82 واں مکمل اجلاس، حیدرآباد

سیاسی قرارداد

ابتدائیہ

انڈین نیشنل کانگریس ہندستانی کی عوام کیلئے گہری ستائیش اورممنونیت کا اظہار کرتی ہےکہ انہوں نےایک بارپھر اس قیادت اور سیاست وسیاسی اقتصادیات کےان اصولوں پر یقین واعتماد ظاہر کیا جو تقریباً ایک صدی سے ہماری پارٹی کی بیناد رہے ہیں۔ یہ عوامی فیصلہ ایک بار پھر اپنے بانیوں کی بصیرتوں پر قوم کے اعتماد کی توثییق کرتا ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس کروڑوں ہندستانیوں کےان جذباتوں کو نچوڑنا چاہتی ہے جو انہوں نےتب ظاہر کیا تھا۔ جب بغیر مفاد کےخدمت ، ایثار کی مثال قائم کرتے ہوئے محترمہ سونیا گاندھی نے وزیراعظم کےعہدے کو قبول کرنےسےصاف منع کردیا تھا، جس پر انکا خود ذاتی اختیار تھا اورجس کیلئے ملک والوں نےان کا اپنی جمہوریت پسند مزاج کی شکل میں انتخاب کیا تھا۔

 

انڈین نیشنل کانگریس کروڑوں اہل ہند کے ان جذبات کا اعادہ کرتی ہے جو انہوں نے محترمہ سونیا گاندھی کی جانب سے پورے وقار کے ساتھ وزیر اعظم کے عہدے کو جو بجاطور پر ان کا حق تھا اور جس پر لوگوں کے جمہوری انتخاب کی مہر ثبت تھی، قبونہ کرنے کے ایثار اور بے لوث خدمت کے غیر معمولی اقدام کے سلسلے میںض طاہر کئے تھے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس کویقین ہے کہ ہرسیاسی عہد ایک رہنما اورایک خواب دیکھنے والی شخصیت کا تقاضہ کرتا ہےجو نئےجیلنجوں کا مقابلہ کرنےکیلئےروایتی پیمانوں کو تبدیل کرسکے۔ ہندستان بھی اجتماعی زندگی میں بڑھتی ہوئی حرص وہوس اورگرتےہوئےمعیاروں پرقابو پانےکیلئےایک نئےمچال اورپیمانےکی تلاش میں تھا۔ صرف سیاست کیلئےسیاست بےشرمی کے ساتھ ذاتی نام ونموداورآرام وآسائش کی کوششیں، جس کےنتیجےمیں پنڈت جواہرلال نہروکا جدید ہندوستان نئےجاگیردارانہ نظام کا میدان جنگ بن گیا ہےاوربدعنوانیوں کا عذاب ،اس سارےصورتحال کوایک باضابطہ طرزفکراورنمایا ں اقدامات کےذریعےاس طرح مسترد کیا جانا ضروری تھا جس سےہم سب کیلئےایک کرداروعمل کی ایک مثال قائم ہوسکے۔ صدرکانگریس نے یہی کیا ہے۔ لازمی ہے کہ ساری کانگریس پارٹی ان کے نقش قدم پر چلے۔

 

اتحاد سے متعلق موقف

 

انڈین نیشنل کانگرس اس بات کو نشان زدکرتی ہےکہ جولائی 2003 میں شملہ میں ہم نے اس سیاسی حقیقت اور اس آئندہ امکان کوباضابطہ طورپر تسلیم کیاتھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی طاقتوں اور آراء کا اتحاد ناگزیر ہے۔ اس دن کے بعد سے کانگریس نےمخلوط سیاست کے نطم وضبط کی پوری دیانت داری اورسختی سے پابندی کی ہے، جس کےنتیجے میں متحدہ ترقی پسند محاز کی تشکیل اور کامیاب ہوئی ۔ انڈین نیشنل کانگریسUPA کو مضبوط اورموثر بنانے کیلئے اس کےرہنماؤں، بطور خاص پوپی اے کی سربراہ محترمہ سونیا گاندھی اور وزیر اعظم ڈاکڑ منموہن سنگھ کی خصوصی کوششوں کی تائید کرتی ہے اور انہیں کروڑوں ہندستانیوں کی امنگوں کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مبارکباد دیتی ہے

 

انڈین نیشنل کانگریس اپنےاس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ہوپی اے کی کامیابی کا سلسلہ جاری رہے گا اور وہ اپنی پانچ سالہ مدت کابقیہ عرصہ بھی بحسن وخوبی مکمل کرے گی ۔ اگر چہ اس اتحاد کےہرشریک کےاپنےالگ الگ خیالات ہیں مگرانڈین نیشنل کانگریس کا یقین ہےکہ ایسی کوئی بھی اختلاف رائےنہیں ہےجسےحامی پارٹیوں کےدرمیان مکالمےاورمذاکرات کے ذریعےحل نہ کیا جاسکے۔ انڈین نیشنل کانگریس اتحاد کی سربراہ ہونےکی حیثیت سےاپنی ذمےداریوں سےآگاہ ہے۔ تاہم دیگر تمام شریکوں کی کوششیں بھی اہم ہیں اوراتنے ہی اہم اس سے انہیں پہنچنے والے فوائد بھی ہیں۔

 

