82 واں مکمل اجلاس، حیدرآباد

بیرونی سلامتی اور بین الاقوامی امور سے متعلق قرارداد

 

ابتدائیہ

انڈین نیشنل کانگریس خارجہ تعلقات کےمعاملے میں، آزادی کے بعد ہندستان کی خارجہ پالسی کے سلسلےمیں پائے جانے والےعام قومی اتفاق رائےپر مبنی دوراندیشانہ، تخلیقی اور تعمیری اقدامات کیلئے یوپی اے حکومت کومبارکباد دیتی ہے ۔ ان خارجہ پالسی اقدامات کےخدوخال اکیسویں صدی کی اقتصادی اور سیاسی صورت حال میں ابھر نے والی ہندستان کی حیثیت کا واضح اظہار کرتے ہیں۔UPA حکومت کی خواہش رہی ہے کہ ہندستان اندرونی طورپرمتحد اوردنیا میں پراعتماد اورمقابلے کی صلاحیت کا حامل ہو۔ کانگریس کی زیر قیادت UPA حکومت کے تقریباً دوسال کےعرصئہ اقتدارکےدوران حاصل ہونےوالی کامیابیاں بڑے پیمانے پرتحسین وستائش اورتائیدہ وحمایت کی مستحق ہیں۔ وزیراعظم ڈاکڑ منموہن سنگھ کی زیرقیادت حکومت UPA کی سربراہ اورکانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی کی بصیرتوں کی رہنمائی میں ہندستان کی ایسی بہترین تصویر پیش کرتی ہےجو ہمارے زمانےمیں دنیا کی تعمیرنوکا پُرآزمائش کردارادا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

 

ہندستان کو اپنی خارجہ پالسی کی پائیدار فلسفیانہ بنیادوں کی وجہ سے ہی آج دنیا میں سربرآوردہ مقام حاصل ہے۔ امن کی انتھک جستجو، سب کے ساتھ ربط میں رہنے کی خواہش اور آمادگی ، کثیر رخی اداروں کےتئیں مضبوط وابستگی اورسب سےبڑھ کر ہماری فیصلہ سازی کے عمل کی شفاف آزادی ہماری خارجہ پالسی کی ایسی مستحکم اور برسوں سے جاری خصوصیات ہیں جنہیں محترمہ سونیا گاندھی اور ڈاکڑ منموہن سنگھ نے پوری تندہی کے ساتھ محفوظ رکھاپے۔

 

کثیر رخی روابط

 

انڈین نیشنل کانگریس جنوبی ایشیاء کی تنظیم برائےعلاقائی تعاون ( سارک) کی صورت گری اوراسےقدرقیمت دینے کیلئے آنجہانی جناب راجیوگاندھی کی دوراندیشی اورکوششوں کو یاد کرتی ہے اور اس بات کی ستائش کرتی ہے کہ یوپی اے حکومت نے سارک کو جو اب اپنے وجود کے 20 سال مکمل کرنے جا رہی ہے ایک نئی توانائی اورمعنویت دینے کی اہم کوششیں کی ہیں ۔ ان کوششوں سےسارک کے بے معنی ہوجانےسےمتعلق اندیشےدورکرنےمیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جنوبی ایشیاء فری ٹریڈ ایریا (سافٹا) کےعمل میں آجانے سے ہمیں ایشیاء کی تجارت ، خدمات اورسرمایہ کاری کےشعبےمیں اقتصادی اتحاد قائم کرنےکی سمت ایک واضح قدم بڑھانےمیں مدد ملی ہےجس کا مقصد ایک کسٹمر یونین اورپھرآخرکار ایک جنوبی ایشیائی اقتصادی برادری کا قیام ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس اس بات کو نشان زد کرتی ہے کہ ہندستان ہمیشہ سے اپنے سارک پڑوسیوں کواقتصادی دشواریوں پر قابو پانے میں مدد دینے اور انہیں اپنی بڑھتی ہوئی اقتصادی خوش حالی میں شریک کرنےکی کوشش کرتا ہے ۔ ہندستان نے بنگلہ دیش کو دوطرفہ آزادانہ تجارتی معاہدے کا فائدہ اٹھانے اور تمام باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی پیش کش کی ہے ۔ سری لنکا کے تعلق سے ہمیں امید ہے کہ حالیہ سیاسی تبدیلی کی وجہ سے فائر بندی اور امن کے امکانات کیلئے کوئی نئی دشواری پیدا نہیں ہوگی۔ ہندستان اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ ایک متحدہ سری لنکا کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن تصفیے کی صورت پیدا ہو جس میں سری لنکا کو تمل آبادی سمیت ملک کے تمام لوگوں کی جائز خواہشات کا احترام کیا جائے نیپال کے عوام کے ساتھ ہندستان کے قریبی تاریخی اور ثقافتی رشتے رہے ہیں اور دونوں ملکوں کےدرمیان سرحد پوری طرح کھلی ہوئی ہے۔ اس ملک میں مسلسل جاری سیاسی خلفشار حد درجہ باعث تشویش ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ نیپال میں کثیر پارٹی جمہوریت اور آئینی بادشاہت کے دائرے میں رہتے ہوئےاور تشدد سے پاک ماحول میں سیاسی تصفیے کی کوئی صورت حال جلد نکال لی جائے گی۔

