پہلااجلاس بمبئی، 1885 صدر بومیش چندر بنرجی جنرل سکریڑی اے۔ او۔ ہیوم جناب بومیش چندربنرجی کی پیدائش 1844میں ہوئی۔ابتدامیں انہوں نےبنگال میں ایک رسالہ نکالاتھا۔1864میں انہیں جیجابھائی تعلیمی وظیفہ ملا۔ اسکے بعد وہ لندن گئے۔ 1867میں بارمیں آنےکا دعوت نامہ ملا۔1868میں کلکتہ ہائیکورٹ میںوکالت شروع کی۔ جلدہی اعلی عہدے پر پہنچ گئے۔ بنگال اسمبلی ہاؤس کے لئے یونیورسیٹی کی طرف سےانکا انتخاب ہوا۔ کانگریس کے پہلےصدر ہونےفخر 1885 میں انہیں حاصل ہوا۔ اس کے بعد کانگریس کے دیگر اجلاسوں میں وہ اہم کردار اداکرتے رہے۔1889 میں لندن جانے والے کانگریس گروپ کے رکن رہے۔ 1906میں انکا انتقال ہوا۔ یہ اجلاس پونامیں ہونا تھا، لیکن وہاں مہلک مرض پھیل جانےکی وجہ سےنہ ہوسکا۔اسلئےیہ اجلاس بمبئی میں کیاگیا۔28دسمبر 1885کوبمبئی کی جگہ گوکل داس تیجپال سنسکرت کالج کےہال میں12بجےعظیم قومی اجتماع،کانگریس کا پہلااجلاس شروع ہوا۔ منظم طریقےسےاستقبالیہ کمیٹی نہیںبنائی گئی تھی۔ جناب ہیوم کےمشورےپرجناب ایس۔ سبرامنییم اییئرکی گذارش اورجناب کاشی ناتھ تریمبک تیلنگ کی حمایت پرجناب بومیش چندر بنرجی نےمسند صدارت کوقبول کیا۔ جناب بنرجی نے اپنی تقریر میں کانگریس کےنظریوں کے بارےمیں جلسہ کوجانکاری دی۔ انہوں نےکانگریس کےجونظریے پیش کئےوہ یہ ہیں۔ 1۔ پورے ملک کےکئی حصوں کےان مخصوص صوبوںمیں ذاتی طور پررشتہ اوردوستی بڑھانا، جو ہمارے ملک کےفائدے کیلئے جی جان سے کوشش کررہے ہیں۔ 2۔ ہمارے ملک کےمخصوص۔۔۔۔۔۔۔۔ذاتی، فرقہ پرستی یا صوبے سے متعلق جانبداری کو ترک کرنا، اور قومی یکجہتی کی ان جذبوں کو زیادہ اہیمیت اور بڑھاوا دینا، جن کی جڑ لارڈ رپن کے دور اقتدار میں پڑی۔ 3۔ صرف الزام تراشی کے بجائے کچھ زیادہ اہم اور بے حد ضروری سوال عامہ پر ہندستان کے تعلیم یافتہ طبقے ۔۔۔۔۔ 4۔ وہ ضرورتیں اور حل طئے کرنا، جن کے تحت آنے والے 12 سال میں ملک کا عظیم جلسہ، کانگریس کے پہلیے اجلاس میں کل 72 اراکین آئے تھے۔ انکےعلاوہ اور بھی خاص لیڈر وہاں تھے،کئی لوگ سرکاری خدمت میں ہونے کی وجہ کر اس عظیم جلسہ میں اہم تعاون تو نہیں دے سکتے تھے، لیکن انکی مکمل حمایت اس جلسہ کے ساتھ تھی ، انمیں خاص کر مدراس کےدیوان بہادر، آر۔ رگھوناتھ، پونا کے خلیفہ جج جناب مہادیو گووند راناڈے، اگرہ کے لالا بیج ناتھ اور جناب آر۔ جی۔ بھنڈارکر کے قابل ذکر ہیں۔ دوسرا اجلاس، کلکتہ 1886 صدر۔ دادابھائی نوروجی صدراستقبالیہ۔ ڈاکڑ راجندرلال متر جنرل سکریڑی۔ اے۔ او۔ ہیوم شرکاء۔ 406 دادابھائی کی پیدائش 1825میں ہوئی۔ انکا تعلیم بڑا روشن رہا۔ 1845میں وہ الفنسٹن کالج میں پروفیسر ہوئے۔ کئی تنظیموں کوانہوں نے قائم کیا۔ 1851میں گجراتی زبان میں ہفتہ وار‘‘نرم گفتار‘‘نکالناشروع کیا۔ 1867میں ایسٹ انڈیااسوسییشن بنائی۔اسی دوران لندن کےایک کالج میں گجراتی زبان کے پروفیسر بنے۔ 1869میں ہندستان واپس آئے یہاں پرانکا 3 ہزارروپئےکی تھیلی اورتعظیمی سند سےاستقبال کیا گیا۔ 1885میں بمبئی اسمبلی ہاؤس کےرکن بنے۔ 1886ہالبرن علاقے سے پارلیمنت کےلئےانتخاب میںحصہ لیا،لیکن ناکام رہے۔1886میںفنسبری علاقےسے پارلیمنٹ کےنامزد کئے گئے۔ پاورٹی اینڈ انبریٹش رول ان انڈیا‘ نام سےایک کتاب لکھی جو اپنےوقت کی نایاب تحریر تھی۔ 