82 واں مکمل اجلاس، حیدرآباد

 

کانگریس صدر کا خطاب

 

صدرکانگریس محترمہ سونیا گاندھی کا خطاب

1

وزیراعظم ڈاکڑ منموہن سنگھ جی !

اے آئی سی سی کے اراکین !

پی سی سی کےمندوبین!

کانگریس کے ساتھی بھائیو اور بہنو !

اور میڈیا کے دوستو !

 

ہم اپنی 120 سال طویل تاریخ کے دوران آندھرا پردیش میں پانچویں باراورحیدرآباد میں تیسری بار اس اجلاس میں یکجا ہورہے ہیں ۔

اور یہ تاریخ بھی کتنی شاندار رہی ہے ۔

یہ ان ممتاز مردوں اور عورتوں کی تاریخ ہے جنہوں نے اپنی جدوجہد اور قربانیوں سے ہمیں آزادی سے ہم کنار کیا ۔ انہوں نے ہمیں ورثے میں وہ جمہوری اور سیکولر اقدار دیں جو ہمارے آئین کی بنیاد ہیں۔

یہ ایک زبردست ترقی کی تاریخ ہےجس کی بنیاد پرجدید ہندستان کی قومی ریاست کی تعمیرہوئی جو دنیا میں ایک بڑی سیاسی ، اقتصادی اور ٹکنالوجی کی طاقت کےطورپر برگ وبارلارہی ہے۔

یہ وسیع اورگہری تبدیلیوں کی تاریخ ہے۔ ہندستان کےعوام نےاپنے تخلیقی شرچشموں کو ازسرنو دریافت کیا ہےاور ترقی کی نئی منزلیں سرکررہے ہیں ۔

ہم پوری عاجزی اور انکساری مگر پورےیقین واعتمادکےساتھ کہہ سکتےہیں کہ انڈین نیشنل کانگریس نےعصری ہندستان کی صورت گری میں فیصلہ کن کردارادا کیا ہے۔ اوراسکےصلےمیں انڈین نیشنل کانگریس آندھراپردیش کےبہت سےرہنماوں اور کارکنوں کے ذریعےثروت مند ہوئی ہے۔ آندھراپردیش نےغیر معمولی صنعت کار، سائنس داں،ڈاکڑ ، انجنیر اوردیگر پیشہ ور پیداکئے ہیں ۔ اس سرزمین نےجوہماری روایات اورورثےکا اٹوٹ حصہ ہےبہت سی ممتاز ثقافتی اورادبی شخصیتوں کو بھی جنم دیا ہے۔ کئی مختلف عقیدےاورثقافتیں یہاں شیروشکرہوکرپروان چڑھی ہیں۔

 

گذشتہ سال آندھراپردیش کی عوام نےکانگریس پارٹی کونہ صرف اسمبلی میں زبردست کامیابی کےساتھ واپس لایا بلکہ انہوں نےلوگ سبھا انتخابات میں ہمیں کثرت سےووٹ دیا۔ اسکی وجہ سےہم مرکزمیں کانگریس کی زیرقیادت مخلوط حکومت بناسکے۔ ہم آندھراپردیش کی عوام کےقرض دارہیں، جو ایک ایسی ریاست ہےجہاں اندرا گاندھی کوآج بھی نہایت محبت سےیاد کیا جاتا ہے۔

2

ہماراسابقہ مکمل اجلاس مارچ 2001 میں بنگلورمیں ہواتھا ۔ اس موقع پر ہم نے مرکز میں قائم بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کوہٹانےکیلئے ہرممکن لڑائی لڑنےاور ہرممکن قربانی دینے کا تہیہ کیا تھا۔

مئی 2004 کے انتخابات میں ہم نے وہ منزل پالی ۔

لوگوں نےسارے ملک میں بی جے پی کی تقسیم کرنےوالی سیاست کےخلاف ناراضگی ظاہر کرنےکیلئےنکل پڑے جس نےسماجی ہم آہنگی کو تباہ کرڈالا تھا۔ انہوں نےباہر نکل کر بی جےپی کی ان خواص پسندانہ اقتصادی پالیسوں کی مخالفت کی جن کےتحت کسانوں ، کھیت مزدوروں ، بنکروں ، کام گاروں اور سماج کے دیگر کمزورطبقوں کونظرانداز کیا جارہا تھا۔

لاکھوں کانگریس کارکنوں نے سارے ملک میں ہماری کامیابی کو ممکن بنانے کیلئے انتھک اور بے لوث جد وجہد کی ۔

میں ان کی خدمات کو تسلیم کرتی ہوں اور کہنا چاہتی ہوں کہ ان کے بغیر ، ان کی لگن اور محنت کے بغیر آج ہم مرکز میں برسراقتدار نہ ہوتے۔