 

انڈین نیشنل کانگریس بھوٹان کومضبوطی کے ساتھ اور جمہوری نظام کی راہ پر ڈالنے کیلئےعزت مآب شاہ بھوٹان کی دانشمندی کی ستائش کرتی ہے۔ ہم ان تاریخی کوششوں میں شاہ بھوٹان اور شہزادہ ولی عہد اور بھوٹان کےدوست عوام کی کامیابی کےخواہش مند ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی لحاظ سے قریبی اور دوستانہ تعلقات کو مضبوط ترکرنے کیلئے یوپی اے حکومت کے اقدامات کی ستائش کرتے ہیں ۔ ہندستان نےمالدیپ میں ہونے والی حالیہ جمہوری اصلاحات کا بھی خیر مقدم کیا ہےاورملک کو دانشمندانہ اور دوراندیشانہ قیادت دینے کیلئے صدر قیوم کی ستائش کی ہے۔

 

آسیان

 

انڈین نیشنل کانگریس اس بات کونشان زد کرتی ہےکہ سارک اوربی آئی ایم ایس ای سی ( BIMSEC ) کےعلاوہ UPA حکومت نےآسیان کےساتےہمارے تعلقات کومضبوط ترکرنے کیلئےٹھوس اقدامات کئےہیں۔ ان کوششوں میں میکانگ - گنگا تعاون بھی شامل ہےجس کےتحت ہندستان اور پانچ آسیانی ملک یکجا ہوئے ہیں۔ ہندستان نےحال ہی میں منعقد مشرقی ایشیاء سربراہ اجلاس میں شرکت کی اورایک ایشیاء کی اقتصادی برادری کےتصورکی جانب پیش قدمی کی تجویزرکھی جوموٹےطورپرفوائد کی ایک محراب کی طرح ہوگی جس کےتوسط سےلوگوں، سرمائے، خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں کا وسیع تبادلہ ممکن ہوسکے گا۔

آسیان ریجنل فورم ( ARF) میں ہندستان کی سرگرم شرکت سے ایک نیا تکثیری اور امداد باہمی پر مبنی سلامتی کا نظام تشکیل دینے کے تجربے کو ایک نیا رخ حاصل ہواہے۔

 

ناوابستہ تحریک

 

ہندستان ناوابستہ تحریک کےاصولوں اورآدرشوں سےپوری طرح وابستہ ہےاوراسےیقین ہےکہ اس کےمقاصد عصری بین الاقوامی صورت حال بامعنی ہیں۔ ناوابستہ تحریک ترقی پذیر ملکوں کے باہمی اتحاد پر مبنی ایک ایسی تحریک کے طور پر ابھری تھی جس کے تحت تمام ملک طاقت ورملکوں کے درمیان رقابتوں کی سیاست سےآزاد رہ کر، خود اپنے آزادانہ فیصلوں اور اپنی آرزوؤں اور امنگوں کے مطابق اپنے سیاسی ، سماجی اور اقتصادی کے مقاصد کو حاصل کرسکیں۔

 

ہندستان ایک کثیرقطبی دنیا کاحامی ہےاوراس کےساتھ ہی وابستہ تحریک کےبنیادی اصول آج بھی بامعنی ہیں مگرتیزی سےتبدیل ہوتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال میں اس تحریک کی حکمت عملی پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کو امید ہے کہ ہندستان اس فوری مقصد کے حصول کیلئے ایک قائدانہ کردار اداکرے گا۔

 

یورپی یونین

 

یورپی یونین ہندستان کیلئےایک خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک متوازن اورمنصفانہ عالمی نظام تشکیل میں اپنی حصےداری کےلحاظ سے، وفاقی کے ایک کامیاب تحربےکےلحاظ سے اور اس لحاظ سے جس کی اہمیت کسی بھی طرح کم نہیں ہے کہ وہ ہنستان کا سب سے بڑا تجارتی شریک ہے۔ 25 ملکوں کی رکنیت کے ساتھ یورپی یونین ایک کامیاب ،وفاقی اور کثرت پر مبنی نظام کی نمائندگی بھی کرتی ہے جو ہندستان کی طرح متنوع نسلی ، ثقافتی ، مذہبی اور لسانی گروپوں پر مشتمل ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس نومبر2004 میں ہندستان اوریورپی یونین کےدرمیان اہم شراکت کےقیام کا خیرمقدم کرتی ہےاور2005 میں اس شراکت کوعملی صورت دینےکیلئےمنظورکردہ منصوبئہ عمل کی ستائش کرتی ہے۔

