| زراعت، روزگار، غریبی سے نجات اور پنچایت راج پرتجاویز 1۔ انڈین نشنل کانگریس ڈیڑھ سال پہلےاقتدارمیں آنےکےبعد سےملک کی مجموعی اوربطورخاص دہہی علاقوں کی ترقی کی غرض سےعہد سازاسکیمیں اورپروگرام شروع کرنےپر صدرکانگریس محترسونیا گاندھی اوروزیراعظم ڈاکڑمنموہن سنگھ کوتہہ دل سےہدیہ ممنونیت پیش کرتی ہے۔ ان اسکیموں اورپروگراموں کوغریبی کےخاتمے، روزگار کےمواقع پیداکرنےاورسماجی اصلاح کوفروغ دینےکیلئےانقلابی قانون بناکرروبہ عمل لایا گیا ہے۔ ان اقدامات سےظاہرہواہےکہ کانگریس غریبوں، کسانوں اور دیہی ترقی کی حامی پارٹی ہے۔ اس عرصہ اقتدار کےدوران مذکورہ مقاصد کےحصول کیلئےمندرجہ ذیل اہم اقدامات کئےگئے ہیں۔ نیشنل دیہی روزگار ضمانت قانون بھارت نرمان پروگرام کسانوں سےمتعلق نیشنل کمیشن نیشنل باغبانی مشن دیہی خوردنی منصوبہ نیشنل دیہی صحت مشن اطلاعات کے حق سے متعلق قانون دیہی علاقوں میں شہری سہولیات کی فراہمی ( PURA) پسماندہ علاقوں سے متعلق ترقیاتی فنڈ ( مجوزہ) مٹی تیل کی فراہمی یوجنا ( پائلٹ پراجکٹ) زراعتی زمرے کیلئے بجٹ رقوم میں اضافہ تین سالوں میں دیہی قرضہ جات میں دوگنا اضافہ حکومت کے ذریعہ غلّے خریداری میں اضافہ اور مارکٹ انٹرونشن اسکیم کیلئےمزید فنڈ کی فراہمی چینی صنعت ، بطورخاص کوآپریٹیو چینی صنعت کیلئے پیکیج اور کوآپریٹیو قرضہ جاتی اداروں کی تجدید زراعت اوربطورخاص کسانوں کاتحفظ کرنےکیلئےWTO، ہانگ کانگ مذاکرات میں کامیابی پنچایتی راج سے متعلق علاحدہ وزارت کا قیام اور اسی کی تجویز کردہ گرام سوراج یوجنا، راجیوگاندھی گرامن ودیوتی کرن یوجنا پانی سے متعلق اداروں کی بحالی ایکسپلیریٹیڈ ایریگیشن پراجکٹوں (AIBP) کیلئےرقوم2000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 4500 کروڑ روپے 2 . کانگریس پارٹی کی زیرقیادت یوپی اے حکومت کو سابقہ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے بعد زرعی زمرہ نہایت ابتراورمایوس کن حالت میں ملا تھا۔ ایں ڈی اے حکومت کے پاس زراعت یا دہہی قرضہ یا دیہی روزگار، یا دیہی غریبی کے خاتمے سے متعلق کوئی واضح پالیسی نہیں تھی ۔ یہ غیر واضح اور غیر سنجیدہ رویہ ہی جس سےظاہر ہوتا ہے کہ این ڈی اے نے کسانوں ، بطورخاص چھوٹے اور بہت چھوٹے کسانوں کو نظرانداز کیا، زراعت ، روزگار اور غریبی کے خاتمے کی مکمل طور پر ابتر صورت حال کیلئے ذمہ دار ہے۔ اس حکومت نے اس بھی کم شرح پرغلہ برآمد کیا جس پر خط افلاس سےنیچے زندگی گذارنےوالے لوگوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ این ڈی اے حکومت کے دوران صرف بچولیوں کو فائدہ پہنچا جب کہ کروڑوں ہندستانی زبردست بدغذائی کےشکار رہے۔ کسانوں کی خودکشی کےبڑھتےہوئے واقعات کسانوں اورکھیت مزدوروں کو بےرحمانہ طریقےسےنظر انداز کرنا این ڈی اے کلچر کی علامت ہی بن گئے تھے۔ 