کانگریس ہمیشہ سے کارکنوں کی پارٹی رہی ہے ۔ ہمارے کارکن اس وسیع وعریض ملک کے ہرگاؤں ، ہربستی اور ہرمحلے میں موجود ہیں ۔ وہ ہمیں طاقت دیتے ہیں ۔ کوئی بھی لفظ ان کی خدمات کے اعتراف کیلئے کافی نہیں ہیں ۔ یہاں میں اس بات کااضافہ کرنا چاہوں گی کہ مختلف موقعوں پر ، خواہ وہ گجرات اور جموں وکشمیر کا زلزلہ ہو یا مختلف ریاستوں میں سیلاب ہو یا انڈمان اورجنوبی ہند میں سونامی ہو، ہماری پارٹی کے کارکنوں نے جس فوری اندازسےاورپوری والہانہ سرگرمی کےساتھ راحت اورباذآبادکاری کی کوششوں میں شرکت کی ہےاس سےمیں حد درجہ متاثر ہوئی ہوں۔

3

ہم نے بیس ماہ قبل سیکولر اقدارسے وابستگی رکھنے والی پارٹیوں کی حمایت سے مرکز میں ایک مخلوط حکومت قائم کی تھی۔ ڈاکڑ منموہن سنگھ جوایک دیانتدار اورصاحب علم کانگریسی اور ایک رحم دل اور منکسر مزاج شخص ہیں ہمارے وزیراعظم بنے۔

ان کی قیادت میں اور اپنے حلیفوں کی شرکت سے، ہم نے ایک مشترکہ کامن منیمم پروگرام ترتیب دیا۔

کامن منیمم پروگرام بہت حد تک کانگریس کےاپنےانتخابی منشور پر مبنی ہے۔ لہذا ہم میں سے ہر ایک کو ہوری وضاحت سے سمجھ لینا چاہیے کہ جب کامن منیمم پروگرام کا کوئی وعدہ پورا کرتے ہیں تو دراصل خود اپنے منشورکی ایک یقین دہانی کوعمل میں لاتے ہیں۔

 

مخلوط حکومت میںشرکت ہمارے لئے ایک نیا تجربہ ہے۔ مگر ہم نےاپنے آپ کو خوش اسلوبی کےساتھ اس کے مطابق ڈھالا ہے اور پورے استقلال کے ساتھ اتحاد کے عائد کردہ نظم وضبط اور وقار کی پابندی کی ہے۔

 

یہ درست ہے کہ بعض ریاستوں میں جواپنی پارٹیوں کے مخالف ہیں جو مرکز میں ہماری حمایت کررہی ہیں ۔ مگر ہمارے نزدیک اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ قومی سطح پر درپیش جیلنجوں کا تقاضا ہے کہ باہم تعاون کریں۔ مگر ریاستی سطح کے معاملات اور مسائل بہت مختلف ہیں۔ کیرالا اور مغربی بنگال کے ہمارے حلیفوں کو کوئی شک وشبہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان ریاستوں میں ہم ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور مخالفوں ہی کی طرح ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے۔

 

ہم بعض ریاستوں میں بھی مخلوط حکومت چلارہے ہیں ۔ مجھے اپنی پارٹی کے کارکنوں کے اس احساس کا علم ہے کہ اس قسم کے اتحادوں سے انہیں حاصل ہونے والے مواقع کم ہوجاتے ہیں مگر اتحاد کا مطلب پارٹی کی تعمیر کا کام چھوڑ دینا نہیں ہے۔ میرے ذہن میں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہےکہ مخلوط حکومتیں چلانے کےساتھ ساتھ ہمارے لئے ہرسطح پر اپنی پارٹی کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔

 

ہم نے مئی 2004 کے بعد سے کیا کیا ہے ؟

ہم نے حکمرانی کی سیکولر بنیادوں کوبحال کیا ہے ۔ اب بیرونی کشیدگیوں کو سماج کو خانوں میں تقسیم کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔

ہم نے سماج کےکسی خاص طبقے کونشانہ بنائے بغیر پورےعزم وارادے کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے۔

ہم نےتعصبات اور جارحانہ جذبوں پر مبنی قوم پرستی کی جگہ سارے لوگوں کو شامل اور شریک کرنے والی قوم پرستی کوبحال کیا ہےجوہمارے کثرت پسند مزاج سے ہم آہنگ ہے۔

ہم نےاجتماعی بحث کےایجنڈے کوجوہمارے ماضی کوایک نئی شکل دینےمیں الجھا ہوا تھا تبدیل کرکےعوام کی روزمرہ کی زندگی کےمعاملات ومسائل پرتوجہ مرکوز کی ہے۔ ہم نے تعلیمی نصابوں کو مسخ کئےجانے کےسلسلے پرروک لگائی ہے۔

ہم نےاقتصادی اصلاحات سےمتعلق تصور کوتبدیل کیا ہےاوراس میں FDI اورنجی کاری پردئےجانےوالےمحدود زمرے کی جگہ روزگار، تعلیم زراعت اورصحت کوبنیادی ترجیح دی ہے۔

ہم نےعالمی برادری میں ہندستان کوایک نئی حیثیت دی ہے۔ 2004 کےعوامی فیصلےنے ظاہر کیا تھا کہ ہمارے عوام سماجی ہو یا اقتصادی، سماج کوباٹنےکی ہرصورت کومسترد کرتے ہیں۔