 

اقوام متحدہ

 

انڈین نیشنل کانگریس نےاپنی آزادی کے پہلے ہی اقوام متحدہ پراپنےعتماد کا اظہار کیا تھا اور آج بھی اسے پختہ یقین ہےکہ اقوام متحدہ نےدنیا میں بڑے پیمانے پر تصادم اور عالمی امن کو ددرپیش خطرات کو، جوکبھی کبھی بہت زیادہ واضح اورحقیقی نظرانےلگتےہیں ، روکنےمیں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندستان نے ہمیشہ پوری رضاورغبت کےساتھ اقوام متحدہ کی قیام امن کی کوششوں میں شرکت کی ہےاورآج بھی کررہا ہے۔ ہندستان دنیا میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں اورجمہوریت کو ہونےوالےنقصان کےپیش نظراقوام متحدہ ، بطورخاص سلامتی کونسل کی اصلاح کےمطالبےکاحامی رہا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس سمجھتی ہےکہ کوئی معقول پیمانہ اختیارکیا جائے، خواہ وہ اقوام متحدہ کےمنشور سےوابستگی ہویا آبادی اورجمہوری نظام کی مضبوطی یا قیام امن میں حصےداری، ہندستان کو یقینی طورپرسلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونا چاہیے۔ کانگریس اس سلسلےمیں ہندستان کی امیدوں کیلئےعالمی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے یوپی اے حکومت کی کوششوں کی ستائش کرتی ہےاورامید ظاہر کرتی ہے کہ یہ بہت جلد حقیقت بن جائے گی۔ ہندستان کو یقین ہے کہ اس اصلاحی عمل بشمول سلامتی کونسل کی اصلاح کےذریعےاقوام متحدہ ترقیاتی تعاون کےشعبے میں زیادہ بڑا کردار اداکرسکےگی اوراس طرح ترقی کےامورایک بارپھر بین الاقوامی معاملات کا مرکزی موضوع بن جائیں گے۔

 

دولت مشترکہ

 

انڈین نیشنل کانگریس سمجھتی ہے کہ دولت مشترکہ آج بھی ہندستان کیلئےتاریخ کے ساتھ ربط کی ایک علامت اور جمہوریت اورآزادی کے مشترکہ اقدارپر مبنی ایک برادری کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آج دنیا میں دیگر بہت سے کہیں زیادہ طاقتور اور وسیع تر عالمی معاملات توجہ کا مرکز بنے ہوئےہیں مگر پھر بھی اچھی حکمرانی کےفروغ ، ٹکراؤ کی روک تھام اور حل اور انسانی حقوق کے فروغ میں دولت مشترکہ کے کردار نے زبردست اہمیت حاصل کرلی ہے۔ ہندستان بجاطور پر دولت مشترکہ سے وابسطہ ہے۔

 

دوطرفہ تعققات

 

امریکہ

 

ہندستان اورامریکہ دنیا کی سب سےبڑی جمہوریتیں ہیں اورہندستان کیلئےامریکہ ایک اہم اقتصادی شریک کی حیثیت رکھتاہے۔ سرد جنگ کا خاتمہ، ہندستانی معیشت میں کھلا پن آنا اور 9/11 کےبعد عالمی صورتحال میں دہشت گردی کےخلاف جدوجہد کی اہمیت ،ان سب کی وجہ سےہندستان اورامریکہ کےمابین تعلقات میں اہم بہتری آئی ہے۔ دونوں ملکوں کےدرمیان زراعت، صنعت، صحت، تعلیم اورسائنس وٹکنالوجی جیسے کئی شعبوں میں کثیر رخی اورایک دوسرے کیلئے فائدہ مند تعاون کا سلسلہ قائم ہوگیاہے۔

دونوں ملکوں کےدرمیان شہری نیوکلیائی توانائی کےشعبےمیں تعاون دوبارہ شروع کرنےکا معاہدہ، جس کا اعلان جولائی 2005 میں وزیراعظم ڈاکڑمنموہن سنگھ کےدورہ امریکہ کےدوران کیا گیا، ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔ یوپی اے حکومت ہندستان کوایک ذمےدارنیوکلیائی ریاست کی حیثیت سےجواسلحہ کی عدم توسیع کا بےداغ ریکارڈ رکھتی ہےاوران تمام مراعات کی حقدار ہے جو دیگر ترقی یافتہ ئیوکلیائی ٹکنالوجی کی حامل ریاستوں کو حاصل ہیں، تسلیم کرانے کےاعزاز کی مستحق ہے۔

 

ہندستان کو ٹکنالوجی سےمحروم کرنے والی پابندیوں کےاٹھائے جانے کی توقع اور ہندستان کی توانائی سے متعلق سلامتی کوہونے والے فوائد امریکہ سے متعلق ہندستان کی پالسی کے اہم نتائج ہیں۔