انڈین نیشنل کانگریس یوپی اے کی تشکیل کوحصول اقتدارکےمحدود مقصد کےنقطئہ نظرسےنہیں دیکھتی اورنہ اسےفرقہ پرست طاقتوں کواقتدارمیںواپس آنےسےروکنےکا، مایوسی کےعالم میں کیا گیا اقدام مانتی ہےبلکہ تیزرفتار ترقی اورانصاف کےآزمودہ خیالات اورطرّقیوں کےذریوے قوم کےخدمت کی ایک بھر ہور خواہش کا اظہار تصور کرتی ہے۔ اس عظیم کوشش میں ذاتی مفادات کی تنگ نظری پرمبنی اوروقتی حساب کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس UPA کےتمام شریکوں کودعوت دیتی ہےکہ وہ کچھ دینےکوتیاررہیں تاکہ تمام ہندسستانی کچھ حاصل کرسکیں۔ اس کا متبادل اتنا خطرناک ہےکہ اس کےبارے میں سوچا بھی نہیںجاسکتا ۔ اسی کےساتھ، انڈین نیشنل کانگریس اپنےاس پختہ یقین کو بھی ریکارڈ میں لانا چاہتی ہےکہ اتحاد کامطلب یہ ہےکہ تمام شریک پارٹیاں ، بطورخاص اجتماعی طورپرایک بنیادی نظم وضبط کی پابندی کریں ۔ اگر کوئی شریک پارٹی خود پنےتحفظ یا خود کونمایاں کرنے کی بےچینی میں تعمیری نکتہ چینی کی حد سےباہر جاتی ہےیا ایسا کرتےہوئےنظر آتی ہےتواتحاد کمزورپڑجائےگااورعوام میں اس کا اعتبار ختم ہوجائےگا۔ اتحاد کی سیاست میں ایک چیزاجتماعی ذمےداری ہوتی ہے جس کی پابندی ہروقت کی جانی ضروری ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس اس بات سےآگاہ ہےکہ بعض ریاستوں میں اس کی خاص مخالف پارٹیاں وہی ہیں جومرکزمیں اس کی حمایت کررہی ہیں ۔ جیساکہ صدرکانگریس نےکہا ہے، اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ قومی چیلنج سیکولرپارٹیوں کےدرمیان تعاون اورتال میل کا تقاضا کرتےہیں، مگر کیرالا، مغربی بنکال اورتریپورہ جیسی ریاستوں میں کسی مفاہمت یا سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس ان تنینوں ریاستوں میں بائیں بازو کا پوری شدت سےمقابلہ کرے گی۔ ان تینوں ریاستوں میں کانگریس ایسی کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا خیر مقدم کرے گی جس کا بی جےپی کےساتھ براہ راست یا لواسطہ کوئی تعلق نہ ہو۔

 

ریاستیں جہاں کی تجدید ضروری ہے

 

انڈین نیشنل کانگریس سیاسی زندگی کےنشیب فرازکی عادی ہےاورہمیشہ نامساعد حالات سےابھرکردوبارہ کامیاب ہوئی ہے۔ اس کےساتھ ہی یہ حقیقت اپنی جگہ ہےکہ حزب اختلاف میں ہونےکےباوجود وہ سارے ملک میں ایک غالب قوت کی حیثیت سےرہی ہےاورایسی واحد پارٹی ہےجوحقیقی طور پر کل ہند نگاہ اور کل ہند وسعت کا دعوہ کرسکتی ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس شمال اورجنوبی ہندستان کےان علاقوں کےبارے میں فکر مند ہے جہاں وہ ایک عرصے سےحزب اختلاف میں ہے۔ ان بعض ریاستوں میں ہمیں خاصے ووٹ حاصل ہیں جب کہ دیگر ریاستوں میں ہم اپنے ووٹ کےایک بڑے حصےسے محروم ہوئے ہیں۔ کسی بھی پختہ اوربالغ نظر جمہوریت میں وقفے وقفےسے اقتدار اور حکومتوں کی تبدیلی صحت مندی کا اشاریہ ہوتی ہےجس سےلوگوں کو متبادل امکانات میں انتخاب کا موقع ملتاہے۔ یہ بات ریاستوں اورمرکز پریکساں طور سےلاگو ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ سیاسی اتحاد میں بھی، شریک پارٹیوں کو اپنےلئے زیادہ بڑی سیاسی جگہ حاصل کرنے کی توقع یا امنگ چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

لہذا انڈین نیشنل کانگریس مرکز اور بعض ریاستوں میں موجود سیاسی اتحاد کے ساتھ وابستگی پر قائم ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ عزم بھی رکھتی ہے کہ اس کی ریاستی اکائیاں اپنی قوت پر اپنی تجدید اوراقتدارمیں واپسی کے لئے مسلسل کوششیں کرتی رہیں۔

 

مرکز - ریاست تعلقات

 

انڈین نیشنل کانگریس ملک کو ایک ایسا مستحکم ، قابل عمل وفاقی نظام دینے کےمعاملے میں پارٹی کے ریکارڈ پر فخر کرتی ہے جس میں مرکز اور ریاستیں فلاح وبہبود اور تیز رفتار ترقی کیلئےملجل کرکام کریں ۔ ہمارے بانیوں نےجو آئینی اسکیم ترتیب دی تھی، کانگریس پارٹی جس سےاٹوٹ وابستگی رکھتی ہے، اس میں مضبوط مرکزاورریاستوں دونوں کی مضبوط اور طاقت ورہونےکا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ حصےداری کثرت میں وحدت کی مظہرہےاوراس تخلیلقی کثرت پسندی کےبہترین اظہارکا موقع دیتی ہےجو ہماری مشترکہ قومیت کی پہچان ہے ۔

 

انڈین نیشنل کانگریس سمجھتی ہےکہ ہمارے بانیوں نےحکمرانی کا جو روشن خیال طریقہ سوچا تھا اس نےآج عملاً اس سیاسی اتحاد کی شکل اختیار کی ہے جس میں وہ پارٹیاں جو ریاستوں میں برسراقتدار ہیں مرکز میں کانگریس کی قیادت کے تحت ایک قومی حکومت تشکیل دینے کیلئے یکجا ہوئی ہیں ، اسی کے ساتھ عالم کاری کے چیلئج اوردنیا میں بدلتے ہوئے طرزفکر کے اثرات کوبھی قومی حکمرانی کےاس طرزسےالگ نہیں رکھا جاسکتا۔ آج بہت سے خطوں کےدرمیان واحد مشترکہ بازار تشکیل دینے کی باتیں ہورہی ہیں جس میں سارک اورآسیان بھی شامل ہیں، ملک کےاندر بازارکی محصولاتی اورغیرمحصولاتی دونوں قسم کی پابندیاں ختم کرنے کی ضرورت ہے، تعلیم اور ٹکنالوجی کی معیار بندی کیلئےان سے متعلق بکھرے ہوئے نظام پر نظر ثانی ضروری ہے، زراعت پر ڈبلوٹی او کےاثرات مختلف ملکوں پر مرتب ہوں جس کے لئے مناسب تبدیلیاں درکار ہوں گی، عالمی دہشت گردی کی تمام مختلف صورتوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

