History

 


 


بابو راجندر پرساد
 
1884-1963
 


3 د سمبر،1884کو پیداہوئے۔ شاندار تعلیمی ریکارڈ کےمالک۔ 1914سے1916تک یونیورسٹی لاء کالج کے پروفیسر رہےاوربعد میں پٹنہ میں بار کےلیڈربنے۔ پٹنہ یونیورسیٹی کےقیام کے بعد سےسینٹ صدررہے۔ 1917میں چمپارن زرعی احتجاج میں گاندھی جی کےساتھ تعاون۔ 1920میں اچھی شان وشوکت والی وکالت چھوڑدی۔ بہار ودیا پیٹھ کےرجسٹرار۔ 1922میں گیا کانگریس کی استقبالیہ کمیٹی کے صدربنے۔ کئی سالوں تک بہار ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدررہے۔

 

1930-32کےدوران نمک ستیہ گرہ اورسول نافرمانی احتجاج میں حصہ اورکئی بار جیل گئے۔ مسلسل کانگریس کی کارگذار کمیٹی کے ممبر رہے۔ بہار زلزلہ متا ثروں کیلئےامداد کا انکے ذمہ تھا۔ اکتوبر1934میں ممبئی میں کل ہند کانگریس کمیٹی صدربنے۔ اہم جنوبی فکر کے لیڈر۔ کانگریس پارلیمانی کمیٹی صدر۔ ذاتی طور پر سول نافرمانی کےپروگرام میں ستیہ گرہ کرنے کی تجویز سےمتفق۔ اگست میں گرفتار اور پٹنہ و ہزاری باغ میں نظر بند۔ شروعاتی حکومت کے ممبراور وزیر خوردنی اور زراعت ۔ کرپلانی کےاستعفی دینے کے بعد نومبر1947میں کل ہند کانگریس کمیٹی کے صدر دوبارہ منتخب ہوئے۔ عظیم مفکر انڈیا ڈیوائڈڈ اور دوسری کتابوں کے مصنف۔ بہار کے حزب مخالف لیڈر۔

 

 


وقت کی لکیر

کانگریس کے گذشتہ صدور

کل ہند کانگریس کے اجلاس

1885سے 1946

کانگریس قیام کی زمینی حقیقت

آزادی کی جنگ

کانگریس اور تحریک آزادی

جدوجہد آزادی پر دوبارہ نگاہ

مہاتماگاندھی کی سیتہ گرہ کے مراکز

قومی پرچم

تعمیری پروگرام اور کانگریس