2004 کےعوامی فیصلےنے ظاہر کیا تھا کہ ہمارے عوام سماجی ہو یا اقتصادی ، سماج کو باٹنے کی ہرصورت کو مسترد کرتےہیں۔

2004 کے عوامی فیصلے نےظایرکیا تھاکہ ہمارے عوام اہل اقتدارکے تکّبرکو مسترد کرتے ہیں

2004 کےعوامی فیصلے نے یہ بھی ظاہر کیا تھا کہ وہ پارٹی جو آرام طلب ہوجائے، وہ پارٹی جواپنےمخالفوں کی طاقت کو کم جانےاور اپنی طاقت کےمعاملےمیں مبالغےسے کام لے اسے عوام کے ہاتھوں ذلیل وخوار ہونا بڑتا ہے۔

اس عوامی فیصلےمیں ہمارے لئے، پارٹی اور حکومت دونوں کیلئےبھی کئی سبق ہیں۔ ان اسباق کو ہمیں پوری طرح سمجھنا ہوگا اوران سےسیکھ حاصل کرنی ہوگی ۔ انہیں بھلا یا نہیں جانا چاہیے۔

ہمارے وزیراعظم ابھی اپنی حکومت کی کامیابیوں کےبارے میں اظہارخیال کریں گے۔ مگرمیں یہاں ہمارے بعحض اہم اقدامات پرروشنی ڈالنا چاہوں گی ، جو زبردست سیاسی اہمیت کےحامل ہیں۔

ہمارے ہاتھ میں اب تاریخ ساز قومی دیہی روزگار ضمانت قانون ہے جس کےتحت ، جیسا کہ اس کے عنوان سے ظاہر ہے، پہلی بار روزگار کی قانونی ضمانت فراہم ہوگی۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو پہلے کبی نہیں اٹھایا گیا اور جس کا اعزاز صرف اور صرف کانگریس پارٹی ہی پورے فخر کے ساتھ حاصل کرسکتی ہے۔

اب ہمارے ہاتھ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھنے والا اطلاعات کےحق سےمتعلق قانون ہے۔ یہ ہرسطح کے نظم ونسق کو شفاف اور جواب دہ بنانے اور لوگوں کو اپنے حقوق سے پوری طرح واقف کرانے کیلئے ایک اہم قدم ہے ۔

 

ہمارے پاس174000 کروڑ روپئےکا زبردست بھارت نرمان پروگرام ہے جس سے آپ پاشی رہائش، پینے کے پانی ، بجلی ، سڑکوں اور ٹیلی مواصلات میں سرمایہ کاری کے ذریعے آئندہ چاربرسوں میں ہمارے دیہات کی کایا پلٹ ہوجائے گی اور نئی خوشحالی آئے گی۔

 

آنےوالے دنوں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شہری علاقوں میں آباد ہوں گے۔ اس کے پیش نظر ہم نے ملک کے 63 شہروں میں جواہرلال نہرو قومی شہری تجدید مشن شروع کیا ہے ۔ اس مشن کے ذریعے حکومت آئندہ سات برسوں کےدوران بنیادی ڈھانچے اور بنیادی خدمات کی توسیع کیلئے تقریباً 120000 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کرے گی۔

 

ہم نے دیہات میں رہنے والے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو بنیادی صحت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ایک قومی دیہی صحت مشن شروع کیا ہے۔ صرف مرکزی حکومت ہی آئندہ چھہ برسوں میں اس مشن کیلئے 100000 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کرے گی۔

 

ہم نےسروشکشا ابھیان اوردوپہر کےکھانےسےمتعلق مختص رقوم کو دوگنا کردیا ہےاورICDS اورخواتین و بچوں سےمتعلق تغذیاتی پروگراموں پرخرچ ہونےوالی رقم میں اہم اضافہ کیا ہے۔

ہم نے کسانوں کیلئے بینک قرضوں میں اضافہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم نے تین سالوں کے اندر قرضوں کی فراہمی میں تین گنا اضافہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور ہمیں توقع ہے کہ اس نشانے کو اس سے پہلے ہی حاصل کرلیا جائےگا۔ ہم نے کوآپریٹیو قرضہ جاتی اداروں کوبھی تقویت دی ہے۔

 

ان تمام پروگراموں کےتحت اتنےبڑے پیمانےپرسرمایہ کاری کی گئی ہےجو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ وزیراعظم نےان میںسےہرایک پروگرام میں گہری دلچسپی لی ہےاورمجھےعلم ہےکہ ان کیلئےمختلف مصروفیات میں توازن قائم رکھنا آسان نہیں رہا ہوگا۔ ہمیں سمجھنا ہوگاکہ ان مقاصد کوتب تک حاصل نہیں کیا جاسکتا جب تک ہم معیشت کی شرح نمومیں اضافہ کرنےاوراسے برقراررکھنےمیں کامیاب نہ ہوں۔ ہم نےسرکاری اورنجی دونوں سطح کی سرمایہ کاری میں اضافہ کیاہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیےکہ روزگار کےمواقع میں اضافہ کرنےاورسماجی زمرے سے متعلق اخراجات کیلئے مزید وسائل پیدا کرنے کی غرض سے شرح نمو کے مواقع سے کام لینا لازمی ہے۔