 

یہ تمام امور ملک گیر پیمانے پر مربوط اقدام کا تقاضا کرتے ہیں اور انڈین نیشنل کانگریس حکومت اور تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ان امور پرغور کریں اور مناسب حکمت عملی وضع کریں تاکہ یہ معلوم نہ ہو کہ ہم نےاپنی کوششوں میں کوتاہی ہرتی ۔ رقوم مختص کئےجانےکے معاملے میں بہترین کارگر اورمنصفانہ طرزعمل کےدرمیان توازن قائم رکھنا مشکل ہوتاہے مگر زیادہ شفافیت اور ملک گیر پیمانے پر بحث مباحثے کے ذریعے مختلف دعووں کے درمیان ٹکراؤ کا بہتر بندوبست کیاجاسکتا ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس سممجھتی ہےکہ اچھی حکمرانی اختارات کےاستعمال کی غیر مرکوزیت اورجواب دہی کا تقاضا کرتی ہے ۔

جس طرح مرکزکو چاہیےکہ بطورخاص ریاستی حکومتوں کےکام کاج سےبراہ راست تعلق رکھنےوالےامورمیں فیصلہ سازی کی خودمختاری دے ،اسی طرح ریاستی حکومتوں کو بھی پنچایت راج کےتحت مقامی خود حکومتی والے اداروں کے ساتھ بھی یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ انڈین نیشنل کانگریس جمہوریت کی تینوں سطحوں سے متعلق حکومت کےموقف کی تائید کرتی ہےمگر اس کے ساتھ یہ بھی سمجھتی ہے کہ آئین کی 73 ویں اور 74 ویں ترمیمات کے الفاط اور معنی کے مطابق پنچایتوں اورنگرپالیکاؤں کو با اختیار بنانے کیلئے ابھی مزید بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ بعض ریاستوں میں ہونےوالےپنچایت انتخابات اورہائی کورٹوں اورسپرم کورٹ میں پنچایت انتخابات سےمتعلق مقدمات کی بڑی تعداد کےپیش نظرپینچایتی راج انتخابات کرانے سےمعتلق ایک مناسب ادارے کےقیام کے بارے میں از سرنو غورکیا جانا ضروری ہے۔

 

انتخابی اصلاحات

 

انڈین نیشنل کانگریس یوپی اے سرکار سےاپیل کرتی ہےکہ وہ انتخابی نظام میں سدھار کی موجوددہ کوششوں کوجاری رکھیےاوراس بات کو یقینی بنائےکہ عوام کی یہ مرضی کہ وہ کس طرح کیا ور کس کےذریعےحکمرانی چاہتےہیں انتخابی نتائج میں ٹھیک ٹھیک اورمنصفانہ طریقےسےظاہر ہوئے۔ کمپیوٹروں کا استعمال، جس کا انتخابات کےمناسب بندوبست میں کارگرکردار پہلے ثابت ہوچکا ہے، اور زیادہ بڑھایا جا سکتا ہے اور اس طرح انتخابات میں ہونے والی کسی بھی مخالفانہ انسانی دخل اندازی کے امکان کو نہ ہونے کی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس سمجتھی ہےکہ جرائم پیشہ افراد کےاثرات کوختم کرنےکیلئےاٹھائےگئےقدم بغیرروکےجاری رہنیں چاہیےتاکہ پیسےکےاثرات کا خاتمہ کیا جاسکےاوراسکے نتیجےمیں بڑھنےوالی بدعنوانیوں سےبڑی حد تک ریاستی خرچ پرچناؤکرانےکےذریعے نمٹا جاسکتا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس اس سلسلےمیں فیصلہ کرنےکیلئے حکومت کو مبارکباد دیتی ہےاور اپیل کرتی ہےکہ ریاستی خرچ پرچناؤ کےنئےنظام کا قیام جلد ازجلد عمل میں لائے۔ اس کےعلاوہ عوامی انتخاب کےتئیں حساس ہونےاوراس کےاحترام کو یقینی بنانےکیلئےیہ بات بہت اہم ہےکہ انتخابی تنازعات کےسبھی معاملات کوجلد ازجلد نمٹا یاجائےجس میں ضابطہ شکنی کےشکارافراد کےساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو۔ انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ اس سلسلےمیں خصوصی کورٹ یا ٹریبونل قائم کرنےپرغورکرے تاکہ یہ بات کہ قانون کےتحت انتخابی تنازعات کا چھہ ماہ کےاندر نمٹایا جانا ضروری ہےمحض خوش خیالی بن کرنہ رہ جائے۔

 

اندرونی سلامتی

 

انڈین نیشنل کانگریس اندرونی سلامتی کےمعاملے میں حکومت کےساتھ یکجہتی ظاہر کرتی ہےجو ایک عرصےسے ایک بڑا چیلنج بناہوا ہے ۔ بی جے پی کی زیراثر این ڈی اے حکومت کے دوران اندرونی سلامتی کی صورتحال نمایاں طورپربدتر ہوگئی تھی ۔ یوپی اے حکومت نےاس معاملے پر وضاحت ، عزم وارادے اور حساس طریقے سے توجہ دی ہے۔ یہ ایک مناسب طرزعمل ہے کہ ان واقعات کی طرف جن کے نتیجےمیں جان ومال کی تباہی ہوتی ہے یوپی اے حکومت نے ان کا زبردست جرات مندی اور پختہ ارادے کے ساتھ مقابلہ کرنےکا رویہ اختیار کیا ہے نہ کہ دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دینے کا۔

 