3 ۔ زراعت آج بھی ہندستانی معیشت کا سب سےاہم حصہ ہےاورتقریباً ساٹھ فی صدی ہندستانی مزدور زراعت سےجڑے ہیںمگرانہیں قومی آمدنی کےصرف ایک تہائی حصےتک رسائی حاصل ہے۔ اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہےکہ 1990 کی دہائی کےوسط میں کانگریس کےاقتدار چھوڑنےکے بعد سےدیہی ہندستان میں زرعی آمدنی مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ مزید یہ کہ زراعت میں کی جانےوالی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے1.92 فیصد سے گھٹ کر1.31 فی صد یوگئی ہے۔ گذشتہ دہائی کےدوران زرعی پیداوارکی قیمت میں صرف 51 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ پیداواری لاگت127 فیصد بڑھ گئی ہے۔ کاشتکاری سےہونےوالی آمدنی، جس کی نمو کی اوسط سالانہ شرح1 فیصد سے زیادہ نہیں رہی ہےافراط زرکی کم شرح سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ اس طرح کاشت کاراورغیرکاشت کارکی اوسط آمدنی کا فرق بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ پھریہ بھی گذشتہ دس برس کےدوران زرعی جی ڈی پی میں نموکی شرح آبادی میں اضافےکی شرح11 فیصد سےاوپرہےاورزرعی زمرے میں روزگار فراہمی کا سلسلہ رک گیا ہے۔ لہذا کانگریس اس وسط مدتی پلان جائزے کی توثیق کرتی ہےکہ‘‘ نویں منصوبےکےدوران اوردسویں منصوبے میں اب تک کی نمو کے حقیقی نتائج سے گہرے مسائل کی نشان دہی ہوتی ہے۔ اس کے پیش نظر زرعی حکمت عملی پر جامع نظر ثانی ضروری ہے‘‘ 4 ۔ اس مقصد کےتحت، ریاست کیلئے ضروری ہےکہ وہ شرکت پرمبنی ترقی اورخود حکومتی (پئچایتی راج ) سے متلعق اداروں اورایک حقیی طورپر جمہوری ، رضاکارانہ اور خود مختار کو آپریٹیو تحریک کےذریعےکسانوں، دیہی مزدوروں اورمجموعی طورپر تمام دیہی غریبوں کے حق میں مداخلت کرے۔ اس سلسلےمیں ریاست کےمضبوط تر کردارکا اظہارزراعت، آب پاشی اور دیہی بنیادی ڈھانچے، بطورخاص دیہی سرکوں کی تعمیرکیلئےسرکاری سرمایہ کاری میں اضافےکسانوں، کھیت مزدوروں اورغریبوں کےحق میں قومی بینکوں اوربیمہ سیکڑ کوتقویت دینےاوراس کےساتھ ہی مقامی خود حکومتی کےاداروں کےذریعےتعلیم، صحت، رہائش، پینےکےپانی اور صفائی جیسی سماجی ضرورتوں کیلئےرقوم کی غیرمرکوزفراہمی کی صورت میں ہونا چاہیے۔ دیہی ہندستان میں بڑی تعداد میں امدادی گروپوں کی تشکیل ہوئی ہےجوایک نہایت خوش آئیند صورت حال ہے۔ یہ ایک بنیادی سطح کی تحریک ہےجس کی ہرممکن حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ عملی پروگرام 5 ۔ انڈین نیشنل کانگریس زراعت جو زیادہ پائیدار اور منافع بخش بنانےکلئے اور ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے غذائی تحفظ کو یقینی بنانےکے ذریعےدوسرا سبز انقلاب لانے کا عزم کرتی ہے۔ یہ دوسراسبزانقلاب خصوصی طورپر چھوٹےاور بہت چھوٹے کسانوں ، بےزمین مزدوروں، درج فہرست ذاتوں اوردرج فہرست قبائل کےمسائل کا احاطہ کرےگا اور ریگستانی اور خوشک زدہ علاقوں اور شمال مشرق پر خصوصی توجہ دے گا۔ 6 ۔ دوسرے سبزانقلاب کے اہم اجزاء مندرجہ ذیل ہونگے - زمینی اصلاحات، جس میں گاؤں کی سطح پرکسانوں کی زمین سےمتعلق دستاویزات کی کمپیوٹرائیزڈ دیکھ ریکھ ، جانچ اور انہیں تازہ تر کرتے رہنےکی ضمانت بھی شامل ہوگی ۔ زمین سے متعلق فرسودہ اور ازکاررفتہ قوانین کو ختم کیا جانا ضروری ہے۔ زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں کیلئے قرضوں کی فراہمی کوترجیح دینے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیےاوراس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں کیلئےدئے جانےوالے بینک قرضے حکومت کے مقرر کردہ سالانہ نشانوں پر پورے اتریں ۔ - ایک قرضہ راحت فنڈ کا قیام جس کے تحت سوکھا زدہ اور قدرتی آفات والے علاقوں میں سود / اصل رقم/ انتہائی قرض کے بوجھ سے چھوٹ دے تاکہ کہ کسانوں کو راحت پہنچائی جائے۔ - غیر ارادہ باقی قرضوں کی معافی - جامع قومی زرعی بیمہ اسکیموں میں بڑے پیمانے پر توسیع جس کے تحت ہر قسم کے جوکھم کا احاطہ کیا جائے۔ - زرعی بایو ٹکنالوجی جس میں مشروم ، اسپیرولینا اور چیوریلا جیسے بایو فوڈ شامل ہوں۔ - بایو کیڑے ماردواؤں ، بایو کھادوں سے متعلق چھوٹ پیداواری اکائیاں - تلہن اور دالوں کے فروغ سے متعلق پروگرام جس کے تحت تلہنوں سے متعلق شری راجیو گاندھی ٹکنالوجی مشن کی تجدید پرغور کیا جائے۔ - ٹھیکے پر کاشتکاری مگر اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ ٹھیکے شفاف طریقےسےدئے جائیں اوران پر گہری نظر رکھی جائےتاکہ کسانوں یا کھیت مزدوروں کا استحصال نہ کیا جاسکے۔ - اندیشوں کے شکار جزوی مزدوروں کیلئے ریاست کے ذریعے فراہم کردہ رقم کے ذریعے سماجی تحفظ کی فراہمی ۔ - بارش پر مبنی کاشتکاری پر خصوصی توجہ جس میں کم شرح سود پر زرعی قرضوں کی فراہمی ، جامع بیمہ سہپولتیں ، بنیادی ڈھانچہ ، ٹکنیکی اور سائنسی امداد، پانی سے متعلق اداروں کی بحالی ، زیادہ قیمت والی اور آرگینگ فصلیں اور زرعی صنعتوں پر دھیان دیا جائے۔ - آپ پاشی جس کےتحت آب پاشی کوصلاحیت اورصلاحیت کےحقیقی استعمال کےدرمیان بڑھتے ہوئےفرق کو پورا کرنا، چھوٹی آب پاشی کیلئے سبسیڈی ، چھڑکاؤ والی آب پاشی کیلئے ٹیکس میں رعایت اور کھیت تالابوں کے گرد پلاسٹک لائیننگ کے اقدامات شامل ہیں ۔ - بنجر زمینوں کا جامع فروغ ۔ - پانی شیڈ کا جامع فروغ۔ - خدمات اور زرعی وسائل جن کےتحت کسانوں کے ذریعے مقامی طورپر بیجوں کی فروخت کے اقدامات ، کیڑے مار دواؤں کے بچے ہوئے اثرات سے متعلق مقامی سرٹیفکٹ کی فراہمی اور کارپوریٹ اداروں کے ذریعے بیجوں کے معیار کے سند کی فراہمی کے اقدامات شامل ہیں۔ - پراسیسنگ اورمارکیٹنگ ؛ زرعی کسانوں کےمارکیٹنگ مراکز کا قیام جہاں کسانوں کو اپنی پیداوار کی پوری قیمت حاصل ہوسکےبجائے اس کے کہ اس قیمت کا بڑا حصہ بچولیوں کے پاس چلاجائے۔ - چھوٹے بہت چھوٹےاور بےزمین مزدوروں، قومی روزگار ضمانت پروگرام کو عام کیا جانا، مردوں اورعورتوں کی اجرتوں کا فرق دورکرنا ، خط افلاس سےنیچےزندگی گذارنے والے کنبوں کی نشان دہند اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے انہین پنچایتی راج نظام کےذریعےاپنے حقوق حاصل ہورہے ہیں بہتر طریقہ کار وضع کرنا، تقسیم عامہ نظام میں سدھار اورپنچایتی راج اداروں کے ذریعے کم سے کم بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کا انتظام ۔ -غیر کاشتکار دیہی روزگار ،(NFRE) کو فروغ ؛ پنچایتی راج وزارت کےذریعے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسڑی کےتعاون سےدہیی تجارتی مراکز کا قیام ، معیاد میں اضافہ اور فصل کی کٹائی کے بعد کا بندوبست ، ڈیری ، پولڑی ، مویشیوں کی افزائش ، مچھلی پالن وغیرہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ، دیہی دستکاری ، توانائی کےغیر روایتی / قابل تجدید وسائل کا فروغ۔ - کرشی وگیان کیندر کیلئے مزید بنیادی ڈھانچے کی فراہمی۔ - ہمہ جہت دیہی ترقی کو فروغ دینے کیلئے اطلاعاتی ٹکنالوجی پر مبنی دیہی تعیلمی مراکز کا قیام ۔ - بجلی فراہمی میںسدھار بشمول بایوماس بجلی کی پیداوار ۔ اس کے ساتھ ہی مقامی لوگوں کیلئے بجلی کی تقسیم کا انتطام کرنے کیلئے پنچایتوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔ - آئین میں جلد ازجلد ترمیم کرکے خود مختاری ، جمہویت اوررضاکارانہ تنظیم سازی کے بنیادی اصولوں پر مبنی کوآپریٹیو تحریک کو فروغ دینا ۔ - خواتین کے خود امدادی گروپوں کی حوصلہ افزائی ۔ - گاؤںپنچایتوں کی نگرانی میں سب کیلئے ابتدائی تعلیم کی ضمانت ۔ - مہارتوں کے فروغ سے متعلق ایک قومی بیوروکا قیام ۔ - تمام سطحوں پرتعلیم کے لازمی تکمیل کے طورپر پیشہ ورانہ کورسوں کا انتظام ۔ - مقامی خود حکومتی اداروں کے ذریعے سب کیلئے صحت کا انتظام جیساکہ دیہی صحت مشن کے تحت لازمی ہے۔ - دیہی روزگارکو اولین ترجیح جس کے تحت قومی روزگار ضمانت قانون پر موثر عمل درآمد کو ترجیح دی جائے۔ پنچایتی راج 7 ۔ مئی2002 میں منعقد انڈین نیشنل کانگریس کےاجلاس میں پنچایتی راج کےموضوع پردسویں کانگریس منشورکی منظوری اورتمام ریاستوں اورمرکزی علاقوں میں کانگریس کے40 کنونشنوں کےبعد انڈین نیشنل کانگریس کےذریعے جولائی 2004 میں پنچایتی راج سےمتعلق مقررہ مدت کےمنصوبہ عمل کی توثیق کاحوالہ دیتےہوئے،انڈین نیشنل کانگریس کا یہ اجلاس اس بات پراطمئنان ظاہرکرتا ہےکہ UPA حکومت نےپارٹی کےاقدامات کےمطابق اوران پرپوری طرح دھیان دیتےہوئے19 دسمبر 2004 کوجے پورمیں ملک کےتمام پنچایتی راج وزیروں کےذریعےپنچایتی راج سےمتعلق نکات عمل کےمجموعےکی متفقہ منظوری کوممکن بنایا۔ ان نکات عمل کوپنچایتی راج کوفروغ دینےکےطریقوں پرغورکرنےکی غرض سےجولائی اوردسمبر2004 کےدرمیان منعقد ہونےوالےسات وزارتی راؤنڈ ٹیبل اجلاسوں میں زیرغورلایا گیا تھا۔ کانگریس اس بات پرزوردیتی ہےکہ اس مجموعےمیں موجود تقریباً150 نکات عمل گاندھی جی کے‘‘گرام سوراج کیلئےپورن سوراج ‘‘حاصل کرنےکےخواب کوروبہ عمل لانےکا مکمل اورعملی طریقہ کارفراہم کرتےہیں اورجسےآئینی منظوری پنڈت جواہرلال نہرواوراندراگاندھی کےسابقہ اقدامات کی بنیاد پروزیراعظم راجیو گاندھی کےتاریخی اقدامات کےذریعےحاصل ہوئی تھی۔ 8 ۔ آئین کی 73 ویں اور74 ویں ترمیم کے تحت حصہ 9 اور9 A سےمتعلق قانون سازی کےبعد کی گذشتہ ایک دہائی کےدوران ہندستان نےجناب راجیو گاندھی کی خواہشات کے مطابق ملک کو نہ صرف دنیا کی سب سےبڑی بلکہ بے مثال جمہوریت بنانے کی جانب پیش قدمی کی ہے۔ ان آئینی ترمیمات سے پہلے تقریباً ایک ارب آبادی والے اس ملک میں 5000 سے بھی کم منتخب نمائندےتھےمگراب ہرگاؤں، بستی اورمحلےمیں تقریباً 30 لاکھ مقامی اداروں کےمنتخب نمائندے جن میں درج فہرست ذاتوں اوردرج فہرست قبائل کےنمائندے آبادی میں اپنےتناسب کے لحاظ سےشامل ہیں (بعض ریاستوں میں پسماندہ طبقوں کےنمائندے بھی) اور تقریباً 10لاکھ خواتین اہل ہندکی نمائندگی کررہی ہیں۔ یہ ایک ایسا سماجی انقلاب ہےجس کی کوئی مثال کسی بھی ملک یا تاریخ کے کسی دور میں نہیں ملتی ۔ 9. اس بےمثال سماجی انقلاب کوآگےبڑھانا ہمارافرض ہے۔ پنچایتی راج اداروں کوُسرگرمیوں کی نقشہ سازی‘ کےذریعےزیادہ سےزیادہ حقیقی اختیارات دئےجارہے ہیں ۔ UPA وقتی مشترکہ کامن منیمم پروگرام کےتحت ان اداروں کواختیارات، کا رکن اور مالی وسائل فراہم کرنےکا وعدہ کیا گیا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کا یہ مکمل اجلاس تمام ریاستی حکومتوں اور مرکزی اداروں کے انتطامیہ ، بطورخاص ان سے جو کانگریس کےزیراقتدار ہیں اپیل کرتا ہے کہ وہ ُسرگرمیوں کی نقشہ سازی، کےذریعےان اداروں کو اختیارات دینے کےعمل کو تیز تراور وسیع تر کریں اوراس کےساتھ ہی ُسرگرمیوں کی نقشہ سازی کی بنیاد پر ہی مالی وسائل اورکارکنوں کی فراہمی کےعمل کےسلسلے میں مزید اقدامات کریں۔ کانگریس مرکزی حکومت سے اپیل کرتی ہےکہ وہ نہ صرف ان اداروں کیلئے ضروری مالی وسائل کی فراہمی کو بلکہ اس سے زیادہ اہم اس بات کو یقینی بنانےکے پنچایتی راج اداروں اورآئین کے11 ویں شیڈول میں درج اور ریاستی قانون میں شامل امورسےمتعلق تمام پروگراموں، پراجکٹوں اورمنصوبوں کوروبہ عمل لانےکے کلیدی اداروں کےطورپرکام کرسکیں پنچایتی راج اداروں کیلئےاپنی امداد میں اضافہ کرے۔ کانگریس قومی روزگارضمانت پروگرام میں پنچایتی راج اداروں کی مرکزی اہمیت پیش کرتی ہےاورمرکزی اورریاستی حکومتوں، خاص کران سےجو کانگریس کےزیراقتدار ہیں اپیل کرتی ہے کہ وہ پنچایتی راج اداروں کی شرکت سےچلائےجانےوالےضلع اور ذیلی ضلع سطح کے تمام پروگراموں میں پنچایتی راج اداروں کومرکزی اہمیت حاصل ہونےکےاصول پرعمل درآمد کو یقینی بنائیں ۔ یہ مکمل اجلاس مرکزی حکومت کےاس فیصلےکا بھی خیرمقدم کرتا ہےکہ مرکزکےزیراہتمام تمام اسکیموں کی منصوبہ بندی اورعمل درآمد میں پنچایتوں کومرکزی اہمیت حاصل ہونےکا جائزہ لیا جائے گا۔ 10 ۔ گرام سبھاؤں اورپنچایتی راج اداروں کےذریعے نمائیندگی حاصل کرنے والے دیہی عوام کو تمام منصوبہ بند ترقی کی بنیاد ہونے کی حیثیت دینےکی غرض سے، کانگریس پلاننگ کمیشن کےاس فیصلےکی ستائش کرتی ہے کہ 11 ویں پانچ سالہ منصوبے کو آئین کےحصہ 9 اور9 A میں شامل آئینی مندرجات کےمطابق تیار کئے جانےوالے ضلعی منصوبوں کی بنیاد پر ترتیب دیا جائے گا۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ضلع منصوبہ بندی کمیٹیوں کو ، جہاں بھی وہ موجود نہیں ہیں ، متعلقہ آئینی ضابطوں کی سمت پابندی کرتےہوئے فوری طور پر تشکیل دیا جائے۔ 11. یہ مکمل اجلاس اس بات پرزوردیتا ہےکہ پنچایتی راج ادارے محض حکمرانی کی دیگرسطحوں کےپروگراموں پرعمل درآمد کا وسیلہ نہیں ہوسکتےاورنہ انہیں ایسا ہونا چاہیے۔ انڈین نیشنل کانگریس اپنے آپ کو اس اعلی مقاصد کیلئےوقف کرتی ہے۔ 12۔ ‘‘عوام کواقتدار‘‘سونپنے کیلئے‘‘ ‘زیادہ سے زیادہ جمہوریت اور زیادہ سےزیادہ اختارات کی فراہمی ‘ کےجناب راجیو گاندھی کے زبردست نعرے کی یاد دلاتےہوئے یہ مکمل اجلاس اس تجویز کی توثیق کیلئےکہ پارٹی پنچایتی راج اداروں کی تینوں سطحوں اوراس کےساتھ ہی نگر پالیکاؤں اورمٹروپالیٹن اداروں کیلئےمنتخب تمام سابق اورموجودہ کانگریس ممبروں پر مشتمل ایک راجیوگاندھی پنچایتی راج سنگٹھن قائم کرے، صدر کانگریس محترمہ سونیا گاندھی کیلئےتہہ دل سےممنونیت کا اظہارکرتاہے۔ یہ لاکھوں کانگریسی کارکن اوررہنماجن میں ان کے پڑوس کےعام آدمی نےاعتماد ظاہرکیا ہےہندستانی عوام سےمتعلق جناب راجیو گاندھی کےخواب کوپوراکرنےکی غرض سےنہ صرف یہ کہ پنچایتی راج اداروں کےعلم برداروں کی صورت میں ابھریں گےبلکہ بنیادی سطحوں پر کانگریس کی تنظیمی طاقت کی بنیاد بھی ثابت ہوں گے۔ راجیوگاندھی پنچایتی راج سنگٹھن کو تیزرفتاری کےساتھ تشکیل اورتقویت دینا ضروری ہے۔ یہ مکمل اجلاس صدرکانگریس سےگذارش کرتا ہےکہ وہ اس سلسلےمیں تمام ضروری اقدامات کریں ۔ |