 

میں آپ کی توجہ ان پروگراموں کےایک اور پہلو کی جانب مبذول کرنا چاہتی ہوں ۔ یہ پروگرام بڑی حد تک پسماندہ اضلاع کےفائدے کیلئے ہیں جن کی اکثریت غیرکانگریس ریاستوں میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب معاملہ عوام کی ضرورتوں کا ہو تو ہم بی جے پی کےبرعکس محدود مفادات کی سیاست نہیں کرتے۔

 

اس کا ایک اور اہم مطلب یہ ہےکہ آپ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ غیر کانگریس ریاستوں کی حکومتیں ان پروگراموں کو اڑانہ لے جائیں اور نہ تباہ کرسکیں ۔ آپ کو ، لوگوں کو ان کے حقوق سے واقف کرانا ہوگا اوران حقوق کے حصول کا مطالبہ اورانہیں حاصل کرنے کیلئے ان کو موثر انداز سےمنظم کرنا ہوگا۔ آپ کو چاہیےکہ دیگر سرگرم کارکنوں اورشہری تنظیموں کے ساتھ گہرے رابطے قائم کریں ۔ اطلاعات کے حق سے متعلق نیا قانون اس کو شش میں آپ کا خاص ہتھیار ہوگا۔

 

اپنےانتخابی منشورکےوعدے کے مطابق ، ہم نے خواتین اور بچوں کی بہبود سے متعلق ایک نیا قانون بنانےکیلئے فیصلہ کن اقدامات کئےہیں ۔ خواتین کو جائداد کےورثے میں مساوی حقوق دینےکیلئےہندوقانون وراثت ایکٹ 1956 میں ترمیم کی گئی ہے۔ خواتین کےخلاف گھریلو تشدد کی روک تھام کیلئےایک قانون منظور کیا گیا ہے۔ ہمارے بچوں کوجوہمارے پییش قیمت سرمایہ ہیں اب ایک قومی کمیشن میسرہے جوان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔

 

ابھی صرف ایک ہفتے پہلے درج فہرست ذاتوں ، درج فہرست قبائل اور اوبی سی لوگوں کو ، مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے اداروں کو چھوڑکر ، باقی تمام نجی تعلیمی اداروں میں ریزرویشن فراہم کرنے کیلئے104 واں آئینی ترمیمی بل منظور کیا گیا ہے جو سماجی انصاف سے ہماری اٹوٹ وابستگی کا مظہر ہے۔ اس سے سماج کے کمزور طبقوں کیلئے اعلا اور بیشہ ورانہ تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ درج فہرست ذاتوں ، درج فہرست قبائل اور اوبی سی لوگوں کے سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کو قانونی ضمانت دینے کیلئے ایک بل پیش کیا گیا ہے۔ جنگلاتی علاقوں میں رہنے والے قبائلیوں کے حقوق اور ذریعہ معاش کے تحفظ کیلئے بھی ایک جامع بل پیش کیا گیا ہے۔

 

ہم نے اقلیتوںً کے مسائل اور اندیشوں پر توجہ دینے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں ۔ پوٹا ختم کردیا گیا ہے ۔ فرقہ وارانہ تشدد کی روک تھام سے متعلق ایک نیا قانون بنایا جانےوالا ہےاور توقع ہےکہ پارلیمنٹ اسےجلد منظورکرلےگی۔ اقلیتی پیشہ ورانہ اداروں سےمتعلق ایک قومی کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ قومی اقلیتی کمیشن کو آئینی ادارہ بنانےسےمتعلق ایک بل پیش کیاجاچکا ہے۔

 

ہم نے دفاعی جدید کاری کےپروگرام کو نئی قوت دی ہے۔ ہم نےسابق فوجیوں اور ان کے گھروالوں کی بہبودی کیلئےایک نیا محکمہ قائم کیا ہےسابق فوجی جوبہت دنوں سے اپنی پنشن فوائد کے بارے میں مطالبہ کررہےہیں ۔ ہمیں امید ہےکہ ہمارے منشور میں کئےگئےوعدے کے مطابق یہ مطالبہ جلد ہی پورا ہوجائےگا۔ اس موقع پرمیں اپنی مسلح افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں، نہ صرف اس بہادری کیلئےجس سےوہ ہماری سرحدوں کی نگہبانی کرتی ہیں بلکہ ان شاندارخدمات کیلئےبھی جووہ قدرتی آفات کےدوران لوگوں کو راحت پہنچانےکیلئے انجام دیتی ہیں۔

 