 

انڈین نیشنل کانگریس ان ٹکنالوجی اور توانائی سے متعلق اور دیگر عوامل پر نظر رکھتی ہےجن کی بنیاد پر 18 جولائی2005 کا ہند امریکہ معاہدہ عمل میں آیا ہے۔ وزیراعظم نے بار بار کہا ہے کہ یہ معاہدہ پوری شفافیت اور فوائد کے باہمی تبادلے کی بنیاد پرروبہ عمل لایا جائے گا۔ انڈین نیشنل کانگریس کو اعتماد ہے کہ یہ اصول آنے والے دنوں میں بھی ہماری حکمت عملی کی رہنمائی کریں گے۔

 

انڈین نیشنل جون 2005 میں ہندامریکہ دفاعی تعلقات کےنئےخاکے، پردستخط کیےجانے کی توثیق کرتی ہے۔ یہ ایک با راختیار بنانےوالی دستاویز ہےجس کےتحت دفاع کےشعبے میں باہمی مفادات اورفوائد کی بنیاد پرتبادلوں کوفروغ ملےگا۔ کانگریس کو یقین ہےکہ ہندستان میں اتنی خود اعتمادی اورصلاحیت ہےکہ وہ آزادانہ طورپرفیصلہ کرتےہوئےان مواقع کا فائدہ اٹھاسکے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس امریکہ کی ہند - امریکی برادری کی ان خدمات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جو اس نے ہند- امریکہ تعلقات کو مضبوط ترکرنے اور اپنی اعلا پیشہ ورانہ کارکردگی اور نمایاں کامیابیوں کےذریعے ہندستان سےمتعلق تصورات کو تبدیل کرنےکیلئے انجام دی ہیں۔

 

روسی وفاق

 

ہمارے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہرلال نہرو نے پچاس سال پہلےعظیم شہر ماسکو کا دورہ کیا تھا اور ایک باہمی اعتماد پر مبنی پائیدار دوستی کی بنیاد رکھی ہے۔ آج اسی بنیاد پر ایک شاندار عمارت کھڑی ہوچکی ہے۔ کل کی طرح آج بی روس ، ہندستان کا ایک اہم شریک ہے۔ ہمارے تعلقات دونوں ملکوں میں پائےجاتے والے سیاسی اتفاق رائے پر مبنی ہیں۔ روس میں ہونے والی تاریخی تبدیلیوں کے باوجود ہماری شراکت کی بنیاد یں کمزور نہیں ہوئی ہیں۔ توانائی سےمتعلق سالمتئی زبردست امکانات کا حامل شعبہ ہے۔ ہندستان نےاپنی اہم ترین غیر ملکی سرمایہ کاری سخانو -1پراجکٹ میں کی ہے جس کا آغاز ہوچکا ہے۔ روس کو ڈانا کولم اٹامک پاور پراجکٹ قائم کرکےجوجلد ہی شروع ہونے والا ہےہندستان کی بجلی کی صلاحیت کوفروغ دینےمیں تعاون کررہا ہے ۔ انڈین نیشنل کانگریس روس کو بطور خاص شہری نیوکلیائی توانائی ، خلا، اعلاٹکنالوجی اور دفاع کے زمروں کےحوالےسے ایک اہم اور قابل قدر شریک تصور کرتی ہے۔

 

برطانیہ

 

ہندستان اوربرطانیہ کےتعلقات بہت قریبی اور ہمارے تاریخی تجربات پر مبنی ہیں اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنےوالے ہندستانی طلبہ کی کئی نسلوں کےذہنوں میں پیوستہ مشترکہ اقدار اور اس کےساتھ ہی برطانیہ میں آباد ہندنژاد لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی بنیاد پر قائم ہیں ۔انڈین نیشنل کانگریس امداد باہمی پر مبنی حصےداری کےذریعے باہمی رشتوں کو بہتر کرنےسے متعلق یوپی اے حکومت اور حکومت برطانیہ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔

 

فرانس

 

انڈین نیشنل کانگریس اس بات پر اطمئنان ظاہر کرتی ہے کہ دونوں جانب کی کوششیں ایک طویل مدتی رشتہ قائم کرنے پر مرکوز ہیں جو ایک دوسرے کو زیادہ سمجھنے اور سردجنگ کے بعد والی ایک قطبی دنیا سے متعلق یکساں تصورات پرمبنی ہو۔

 

جرمنی

 

انڈین نیشنل کانگریس اس بات پر اطمئنان ظاہر کرتی ہےکہ جرمنی نے ہندستان کو اپنا ‘ پسندیدہ شریک ‘ اور ہندستان کے ساتھ تعلقات کو اپنی خارجہ پالسی کا ایک ترجیحی عنصر قراردیا ہے۔

