| لالہ لاجپت رائےکی پیدائش 1865میں ہوئی۔ وکالت کو ذریعہ معاش بناکر لاہورمیں وکالت کی شروعات کی۔ زندگی کی شروعات ہی میں وہ دیانند سرسوتی سےمتائژتھے اور کئی سالون تک آریہ سماج کی کمیٹی میں شامل رہے۔ ڈی۔ اے۔ وی۔ کالج اور کئی دوسری تنظیموں کے قیام میں معاون رہے۔ کانگریس کے وفد کےساتھ 1865میں برطانیہ کا سفر کیا۔ لومانیہ اور وپن چندر پال کے ساتھ خاص دہشت پسند لیڈر سے جانے گئے۔ 1907میں گرفتارہوئےاورمانڈلے کیلئےاخراج اور6 مہینےبعد رہا۔ اسک علاوہ پنجاب کےسب سے پہلےلیڈر۔ جنگ کے دوران امریکہ گئے لیکن پاسپورٹ ضبط کرلئے جانےکی وجہ کر وہاں1919تک رکنا پڑا۔ ینگ انڈیا کی اشاعت جس پر ہندستان اور برطانیہ میں پاندی تھی۔ اگست 1920میں کلکتہ میں کانگریس کےخاص اجلاس میں صدربنے۔ ہندستانی ٹریڈ یونین کانگریس کےصدر1921اور1922میں دوبار قید ہوئے۔ 1923میں نیشنلسٹ لیڈرکی حیثیت سےمرکزی لیجسلیٹواسمبلی کیلئےمنتخب لیکن بعد میں نیشنلسٹ پارٹی کا قیام اور 1926کےانتخاب میں کامیاب۔ کئی کتابوں کےمصنف۔ اسمبلی میں سائمن کمیشن کی مخالفت کی تجویز پیش کی ۔30 اکتوبر1926 کولاہورمیں مخالفت کےجلوس کےقیادت کی۔ پولیس کی چوٹ سےزخمی ہوگئے۔ انہوں نےکہا تھا کہ‘‘میرے اوپرچلائی گئی لاٹھی کی ہرچوٹ ہندستان میں برطانوی شہنشاہیت کی قبرمیں کیل بنے گی‘‘اسی وقت لگے زخموں کی وجہ کر1928میں انکی موت ہوگئی۔ انکی جائیداد کا ایک ٹرسٹ بنایا گیا۔ جس سے بھارت سیوک سماج بنایا گیا۔ لائبریری اور اسپتال کھولا گیا۔ |