اب جب کہ مرکزاورکئی ریاستوں میں ہماری حکومت ہے، ہم یقینی طور پر توقع رکتھے ہیں کہ عام آدمی کےمعاملات اورمسائل کو اعلاترین ترجیح حاصل ہوگی۔ مثلاً تیل کی عالمی قیمتوں کے آسمان چھولینےکے باوجود مٹی کے تیل کی قیمت نہیں بڑھائی گئی ۔ مجھے معلوم ہے بعض اوقات حکمرانی کی اپنی مجبوریاں اورجبرہوتے ہیں مگر ہمارے پارٹی ،کارکنوں کو عوامی مسائل کو نمایاں کرنے میں جھجکنا نہیں چاہیے اور نہ ان مظاہروں کو ہماری مرکزی ریاستی حکومتوں کی نکتہ چینی سمجھاجانا چاہیے۔

4

ساتھیو ! آج جس طریقے سے سیاست اور سیاسی لوگوں کی کھّلی اڑائی جاتی ہے، انہیںچھوٹا کرکے پیش کیا جاتاہے جس پر مجھے بڑی تشویش ہے۔

میرے ذہن میں ایک بات بالکل صاف ہے۔ ہمارے سماج کےغریب ، محروم اور قلتوں میں جینے والے لوگوں کو سیاست میں سب سے زیادہ امید نظرآتی ہیں ۔ ہماری کثرت پسند جمہوریت میں انہیں آواز، ایک پہچان اوروقاردیاجاتا ہے۔ سیاست ہی ایک ایسا شعبہ ہےجہاں کوئی بھی شخص بہت معمولی شروعات اوربہت سی معمولی حیثیت کےباوجود اوپراٹھ کرذمےداری اوراختیارات کےاونچے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔

 

لیکن میرے ایسا کہنےکا یہ مطلب ہرگزنہیں ہے کہ آج جونکتہ چینی کی جارہی ہےاسےہم نظرانداز کردیں ۔ ہم اسےنظر انداز نہیں کرسکتے۔ ہمارے نظام میں خامیاں ہیں اورانہیں سدھارناہوگا۔ دولت کی طاقت اور جسمانی طاقت کے اثرات کو ختم کرنا ہوگا ۔ ہمیں ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہوگی جو سیاست کا استعمال ذاتی طور پر اپنےآپ کو بڑھانے کیلئے کرتے ہیں۔

 

ایک پارٹی کے طور پر ہم اجتماعی زندگی کی پاکیزگی کے بلند آدرشوں کیلئے ہمیشہ وقف رہے ہیں۔

جس وقت مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت تھی، اس وقت کانگریس ہی اکیلی پارٹی تھی جس نے سپریم کورٹ کی اس بات کیلئے حمایت کی تھی کہ انتخابات سے پہلے تمام امیدوار اپنا ہورا بیورا پیش کریں۔

 

کانگریس ہی واحد پارٹی ہے جس نے اپنے سیاسی کام کاج کے مالی معاملات کو شفاف اور کارگر بنانے کی تجاویز پیش کرنے کیلئے، اتفاق سے ، خود ڈاکڑ منموہن سنگھ کی سربراہی میں ، ایک کمیٹی بنائی تھی۔

 

ہماری ہی واحد پارٹی ہےجس نےاپنےاراکین کو سادگی اپنانے کیلئے ایک تفصیلی ضابطہ عمل جاری کیا ہے۔ اس ضابطے پر عمل کرنا میں سب سے اہم مانتی ہوں ۔ یہ صرف عوامی نمائندوں کیلئے ہی نہیں ہے بلکہ سبھی کانگریسیوں کیلئے ہے۔

 

جب پارلیمنٹ میں سوال اٹھانےکیلئے، کیمرے کےسامنےگیارہ ممبران پارلیمنٹ کےپیسےلینےکا معاملہ سامنےآیاتو بی جے پی کےبرعکس ہم نے ایک سخت، اصولی اورایک جیسا رخ اپنایا

 

لیکن ساتھیو ! ہماری پارٹی میں بھی ہمارے کئی رفقائےکارکا طرز زندگی بہت شان وشوکت والا ہے۔ کبھی کبھی جس طرح شادی بیاہ ہوتے ہیں اورجنم دن منائےجاتےہیں اسےدیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ غریبوں کیلئے ہماری ہمدردی ایک مذاق ہے۔ مجھے غلط مت سمجھئے، میں خاص موقعوں پرآپ میں خوشیاں باٹنےکے پوری طرح حق میں ہوں ، لیکن دولت کے بھدے مظاہرے، استعمال اور بربادی کے خلاف ہوں۔ ہمارے کئی رفقاء جس طرح اپنےعہدے کااستعمال کرتے ہیں وہ اس سب کا الٹ ہے جس کا ہم دعوہ کرتے ہیں ۔ ہمارے مجاہدین آزادی اور عظیم رہنماؤں نے جس طرح کی زندگی جی، انہوں نے جسطرح سےکام کیا یہ اس سب سےالگ ہے۔ ہر سطح پر ہمارے چنے ہوئے نمائندوں کو چاہیے کہ وہ ایک ضابطئہ عمل کی پابندی کریں اور اجتماعی زندگی کےاصولوں کو مانتے ہوئےاپنے نجی مفادا ت کی فکر نہ کرکے ، اپنے عہدوں کا وقار برقرار رکھیں ۔