ساری دنیا میں فوری دہشت گردانہ خطرات کے پیش نظر انسانی حقوق کا مناسب معیادوں کو یقینی بنانا خاصا مشکل ہوریا ہے۔ یوپی اے اس لحاظ سے مکمل تائید وحمایت کی مستحق ہے کہ اس نے سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کا نازک کام نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے۔ اگرچہ بعض واقعات کو ٹالنا ممکن نہ ہوسکا مگر اس بات سے کہ بہت سے واقعات کی موثر انداز سے روک تھام کرلی گئی ہم میں یوپی اے حکومت کے طرزعمل کے بارے میں زبردست یقین اور سلامتی کا احساس پیداہوناچاہیے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ وہ ڈاکوؤں کے گروبوں ، نجی فوجوں اورنئےقسم کےجرائم کےبڑھتے ہوئےخطرے پرگہرائی سے توجہ دے جو ہتھیاروں یا بہیمانہ طاقت کاستعمال کرکے عام لوگوں کو دہشت زدہ کررہے ہیں۔ پولس کے کام کاج کے بارے میں اس کی افرادی قوت، ڈیوٹی کی مدت اور مناسب آلات کی ضرورتوں کےلحاظ سے غور وفکر کیا جانا چاہیے جوایک عرسےسےنہیں کیا گیا ہے۔ پولس کے کام کاج کی صورت حال میں خاصےسدھار کی ضرورت ہے۔ پولس والوں کو موثر ہونے کے ساتھ حساس اور انسان دوست بنانے کیلئے ان کی تربیت بہت ضروری ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس اپیل کرتی ہے کہ اس کے ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والی ایجیسیوں کےکام کاج میں زیادہ شفافیت ہونی چاہیے اور غلط کاری کے سلسلے میں جواب دہی میں اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد مضبوط ہوسکے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس کیلئے ہندستان کے بعض حصوں میں نکسلیوں سے متعلق تشدد میں اضافہ باعث تشویش ہے۔ ہندستان کے قلب میں سے ہوتے ہوئے نیپال سرحد تک آندھراپردیش تشدد کا ایک گلیارہ قائم ہونے کا امکان ہندستانی جمہوریت اور لوگوں کی پرامن زندگی کیلئےزبردست خطرے کا باعث ہے۔ نیپال کی ماؤ نواز تحریک کے ساتھ رابطےاس معاملے کو دونوں ملکوں کی سلامتی کیلئے ایک بڑا خطرہ بنادیں گے۔ انڈین نیشنل کانگریس یوپی اے حکومت سے اپیل کرتی ہےکہ اس معاملے کو اعلاترین ترجیح دے۔ کانگریس سمجھتی ہےکہ اس پر قانون و انتظام کےایک سنگین معاملےکےطورپر توجہ دی جانی چاہیےمگراس کےساتھ ہی اس کےسماجی و اقتصادی اسباب پر بھی نظررکنھی چاہیےاس میں مخالف بیرونی طاقتوں کےملوث ہونے کو بھی خارج نہیں کیا جاسکتا ۔ نا انصافی کو برداشت کرسکنے کی قوت اورذات یا فرقےکے نام پر کام کرنے والےتشدد پرست گروہوں کے ساتھ سیاسی سمجھوتے بھی اس کیلئے ذمہ وار ہو سکتے ہیں ۔ غیر مساوی ترقی، اقتصادی مواقع کی قلت اور زمین کی ملکیت اور تقسیم کے معاملےمیں ناانصافی کےمسائل بھی اہم ہیں۔ تشدد کےخطرے سے پوری مضبوطی اور کھلے پن کے ساتھ نمٹنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مناسب صورتحال میں بات چیت کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔

 

ا انتطامیہ میں اصلاح

 

انڈین نیشنل کانگریس ابھی قائم کئےگئےانتطامی کمیشن کےذریعےجامع انداز سےانتظامی اصلاحات کرنےکے UPA حکومت کےعزم کی ستائش کرتی ہے۔ بلاشبہ 21 ویںصدی میں بڑھتی ہوئی عوامی بیداری اورشرکت پرمبنی جمہوریت کی طرف پیش رفت اوراس کےساتھ ہی اطلاعاتی ٹکنالوجی کےدست یاب ہونےکےپیش نظرایک بلکل مختلف انتظامی نظام کی ضرورت ہےجس میں شہری اورپولس نظم ونسق دونوں کا احاطہ کیا جائے۔ انڈین نیشنل کانگریس سمجھتی ہے کہ یوپی اے حکومت کا منظورکردہ اطلاعات کےحق سےمتعلق قانون اس سلسلے میں ایک اہم نقطئہ آغاز ہوسکتا ہےاور باقی تمام اقدامات جتنی جلد ممکن ہو انجام دئے جانے چاہیں۔

 

انڈین نیشنل کانگریس اس بات کوتسلیم کرتی ہے کہ شرکتی جمہوریت اور اچھی حکمرانی کے تقاضوں کے پیش نظر سول سوسائیٹی اور غیر حکومتی تنظیموں کا کردار بہت اہم ہوگیا ہے جو شہریوں کےمعاملات کیلئےہیں۔ گذشتہ برسوں کےدوران عدالتوں نےسول سوسائیٹی کی آوازپرخصوصی توجہ دی ہے اور روشن خیال حکومتوں نے بھی اپنے فیصلہ سازی کے عمل میں اس کیلئےگنجائش پیداکی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس قومی مشاورتی کونسل کےذریعےسول سوسائیٹی کوفیصلہ سازی کواعلا ترین سطح پرشریک کرنےکی جانب پیش قدمی کیلئےصدر کانگریس اوروزیراعظم کی ستائش کرتی ہے۔ اس کے باوجود ابھی تک عام آدمی کی آوازیا اس کی جانب سےجرات مند عوام دوست شہریوں کی آواز پرکان نہیں دھرے گئےہیں ۔ یہ ایسے عام مرد اور عورتیں ہیں جواپنےعمومی فرائض سےآگےبڑھ کرطاقت وربدعنوان لوگوں کوچیلنج کرتی ہیں جن کی بدعنوانیاں براہ راست عام ادمی کوتکلیف اورنقصان پینچاتی ہیں ۔ وہیسل بجانےوالوں،کے نام سےمعروف لوگوں کی الم ناک موت کےحالیہ واقعات نےسارے قوم کےضمیرکو جھنجھوڑ ڈالا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس ان المناک اموات پرگہرے رنج کا اطہار کرتے ہوئےایسے جرات مند شہریوں اور ان کے گھروالوں کو تحفظ دینے کیلئے ادارہ جاتی بندوبست کرنے کی اپیل کرتی ہے۔