 

چین

 

یوپی اے حکومت نےہند - چین تعلقات کوامن اورخوشحالی کیلئے باہمی تعاون کی سطح تک پہنچادیا ہے۔ دونوں ملکوں نےاکیسویں صدی کو‘ ایشیاء کی صدی ‘ بنانےکےخواب کی تعبیر حاصل کرنے کیلئےمل جل کرکام کرنے سےاتفاق کیاہے۔ انڈین نیشنل کانگریس سیا سی اصولوں اور رہنما خطوط سےمتعلق معاہدے کی ستائش کرتی ہے جس سےدونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع کےتصفیےکی راہ ہموار ہوگی۔ جاپان کے ساتھ عوامی جمہوریہ چین کو سارک میں مشاہد کی حیثیت سےشامل کرنےپراصولی اتفاق تینوں ملکوں کےدرمیان دوستانہ رشتوں کی پختگی کی علامت ہیں۔ ان تینیوں ملکوں کومل کرایشاء میں ایک اہم کردارادا کرنا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس اپریل 2005 میں ہونے والےچینی وزیراعظم کےدورئہ ہند کا خیرمقدم کرتی ہے جس کے دوران چین نےواضح طورپر سکّم میں ہندستان کےاقتداراعلا کو تسلیم کیا۔ اس سے باہمی تعاون اوراعتماد کا ایک نیا دورشروع ہوا ہے۔ سرحدی تجارت کیلئے ناتھولا درّے کا کھولا جانا ایک اوراہم اعتماد ساز اقدام ہوگا۔

 

جاپان

 

انڈین نیشنل کانگریس جاپان کےساتھ موجودہ دوستانہ مراسم کوایک مضبوط اورکثیررخی شراکت میں تبدیل کرنےکیلئے UPA حکومت کی کوششوں کوسراہتی ہے۔ اس سلسلےمیں کانگریس گذشتہ سال جاپانی وزیراعظم کےدورئہ ہند کو دونوں ملکوں کےدوران تعلقات کے فروغ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیتی ہے۔

 

جنوبی افریقہ

 

انڈین نیشنل کانگریس نسلی امتیازات کےخلاف جد وجہد کے پورے زمانے کے دوران ہندستان اور جنوبی افریقہ کےعوام کےدرمیان پیداہونےوالےخصوصی رشتوں کی یاد دلاتے ہوئے دونوں ملکوں کےدرمیان فروغ پذیر تعلقات پراطمئنان ظاپرکرتی ہے۔ کانگریس اس بات پراطمئنان کا اظہار کرتی ہے کہ جناب راہل گاندھی ، ایم پی کا آنجہانی پنڈت جواہرلال نہرو کی جانب سے جنوبی افریقہ کا بیرونی شہریوں سے متعلق اعلی ترین اعزازحاصل کرنےکیلئےجنوبی افریقہ کا دورہ ہندستان اور جنوبی افریقہ کی نئی نسل کےدرمیان رشتوں کی مضبوطی کا باعث ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ جنوبی افریقہ کےساتھ مل کر افریقہ ، بطور خاص ذیلی صحارائی افریقہ اور مشرقی افریقہ کی بہبود کیئےکام کرے جس پرگذشتہ جی - 8 اجلاس میں زور دیا گیا تھا۔

 

پاکستان

 

انڈین نیشنل کانگریس اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ ہندستان ، پاکستان کے ساتھ پر امن، دوستانہ اور تعاون کے تعلقات چاہتا ہے جیسا کہ1972 کے شملہ معاہدے میں کہا گیا ہے جودونوں ملکوں کےدرمیان دوطرفہ رشتوں کی بنیاد ہے۔ اسی جذبےکے ساتھ ہندستان نے گذشتہ برسوں کےدوران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ہمواراورباہمی تعاون کی بنیادوں پراستوار کرنے کیلئے کئی قدم اٹھائےہیں۔ اس کا ایک اہم ذریعہ عوامی رابطوں میں اضافہ ہےاوراسی سلسلےمیں سری نگرمظفرآباد تک کی بس خدمات کا آغازایک اہم پیش قدمی ہے۔ اپریل 2005 میں وزیر اعظم ڈاکڑمنموہن سنگھ اورپاکستانی صدر پرویز مشرف کی ملاقات جس کے دوران انہوں نے قیام امن کےعمل کوناقابل تقلیب قراردیا تھا ایک اہم پیش رفت کی بنیاد ہے۔ تاہم انڈین نیشنل کانگریس کو پاکستان میں موجود دہشت گردی کی تنظمی بنیادوں پر سخت تشویش ہے۔ حالیہ زلزلےکےالمیےنے ہماری مشترکہ تقدیراوراسی کےساتھ ہی دہشت گردانہ تشدد کے بےسود ہونے کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب پاکستان پر لازم ہےکہ وہ دہشت گردی کی تنظیمی بنیادوں کا خاتمہ کرے اوراس طرح اپنےوعدے کی تکمیل کرے۔ انڈین نیشنل کانگریس6 جنوری2004 کو جاری مشترکہ اعلامیہ کی اہمیت کا اعادہ کرتی ہے جس میں پاکستان نےاپنے زیر اقتدار علاقے کو ہندستان کے خلاف دہشت گردی کیلئےاستعمال نہ ہونے دینےکا عزم ظاہر کیا تھا۔

