالے غریب کنبوں کی تعداد 5 فیصد سےبھی کم ہے۔ باضابطہ قرضےحاصل کرسکنےوالےدیہی کنبوں کی تعداد بھی بہت قلیل ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس خواتین کےخود امدادی گروپوں کی زبردست اہمیت کو نشان زد کرتی ہےجو بعض جنوبی ریاستوں میں خاصےمستحکم ہوچکےہیں اورحکومت سےاپیل کرتی ہےکہ ملک کے دیگرحصوں میں بھی انہیں کامیاب کرنےکی کوششش کرے۔ حکومت کویہ بھی چاییےکہ خودامدادی گروپوں کی مصنوعات کےبازارکی سہولتیں فراہم کرنےکا انتطام کرے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ ایک مائکروفائنانس ایکویٹی فنڈ قا ئم کرے جسے تجارتی بینکوں کےعطیات کےذریعےقائم کیا جاسکتا ہےاور جسےان بینکوں کے ترجیحی زمروں سےمتعلق قرضہ جاتی پروگرام کا ایک حصہ تصور کیا جاسکتا ہے ۔ خواتین کی جمع رقم پر انہیں حاصل ہونے والی شرح سود اور شرح سود کے درمیان فرق کو جس پر وہ قرضہ حاصل کرتی ہیں کم سےکم کیا جانا چاہیےاور اس سلسلے میں انڈین نیشنل کانگریس بعض کانگریس اقتدار والی ریا ستی حکومتوں کے اقدامات کا خیر مقدم کرتی ہے۔ سرکاری نظام تقسیم انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ سارے ملک میں تمام ضروری اشیاء کی معقول قیمتوں اورمناسب مقدارمیں فراہمی کو یقینی بنائے۔ اس سلسلے میں کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ تقسیم عامہ کےنظام کو مضبوط ترکرے، خاص کران ریاستوں میں جو جزیرہ نمائےہند کے باہر ہیں اورجہاں یہ نظام بہت کمزور ہے۔ آبادی کےکمزورطبقوں کی ضرورتوں کی تکمیل لازمی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس غلّےکی غیر مرکوز خریداری اورعوامی غلہ بینکوں کےنئے نظام کی ستائش کرتی ہے اوراسے یقین ہے کہ اس کی توسیع کی جائے گی اور اسی کے ساتھ ہی (FCI) پر مبنی قومی نظام کو مزید تقویت دی جائے گی ۔ کانگریس کی رائے میں سستےغلّےکی دکانوں کےبندوبست کا ایک نیا نظام - مثلاً سابق فوجیوں کی کوآپریٹیواور خواتین کےخودامدادی گروپوں کےذریعےبڑے پیمانےپرشروع کیا جاناچاہیے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ خط افلاس سےنیچےزندگی گذارنےوالےلوگوںسےمتعلق سبسیڈی کو کم نہ کرےاورانہیں غلےکی ایک مناسب مقدارکی فراہمی برقرررکھے۔ کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ ایسا پختہ نظام اختیار کرے جس میں افلاس سےنیچےزندگی گذارنےوالے لوگوں میں شامل کوئی بھی کنبہ ان رعایتوں سےمحروم نہ رہے۔ سرکاری زمرہ انڈین نیشنل کانگریس سرکاری زمرے کی بلاامتیازاورغیرشفاف نجی کاری کی پالسی کوپلٹ دینےکیلئےحکومت کومبارکباد دیتی ہےجوBJP کی قیادت والی NDA حکومت نےشروع کی تھی ۔ کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ ہرطریقےسےنورتن کمپنیوں کو تقویت پہنچائےتاکہ وہ عالمی مقابلےکی صلاحیت پیدا کرسکیں۔ انڈین نیشنل کانگریس اپنےاس موقف کا اعادہ کرتی ہے کہ نورتن کمپنیوں کو کسی بھی حال میں نجی تحویل میں نہیں دیاجانا چاہیے۔ کانگریس اس خیال کی حامی ہےکہ دیگرکمپنیوں سےسرمایہ نکالنےکا عمل منتخب طریقےسےاور ہر معاملے پر الگ الگ غور کرتے ہوئے جاری کیا جانا چاہیےجس کا مقصد قومی سرمایہ کاری فنڈ کیلئے وسائل فراہم کرنا ہے جوحکومت کےذریعےسماجی زمرے کےپروگراموں کو فروغ دینے کیلئے قائم کیا گیا ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیےجس کا مقصد قومی سرمایہ کاری فنڈکو کسی بھی حال میں مالیاتی اخراجات کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔ قابل عمل سرکاری کمپنیوں کی تجدید کی جانی چاہیے۔ مجموعی طورپر سرکاری زمرے کو تمام ضرروری انتطامی اورتجارتی خود مختاری حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہ پیشہ ورانہ انداز سے کام کرسکے۔ سماجی انصاف انڈین نیشنل کانگریس، بنگلورقرارداد کا ذکر کرتےہوئے، حکومت سےگذارش کرتی ہےکہ وہ سماج کےکمزورطبقوں کےنوجوان لڑکے/ لڑکیوں کی امنگوں کی تکمیل سےمتعلق مثبت اقدامات میں نجی زمرے کےکردارکےبارے میں قومی بحث شروع کرے۔ کانگریس سمجھتی ہے کہ یہ کردار سرگرم اور عالمی مقابلے کے لوازم کے مطابق ہونا چاہیے۔ حکومت کی پالسیاں اس طرح وضع کی جانی چاہیےکہ مثبت اقدامات کیلئے ترغیب حاصل ہو۔ انڈین نیشنل کانگریس سرکار سےگذارش کرتی ہےکہ وہ کمزورطبقوں سے متعلق مثبت اقدام کی پالسی کو نجی زمرے میں روبہ عمل لانےکیلئےقانونی اورانتظامی طریقےوضع کرے۔ کانگریس یاد دلانا چاہتی ہےکہ سابقہ کانگریسی حکومتیں درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل ،OBC اوراقلیتوں کی بہبود کیلئے مالیاتی اورترقیاتی کارپوریشن قائم کرچکی ہیں۔ ان کارپوریشنوں کا مقصد صنعتی کوششوں کو بڑھاوا دینےمیں بھی اہم کردارادا کرنا تھا ۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ وہ ان کارپوریشنوں کو دستیاب سرمایے میں اضافہ کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے تاکہ یہ اپنے پروگراموں کو موثر طورپر روبہ عمل لاسکیں۔ انڈین نیشنل کانگریس صدر کانگریس کوان کی ذاتی دلچسپی کیلئےمبارکباد دیتی ہے جس کے سبب درج فہرست قبائل ( جنگلاتی حقوق کو تسلیم کرنےسے) متعلق بل2005 پیش کیا جانا ممکن ہوسکا ۔ اس کے تحت قبائلی کنبوں کو زندگی گذارنے کے وسائل فراہم کئے جاسکیں ۔ کانگریس حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ اس قانون کو جلد ازجلد منظورکئےجانے کیلئےکوشش کرے ۔ علاقائی ناہمواریاں انڈین نیشنل کانگریس ریاستوں کےاندراور مختلف ریاستوں کے درمیان ترقیاتی عدم توازن اور ناہمواریوں پر توجہ دینےکی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ کانگریس اس بات کو نشان زد کرتی ہے کہ یوپی اے حکومت کےبیشتر اقدامات سےملک کےغریب تر اور پسماندہ علاقوں کوفائدہ پہنچاہے۔ کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ ان علاقوں میں انسانی اور مادی ترقی کی خامیوں کو دور کرنے، ان کی جامع ترقی کیلئے سہولتیں پیداکرنےاورکمزورعلاقوں و طبقوں کوبنیادی دھارے میں شامل کرنے کیلئے قانونی ، انتظامی اور مالی اقدامات کرے۔ کانگریس حکومت سے یہ اپیل کرتی ہے کہ علاقائی عدم توازن کو ختم کرنے کیلئے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ انڈین نیشنل کانگریس شمال مشرق اور جموں وکشمیر کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کیلئے کئےجانےوالےکئی نئےاقدامات پر اطمئنان ظاہر کرتی ہے۔ وزیر اعظم کو جموں وکشمیر سے متعلق بڑے پیمانےپر مالی اقدامات کیلئے مبارکباد دیتےہوئے، انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ عواام کی زندگی پران اقدامات کے فیصلہ کن اورمثبت اثرات کو یقینی بنانے اوران پر نظر رکھنےکیلئےاقدامات کرے۔ کانگریس سمجھتی ہے کہ لوگوں کو اب ان سرکاری اخراجات کے فوائد واضح اور براہ راست طور پر نظر آنے چاہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سماجی تصادموں کےاقتصادی پہلوؤں پر زیادہ گہرائی سےغور کرے اوران سےنمٹنے کیلئے مناسب اقدامات کرے۔ تصادم اور تشدد کا مقابلہ بلاشبہ نفاذ قانون کی مشینری کےذریعے کیا جانا چاہیے مگر بعض معاملات میں ان کے پس پشت کار فرما سماجی و اقتصادی اسباب پر بھی بامعنی طریقے سے توجہ دی جانی چاہیے۔ شہری ترقی بڑے پیمانےپر دیہی بنیادی ڈھانچہ تیارکرنےکی کوششوں کےسااتھ ساتھ شہری بنیادی ڈھانچےکو بھی فروغ دیا جاناچاہیے۔ شہرکاری ایک چیلنج بھی اورایک موقع بھی۔ انڈین نیشنل کانگریس سات سال کیلئے1000000 کروڑ روپےکی مجموعی سرمائےکے ساتھ جواہر لال نہرو قومی تجدید مشن جاری کئےجانےکی ستائش کرتی ہےجس کےتحت دس لاکھ آبادی والے شہروں، تمام ریاستی راجدھانیوں اورمذہبی، تاریخی اورسیاحتی لحاظ سےاہم کئی شہروں کا احاطہ کیاجائے گا ۔ اس مشن کےتحت شہرکےغریب لوگوں کوبنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی جن میں رہائش ، پانی سپلائی، صفائی، سلم بستیوں کےسدھار،اجتماعی ٹوائلٹ اورتمام شہری بنیادی ڈھانچےکےفروغ کی کوششیں شامل ہیں۔ میڑوریل پراجیٹکوں کوروبہ عمل لائے۔ اس سلسلےمیں مزدوروں کو شہروں میں کام کیلئےآنےکی سہولت فراہم کرنےپر زور دیا جاناچاہیے۔ کانگریس شہری تجدید کےمشن کےتحت سیوریج اور گندگی کی نکاسی کےانتظامات کی اہمیت پربھی زور دیتی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ شہری غریبوں کو رہائش، رہائشی حقوق کےتحفظ اور صفائی ستھرائی سمیت زندگی گذارنے کا بہترماحول فراہم کرنے والی ایک جامع اسکیم جاری کرے۔ مربوط توانائی پالیسی انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ ایک مربوط توانائی پالسی وضع کرے جس کےتحت دیہی علاقوں کی کھانا پکانےاورروشنی کی ضروریات پوری کرنے پرتوجہ دی جائے معقول شرح پر گیس اورمٹی کاتیل فراہم کرنےاور بجلی کی بھروسے مند اور کم لاگت فراہمی کو وسیع ترکرنےکو یقینی بنایا جاسکے۔ راجیوگاندھی گرامن ودیوئی کرن یوجنا کو جس کے تحت پانچ سال کےاندر تقریباً 1.25 لاکھ دیہات کااحاطہ کیا جانا گا پوری تندہی سے روبہ عمل لایا جانا چاہیے۔ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنےکے ساتھ ساتھ توانائی شعبےکے سرکاری اداروں اورایجینسیوں کی کارکردگی اورپیداواریت کو بہترکرنے کیلئےتمام تر کوششیں کی جانی چاہیں۔ حکومت کو متبادل توانائی سےمتعلق تیزوتند پالسیاں بھی وضع کرنی چاہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس اس بات پر تشویش ظاہر کرتی ہے کہ ہندستان کوئلےکےواسائل کے معاملے میں دنیا میںجوتھےمقام پر ہونےکے باوجود آج کوئلےکا بڑادرآمد کار بن گیا ہےاس کے پیش نظر ہمیں اپنے کوئلہ سیکڑ کی موجودہ ساخت اور انتظام کے بارے میں نئے سرے سےغور کرنا ہوگا۔ مینوفیکچرنگ صنعت ، ایس ایس ، کے وی آئی سی ، ہنڈلوم انڈین نیشنل کانگریس اس بات کوفخریہ یاد دلانا چاہتی ہےکہ اطلاعائی ٹکنالوجی کےشعبےمیں ہندستان کی کامیابیوں کی بنیاد سابقہ کانگریس حکومتوں نےرکھی تھی اورجواہرلال نہرو کی دوراندیشی کےنتیجےمیں IIT اورایس اینڈ ٹی کے بنیادی ڈھانچے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ اس شعبےمیں کامیابیوں کےسلسلے کوجاری رکھنے اور ہندستان کی تمام ترصلا حیتوں کو، جس کا محض ایک ذرا سا حصہ استعمال کیا جاسکا ہے، بروئےکار لانے کیلئےہرممکن اقدامات کرے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت کے ذریعے ہندستان کی مینوفیکچرنگ صنعت کے فروغ پر زور دئے جانے کا خیر مقدم کرتی ہے جس کا اظہار قومی مینوفیکچرنگ مقابلہ جاتی کونسل کے قیام سے ہوتا ہے ۔ کانگریس بطور خاص محتت مرکوز مینوفیکچرنگ صنعت مثلاً (کپڑا، چمڑا، ایگرو پراسیسنگ ) کے فروغ کو اعلاترین ترجیح دیتی ہےاور چاہتی ہےان کی توسیع میں حائل تمام پابندیاں جلد ازجلد اٹھالی جائیں ۔ انڈین نیشنل کانگریس اس بات کونشان زد کرنا چاہتی ہے کہ ہندستان معدنی لحاظ سےدولت مند ملک ہے۔ یہ ہماری قومی پالسی ہونی چاہیےکہ غیرمعمولی اور واضح حالات کو چھوڑکر عموماً ویل ایڈیڈ مصنوعات کو برآمد کیا جائے اور قدرتی وسائل کی برآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی سرمایہ کاری، ٹکنالونی، مالیاتی اور بازآبادکاری کی خصوصی ضرورتوں کی تکمیل پر سنجیدہ توجہ دے۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اس سلسلےمیں ایک مثبت اور حوصلہ افزا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں کانگریس پارلیمنٹ کے گذشتہ اجلاس میں چھوٹی اور اوسط صنعتوں کے فروغ سے متعلق ایک بل پیش کئے جانے کا خیر مقدم کرتی ہے اور حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ اسے جلد از جلد قانون بنائے جانے کو یقینی بنائے۔ انڈین نیشنل کانگریس سمجھتی ہے کہ چھوٹی اور اوسط صنعتوں اورکاروبار کیلئےعملی سرمائے کی فراہمی میں بھاری اضافہ کیا جانا چاہیے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ کھادی اوردیہی صنعتوں کی جدید کاری پرتوجہ دے۔ اس سلسلے، میں کانگریس پارلیمنٹ میںKVIC کی تشکیل نوسےمتعلق بل پیش کئےجانے پر توجہ دیتے ہوئےحکومت سےاپیل کرتی ہے کہ جلد ازجلد اس کی منظوری کو یقینی بنائے۔ قانون سے قطع نظر، KYIC کوزیادہ بازاررخی بنانےسےدیہی علاقوں میںروزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ وہندستان کی دستکاری کی صنعت کا معیار بہترکرنےکیلئےایک نیا پروگرام شروع کرے۔ ہینڈلوم اورگھریلو صنعتوں سےمتعلق مجموعی طریقہ کار جاری کیا جانا چاہیے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سے اپیل کرتی ہےکہ وہ ہینڈلوم بنکر صنعت کو ، جو ہماری اہم ترین اقتصادی سرگرمیوں میں شامل ہے، خام مال اور مالی ، بازار کاری اور ٹکنالوجی کی امداد فراہم کرنے کیلئے ایک مقررہ مدت کا پروگرام جاری کرے۔ ہینڈلوم صعنت کے اہم مراکز کے بنیادی ڈھانچے کا معیار بلند کیا جانا چاہیے۔ غیرمنظم محنت انڈین نیشنل کاگریس کا موقف ہےکہ غیر منظم زمرے کے مزدوروں کو ،جو مزدوروں کے92 فیصد حصے پر مشتمل ہیں، کسی نہ کسی سطح کا سماجی تحفظ فراہم کرنا محنت سے متعلق اہم ترین قانونی اصلاح ہوسکتی ہے۔ کانگریس اس بات کی ستائش کرتی ہےکہ حکومت کےذریعےکئےگئے چند اولین اقدامات میں غیر منظم، بےضابطہ زمرے کےصنعتی اداروں سےمتعلق قومی کمیشن کا قیام بھی شامل ہے۔ اب تک خاصا بحث ومباحثہ ہوچکا ہےاوراب انڈین نیشنل کانگریس کا خیال ہےکہ وقت آگیا ہےجب حکومت غیرمنظم زمرے کےمزدوروں کیلئے سماجی تحفظ کے ایک نئے جرات مندانہ پیکج کا اعلان کرے۔ حکومت کویہ بھی چاہیے کہ غیر منظم زمرے کے مزدوروں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایک قانون بنائے۔ مالی پالسی ، وسائل کی فراہمی انڈین نیشنل کانگریس ایک ایسی مالی پالسی وضع کئےجانےکی اپیل کرتی ہے جس سےسماجی اور مادی بنیادی ڈھانچےمیں سرکاری سرمایہ کاری میں اہم اضافہ ہوسکے۔ کانگریس اس بات کااعادہ کرتی ہےکہ مرکزی اورریاستی دونوں سطحوں پرہونےوالے سرکاری اخراجات میں اہم سماجی واقتصادی مسائل اورجیلنجوں کا انعکاس ہونا لازمی ہے۔ حکومت کوچاہے کہ مجموعی بجٹ نظام کےساتھ ساتھ آؤٹ لےاورآؤٹ کم بجٹ کوبھی یقینی بنائے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ ٹیکس کی بنیادوں کووسیع ترکرے، ٹیکس کےبندوبست میںبہتری لائےاورٹیکس کی شرحوں میں آسانی اوراستحکام پیداکرے۔ کانگریس اس بات پرتشویش ظاہرکرتی ہےکہ گذشتہ سال صرف تقریباً 80 ہزارہندستانیوں نےدس لاکھ روپےسےزیادہ کی قابل ٹیکس آمدنی کوظارہ کیا۔ یہ ایک ناقبل قبول صورت حال ہےجسے جلد ازجلد ٹھیک کیا جانا چاہیے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ ٹیکس کی چوری کرنے والوں کو پکڑے ، ٹیکس نظام کےچور دروازوں کوبند کرےاورپورے احساس فرض کےساتھ بچائی گئی رقوم کوبرآمد کرے۔ کانگریس جلد ازجلد ایک ہندستانی مشترکہ بازار قائم کئےجانے کی اپیل کرتی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس ہمارے مالی نظام میں بچائی گئی ٹیکس رقوم کی بھاری موجودگی پرسخت تشویش ظاہرکرتی ہےاورحکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ جلد ازجلد ان رقوم کوبرآمد کرنےکیلئےاقدامات کرے۔ کانگریس حکومت سےیہ بھی اپیل کرتی ہے کہ غریبی مخالف پروگراموں کیلئےمزید وسائل فراہم کرنےکیلئےنئےنئے طریقے اختیار کرے۔ گذشتہ ڈیڑھ سال کےدوران تیل کی عالمی قیمتوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ ایسا پہلےکبھی نہیں ہواتھا ۔ اس کی وجہ سے ہم پربہت بھاری بوجھ پڑرہا ہے ۔ کیونکہ ہم تقریباً 70 فیصد خام تیل درآمد کرتےہیں۔ حکومت کو بڑول اورڈیزل کی قیمتوں میں تکلیف دہ تبدیلی کرنےپرمجبور ہو نا پڑا مگر انڈین نیشنل کانگریس مٹی کےتیل کی قیمت بالکل نہ بڑھانےکیلئے حکومت کو مبارکباد دیتی ہے۔ جہاں تک رسوئی گیس کا تعلق ہے، کانگریس اس بات کو نشان زد کرنا چاہتی ہےکہ قیمتوں میں اضافہ ہوا ہےمگراتنا نہیں جتنا ہوسکتا تھا، جس سےظاہر ہوتاہےکہ حکومت واقعی عوام کےجذبات کےبارے میں حساس ہے،اس کےباوجود کہ اس سےتیل کمپینوں اورسرکاری خزانےپربھاری بوجھ پڑسکتا ہے.انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ پڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ روکنےکی غرض سے سیل ٹیکس / ویٹ / محصولات میں کسی بھی غیر معقول اضافہ پر پابندی لگادے۔ بنیادی ڈھانچہ انڈین نیشنل کانگریس اگلے سات برسوں کے دوران قومی شاہراہ فروغ پراجکٹ کے مختلف مرحلوں کیلئے 172000 کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کے ذریعے ملک میں شاہراہوں کو فروغ دینےکومزید اہمیت دینےکیلئےحکومت کومبارکباد دیتی ہے۔ کانگریس خصوصی مقصد کی گاڑیوں سےمتعلق10000 کروڑ روپےکےپراجکٹ سمیت مختلف بنیادی ڈھانچےکے پراجکٹوں کیلئےسرمایہ فراہمی کےنئےنئےطریقےوضع کرنےکیلئےحکومت کی ستائش کرتی ہے۔ کانگریس برآمدات میں اضافےکی غرض سےخصوصی اقتصادی دونوں کیلئےقانونی بنیادی ضرورت فراہم کرنےکیلئےبھی حکومت کومباکباد دیتی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ بنیادی ڈھانچےکی ایسی توسیع پرگہری توجہ دے جس میں سرکاری اورنجی دونوں قسم کی سرمایہ کاری کو اہم کردارادا کرنا ہے۔ اس کیلئےایک معتبراورواضح قانونی اورنگرانی کا نظام وضع کیا جانا چاہیے۔ سرکاری اورنجی زمروں کی شرکت کو بھی ایک کردارادا کرنا ہے۔ کانگریس اس خیال کومسترد کرتی ہےکہ نجی کاری ہی ملک میں بنیادی ڈھانچےکےمسائل کا واحد حل ہے۔ نجی سرمایہ کاری اورسرکاری اداروں کےکردار کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ وہ ٹیلی مواصلاتی انقلاب کےفوائد کوملک کےدہیی اورکم سہولتوں والےعلاقوں مثلاً شمال مشرق تک پہنچانےکےاقدامات کرے۔ کانگریس ریلوے نیٹورک کی توسیع اورمعیارکی بہتری کیلئےنئی سرمایہ کاری کئےجانےکی اپیل کرتی ہے۔ کانگریس دیہی سبسیڈی کی اجازت دینےکی غرض سےپارلیمنٹ کےگذشتہ اجلاس کےدوران بجلی قانون 2003 میں ترمیم پیش کرنےکیلئےحکومت کومبارکباد دیتی ہے۔ کانگریس حکومت سےیہ اپیل بھی کرتی ہےکہ ان ترمیمات کی جلد ازجلد منظوری کویقینی بنائے۔ مالیاتی زمرہ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ اب جب کہ سرکاری زمرے کے بینکوں کو ترجیحی زمرے میں قرضہ جات کے نشانے کی تکمیل کیلئے جواب دہ بنادیا گیا ہے، ان بینکوں کو مزید انتطامی خود مختاری دینے کےاقدامات کئے جائیں ۔ کانگریس اپیل کرتی ہےکہ شہری کوآپریٹیو بینکوں کا زیادہ موثر بندوبست کیا جائے کیونکہ حالیہ برسوں کے دوران ان میں سے بعض بینک پوری طرح بیٹھ چکے ہیں جس سے لاکھوں چھوٹے سرمایہ کاروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ کانگریس مالیاتی زمرے میں مقابلے کا خیر مقدم کرتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی مساوی مواقع کی فراہمی پربھی زور دیتی ہے تاکہ سرکاری زمرے کےاداروں کا نقصان نہ ہو۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےایسےمناسب اقدامات کرنے کی اپیل کرتی ہے کہ استحکام کے نام پر دیہی آبادی کےمفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ ایف ڈی آئی انڈین نیشنل کانگریس اس بات سےمتفق ہےکہ ملک کی اقتصادی ترقی میں بیرونی راست سرمایہ کاری (FDI) کو ایک اہم کراراداکرنا ہے۔ ایف ڈی آئی کےضابطوں کوشفاف اورایسا ہونا چاہیے کہ محض مفادات کےحصول کےبجائےنئےپراجکٹوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔ انڈین نیشنل کانگریس ایک ایسا ماحول پیداکرنےکیلئےحکومت کی ستائش کرتی ہےجس میں بیرونی راست سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنےکےمعاملےمیں چین کے بعد ہندستان کو اہم ترین مقام حاصل ہوگیا ہے۔ پھٹکر تجارت ملک میںچھوٹی چھوٹی پھٹکرتجارت کرنےوالوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ کروڑہےجوپھٹکرکاروبارکے98 فیصدحصےپرمشتمل ہے۔ جی ڈئی پی میں ان کابھاری حصہ ہوتاہےاوروہ بہت سےلوگوں کوذریعہ معاش فراہم کرتےہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ پھٹکرزمرے کیلئےمال کی فراہمی کےسلسلےکوتقویت دےاورپھٹکرتاجروں کورعایتی قرضےفراہم کرنےکیلئےاقدامات کرے۔ عالمی تجارت تنظیم ( ڈبلوٹی او) انڈین نیشنل کانگریس حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ زراعت ، صنعت اور خدمات میں برآمدات کی رفتار کو برقرار رکھے۔ برآمدات صرف ان کے ذریعے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کیلئے ہی اہم نہیں ہیں جس سے درآمدات کی ادائیگی میں مدد ملتی ہے بلکہ زیادہ اہم بات یہ ہےکہ ان کے ذریعے لاکھوں روزگار کے مواقع پیداہوتے ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس اس بات کو تسلیم کرتی ہےکہ عالمی کاری ہندستان کو بہت سےمواقع فراہم کرتی ہے۔ ان مواقع پرگرفت کرکےانہیں اپنے فائدے کیلئےاستعمال کیا جانا چاہیے ۔ اس کے ساتھ ہی اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں بعض خطرات بھی ہیں مگر مناسب پالسیوں اور اداروں کے ذریعے ان خطرات سے نمٹا جاسکتا ہے ۔ سماج کے مختلف طبقوں میں پائے جانے والے اندیشوں اور خوف پربھی توجہ دی جانی چاہیے ۔ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیےکہ عالمی کاری انسانی چہرے کے ساتھ عمل میں لائی جائے۔ انڈین نیشنل کانگریس ڈبلو ٹی او مذاکرات کےرواں مرحلے کے درران اختیار کردہ موقف اور110 ملکوں کےگروپ کو اپنےمفادات کے تحفظ اورفروغ کیلئے قیادت فراہم کرنےکیلئے حکومت کو مبارکباد دیتی ہے ۔ کانگرس اس چھوٹے ہروپگنڈے کو پوری طرح مسترد کرتی ہے کہ کسانوں کے مفادات کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ ایسا ہو بھی تب بھی انڈین نیشنل کانگریس اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ ہندستانی کسانوں کو سبسیڈی حاصل رہے گی، انہیں سستی درآمدات سے محفوظ رکھا جائے گا اور انہیں نئے بازاروں تک رسائی حاصل کرنے کےمواقع دئے جائیں گے ۔ زراعت کےبرعکس خدمات کے شعبے میں، ہندستان کو اقتصادی نرم کاری سے بہت کچھ حاصل کرنا ہےاور ہمیں اس کے پیش نظر ہی اپنے ایجنڈے کو آگےبڑھانا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل بھی کرتی ہے کہ لازمی دواؤں کی قیمتوں پرنظر رکھے تاکہ مصنوعات کے پیٹنٹ کا سلسلہ شروع ہونے سے ہندستانی صارفین کو نقصان نہ اٹھانا پڑے ۔ کانگریس حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ ہندستان مخصوص حیاتی تنوع اور نجی دولت کا سرگرمی سے تحفظ کرے۔ آفات وسانحات کا بندوبست انڈین نیشنل کانگریس ایک آئینی قومی سانحات بندوبست اتھارٹی کےقیام اورقومی سانحات بندوبست اتھارٹی ایکٹ بنانے کیلئےحکومت کو مبارکباد دیتی ہے۔ اس سےقدرتی آفات سےنمٹنے کی ہماری صلاحیت میں اہم بہتری آئےگی۔ انڈین نیشنل کانگریس صدرکانگریس کی ان انتھک کوششوں کوریکارڈ پرلاناچاہتی ہےجوانہوں نےقدرتی آفات سےمتاثرہ لوگوں کیلئےراحت اوربازآبادکاری کویقینی بنانےکےسلسلےمیں انجام دی ہیں، خواہ یہ جنوبی ہند میں سونامی کا قہرہویا جموں وکشمیرمیں آنےوالا زلزلہ یا تمل ناڈو، گجرات، مہاراشڑا، کرناٹک وغیرہ ریاستوں میں آنےوالا سیلاب ہو۔ کانگریس ڈاکڑمنموہن سنگھ حکومت کی بھی ستائش کرتی ہےجس نےسانحات سےمتعلق راحت رسانی کیلئےزبردست مالی وسائل فراہم کئے۔ حکومت نے جس طرح سونامی المیےپرردعمل ظاہر کرتےہوئےاقدامات کئےاسےساری دنیا میں سراہا گیا ۔ زلزلےکےمتاثرین کوسرحدوں کا خیال رکھے بغیرراحت اوربازآباد کاری کی خدمت فراہم کی گئیں ۔ انڈین نیشنل کانگریس خصوصی طورپر برّی فوج ، بحریہ اور فضائیہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہےجس نےاس موقع پراٹھ کھڑے ہوکرزبردست امداد فراہم کی۔ انتظامی اصلاحات انڈین نیشنل کانگریس انتظامی اصلاحات کمیشن ( اے آرسی ) مقرر کرنے کیلئے حکومت کو مبارکباد پیش کرتی ہے ۔ اطلاعات کے حق سے متعلق ایکٹ 2005 ایک تاریخی اقدام ہے جس کی سربراہی صدر کانگریس نےذاتی طور پرانجام دی ۔ کانگریس اے آرسی سےاپیل کرتی ہے کہ وہ تمام سطحوں کےنظم ونسق کو زیادہ حساس، زیادہ عوام موافق، زیادہ جواب دہ اورزیادہ شفاف بنانےکیلئےجلد ازجلد ایک جامع خاکہ تیار کرے تاکہ بدعنوانیوں اورنوکرشاہی کا خاتمہ کیاجاسکے۔ کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ ان سفارشات پرفوری اہمیت کے پورےاحساس کےساتھ عمل کرے ۔ انڈین نیشنل کانگریس یہ بھی سمجھتی ہےکہ ای- گورنینس کے تمام ترامکانات کو منظم انداز سےبروئےکارلایا جانا چاہیےمثلاً ریلوے ریزرویشن کے معاملے میں ہواتھا اورجسےپوری طرح ہمارےآنجہانی رہنما راجیوجی کی کوششوں سےہی ممکن کیا جاسکا تھا۔ کانگریس اپنی ریاستی حکومتوں اورمرکزی حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ دیانتداری اور شفافیت کوبھرپوراہمیت دیں۔ ماحولیات انڈین نیشنل کانگریس پائیدارترقی اوراقتصادی ترقی کےعمل میں محولیاتی امورومعاملات کا پوراپورا خیال رکھنےپر یقین رکھتی ہے۔ تریاقتی پراجکٹوں کےسبب منتقل کئےجانےوالے کنبوں کی بروقت اورموثربازآبادکاری کا انتظام کیا جاناچاہیے اوریہ بازآبادکاری شفاف انداز سےباہمی صلاح مشورے سے کی جانی چاہیے۔ انڈین نیشنل کانگریس ٹرانسپورٹ اور بجلی جیسےزمروں میں صاف ستھری ٹکنالوجیوں کےزیادہ استعمال کی اپیل کرتی ہے۔ کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ وہ تمام بڑی ندیوں کی صفائی کا ایک موثر منصوبہ تیارکرے جوصدیوں سے ہماری ثقافتی پہچان کا محوررہی ہیں۔ کانگریس حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ فوری طورپر ایک قومی ماحولیات پالیسی اورایک قومی حیاتیاتی تنوع پالسی وضع کرے ۔ انسانی سرمایہ ملک میں بطورخاص شمالی اورمشرقی ریاستوں میں جہاں شرح پیدائش بہت زیادہ ہےآبادی کی منصوبہ بندی کیلئےفوری اورمضبوط قومی اقدامات کیلئےاپیل کرتےہوئےانڈین نیشنل کانگریس اس بات کو تسلیم کرتی ہےکہ اس کا سب سےبڑا اثاثہ اس کےعوام ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اس کا سب سےبڑا اثاثہ جوآنےوالےبرسوں میں اسےسبقت بخشیں گےہندستان کے نوجوان ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس سمجھتی ہےکہ نوجوانوں کی صورت میں ہمیں آبادی کےلحاظ سےایک ایسا زبردست موقع حاصل ہےجسےپوری طرح اورجرائت مندی کےساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ فوری زوراس بات پرہونا چاہیے کہ انسانی سرمائے کے فروغ سے بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی جائے۔ اس کے ساتھ صنفی انصاف پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ ہمارے لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں کوبرگ وبارکرنےکےتمام تر مواقع فراہم کئےجانے چاہییں ۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ آبادی کےمواقع کا فائدہ اٹھانےکیلئےمناسب پالسیاں اور پروگرام ترتیب دے۔ ماحصل وقت آگیا ہےکہ ہندستان تبدیل ہو۔ یہ تبدیلی کانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی اوروزیراعظم ڈاکڑ منموہن سنگھ کی قیادت کےتحت لائی جاسکتی ہے۔ ایسی ایک مختلف رنگ وآہنگ کی قیادت ہندستان کو مہاتما گاندھی ، جواہرلال نہرو ، اندراگاندھی اورراجیوگاندھی کی صورت میںمیسرآئی تھی۔ ہمارے انداز نظر، اندازفکر، طرزاحساس اورطرزعمل، سب میں تبدیلی درکار ہے۔ ہماری بنیادی روایت مضبوط ہے مگر ہمارے لئےماضی سےایک انقلابی علاحدگی ضروری ہے۔ ٹیلی مواصلات ، موٹرگاڑیوں ، ایئر لائینز، اطالاعاتی ٹکنالوجی وغیرہ، شعبوں میںبھی جہاں تیز رفتار سرگرمی نظر آتی ہے مزید تیزرفتاری لائی جانی چاہیے۔ انڈین نیشنل کانگریس معیشت کوایک نئی سمت اورایک نئی رفتار دینےکیلئےکانگریس کی زیرقیادت UPA حکومت کومبارکباد دیتی ہے۔ کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ اپنےمختلف اقدامات کومستحکم کرےاورآگےبڑھائے۔ ہندستان کوصدیوں پرانےمسائل بھی درپیش ہیں اورنئےچیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔ کانگریس کی اقتصادی پالسی ہمیشہ سےسرکاری مداخلت اورنجی سرگرمیوں کی آمیزش پرمبنی رہی ہےاوراس آمیزش کےاجزاء میں حالات کی تبدیلی کےمطابق تبدیلیاں بھی آتی رہیں ہیں۔ کانگریس نے1950 کی دہائی میں جوکچھ کیا تھا وہ اس وقت کےلحاظ سےلازمی تھا۔ اس نےجواقدامات 1980کی دہائی کےاوائل میں شروع کئےاور1990کےدوران جنہیں آگےبڑھایا وہ اس وقت کا تقاضا تھا۔ ہندستان کی پیچیدگی مختلف عملی طریقوں اورحل کا تقاضا کرتی ہے۔ ہندستان کےصنعت کاروں، سائنس دانوں اورپیشہ وروں کیلئےپابندیوں سےرہائی اوراپنی خدمات پیش کرنےکیلئےایک فعال ماحول درکارہے۔ اسی کےساتھ ملک کےغریب، محروم اورپسماندہ لوگوں کیئےضروری ہےکہ حکومت مضبوط اوربا مقصد ہو۔ انڈین نیشنل کانگریس اپنےآپ کوآئندہ دہائی کےدوران ہندستان کوایک بڑی اقتصادی طاقت بنانےکیلئےہی نہیں بلکہ اس بات کویقینی بنائےکےعظیم نصب الا لعین کیلئےوقف کرتی ہےکہ ہرہندستانی شہری کوایک پروقارزندگی، تحفظ اورہرلحاظ سےمساوی مواقع میسرآئیں ۔ ہندستان کو عظیم بنانا ہم سب کا ایک قابل قدرعزم وآرزو ہےمگرتمام ہندستانیوں کی ضرورتوں کی تکمیل کوبنیادی اہمیت حاصل ہے۔ حیدرآباد اجلاس کا یہی پیغام ہےجسےکانگریس کےتمام مرد اورخاتون کارکنوں کویہاں سےلےجانا اورپھیلانا ہے۔ |