 

اراضی اصلاحات

 

زمین سےمتعلق تمام معاملات ہندساتنی سماج میں مرکزی اہمیت کےحامل ہیں ۔ انڈین نیشنل کانگریس نے ہمیشہ ہی بٹائی دار ، چھوٹےاور بہت چھوٹے کسانوں، کھیت مزدوروں اور بے زیمن لوگوں کیلئےآواز اٹھائی ہے۔ اس نے گذشتہ صدی کی پانچویں دہائی میں۔ اراضی کی اصلاحات اور بٹائی داری کے قوانین میں اصلاحا ت کی تھیں مگر ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ بڑے پیمانے پر نابرابری ابھی تک باقی ہےاورترقی پسندانہ قوانین حقیقی تقسیمی انصاف فراہم نہیں کرسکےہیں ۔ انڈین نیشنل کانگریس زمین سےمتعلق اموراوراس تشدد کےدرمیان تعلق سےآگاہ ہےجو اس وقت ملک کے کئی حصوں میں نظر آرہا ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس اپنے آپ کو پارٹی اور حکومت میں ہونےکی حیثیت سےان مسائل کیلئےازسرنو وقف کرنے کا عہد کرتی ہے ۔ اراضی کی اصلاحات اور زمین سے متعلق انصاف اور ان کی مختلف شکلوں کو حکمرانی ، رائے سازی اور لوگوں کو منظم کرنےکو ہمارے ایجنڈے میں اعلا ترجیح دی جائے گی۔

 

جموں وکشمیر

 

انڈئن نیشنل کانگریس جموں وکشمیرکےعوام کی جرات مندی کیلئے حد درجہ ستائش کا اظہار کرتی ہے جس کا مظاہرہ انہوں نےاکتوبر 2002 کے اسمبلی انتخابات میں ووٹ دے کر کیا ہے۔ صدر کانگریس محترمہ سونیا گاندھی نےجس طرح آگےبڑھ کرہماری انتخابی مہم کی قیادت کی اس کیلئےبھی کانگریس ستائش کا اظہار کرتی ہے۔ بعد میں انہوں نےریاست میں سیاسی قوتوں کو مضبوطی دینے اور وزیر اعلا کے عہدے پر کانگریس کاجائزہ حق پر چھوڑنے کے جو فیصلے کئے ان سے ان کی بدبرانہ صلاحیتوں کا ثبوت ملتا ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس مخلوط حکومت کےشریکوں مبارکباد دیتی ہے جنہوں نےجموں وکشمیرمیں ایک نیا سیاسی ماحول پیداکیا ہے۔ اب جب کہ تین دہائیون کےبعد وزیراعلا کا عہدہ کانگریس کےپاس آیا ہے، ہمیں جموں وکشمیر کے تکلیف دہ تصادم کو حل کرنے کیلئے جای کوششوں میں ایک اورتعمیری پہلو کا اضافہ کرنےکا اہم موقع حاصل ہوا ہے۔ یوپی اے حکومت اس انسانی بحران کے بندوبست کے جرات مندانہ اور تخلیقی قدم اٹھانے کیلئےمبارکباد کی مستحق ہے۔ ہندستان کا یہ موقف کہ جموں وکشمیراس کا اٹوٹ حصہ ہے محض ایک سیاسی موقف ہی نہیںبلکہ ایک گہرے یقین پر مبنی ہے جس سے ہندستنا کے سیکولرمزاج کی ترجمانی ہوتی ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس سرحد پارکی دہشت گردی پر تشویش ظاہر کرتی ہے جس کے واقعات کی تعداد مین ممکن ہے کمی آئی ہو مگر شدت میں یقینی طور پر کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔ کانگریس UPA سرکار سےگذارش کرتی ہے کہ وہ پاکستان کےصدر پرویز مشرف کو اپنےاس وعدے پرعمل کرنےکیلئے دباؤ ڈالےکہ پاکستان اپنےزیراقتدارعلاقےکو ہندستان کےخلاف وحشیانہ تشدد کیلئے استعمال کئے جانے کی اجازت نہیں دے گا۔

 

انڈین نیشنل کانگریس جموں وکشمیرمیں لرزہ خیززلزلےسےہونےوالی تباہی کےسلسلےمیں UPA حکومت کےفراخ دلانہ اورفوری اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔ صدر کانگریس

کا عید کےروززلزلےسےمتاثرہ علاقوں کا دورہ اورمتاثرین کےساتھ اپنا یوم پیدائش منانا ان لوگوں کیلئےزبردست تسکین کا باعث ثابت ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ہندستان اورپاکستان ایک قدرتی المیےمیں شریک تھے۔ ہم نےاپنےاپنےدرد اورنقصانات کےگرد چہاردیواریاں کھینچنےکےبجائےمل جل کریکساں رنگ آنسوؤں کو پوچھنے اور یکساں درد سے بھرے ہوئےدلون کو ڈھارس بندھانےکی کوشش کی۔ انڈین نیشننل کانگریس کوامید ہے کہ آج جو اشتراک ہم نےمصیبت کی گھڑی میں کیا ہے وہی اشتراک آنےوالےدنوںمیں مسرتوں میں بھی کریں گے۔ کانگریس جموں وکشمیر کےہمارے بھائیو کی بہبود سےمتعلق کئی اقدامات کا اعلان کرنے کیلئےوزیراعظم کو مبارکباد دیتی ہے، جن میں ایک بڑا ترقیاتی پیکج ، کنڑول لائن کے آرپار بس سروس کی شروعات اورمختلف گروپوں کےبات چیت کیلئے آمادگی کا اظہار شامل ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کشمیری پنڈت تارکین وطن کی حالت زار پرگہری تشویش ظاہر کرتی ہےاور حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ ان کی بازآبادکاری اورتحفظ کیلئے قدم اٹھائے۔

 

شمال مشرق

 