 

ہماری جمہوریت کی کامیابی ان اداروں کو خاص طور پر فعال ومتحرک بنانےپرمنحصر ہے جن پر وہ قائم ہے۔ ملک کا اہم ترین سیاسی ادارہ ہونے کی حیثیت سے یہ سب سےزیادہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم سیاسی لوگوں کے تئیں ، عوام کے تصورات کو بدلیں اور سیاسی عمل میں لوگوں کا یقین واعتماد پھر سے قائم کریں۔

5

جب 2 مارچ 2001 میں ہمارا اجلاس ہواتھا تب سےآج تک اپنی سیاسی سرگرمیوں کو بڑھانےکیلئےہم نے تنظیم میں کئی قدم اٹھائے ہیں۔ AICC میں خیر سگالی کے سپاہی ، پاہو سد بھاؤنا شکشا ٹرسٹ، صاف ماحول پیداکرنےکی مہم اورراجیوگاندھی پنچایت راج سنستھان جیسی پہل ہوئی ہے۔ میں نے گذ شتہ سال اے آئی سی سی میں نکسلیوں کےزیراثرعلاقوں کےچندرفقاء کی ایک ٹاسک فورس بنائی تھی ۔ اس ٹاسک فورس نےاپنی رہورٹ پیش کردی ہے، اورکچھ اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ اس کام کوآگےبڑھانا ہےاورلگاتارجاری رکھنا ہے۔ ہم نےتاریخی ڈانڈی مارچ کی 75 ویں سالگرہ منائی اور اس کے ذریعے گاندھی جی کی اقدار کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔

 

اس کےساتھ ہم نےکانگریس وزرائےاعلا کی لگاتار بیٹھکوں کا سلسلہ شروع کیا اس طرح کی چھٹی بیٹھک گذ شتہ سال اکتوبرمیں چنڈیگڑھ میں ہوئی اورہماری ریاستی حکومتوں کے ذریعے، اپنےاپنےمنشوروں پرعمل، اس کا ایک خاص موضوع تھا۔ میں اس جلسےمیں اس بات پرخاص زور دیا کہ پارٹی اورریاستی حکومتوں کے درمیان گہری سمجھ اورحصے داری ہو۔ آپس میں دونوں کے بیچ مکالمہ رہےاوردونوں ایک دوسرے کو طاقت دیں ۔ مجھےاپنےبہت سےکارکنوں کےاحساس کا علم ہےکہ جب ہمارے رفقائےکار حکومت میں پہنچ جاتےہیں تو یہ سوچتےہیں کہ کارکن توہمارا ہے ہی ، وہ جائےگا کہاں ؟ یہ نقطئہ نظر تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ سمجھنا چاہیےکہ آخراقتدار کی اجازت تو پارٹی کو حاصل ہوتی ہےاورپارٹی ہی مرکز اورریاست کی حکومتیں بناتی ہے۔ ہم نے پہلی بار دہلی میں اپنی قسم کےدواجلاس کئے۔ دونوں کامیاب رہےاورمجھے خاص طور سےاس پراطمئنان ہے۔ پہلا اجلاس اکتوبر2002 میں خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ہوا اور دوسرا مارچ 2003 میں بلاک کانگریس صدوروں کا اجلاس تھا۔ ہم نے جولائی 2003 میں شملہ میں ایک چنتن شیور، منعقد کیا تھا۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اس میں ان تمام سیاسی اور اقتصادی چنوتیوں پر گہرائی سےغور وخوض کیا گیا تھا جو ملک اور پارٹی کو درپیش تھیں۔ اس طرح سے ملنا جلنا بھی اکثر ہونا چاہیے۔ ان سےخود احتسابی اور سنجیدہ غور وفکر کا موقع ملتاہے۔

 

پیڑھیوں کی بات کرتے ہوئے، مجھے یہ کہنےمیں کوئی جھجک نہیں ہے کہ کسی بھی پارٹی کے مقابلے میں ہماری پارٹی میں زیادہ نوجوان لوگ ذمےداری کی جگہوں پرہیں ۔ اسی طرح الگ الگ سماجی سطحوں سے، اوہر اٹھ کر ہمارے یہاں جتنےنوجوان ابھرکر آتے ہیں،اتنے اور کہیں نظر نہیں آتے ۔ ان کی طاقت اور حوصلے کو پورا بڑھاوا ملنا چاہیے ، جس سے وہ پارٹی کی بہتر خدمت کرسکیں۔ انہیں بھی چاہیے کہ فوری انتخابی اور سرکاری فائدوں کی خواہش کے بغیر پہلے اپنا وقت اور طاقت پارٹی کی طاقت کو مضبوط کرنے میں لگائیں۔ کڑی محنت سے ان کی پہچان ضرور بنے گی ۔ یقینی طورپر ہماری پارٹی میںبزرگ رہنما بھی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ تجربے اور نئے جوش وخروش کا انوکھا امتزاج ہے۔

 