 

افغانستان

 

انڈین نیشنل کانگریس اس بات پر اطمئنان ظاہر کرتی ہےکہ افغانستان تیزی کے ساتھ طویل عرصے سےجاری مصائب کی گرفت سےباہرآرہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے رابطوں کا مرکزی نقطہ یہ رہا ہےکہ افغان حکومت اور وہاں دسمبر2001 کےبون معاہدے کےتحت جاری سیاسی عمل کی حمایت اورمدد کی جائے۔ ہندستان میں آئین کی منظوری اورپارلیمانی انتخابات کا فطری طورپرخیرمقدم کیا گیا ہے۔ ہندستان نےبڑے پیمانےپرانسانی دوستی کی بنیاد پرامداد ، مالی تعاون اورپراجکٹوں میں مدد کےذریعےافغانستان کی تعمیرنومیں حصہ لیا ہے۔ اس نے559 ارب ڈالرکی مزید مالی امداد کا بھی وعدہ کیا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس افغانستان کی بازآبادکاری سےمتعلق حکومت کی کوششوں اور بطورخاص افغانستان کو سارک کا رکن بنانے کی کوشش کی حمایت کرتی ہے۔

 

ایران

 

ہندستان اور ایران کےدرمیان صدیوں پرانے نہایت قریبی ثقافتی اور تہذیبی رشتے ہیں ۔ حالیہ زمانے میں دونوں ملکوں کے تعلقات برقرار رہے ہیں۔ ایران سے ہندستان تک کی تیل پائپ لائن پرمل کرکام کرنےکےامکانات دونوں ملکوں کےدرمیان تعلقات میں اضافےاورمستقل باہمی انحصار کا موقع فراہم کریں گے۔ نیو کلیائی توسیع اوربین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) ووٹ سےمتعلق ہندستان کے مشکل مگراصولی موقف سےدونوں ملکوں کےبعض حلقوں میں کچھ بےچینی پیدا ہوئی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس اس بات کونشان زد کرنا چاہتی ہے کہ ہندستان کی سخت کوششوں کےباوجود معاملہ ووٹنگ تک پہنچ گیا ۔ کانگریس کو امید ہےکہ اس مسئلےکو عالمی امن کےحق میں باہمی طورپر قابل قبول تصفیےاورنیوکلیائی ریسرچ کو پرامن مقاصد کیلئےاستعمال کرنےکی آزادی کے بارے میں ایران کی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کرلیا جائے گا۔

 

عراق

 

انڈین نیشنل کانگریس یہ بات یاد دلانا چاہتی ہےکہ مغربی ایشیاء کے ساتھ ہندستان کے صدیوں پرانے رشتے ہیں اورحالیہ دہائیوں کے دوران دواہم واقعات نے دونوں خطوں کو قریب ترکردیا ہے۔ ان میں سے ایک ہندستان کی تیل درآمدات ہے اور دوسرا اس خطے میں کام کرنے والے ہندستانیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی یہ لوگ ہندستان کو حاصل ہونےوالےزرمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لوگ عالمی تجارت کا مرکز بننے کی متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں کی کوششوں میں ایک نمایاں کردار ادر کررہے ہیں۔

 

انڈین نیشنل کانگریس فلسطینی عوام کی جدوجہد کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کی یاد دلاتی ہےاورصدرعرفات کی وفات پراظہار رنج کرتی ہے۔ قیام امن کا عمل جاری ہونےکےباوجود فلسطین کےمصائب کا برقراررہنا ہندستان کیلئےباعث تشویش ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کو امید ہےکہ حکومت تصادم کا حل تلاش کرنےکیلئےہرممکن کوشش کرے گی۔ اسی دوران اسرائیل کے ساتھ ہندستان کے دوستانہ تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان کا رگر تعاون سے اس عمل میں مدد دینے کی ہندستان کی کوششوں کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔

 

وسط ایشیاء کے ملکوں نے جمہوریت اور کھلے بازار کی معیشت اختیار کرنے کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا ہے۔ یہ بات ہندستان کےحددرجہ باعث اطمئنان ہے کہ ان ملکوں نے ہندستان کی طرح ایک سیکولر سیاسی نظام اختیار کیا ہے جو تمام مذہبی اور نسلی گروہوں کے حقوق کا احترام کرتاہے۔

 