انڈین نیشنل کانگریس شمال مشرقی صوبوں میں بے چینی شورش اور شدت پسندی سے نمٹنےکی یوپی اے حکومت کی نئی کوششں کا خیر مقدم کرتی ہے۔

اس سلسلےمیں اہم معاملہ طویل فاصلےاور نسبتاً کم آبادی کے باوجود ہندستانی سیاسی نظام کیلئےشمال مشرق کی اہمیت پر ہوری وضاحت سے زور دیتا ہےاگر شمال مشرق کے تمام لوگوں کی امنگیں سیاسی اور انتظامی اداروں کیلئے ایک چیلئج ہیں تو دوسری طرف وہ سماجی تشخص کا ایک بھرپور خزانہ بھی فراہم کرتے ہیں جس سے ہندستان کے تصور کو قوت حاصل ہوتی ہے ۔ انڈین نیشنل کانگریس سمجھتی ہے کہ ان حّساس علاقوں میں اقتصادی امداد اور سڑکوں ، اسپتالوں ، اسکولوں وغیرہ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع بہت ضروری ہے اور اس کے ساتھ ہی یقینی طورپرتحفظ کےنظام کی بھی اہمیت ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس یوپی اے حکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ اس معاملےپرفوری توجہ دے اورشمال مشرقی ریاستوں کی کانگریس اکائیوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس کام میں جوش وخروش کے ساتھ تعاون کریں۔

 

اقلیتوں کی بہبود

 

انڈین نیشنل کانگریس تعلیم پرخصوصی توجہ دیتےہوئےاقلیتوں کی بہبود کیلئےمضبوط اقدامات کرنےکا وعدہ پورے کرنے کیلئےحکومت کومبارکبادیتی ہے۔ اقلیتی تعلیم سےمتعلق قومی کمیشن کےقیام اورفرقہ وارانہ تشدد کی روک تھام سےمتعلق قانون پیش کئےجانے سےبلاشبہ اقلیتوں کےدواہم ترین مسائل کےحل کی جانب بات پیش رفت ہوگی۔ انڈین نیشنل کانگریس ۔ نیشنل اقلیتی کمیشن کوآئینی ادارہ بنانےسےمتعلوق قانون پیش کئےجانےکاخیر مقدم کرتی ہےاورحکومت سےاپیل کرتی ہےکہ وہ اس کی جلد ازجلد منظوری کویقینی بنائے۔ کانگریس قومی یکجہتی کونسل کی تشکیل نوپربھی اظہارسائش کرتی ہےاورامید ظاہر کرتی ہےکہ اس کےاجلاس پابندی سےاور بامقصد انداز سےمنعقد ہواکریں گے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس بعض تنگ ذہن سیاسی پارٹیوں کی جانب سےظاہر کئےجانےوالےاس خیال کوسختی سےمسترد اورمذمت کرتی ہےکہ اقلیتوں کےمسائل حل کرنےکیلئے کی جانے والی پالیسی ، اقدامات اقلیتوں کی نازبرداری کےمترادف ہیں۔ یہ خیال آئین کےبنیادی ساولوں اوراس کےساتھ ہی اس جذبےسےعاری ہے جس کےتحت ہماری تحریک آزادی نے تمام عقیدوں اور فرقوں کے لوگوں کو یکجا کیا تھا۔

 

سماجی انصاف

 

انڈین نیشنل کانگریس محروم طبقوں ، بطورخاص درجہ فہرست ذاتوں ، درجہ فہرست قبائل اوراوبی سی لوگوں کی با اختیارکاری کو یقینی بنانےکیلئے یوپی اے حکومت کےدور اندیشانہ رویے کی ستائش کرتی ہے۔ کانگریس با اختیار کاری، خاص طور پر مثبت اقدامات کےذریعے، کئی معاملے میں نجی کارپوریٹ سیکڑ کےساتھ بات چیت شروع کرنے کیلئے یوپی اے حکومت کی کوششوں کا خیر مقدم کرتی ہے۔ روزگار کےسب سےزیادہ مواقع والےشعبوں میں نجی زمرے کی بڑھتی ہوئی شرکت کےسبب محروم طبقوں کیلئےسرکاری زمرے میں ریزرویشن کے علاوہ بھی مواقع دئے جانےکا معاملہ نمایاں ہوا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس اپیل کرتی ہےکہ اس معاملےکو زیادہ ترجیح اورتوجہ دی جائےتاکہ اس سلسلےمیں جلد کوئی نظام مرتب کیا جاسکے ۔

 

جنگلاتی پیداوار کے معاملے میں قبائلی لوگوں کے حقوق کو تحفظ دینے سے متعلق قانون کی منظوری ، جو جنگلی جانوروں اور ان کے ماحول کے تحفظ سے ہم آہنگ ہے۔ قبائلی طبقوں کے مستقبل سے متعلق بڑھتے ہوئے اندیشوں کو ایک بڑی حد تک مطمئن کرنے میں مدد گار ہوگی ۔ اسی کےساتھ تبدیل ہوتے ہوئے اقتصادی صورت حال میں ان کے مقام کے تحفظ کے معاملے میں ان کی بااختیار کاری کو یقینی بنانے کیلئے مزید اقدامات بھی ضروری ہوں گے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس حکومت سے اپیل کرتی ہےکہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ ریزرویشن کے تمام کوٹوں کو سختی کے ساتھ اور مقررہ مدت میں بھراجائےاور اس میں ترقیوں کو شامل کی جانے والی قانونی اور انتطامی دونوں قسم کی کوششوں کو جاری رکھے۔

 

خواتین کی بااختیاری

 