آپ کو یاد ہوگا کہ ہماری ہی واحد پارٹی ہے جس نے1998 میں تنظیم میں خواتین کوتیس فی صد ریزرویشن دینےکیلئے، اپنےدستور میںترمیم کی ۔ لیکن یہ دیکھ کرمایوسی ہوئی، کہ ہم پوری طرح سےابھی اپنا یہ مقصد حاصل نہیں کرسکے ۔ اس کیلئےایک نئے عزم کی ضرورت ہے۔ انتخابات میں زیادہ خاتون امیدوار کھڑے کرنےکیلئے ، ہمیں اپنی سوچ میںتبدیلی لانی ہوگی۔ اسی طرح ریاستی قانون ساز اداروں اور پارلیمنٹ میں خواتین کو ایک تہائی جگہ دلانے کیلئے، ہمیں آئینی ترمیم کیلئےعام اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا اوراس کیلئے دوہری کوششیں کرنی ہوں گی ۔ اس موقع پر میں فخر کے ساتھ اس سماجی انقلاب کو یاد کرنا چاہتی ہوں جو پوری طرح راجیوجی کے نقطئہ نظر کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ پئچایتوں میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن ملا۔ آج پنچایتوں کے تیس لاکھ نمائندوں میں بارہ لاکھ سے بھی زیادہ منتخب خواتین ہیں۔ یہ تعداد 33 فی صد سے بھی زیادہ ہے۔

6

ساتھیو ! گذشتہ آٹھ برسوں کا عرصہ میرے لئے ایک طرح سے ایک دریافت کا عرصہ تھا۔

اس دوران ہماری جیت بھی ہوئی ہے اور کچھ جھٹکے بھی لگےہیں۔

لیکن ہمیں جیت سے نہ تو بہت خوش ہونا چاہیے اور نہ ہار سے زیادہ مایوس ہونا چاہیے۔

ہمارے سامنے بڑے بڑے کام ہیں صدر کانگریس کے طورپر مجھے اپنے کردار کا احساس ہے۔

آج ہم کئی ریاستوں میں اقتدار میں نہیں ہیں۔ وہاں اپنے سیاسی مخالفین کا سامنا کرنے کیلئے، کڑے تیور دکھانے ہونگے اورعام آدمی کےمسائل لگاتاراٹھانے ہوں گے۔ شمالی ہند میں ہماری واپسی بہت اہم ہے۔ اس کیلئے کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ یہ سب کی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ یہ ایک طویل اورمشکل جد وجہد ہوگی۔

 

میں مانتی ہوں کہ ان ریاستوں میں مجھےخود زیادہ دھیان دینا ہوگا، لیکن اسیطرح آپ کو بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ذاتی طورپرآپ کی بھی بہت بڑی زمےداری ہےاوروہ ذمےداری آپ کوکارگر طریقےسےادارکرنی ہوگی۔ پارٹی کےعہدے داروں کواپنی اپنی سطح پر، ہرریاست میں اپنی پارٹی کے کارکنوں، اورسماج کےسبھی طبقوں کےساتھ، براہ راست وابستہ ہوکرکام کرنا ہوگا۔ عہدے داروں اورقیادت کوزمینی سچائی سےواقف ہوکرہی فیصلہ کرنا چاہیے۔ عہدے داروں کوچاہیے کہ پارٹی کو اسی طرح تحریک دیں اوربنائیں جس سےہمارے کاموں اور پروگراموں کا فائدہ پوری پارٹی کو ملے، صرف کچھ افراد کو نہیں ۔

سماجی انصاف کیلئے جتنا کانگریس نے کیا ہے ، کسی دوسری پارٹی نے نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دلتوں ، آدیواسیوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کی توقعات بڑھی ہیں۔

 

ہمیں ان امیدوں کے تناسب میں انہیں موقع بھی دینا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، ہمیں لگا بار بار اس بات پر دھیان رکھنا ہو گا کہ ہماری پارٹی کی سب سےبڑی خوبی یہی ہے کہ ہم سماج کے تمام لوگوں کو ساتھ جوڑکر چلتے ہیں ۔ سماجی اتحاد قائم رکھتے ہوئے کمزور طبقوں کو با اختیار کرنے کا کام صرف کانگریس ہی کر سکتی ہے۔

 

حال میں نکسلی سرگرمیوں اورتشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ باعث تشویش ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پرمرکز اور ریاستی حکومتوں کو مل جل کرتال میل کے ساتھ ، موثر طریقےسے کام کرنا ہوگا۔ قانون اور نظم ونسق کےمعاملےکو سختی سے دیکھنا ہوگا۔ لیکن اس کےساتھ ہی ہمیں کچھ بنیادی سماجی واقتصادی سچائیوں کو بھی دیکھنا ہوگا، جن کی وجہ سے بے اطمئنانی پیدا ہوتی ہےاور بڑھتی ہے۔ قبائیلی علاقوں میں ترقی سے متعلق انتطامیہ کو زیادہ حساس اور انسان دوست طرزعمل کا حامل ہونا ہوگا۔ زمین سے متعلق معاملات اہم ترین ہیں۔ انہیں فوراً مناسب انداز سے حل کرنا ہوگا۔