عہد وسطی سےقایم شاہراہ ریشم کو ہندستان ،ایران اور ترکمانستان کےدرمیان سہہ طرفہ معاہدے کےذریعےایک نئی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ اس علاقےسے ہندستان کی توانائی کی ضرورتیں بڑی حد تک پوری کی جاسکتی ہیں ۔ اس کےساتھ وسط ایشیاء کےوسعت پذیربازار ہندستانی تجارت کیلئےپرکشش ترغیب کا باعث ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس چاہتی ہے کہ حکومت وسط ایشیاء کو اعلا ترجیح دے۔ انڈین نیشنل کانگریس سلامتی میں مخل دہشت گردی کےخلاف جدوجہد کےمعاملے میں اس خطےکےملکوں کےساتھ مل کرکام کرنے کی حکومت کی کوششوں کی ستائش کرتی ہے۔

 

لاطینی امریکہ

 

طویل فاصلوں کے باوجود ہندستان نےلاطینی امریکہ کےملکوں کےساتھ قریبی تعلقات برقراررکھے ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس ہندستان اور جنوبی امریکہ کے ساتھ کثیر رخی اوردوطرفہ امور میں قریبی تعاون کی ستائش کرتی ہے۔

 

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی توسیع کےمعاملےمیں ہندستان کی حمایت بطورخاص باعث مسرت ہے۔ ہندستان - برازیل ، جنوبی افریقہ تعاون کےماڈل سےباہمی تعاون کےنئےامکانات روشن ہوئے ہیں۔

 

ہند نژاد برادری

 

ساری دنیا میںپھیلی ہوئی ہندنژاد لوگوں کی برادری کے بڑھتے ہوئےاثرات کا اظہاراس بات سے ہوتاہےکہ ہندستانی اصل کےکئی افرادکربیا ، افریقہ، بحرہند کےخطےاور جنوب مشرقی ایشیاء کےساتھ ساتھ امریکہ ، برطانیہ اور کناڈا سمیت دنیا کی اہم جمہوریتوں میں اعلی عہدوں کیلئےمنتخب کئےگئے ہیں ۔ غیرملکوں میں ہندستانی اصل کے لوگوں کی تجارت ہندستان میں بیرونی راست سرمایہ کاری کا دوسراسب سے بڑا مرکز بنادیا ہے۔ ہند نژاد لوگوں کی ہندستان سےگہری دلچسپی اورعملی حقیقت دونوں کےنتیجےمیں حکومت کی جانب سےان لوگوں کیلئے‘ بیرونی ہندستنانی شہریت ‘اور‘ ہندنژاد افراد‘ جیسی کئی سہولتیں پیش کی ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس اس بات پرزور دینا چاہتی کہ ہندستان کی جانب ہند نژاد لوگوں کودی جانےوالی اہمیت بلاشبہ ہمیں دنیا بھر کےسیاسی اوراقتصادی مراکزمیں فائدہ پہنچائےگی۔ ‘ ہندنژاد افراد‘ دنیا کیلئےہندستان کےمستقل سفیر ہیں۔ اس لحاظ سےغیرمقیم ہندستانیوں سےمتعلق ایک وزارت کا قیام بہت مناسب قدم ہےجس کےتحت ہندستان اورغیرملکوں میں موجود اس کےبچوں کےدرمیان قابل قدررشتوں کو باضابطہ طورپرتسلیم کیا گیا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس ‘بیرونی کانگریس کی تشکیل نو اور تجدید کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

 

سلامتی نیوکلیائی پالسی

 

انڈین نیشنل کانگریس آنجہانی وزیراعظم جناب راجیوگاندھی کی انسان پروری بصیرت کوجوآج بھی دھندلی نہیں ہوئی ہےخراج عقیدت پیش کرتےہوئےنیوکلیائی اسلحہ سےپاک دنیا کے تصورکےساتھ واضح وابستگی رکھتی ہے۔ ہندستان نےعدم توسیع معاہدے( این پی ٹی ) پردستخط نہیں کئےہیں مگرہم مزید نیوکلیائی تجربات پریک طرفہ پابندی سمیت اس کی بیشترشرائط کوپوراکرتےہیں ۔ حساس ٹکنالوجیوں کی عدم توسیع کےمعاملےمیں ہندستان کا ریکارڈ ناقابل مذمت ہے۔ نیوکلیائی شعبےمیں ہندستان کوحاصل ہونےوالےتمام تعاون کو ہمارے پرامن شہری پروگرام کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس اس بات کویقینی بنانےکیلئےکہ امن کی راہ میں پیش پیش رہنےکی ہماری مستقل آمادگی ہماری دفاعی تیاریوںمیں ڈھیل کا سبب نہ بنے،جس سےمتعلق NDA حکومت کےزمانےکی یادیں آج بھی بہت تکلیف دہ ہیں، اس سلسلےمیں کانگریس مسلح افواج کی جدید کاری کےپروگرام کوازسرنوجاری کرنےکیلئے بھی مبارکباد دیتی ہے۔ اس سلسلےمیں کانگریس مسلح افواج کی جدید کاری کےپروگرام کو ازسرنو جاری کرنےکیلئے بھی مبارکباد دیتی ہے اور اپیل کرتی ہے کہ اس پروگرام کی برقراری کو یقینی بنائے۔