انڈین نیشنل کانگریس صنفی انصاف اور خواتین کی بااختیار کاری سےمتعلق پارٹی کے وعدے پرعمل درآمد کیلئےکی جانے والی یوپی اے حکومت کی کوششوں کی ستائش کرتی ہے ۔ اسے بجاطور پرسارے ملک نےسراہا ہے۔ خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے سےمتعلق قانون کی پارلیمنٹ کےذریعے منظوری خواتین کے وقارکو برقرار رکھنے سے متعلق ہماری فکر مندی کا عملی اظہار ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس خواتین کے خلاف امتیازات ختم کرنے کیلئے ہندوقانون وراثت 1959 میں ترمیم کرنےکیلئے یوپی اےحکومت کومبارکباد دیتی ہے۔ پارلیمنٹ اور ریاستی قانون سازی اداروں میں خواتین کو33 فیصد ریزرویشن دینے سے متعلق قانون کےایک قابل قبول نمونےکو منظورکرنےکیلئے یوپی اے حکومت کی زبردست کوششیں مکمل تائید وحمایت کی مستحق ہیں اورامید رکھنی چاہیے کہ اس قانون کوجلد منظورکرانےکیلئے بھی کوششیں کی جائیں گی ۔ انڈین نیشنل کانگریس یوپی اے حکومت سےاپیل کرتی ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی عملی اور قانونی برابری اور جائداد میں ان کےحقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئےمزید ضروری اقدامات کے امکانات تلاش کرے۔

 

بچّے

 

انڈین نیشنل کانگریس بچّوں کے جنسی استحصال اور بّچوں کے غلط استعمال کی روک تھام اور بچّوں کی بہبود کے پروگراموں کو فروغ دینے سے متعلق ایک آئینی ادارے کے طور پر بّچوں کے تحفظ سے متلعق قومی کمیشن قائم کئے جانےکا خیر مقدم کرتی ہے۔ بچے ہماری قوم کا بیش قیمت اثاثہ اورمستقبل کےرہنما ہیں۔ انڈین نیسشنل کانگریس سمجھتی ہےکہ یوپی اے حکومت بّچوں کا تحفظ کرکے ہندستان کے مستقبل کا تحفظ کررہی ہے۔

 

نوجوان

 

انڈین نیشنل کانگریس قوم کی عمر سےمتعلق صورت حال پرغور کرتے ہوئے اس بات کونشان زد کرتی ہے کہ اس وقت ہماری 60 فیصد آبادی کی عمر40 سال سے کم ہے ۔ سارے ملک سے با صلاحیت نوجوان مردوں اورعورتوں کا پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہونا قوم کو اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ آنےوالے برسوں میں اسے ایک غیر معمولی قیادت میسر آئے گی۔ یہ لوگ نوجوانوں کی جن امنگوں کی نمائندگی کرتے ہیں اورانہیوں نے جوتوقعات پیداکی ہیں انہیں اعلا ترین ترجیح دی جانی چاہیے۔ زندگی کے ہرشعبے میں نوجوانوں کی شرکت اور ہر سطح کی فیصلہ سازی میں ان کا عمل دخل ہماری بنیادی مقاصد میں شامل ہونا چاہیے۔

 

تعلیم

 

انڈین نیشنل کانگریس این ڈی اے حکومت کےزمانےمیں تعلیم کےبندوبست کو دی جانےوالی بد اندیشانہ اورفرقہ وارانہ سمت کو پلٹنے کیلئے یوپی اے حکومت کی کوششوں کی ستائش کرتی ہے ۔ تعلیم سے متعلق مرکزی مشاورتی بورڈ کی بحالی ، این سی ای آرٹی کے ذریعےاہل علم وتدریس کے ساتھ وسیع صلاح مشورے کے بعد قومی نصاب کےنئےخاکے کی ترتییب و تشکیل ، تمام باٹنے والے اور متنازعہ موضوعات سے پاک نئی نصابی کتابوں کی تیاری ، یہ تمام ایسےاقدامات ہیں جن سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے گا کہ ہندستان کے کثیر ثقافتی اور سب کو شامل کرنے والے کردار پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔

 

انڈین نیشنل کانگریس علیگڈھ مسلم یونیورسیٹی کی اقلیتی حیثیت کوبرقرار رکھنے کیلئے عہد بستہ ہے اور اسے یقینی بنانے کیلئے تمام مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔

 

انڈین نیشنل کانگرس اس بات پراطمئنان ظاہرکرتی ہے کہ تمام ٹیکسوں پر دوفیصد کے ذیلی ٹیکس کے ذریعےابتدائی تعلیم کو سب کیلئےعام کرنے بشمول مڈ ڈے میل کیلئے کافی وسائل فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ تعلیم کو سب کیلئےعام کرنے کیلئے اعلا کارکردگی کی جستجو کو قربان نہ کیا جائےاور ایسا کرنا ضروری بھی نہیں ہے۔ اس ضمن میں پُنےاورکولکاتا میں دوسائنس انسٹی ٹیوٹوں اورشیلانگ میں راجیو گاندھی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ کا قیام اعلا کارکردگی کےساتھ حکومت کی وابستگی کا بروقت اشاریہ ہیں۔

 

انڈین نییشنل کانگریس اعلی تعلیم کےاداروں کی اعلی بیشہ ورانہ کارکردگی اورخودمختاری کیلئے حکومت کی وابستگی اوراس کے ساتھ ہی درجہ فہرست ذاتوں، درجہ فہرست قبائل اور اوبی سی لوگوں کو رییزرویشن کےذریعے ملک کےتمام سرکاری امداد یافتہ یا غیر امدادی اداروں ( اقلیتی اداروں کو چھوڑکر) میںشامل کرنے کیلئےآئین کو ترمیم کرنےکے دوراندیشانہ اقدامات کا خیر مقدم کرتی ہے۔

 

فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ

 

انڈین نیشنل کانگریس اس بات سےآگاہ ہےکہ فرقہ وارانہ طاقتیں آرایس ایس / بی جے پی جن کی نمائندگی کرتی ہیں اب بھی ہمارے سماج میںسرگرم ہیں۔ BJP نےاپنےآپ کو جس انتشار میں مبتلا کرلیا ہےوہ قرین قیاس تھا کیوں کہ اس کی سیاسی فکراورعمل کسی بھی قسم کی نظریاتی ربط و ترتیب سےپوری طرح عاری ہے۔ این ڈی اے دراصل موقع پرست سیاسی طاقتوں کا گٹھ جوڑتھا جومحض ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئےاقتدارحاصل کرنےکی غرض سےیکجا ہوگئی تھیں۔ ملک کی عوام کوگمراہ کرنےوالےاسی نفاق پرمبنی ایجنڈے کےذریعے سیاست کےمرکز میں واپس آنےکی ان طاقتوں کی کوششوں کوموثرانداز میں بےنقاب اورچیلنج کیا جانا ضروری ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس اپنےآپ کوا س مقصد کیلئےوقف کرتی ہے۔