گذشتہ دہائیوں کے دوران ہندستان نے جس طرح دہشت گردی کو جھیلا ہے ، ویسا شائد دنیا کے کسی دوسرے ملک کو نہیں جھیلنا پڑا۔ جو لوگ اپنی دہشت گردانہ حرکتوں سے ہمارے سماج کے تانے بانےکو تباہ کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف ہماری جدوجہد کسی بھی کمزوری کے بغیر جاری رہے گا۔ ہمیں اپنی خبرداری میں کوئی ڈھیل نہیں دینی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی ہماری صلاحیت لگاتار بڑھنی چاہیے۔ اس معاملے میں، سارے ملک میں ہمیں اپنی تیاریوں کا لگا تار جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔

 

قبائلی علاقوں اور شمال مشرق جیسے علاقوں میں فرقہ وارانہ تنظیموں کا پھیلنا ، صرف ہمارے لئے ہی نہیں، سارے ملک کیلئے باعث تشویش ہے۔

ہمارے شمال مشرق کی سبھی ریاستوں کی اپنی اپنی ایک الگ پہچان ہے۔ اندرا جی اور راجیوجی کا ان سے ایک خاص رشتہ تھا۔ حکومت اور پارٹی، دونوں سطح پر، ہمیں یہ کوشش کرنی ہوگی کہ یہاں عوام کا جو پیسہ خرچ ہو، اس کا فائدہ وہاں کے لوگوں کو ملے اور یہ صاف صاف نظرآئے ۔ لوگوں کو کّڑپن اور انتہا پسندی کی اس دہشت سے نجات دلانے کیلئے، حکومتوں ، سماج اور سیاسی پارٹیوں کو مل جال کر کام کرنا ہوگا۔

 

اب میںجموں اور کشمیر پر کچھ لفظ کہنا چاہتی ہوں ۔ تین سال پہلے جموں و کشمیر کی ہماری بہادر بہنوں اور بھائیوں نےہرطرح کی مشکلوں کاسامنا کرتے ہوئے زوردار طریقے سے ملک کی جمہوریت پر اپنا اعتماد جتایا ۔ انہوں نے کانگریس ، پی ڈی پی اورہم خیال پارٹیوں پریقین کیا۔

 

ہماری پارٹی کے کارکنوں نے جس طرح بلند حوصلے کے ساتھ کام کیا ،اس کیلئےمیں انکا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ وہاں لوگوں کی امیدوں اورخواہشوں کے مطابق انسانی جذبے کے ساتھ چلنا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مرکزی سرکار کے تعاون سے، کانگریس کی قیادت میں، ہمارا اتحاد اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کامیاب ہوگا۔

7

میرے ساتھی کانگریس کے بھائیو اور بہنو ! اس قسم کا اجلاس ایک تقریب جشن بھی ہےاورغوروفکر کا لمحہ بھی۔ یہ جس قدرخود اپنےآپ کو مبارکباد دینےکا موقع ہےاسی قدرخود احتسابی کا بھی ۔ یہ جتنا اب تک کے سفر پر نگاہ ڈالنے کا موقع ہے اتنا ہی پیش قدمی کرنے کا بھی ۔

ہم اپنے ماضی سے تحریک حاصل کرتے ہیں ۔

ہم اپنی تاریخ سے اعتماد حاصل کرتے ہیں۔

 

ہمیں ان تمام ذمے داریوں کا شعور ہے جوہم پر عائد کی گئی ہیں ۔

ہم ان تمام جیلنجوں سے آگاہ ہیں جو ہمیں درپیش ہیں۔

 

آئیےآج ہم ان ذمےداریواں کوانجام دینےکیلئےاپنےعزم کو تازہ کریں، اس انداز سےکہ ہرایک ہندستانی کیلئے سلامتی، خوشحالی اوروقار کی زندگی کو یقینی بنایا جاسکے۔

آئیےآج ہم ان جیلنجوں کا سامنا پورے اتحاد، فوری ضرورت کےاحساس اور پختہ ارادے کےساتھ کرنےکےعزم کی تجدید کریں ۔ صرف اس طرح ہم ہندستانی سیاست میں اپنی غالب اورطاقتور حیثئیت کو تقویت دے سکتے ہیں۔ !

 

جئے ہند


 

 آئین

منشور 2004

حفاطتی ایجنڈا

گذارش

 اقتصادی ایجنڈا

چارج شیٹ

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ 21اگست 2004

بھارت کا نیو کلیئر توانائی پروگرام اور امریکہ کے ساتھ 123 عہد نامہ

قرض معافی بڑھ کر72,000 کروڑ روپئے ہوئی
کانگریس کا ہاتھ، انّداتا کے ساتھ

اے آئی سی سی میٹنگ 17 نومبر 2007 تالکٹورا اسٹیڈیم، نئی دہلی

جناب راہل گاندھی جی کا مرکزی بجٹ پر پارلیمنٹ میں تقریر 08 - 03  - 13

82 واں مکمل اجلاس، حیدرآباد

آرکائیوز