انسان دوستانہ وابستگیاں

 

انڈین نیشنل کانگریس قدرتی آفات، سونامی اورجموں وکشمیر میں زلزلےکےسبب تباہی اوران کے المناک اثرات کا مقابلہ کرنےکی غرض سےفوری اور شدید انسانی احساس پر مبنی اقدامات کرنےکیلئے محترمہ سونیا گاندھی اور ڈاکڑ منموہن سنگھ کی شکرگذار ہے اورانہیں مبارکباد دیتی ہے۔ ان دونوں معاملوں میں، ہندستان نے زبردست تقصانات کے باوجود اپنی تکلیفوں سے آگے جاکر دیگر ملکوں کے متاثرین کو مدد پہنچائی ۔ 20.61 کروڑ روپے مالیت کا راحت سامان طیاروں اور ٹرینوں کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے میں راحت پراجکٹوں کیلئے مجموعی طورپر ڈھائی کروڑ ڈالر کی امداد منظور کی گئی ۔ کٹرینا سمندری طوفان کے نقصانات کو پورا کرنے کے سلسلے میں امریکہ کو راحت پہنچانے کا اقدام انسانی المیوں سے متعلق کارروائی کی سمت ہندستان کا ایک نہایت اہم قدم تھا۔ انڈین نیشنل کاگریس سیاسی اختلافات یا ماضی کے تجربات سے متاثر ہوئے بغیراس فراخ دلانہ انسان دوستی کےمظاہرے کیلئےیوپی اے حکومت کی ستائش کرتی ہے۔

 

ثقافتی ڈپلومیسی

 

انڈین نیشنل کانگریس ثقافتی ڈپلومیسی کے شعبے میں نئی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔ ساری دنیا میں ہندستان کی ثروت مند، کثرت پسند ثقافت کو نمایاں کرنے کی کوششیں عالمی برادری میں ثقافتی تبادلوں اورانجذاب کی بڑھتی ہوئی اہمیت کےعین مطابق ہیں۔ ہندستان کواپنے صدیوں پرانے غیر معمولی اورکثیر رخی ورثے کے پیش نظراس شعبےمیں ایک اہم کردار ادا کرناہے

 

ماحصل

 

انڈین نیشنل کانگریس آزادی کے بعد ہی سےایک نئی توانائی کےحامل ایشیاء اورمحرومیوں سے پاک دنیا کا خواب دیکھتی رہی ہے۔ مختلف کانگریس حکومتوں نے اس خواب کی تعبیر حاصل کرنےکیلئے انتھک کوششیں کی ہیں ۔ انڈین نیشنل کانگریس نے گذشتہ برسوں کے دوران جو بہت سے پوری مضبوطی اور پختگی کے ساتھ اختیار کئے ہیں انہیں باالاخر ساری دنیا نے قبول کیا ہے مگراندرون ملک اورساری دنیا میں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ دہشت گردی کا منحوس سایہ ساری دنیا کیلئےخوف اورخطرے کا باعث ہے۔ ہندستان نے بابائے قوم اور دو وزرائے اعظم کی بیش قیمت زندگیوں سمیت بے شمار اہل ہند کی زندگیاں دہشت گردی اور مجنونانہ تشدد کے سبب کھوئی ہیں۔ آج کم ازکم اتنا توہے کہ ساری دنیا میں سرحد پار کی اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کیلئےایک مشترکہ عزم پایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایسے آثار بھی نظرآنے لگے ہیں کہ تشدد کی اس لہر کا رخ اب پلٹ رہا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس اس جدوجہد کواس وقت تک جاری رکھنے کاعہد کرتی ہےجب تک کہ دنیا دوبارہ محفوظ نہ ہوجائے۔

 


 

 آئین

منشور 2004

حفاطتی ایجنڈا

گذارش

 اقتصادی ایجنڈا

چارج شیٹ

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ 21اگست 2004

بھارت کا نیو کلیئر توانائی پروگرام اور امریکہ کے ساتھ 123 عہد نامہ

قرض معافی بڑھ کر72,000 کروڑ روپئے ہوئی
کانگریس کا ہاتھ، انّداتا کے ساتھ

اے آئی سی سی میٹنگ 17 نومبر 2007 تالکٹورا اسٹیڈیم، نئی دہلی

جناب راہل گاندھی جی کا مرکزی بجٹ پر پارلیمنٹ میں تقریر 08 - 03  - 13

82 واں مکمل اجلاس، حیدرآباد

آرکائیوز