 

سیکولر سماج کا تحفظ

 

انڈین نیشنل کانگریس کروڑوں ہندستانی شہریوں کےراحت اوراطمئنان کےاحساس کونشان زدکرتی ہےجس کا اظہارانہوں نےاین ڈی اے حکومت کےدوران ہندستان کےکئی حصوں میں ریاست کےزیراہتمام تشدد اورفرقہ وارانہ حساب چکانےکیلئےداخلی سلامتی کےقوانین کےاستعمال کےبھیا نک تجربات کےبعد سیکولرطاقتوں کی اقتدارمیں واپسی پر کیا تھا۔ بعض ریاستوں میںتشدد کےمرتکب یا اسے بھڑکانےوالےلوگ ابھی تک اقتداد میں ہیں۔ بعض دیگر ریاستوں میں ایسی طاقتیں چپ چاپ پڑی ہوئی ہیں اورجذبات بھرکانےکیلئےموقع کی تلاش اورانتظارمیں ہیں۔ ہمارے ملک کی خوش قسمتی ہےکہ ہمارے عوام کی سوج بوجھ اوردانشمندی نےعبادت گاہوں کو نشانہ بناکر کئےگئےدہشت گردانہ تشدد کا استحصال کرنےکی تمام کوششوں کو ناکام کردیا اوراس بات کویقینی بنایا کہ کسی بھی ٹکراؤپرجلد قابو پالیا جائے۔ اس کےباوجود انڈین نیشنل کانگریس یوپی اے حکومت اورہندستان کےعوام کوخبردارکرتی ہےکہ ہمارا کسی جھوٹےاحساس تحفظ سےمطمئن ہوجانا خطرناک ہوسکتا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کےمطابق جنگ توجیتی جاچکی ہےمگر لڑائی ابھی جاری ہےاوریہ عوام کےدل ودماغ کیلئے ہونے والی ایک اور لڑائی ہوگی۔

 

اجتماعی زندگی میںدیانتداری

 

انڈین نیشنل کانگریس ہمیشہ سےاجتماعی زندگی میںدیانتداری اور شفافیت کی حامی رہی ہے ۔ اس نے کبھی کسی سے بھی اس معاملے میں سمجھوتہ نہیں کیا ہے اورنہ ان معاملوں تک میں جن میں کانگریس کےلوگ ملوث تھے۔ کانگریسی قیادت کا رویہ واضح اورغیر مبہم رہا ہے ۔ کانگریس نےان گیارہ ممبران پارلیمنت کےاخراج کےمعاملےجوکیمرے میں پارلیمنٹ میں سوال اٹھانےکیلئے پیسہ لیتےہوئےدکھائے گئےتھے، اصولی موقف اختیار کیا، انڈین نیشنل کانگرس اس بات کی ضرورت کونشان زد کرتی ہے کہ پارٹی اور حکومت کو ہمارے جمہوری اداروں کو مضبوط تر کرنےکیلئے مزید اقدامات کرنے ہونگے۔

 

ماحصل

 

انڈین نیشنل کانگریس کا یہ 82 واں عظیم اجلاس آندھراپردیش میںمنعقد ہورہا ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست ہےجہاں غریبوں اورسماج کےکمزورطبقوں کیلئےاس کی محروم صوبے ہیں جہاں محترمہ اندراگاندھی کا سماج کےغریب اورکمزورطبقوں کیلئےایثاراورپیارآج بھی یاد کیاجاتاہے۔ انڈین نیشنل کانگریس اس وعدےکویاد کرتےہوئےاپنےآپ کوان کی دوراندیشی کیلئے پھرسےموقوف کرتی ہے۔

 

آج جب ہندستان کےلوگ نئی جہت میں ابھرنےوالےچیلنجوں کا مقابلہ کرنےکیلئےآگےبڑھ رہےہیں اوران مواقع پرگرفت حاصل کررہے ہیں جو تبدیل ہوتی ہوئی عالمی صورت حال ان لوگوں کو پیش کررہی ہےجودنیا میں اپناجانزمقام حاصل کرنےکا عزم وحوصلہ رکھتےہوں۔ ایک قدیم ملک کا ایک طاقتوراورجدید قومی ریاست میں تبدیل بجائےخود ایک زبردست کامیابی ہےجس کیلئےانڈین نیشنل کانگریس بجاطور پرفخرکرسکتی ہے۔ آج ایک جوان ہندستان جراّت آزمااورخود اعتمادی سےبھری آنکھوں کےساتھ دنیا کو دیکھ رہا ہے،اپنے اس یقین واعتماد کےساتھ کہ وہ خوداپنی کوششوں اورجدوجہد کےبل بوتےپر‘‘ تقدیر کےساتھ عہد‘‘ کے بہت قریب پہنچ گیا ہےجس کی جانب پنڈت جواہرلال نہرو نے14 اگست 1947 کی آدھی رات کوہندستان کو بلایا تھا۔

 


 

 آئین

منشور 2004

حفاطتی ایجنڈا

گذارش

 اقتصادی ایجنڈا

چارج شیٹ

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ 21اگست 2004

بھارت کا نیو کلیئر توانائی پروگرام اور امریکہ کے ساتھ 123 عہد نامہ

قرض معافی بڑھ کر72,000 کروڑ روپئے ہوئی
کانگریس کا ہاتھ، انّداتا کے ساتھ

اے آئی سی سی میٹنگ 17 نومبر 2007 تالکٹورا اسٹیڈیم، نئی دہلی

جناب راہل گاندھی جی کا مرکزی بجٹ پر پارلیمنٹ میں تقریر 08 - 03  - 13

82 واں مکمل اجلاس، حیدرآباد

آرکائیوز