1886 و1906میں وہ کل ہند کانگریس کےصدر بنائےگئے۔ 1917مین انکاانتقال ہوا۔ خلاصہ ۔ کانگریس کا دوسرا اجلاس 28 دسمبر، 1886 میں کلکتہ میں شروع ہوا۔ ڈاکڑراجندر لال متر استقبالیہ کمیٹی کے صدر تھے۔ اس اجلاس میں رکن، تنظیموں اورعام جلسوں کے ذریعہ منتخب کئے گئے تھے۔ تمام 500 اراکین میں سے 406 نے اس اجلاس میں شریک ہوئےتھے۔ صدر جناب نوروجی نےاپنی تقریر میں کہا ک ہمیں صرف انہیں سوالوںپر تبادلئہ خیال کرنا ہے،جنکا تعلق پورے ملک سے ہے،ملک کےکسی ایک سماج یا فرقے سے نہیں ۔ حالانکہ صرف سیاسی سوالوں پر ہی تبصرہ کرنااس تنظیم کے لئے ممکن نہیں ہے۔ جلسہ میں تمام 15تجاویز جاری کئے گئے۔ تیسرا اجلاس مدراس، 1887 صدر۔ جناب بدرالدین طیب جی صدر استقبالیہ ۔ راجہ سر ٹ۔ مادھوراؤ جنرل سکریڑی۔ جناب اے۔ او۔ ہیوم شرکاء۔ 607 جناب بدرالدین طیب جی کی پیدائش 1844 میں ہوئی۔ لندن میں تعلیم حاصل کی۔ 1880میں انجمنِ اسلام کے وزیرمقررہوئے۔ اپریل 1867 میںوکالت شروع کی۔ بعد میں بارکےصدر بنے۔ بمبئی پریسیڈنسی اسوسییشن کےصدر بنے۔ کانگریس کےقیام میں بڑااہم تعاون رہا۔ 1895میں بمبئی ہائیکورٹ میں منصف کے منصب پرتقرری ہوئی۔ خلاصہ۔۔۔۔ اس اجلاس میں607منتخب اراکین نےحصہ لیاسامعین کی تعداد تقریبا 3000 تھی۔ جناب طیب جی نےصدرجلسہ کےمنصب سےاپنی تقریرمیں کہا کہ مسلمان کانگریس سےنالاں نہیں ہیں۔ اس اجلاس میں تمام11اعللامیہ منظورکئے گئے۔ پہلےمنشور کےذریعہ کانگریس کےکام کرنےطریقےاورعمل آوری سےمتعلق قوائد کی تحریری شکل کے لئے کمیٹی بنائی گئی۔ 9 ویں رائے کوعمل میں لانے کے لئے کمیٹی کا قیام ہوا۔ صدر اجلاس نے جلسہ کو مطلع کیا کہ پروگرام طئے کرنے اور زیر غور مسلہ کو مطئین کرنے کے لئے کمیٹی بنادینا مناسب ہوگا۔ چوتھا اجلاس الہٰ آباد، 1888 صدر ۔ جارج یُل صدر استقبالیہ۔ پنڈت ایودھیاناتھ جنرل سکریڑی۔ جناب اے۔ او۔ ہیوم شرکاء۔ 1248 جناب جارج یُل کلکتہ کےنامی گرامی تاجر تھے ۔1888میں کانگریس اجلاس کے صدر منتخب ہوئے۔ کانگریس پروگراموں میں انکی گہری دلچسپی تھی 1890 و 1891 میں ہوئے اجلاس کی کامیابی میں انکا تعاون بڑا اہم تھا۔1892 میں انکا انتقال ہوگیا۔ کانگریس جلسوں کی شروع میں تعاون دینےوالے لارڈ ڈفرین اب اسےغدّارِ وطن تنظیم کہہ رہےتھے۔ نہیںحالات میں اس اجلاس کےانعقاد میں کافی دقّتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سب پریشانیوں کا سامنا کرتے ہوئے پنڈت ایودھیاناتھ نے اس اجلاس کا اہتمام کامیابی سے کیا۔ ملک کے تقریبا 30 لاکھ لوگوں نے اسمیں شامل ہوئے اور تقریبا 1248 اراکین اسمیں آئے۔ شیخ رضا حسین خاں نے فرمان جاری کیا کہ مسلمان کانگریس کے ساتھ ہوں۔ پانچواں اجلاس بمبئی، 1889 صدر ۔ سر ولیم بیڈربرن صدر استقبالیہ سر فروزشاہ مہتا جنرل سکریڑی۔ جناب اے۔ او۔ ہیوم شرکاء 1889 جناب ولیم بیڈربرن کی پیدائش 1836میں ہونی۔ انہوںنےجناب ہیوم کےساتھ ملکرہند ستان میں سیاسی بےاطمئنانی کودورکرنےمیں اہم کردار اداکیا۔ وہ ائی۔ سی۔ ایس۔ کےممبر تھے۔ 1889 و 1910 میں کانگریس کےصدر بنے۔ کانگریس کوُمسلم تعاون دلوانےمیں غیرمعمولی تعاون کیا۔کئی کتابوں کےمصنف اور ہندستان کی عظمت کو سامنے رکھنےکیلئے وہ ہمیشہ جدوجہد کرتے رہے۔ 1918میں انکا انتقال ہوا۔ اس وقت کانگریس کوعوامی مقبولیت حاصل ہوچکی تھی۔ اس اجلاس میں انگلینڈ کی پارلیمنٹ کےممبر جناب چارلس براڈلا شامل ہوئےتھے۔ اس بار 15 منشور جاری ہوئے۔ انمیں سےزیادہ ترکاؤنسلوں کی بہتری،انصاف اورانتظامیہ کےجانبداری،اعلی سرکاری ملازمت کےامتحان ہندستان میںبھی انتظام کرنےسے متعلق پر مشتمل تھے۔ لیکن ایک رجحان بڑااہم تھا۔اسکےمطابق حکومت سےکہا گیا تھا کہ وہ مالگذاری کا مستقل کوئی بندوبست کرے۔ شرکاء کی تعداد دیکھ کرطئےکیا گیا کہ ہرایک 10 لاکھ کی آبادی میں 5 اراکین منتخب کئےجائیں۔ جناب اے۔ او۔ ہیوم جنرل سکریڑی اور پنڈت ایودھیاناتھ جوائنٹ مقررکئےگئے۔ انگلینڈ میں عظیم جلسہ کا کام کرنے کے لئے 6 انگریز اوردادابھائی نوروجی کی ایک کمیٹی بنائی گئی۔ چھٹا اجلاس کلکتہ 1890 صدر۔ سر فروزشاہ مہتا صدر استقبالیہ۔ منموہن گھوش جنرل سکریڑی جناب اے۔ او۔ ہیوم و پندڈت ایودھیاناتھ شرکاء ۔677 سرفروزشاہ مہتاکی پیدائش 1845 میں ہوئی۔ 1846 میں وہ انگلینڈ گئے، بار کےممبر بنے۔ بمبئی نگرپالیکا کے رکن بنے اور کئی سالوں تک کام کیا۔ بمبئی پریسیڈنسی اسوسییشن کے بانی صدر رہے۔ شروع سے ہی کانگریس سے وابسطہ رہے۔ 1886 میں بمبئی اسمبلی ہاؤس کے رکن منتخب ہوئے۔ 1893 میں امپریل اسمبلی ہاؤس کےممبر منتخب ہوئے۔ غیر مقیم ہندستانیوں کے حق کے لئے ہمیشہ سے ہی فکر مند رہے۔ انہوں نے سنڑل بینک آف انڈیا کا قیام کیا 1911 میں کیا۔ بمبئی کاؤنسل کا قیام 1913 میں کیا 1915 میں انکا انتقال ہوگیا۔ اس اجلاس میں15رجحان جاری کیا گیا۔ ہندستان سے پیارکرنےوالےجناب برلارڈ نےکاؤنسلوں کےبہتری اوروسعت کےسلسلےمیں بریٹش پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا تھا۔ اسے کانگریس نے پسند کیا اوراسے منظورکرنے کےلئے پارلیمنٹ کو گذارشی خط بھیجا گیا۔ ساتواں اجلاس ناگپور، 1891 صدر۔ پی۔ آنند چارلو صدر استقبالیہ۔ سی۔ نارائن سوامی نائڈو جنرل سکریڑی۔ اے۔ او۔ ہیوم، پنڈت ایودھیاناتھ شرکاء۔ 812 پی۔ آنند چارلوکی پیدائش 1843میں ہوئی۔ 1885میں بمبئی میں ہوئےوالےپہلےاجلاس میںرکن کی حیثیت سےانہوںنےشرکت کی تھی۔آخری سانس تک وہ کانگریس کےمتحرک رکن رہے۔ 1895،1903 تک امپریل اسمبلی کےممبر رہے۔ شخصی آزادی کےلئےجدوجہد کرتےرہے۔ 1908 میں انکا انتقال ہوا۔ اس اجلاس میں 18اعلانییہ جاری کئے گئے۔ گذشتہ سال کے بنسبت رواںسال میں بھی بریٹش کانگریس کمیٹی کے لئے40 ہزار اور کانگریس جنرل سکریٹی کے لئے6 ہزار روپئے خرچ کرنےکا انتظام کیاگیا۔ ملک میںبڑھتی غریبی، اسلحہ قانون اور دوسرے مسئلوں پرتشویش ظاہرکی گئی۔ آٹھواں اجلاس الہٰ آباد ، 1892 صدر اومیش چندر بنرجی صدر استقبالیہ پنڈت بشومبھرناتھ جنرل سکریڑی اے۔ او۔ ہیوم، پنڈت آنند چارلو شرکاء۔ 625 اس اجلاس میں 22 اعلامیہ جاری کئے گئے۔ اسی سال پنڈت ایودھیاناتھ کا انتقال ہوگیاتھا۔ اکی جگہ پندت آنند چارلو جنرل سکریڑی نامزد کئے گئے۔ اس سال بریٹش پارلیمنٹ نے ہندساتان کے جلسئہ انتظامیہ کی بہتری کا ایک قانون منظورکیا تھا۔ مگر کانگریس اس سے مطمئن نہیں تھی۔ کانگریس نےاس پراپنے رنج کا اظہار کیا۔ پبلک سروس کمیشن پرشائع کی گئی رپورٹ پر کانگریس نے احتجاجی خط‘ ہاؤس آف کامرس کوبھیجا۔ نواں اجلاس لاہور، 1893 صدر دادابھائی نوروجی صدر استقبالیہ سردار دیال سنگھ مجیٹھیا جنرل سکریڑی اے۔ او۔ ہیوم شرکاء۔ 1163 اس اجلاس میں23اعلانیہ جاری کئےگئے۔ خاص یہ ہےکہ اس اجلاس میں جرح کالفظ پہلی باراستعمال ہوا۔ابھی تک کانگریس کی لفظی التجا، گذارش معذرت تک ہی محدود تھی۔اس اجلاس میں زوردیا گیا کہ حکومت ۔۔۔۔۔۔ دورکرے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری اورغریبی پر تشویش ظاہرکی گئی۔ پنجاب میں ہائیکورٹ کی مانگ ایک تجویز میں رکھاگیا۔ د سواں اجلاس مدراس، 1894 صدر جناب الفریڈ بیب صدر استقبالیہ۔ جناب پی۔ رنگیّا نائدو جنرل سکریڑی۔ جناب اے۔ او۔ ہیوم شرکاء۔ 1163 ہاؤس آف کامرس کےآئرش ممبر، جناب الفریڈ بیب ہندستان سےتہہ دل سے جڑے ہوئےتھے۔آئرش آزادی کےحمایتی جناب بیب کے کاموں کااحاطہ جناب نوروجی اورجناب ڈبلو۔ سی۔ بنرجی نے بڑے تعریفی لفظوںمیں کی ہے۔ انکی وفات 1908میں ہوئی۔ اس اجلاس میں کل27 پرستاؤ جاری کئے گئے۔ مستقل بندوبست، غریبی، فوج، خرچ، اعلی ملازمت، منظم جلسے،انصاف اور انتظامیہ کا ۔۔۔۔ ہندستانی ملوں کےبنےہوئےکپڑے پرٹیکس،اخبارپر پابندی،پانی اورجنوبی افریقہ کےمہاجروں کی حق تلفی کےموضوع پرہندوستانی قومی کانگریس نے تجویزجاری کئے۔ گیارھواں اجلاس پونا، 1895 صدر جناب ُسریندرناتھ بنرجی صدراستقبالییہ۔ جناب وی۔ ایم بھنڈے جنرل سکریڑی جناب اے۔او۔ ہیوم،جناب ڈی۔ ای۔ باچا شرکاء۔ 1584 جناب بنرجی کی پیدائش1848میں ہوئی1871میں انڈین سول سروس کاامتحان پاس کیا۔ رپین کالج کوقائم کرنےسے پہلےوہ انگریزی کےپروفیسر تھے۔انڈین اسوسییشن کےممبر رہے۔ پورے ہندستان کاسفر کرکےنئےخیالوں کوپھیلانےوالےوہ پہیلےشخص تھے۔1880میں انگلینڈ گئے۔ وہاں سےواپس آنےکےبعد بنگال اسمبلی ہاؤس کےممبر مقررہوئے۔ کانگریس کےصدر 1895اور1902میں رہے۔ بنگال بٹوارے کےمخالف لیکن غیر معاون احتجاج کےحمایتی نہیں تھے۔1907میں کانگریس بٹوارےمیں اداروادیوں کےساتھ رہے۔ 1919،21میںمقامی خودحکمرانی میںوزیر بنائے گئے۔ 1923میں کلکتہ نگرپالیکا قانون کولایا اور جاری کیا۔ ‘‘اے نیشن ان میکنگ ‘‘ کتاب انہوں نے لکھی۔ 1925میں انکا انتقال ہوا۔ اس اجلاس میں 26 پرستاؤ جاری ہوئے۔ ایک پرستاؤ کے ذریعہ جنوبی افریقہ میں غیرمقیم ہندستانیوں کی قابل رحم حالت پراحتجاج ظاہر کیا گیا۔ اس اجلاس میںمقبول عام بال گنگادھرتلک اورجناب گووند مہادیوراناڈےمیں اختلاف سامنےآئے،لیکن راناڈے کےمصلحت پسند روئیےسےاختلاف زیادہ دیرنہیں رہ سکا لیکن کانگریس بٹوارے کےاثاراس اجلاس میں ضرور نظرآے۔ بارہواں اجلاس کلکتہ، 1896 صدر۔ جناب رحمت اللہ سیانی صدراستقبالیہ، سر رمیش چندر مترا جنرل سکریڑی، اے۔ او۔ ہیوم، جناب ڈی۔ ای۔ واچا شرکاء، 784 جناب رحمت اللہ سیانی1846 میں پیداہوئے۔ حصول تعلیم میں آئی ساری رکاوٹیوں کو عبورکیا اور ایم۔ اے۔ ایل۔ ایل۔ بی تک تعلیمی اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔ بمبئی یونیورسیٹی سےتعلیمی وظیفہ حاصل کیا اور بعد میں سنڈیکیٹ کے رکن بنے۔ 1876 میں بمبئی کارپوریشن کے ممبر اور 1888 میں اسکے صدر رہے۔ انجمنِ اسلام کےوزیراور1888میں ہی بمبئی اسمبلی کے ممبرنامزد ہوئے۔ 1896میں امبریل اسمبلی کے رکن بنے۔ 1902 میں اس دار فانی کو الوعدہ کہہ گئے۔ کانگریس میں پہلی بارآسام کے چائے باغانوں میں کام کرنے والے قلیوں کی خستہ حالت پرنظرڈالی گئی۔ صوبائی سرکاروں کے تعلق سے بھی اس سال کانگریس نےاپنا نظریا پیش کیا۔ ایک مشورہ میں کہا گیا کہ کونی صوبائی ریاست گیرحکومت کے ذریعہ اسوقت تک مسند سےاتارا نہ جائے جب تک کھلی عدالت میں تسلی بخش حالت پروہ اس لائق سند یافتہ نہ ہوجائے۔ تیرھواں اجلاس امراوتی، 1897 صدر، جناب سی۔ شنکر نائر صدر استقبالیہ، جناب گنیش، جناب کرشنا کھاپڑے جنرل سکریڑی، جناب ای۔ او۔ ییہوم، جناب ڈی۔ ای۔ واچا شرکاء،692 جناب شنکرنائرکی پیدائش1857میں ہوئی۔ وکالت اوراخبارسےمنسلک رہے۔ مدراس ریویواورمدراس لاءرسالہ کی تصنیف۔ مدراس اسمبلی میں 1890میںمنتخب ہوئے1908میںمدراس ہائیکورٹ کےجج مقررکیےگئے۔1915میںوائسرئےکی کارگذارکمیٹی کےممبرہوئے۔ پنجاب میںظلم کیخلاف استعفی دیدیا۔عدم تعاون احتجاج کی انہوں نےمخالفت کی اور،گاندھی اورشہنشاہیت‘نام سےکتاب لکھی۔ سائمن کمیشن کی انہوںنےحمایت کی۔ 1934میں انکا انتقال ہوگیا۔ اس اجلاس میں 21 رجحان جاری ہوئے۔ نئےزمانے کے مدّ ِنظرتین تجاویز اہمیت کے حامل تھے۔ پہلے مشورے میں ہندستانی حکومت کی مغربی پالیسی کی مزمت کی گئی اورکہا گیا کہ وہاں کی فوجی کارروائی کاخرچ ہندستان پرنہ ڈالا جائے۔ پونا میںپھیلےپلیگ اورانتظامیہ کی زیادتیوں کی بھرپورمخالفت کی گئی۔ صدر نےرنج ظاہرکیا۔ مقبول عام تلک کی گرفتاری پرحکومت کیطرف سےانہیں چھوڑنے کیلئےایک رجحان پیش کیا گیا جو جاری نہ ہوسکا۔ چودھواں اجلاس مدراس، 1898 صدر، جناب آنندموہن بوس صدراستقبالیہ، جناب این۔ سُباّ راؤ پنتولو جنرل سکریڑی، جناب اے۔ او۔ ہیوم، جناب ڈی۔ ای۔ واچا شرکاء، 614 علمی لیاقت کے مالک جناب جوس ریاضی کےپروفیسر تھے۔ بعد میں وہ اگلینڈ چلے گئے۔ کیمبرج یونین کے صدررہے۔ 1874میں ہندستان بیرسٹر کی حیثیت سے واپس آئے۔ آسام میں انکے چائے کے باغات تھے۔ بنگال اسمبلی ے مبر 1886 مین نامزد کئےگئے۔ 1895میں یونیورسیٹی کی طرف سے منتخب ہوئے۔1906 میں انکا انتقال ہوگیا۔ لارڈ کرزن ہندستان کےوائسرائے بنکر آئےتھے۔ صدرجلسہ نےانکےاستقبال نظریہ جاری کیا۔ جنوبی افریقہ کےغیر رہائشی ہندستانیوں سے ساتھ کئے جارہے ناروابرتاؤاوراخباروں کی آزادی اورتقریروں پر پابندی پر بنے قانونوں پر رنج رائےعامہ کی طرف سےرنج ظاہر کیا گیا۔اس سال صدراجلاس نےاپنے صوبائی ،علاقائی کمیٹیوں سےاپنےاپنے صوبے میں مرکزی کمیٹیاں بھی قائم کرنے کو کہا۔ پندرھواں اجلاس لکھنئو،1899 صدر، جناب رمیش چندر دت صدراستقبالیہ، جناب بنسی لال سنگھ جنرل سکریڑی، جناب اے۔ او۔ ہیوم، جناب ڈی۔ ای۔ واچا شرکاء۔ 789 جناب رمیش چندردت کی پیدائش 1848میں ہوئی۔ 1869میں انڈین سول سروس میں داخل ہوئے۔ 1897میں آئی۔ سی۔ ایس۔ کے سے استعفی۔ پجنڑی آف بنگال، ہسٹری آف لیٹریچر آف بنگال، شرگدیو کا ترجمہ،اسکےعلاوہ دیگر کتابیں شائع کیں۔ یونیورسیٹی کالج میں تاریخ کے پروفیسر کی حیثیت سےانہوں نے کام کیا۔ پہلےماہرمعاشیات تھے،جنہوں نے‘انڈین ایگورین‘ پرکتاب لکھی۔ انکا انتقال 1909میں ہوا۔ اس اجلاس میں کل 21اعلامیہ جاری کئے گئے۔ اس سال ایک نئی چیزمنظورہوئی۔ اسمیں کانگریس کا مقصد وید حل کے ذریعہ ہندستان باشندوں کے حقوق کو مزید بڑھانامطئین کیاگیا۔ مقامی کانگریس کمیٹیوں نظم کے ذریعہ سیاسی شعورکی تشہیر کیلئےصوبائی کانگرس کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ انکا مقصد سیاسی تعلیم دینے کاتھا۔ سولہواں اجلاس لاہور، 1900 صدر، جناب این۔ جی۔ چندررواکر صدر استقبالییہ، رام کالی پرسنا رائے بہادر جنرل سکریڑی جناب ای۔ او۔ ہیوم اور ڈی۔سی۔ واچا شرکاء۔ 567 جناب جی۔ چندراواکرکی پیدائش1855میں ہوئی۔ وہ1878سے1889 تک‘‘ہندوپرکاش‘‘کےایڈیڑرہے۔ 1881میںوکیل بنےکامیاب وکالت کی۔ کانگریس کےوفد کےساتھ1886میں انگلینڈ گئے۔ بمبئی یونیورسیٹی کےفیلواورامَن کےمنصف نامزدہوئے۔ راسخ العقیدہ برہموسماجی اوردعائیہ سماج کےمظبوط شہطیرتھے،مدراس ہندوسماج اصلاح جلسہ کاسالانہ انعقاد اور1886کےعلاقائی جلسہ کےکراچی اجلاس کےصدربنے1887میں یونیورسیٹی کےذریعہ بمبئی اسمبلی میںمنتخب ہوئے۔1899میںدوبارہ نامزدگی ہوئی۔ 1900میں کل ہند کانگریس تنظیم کےلاہوراجلاس میںصدرمقررہوئے۔ 1909میںچیف منصف بنے۔ 1914میں اندورکےدیوان بنے۔ بمبئی یونیورسیٹی کےنائب چانسلربنے۔ مانٹگیوچیمسفورڈاصلاح کی حمایت۔ بمبئی اسمبلی کے پہلےصدر بنے۔ وہ ایک عظیم سماجی اصلاح کاراورجدت پسند تھے۔ 1923میں وہ اس دینا کوچھوڑکرچلےگئے۔ کانگریس آئین میں نئی تبدیلی۔ مسلمانوں کی گذارش پرپنجاب اراضی قانون پرغوروفکر برخواست۔ سترھواں اجلاس کلکتہ، 1901 صدر، جناب دنشا ایدُل جی واچا صدراستقبالیہ نیٹور کے مہاراجہ بہادر جوگیندرناتھ رائے جنرل سکریڑی، اے۔ او۔ ہیوم اور دی۔ ای۔ واچا جناب دنشا ایدُلجی واچا کی پیدائش 1844میںہوئی۔ 30 سال تک بمبئی کارپوریشن کےصدر رہے۔ 45 سال تک بمبئی مل مالک تنظیم کے صدر رہے۔ 1898سے 1919تک امپاورمنٹ ٹرسٹ کے ممبررہے۔ شروع سے ہی کانگریس سے وابسطہ رہے۔ 1896،1913تک کانگریس کے جوائنٹ جنرل سکریڑی رہے۔ 1901میں کل ہند قومی کانگریس کےصدر بنے1895سے 1915تک بمبے پریسیڈنسی اسوسیشن کےسکریڑی رہے،1915 سے 1918تک اسی تنظیم کے سدر رہے۔ 1915،1916میں بمبےاسمبلی کےممبر بنےاور 1916سے1920 تک امپریل اسمبلی کےممبر رہے۔ 1920 میں ہندستانی امپریل بینک کے گورنر بنے۔ 1919میں بعد کانگریس چھوڑدی۔ 1919سے 1927 تک مغربی ہندستان کی لبرل اسوسییشن کے سدر رہے۔ 1922 میں بمبئی علاقائی لبرل جلسہ کے صدر بنے۔ 1920 میں راجیہ سبھا کے رکن بنے۔ 1936 میں انکا انتقال ہوگیا۔ کئی اہم موضوع پرغوروفکرکیاگیا ہندستان میں بریٹش حکومت کےحساب میں لاکھوں روپئےڈالنےپرتنقید کی گئی۔ اٹھارواں اجلاس احمد آباد، 1902 صدر، جناب سُریندرناتھ بنرجی صدر استقبالیہ، دیوان بہادر امبالا، شنکرلال ڈیسائ جنرل سکریڑی، اے۔ ای۔ ہیوم اور دی۔ ای۔ واچا شرکاء۔ 461 اس سال رانی وکٹوریاکی جگہ پرایڈورڈ ساتویںمسند نشیں ہوئے۔ معاشی تنگی، قحط اوراقتصادی حالت کی جانچ کیلئےاعلانیہ جاری کئےگئے۔ کانگریس نےہندستان میںبریٹش فوجوں کےحساب میں 4لاکھ86 ہزار پونڈکےمستقل بوجھ کےنئےمنشورکی کھل کرمخالفت کی۔ یونیورسیٹی کمیشن کی تنقیدی سفارشوں کی بھی برائی کی۔ انیسواں اجلاس مدراس، 1903 صدر، جناب لال موہن گھوش صدراستقبالیہ، نواب سید محمد بہادر جنرل سکریڑی، اے۔ او۔ ہیوم اور دی۔ ای۔ واچا شرکاء۔ 538 جناب لال موہن گھوش کی پیدائش1949میں ہوئی۔ وہ کلکتہ میں بیرسٹر بنے۔ 1879میں انڈین اسوسییشن کےوفد کولیکرانگلینڈ گئے۔ البرٹ بل کے مذاکرہ میںحصہ لیا۔ بہت جذباتی اورموثر مقرر۔ ایک معتدل کی حیثیت سےوہ دوبارانگلش پارلیمنت کی رکنیت کے لئےقسمت آزمائی لیکن ناکام رہے۔ 1884میں ہندستان واپس آئےاوروکالت شروع کردی۔ 1892میں ہندستانی اسمبلی کےممبر بنے۔ 1903میں کل ہند کانگریس تنظیم کے صدر بنے۔ یونیورسیٹی کی آزادی کوبربادکرنےوالا لارڈ کرزن کی تنقید ی مضمون یونیورسیٹی قانون شائع ہواتھا۔ قانون کےخلاف مخالفت۔ دفتری پوشیدہ ایکٹ کوشخصی طورپرآزادی کیلئےخطرناک اعلان کرکےفوراًمخالفت کی گئی۔ ہندستان مین بریٹش فوج پالیسی اورہندستانی ٹیکس دہندہ پرفوجی چھاؤنیوں کےخرچ کےبارے میں ایک خاص تجویزرکھی گئی۔ بیسواں اجلاس بممئی، 1904 صدر، سرہینری کارٹن صدراستقبالیہ سرفروز شاہ مہتا جنرل سکریٹری، اے۔ او۔ ہیوم، دی۔ ای۔ واچا، اورجی۔ کے۔ گوکھلے شرکاء۔ 1010 سرہنری کارٹن کی پیدائش 1845میں بمبئی میں ہوئی۔ انکی تعلیم انگلینڈ میں ہوئی 1867میں آئی۔ سی۔ ایس۔ میںداخلہ۔ وہ 11سال تک مدناپورمیں ضلع مجسٹریٹ رہے۔ انہوںنےدوسرے ذمہ دارعہدے بھی سمبھالے۔ وہ بنگال حکمومت کےمخصوص سکریٹری،امورداخلہ ممبررہے۔آسام کے چیف کمشنرکی شکل میں انہوں نےعہدہ سمبھالا۔1885میں نیوانڈیا( جدید ہندستان)شائع کیا۔ ہندستان سےانکی ہمدردی اورلارڈکرزن سےاختلاف کی وجہ وہ گورنرنہیں بن سکے۔1904میں کل ہند کانگریس تنظیم کےصدر بنے۔ 1905میںوہ بریٹش پارلیمنٹ کےممبرنامزد کئےگئے۔1915میں انکا انتقال ہوگیا۔ کانگریس نے لارد کرزن کےتبّت تحریک اور ہندستانی عوام پر اسکی بوجھ کا اعللاعلان مخالفت کی۔ اس نےتبّت، افغانستان، فارس کی آئندہ پالیسی اور غیرملکی الجھنوں میں ہندستان کوپھنسانے کی پالیسی پربھی احتجاج کیا۔ ایک کروڑ پونڈ کے مزید خرچ کے نتیجے میں لارڈ کچرن کے دوبارہ قیام کےمنصوبےسےفوجی خرچ اوربڑھ جائیگا۔ کانگریس نےحالات کا جائزہ گہرے غوروفکر کے ساتھ کیا۔ بنگال برخواست کے نظرئے کی مخالفت کو اجاگرکردیا۔ اکیسواں اجلاس بنارس، 1905 صدر،جناب گوپال کرشنا گوکھلے صدراستقبالیہ، منشی مادھولال جنرل سکریڑی، اے۔ او۔ ہیوم، دی۔ ای۔ واچا اور جی۔ کے۔ گوکھلے جناب گوپال کرشناگوکھلےکی پیدائش1866میں ہوئی۔ 1886میںوہ اگریوسن کالج میں انگریزی کےپروفیسرکی حیثیت سےدکّن ایجوکیشن سوسائٹی میں شامل ہوئے۔ وہ جناب ایم۔ جی۔ راناڈے کےربط میں آئے۔ جلسہ عام پوناکےسکریڑی بنے۔ 1890میں کانگریس میںشامل ہوئے۔ 1896میں ولبی کمیشن کی طرف سےگواہی دینے کے لئے وہ انگلینڈ گئے۔ وہ 1899میں بمبئی اسمبلی کیلئےاور1902میں امپریل اسمبلی کیلئے مئتخب کئےگئے۔ وہ افریقہ گئےاوروہاں گاندھی جی سےملے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے ہندستانیوں کی پریشانیوںمیںخاص دلچسپی لی۔ اپنےکردار،دماغی صلاحیت اورملک کےحقوق کے لئے جانفشانی ہمت کے ساتھ خدمت کرنے کےلئےانہیں ہمیشہ یاد کیا جائیگا۔ وہ ہندستان عوامی خدمتگار سماج کےبانی اور صدرتھے۔ اعدال پسند خیالات کے جذباتی مقرر تھے۔1915میں انتقال کرگئے۔ عام مخالفت کےباوجود بنگال کابٹوارہ کیا گیا۔ لارڈکرزن کی پالیسی کےمدّ نظرخلفشارپیداہوگیاتھا۔ بریٹش حکومت کی شروعات کے بعد پہلی بار کسی ظلم کے خلاف ایک ہجوم نےبغیر کسی ذاتی،مذہبی منافرت کئے سبھی ہندستانی احتجاجی بن گئے تھے۔ پہلی ایک سیاسی اسلحہ کی شکل میں ملکی احتجاج اور غیر ملک کی چیزوں کو استعمال نہ کرنے کا خیال ظاہرکیا گیا۔ وطن پرستوں نے ہندستان آنے والے ولس کے شہزادے کے استقبال سے متعلق تجویزکی مخالفت کی۔ بریٹش انتظامیہ کے سامنے کانگریس کی تجویز رکھنے لئے جناب گوکھلے انگلینڈ گئے۔ کانگریس کی تجویزوں کو سال میں عمل کرنےکیلئے پندرہ اراکین پرمشتمل کمیٹی مقررکی گئی۔ بائسیواں اجلاس کلکتہ، 1906 صدر، جناب دادابھائی نوروجی صدراستقنالیہ، ڈاکٹر راس بہاری گھوش جنرل سکریڑی، اے۔او۔ ہیوم، دی۔ای۔ واچا اورجی۔ کے۔ گوکھلے ہندستانی تاریخ میں1905کاسال بےمثال،مقبول عام، نمائشوں اورہنگامہ آرائیوں کاسال تھا۔ قومی جدوجہدمیں1906کا کلکتہ اجلاس ایک سنگ میل ہے۔ یہیں کانگریس کےبدلاؤاوروطن پرست لوگوںمیں اختلاف ابھرے،وہ آئندہ سال مزیدصاف ہوگئے۔ دادابھائی نوروجی ایک تجربہ کارمعززقائد تھے،جنہیں کانگریس کےاندر نمایاں بٹوارے کوروکنےکیلئےخاص طورسےانگلینڈ سےلایا گیا تھا۔20,000 لوگوں کےقابل ایک بڑاشامیانےکو بنایاگیا۔1600سےزیادہ شرکاء جمع ہوئے۔عاجزی کےساتھ تجویزقبول کی گئی۔1بنگال کا بٹورارد کیاجائے،2 بنگال میں برخاستگی کےاحتجاج کی حمایت،3 ملکی احتجاج کی حمایت،4۔ حکومت کی تعلیمی پالیسی کی مزمت کی گئی،5۔ آزاد انتظامیہ کی مانگ کی جائے۔ تَیسواں اجلاس صدر، ڈاکٹر راس بہاری گھوش استقبالیہ کمیٹی کے صدر، تیروبھون داس این۔ مالوی ڈاکٹرراس بہاری گھوش کی پیدائش 1845میں ہوئی۔ تعلیم حاصل کرنےکے بعد کلکتہ ہائیکورٹ میں وکالت شروع کی،اسکے بعد بنگال اسمبلی کے ممبر بنے،پھر1889میں امپریل لیجسلیٹیو کاؤنسل کےممبر ہوئے۔ 1891،1893میں کانگریس کےصدرنامزد ہوئے۔ 1907مدراس1908،1917 انکا انتقال 1921میں ہوا۔ اجلاس ناگپورمیں ہونےوالاتھا اوراستقبالیہ تنظیم کی خواہش تھی کہ جلسہ کی صدارت لوکمانیےجناب گنگادھرتلک کریں۔ اعتدال پسند رہنماؤں کو یہ منظورنہیں تھا۔آخرکارجلسہ کی جگہ تبدیل کرکےسورت کیاگیا۔ معتدل لوگوں نےراس بہاری گھوش کو صدرکی حیثیت سےمنتخب کیا۔ جلسہ کے تقریبا ایک ہفتہ قبل جلسہ میںشامل کئےجانےوالےموضوع کی فہرست شائع ہوئی۔ اسکی خودمختاری،ملکی مخالفت اورقومی تعلیم جیسےمعاملوںپر کوئی تجویز نہیں تھی۔ وطن پرستوں نےکلکتہ جلسہ کےبعد منظورکی گئی جماعت کی پالیسی سے ہٹانے کیوجہ سےاسکی مخالفت کی۔ وہ لالا لاجپت رائے کو صدربنانا چاہتےتھے لیکن لاجپت رائےنےحالات کودیکھتے ہوئےاسےمنطورنہیں کیا۔ جلسہ میں تلک نےمخالفت کی جس سے ہنگامہ ہوگیا اور جلسہ کوختم کرنا پڑا۔ پارٹی وطن پرستوں اور معتدل لوگوں کے درمیان دوحصوں میں بٹ گئی۔ چوبیسواں اجلاس مدراس، 1908 صدر، ڈاکڑراس بہاری گھوش صدراستقبالیہ، وی۔ کرشنا سوامی ایّر جنرل سکریڑی دی۔ ای۔ واچااوردی۔ ای۔ کھرے شرکاء۔ 617 اعتدال پسندوں نے کانگریس کا نیا آئین بناکروطن پرستوں کو نکال دیا۔ یہ صرف اعتدال پسندوں کا اجلاس تھا۔ ملکی اور قومی تعلیم پر تجویزوں کو نظرانداز کیا گیا اور مارلے منٹو اصلاح کو منظورکیا گیا۔ پچیسواں اجلاس لاہور، 1909 صدر، پنڈت مدن ہوہن مالویا جنرل سکریڑی، دی۔ ای۔ واچا اور دی۔اے۔ کھرے شراکء۔ 243 پنڈت مدن موہن مالویا کی پیدائش1864، انہوں نےانڈین یونین کےنام سے ایک رسالہ نکالا،اور پھرکلکتہ اسمبلی رکن بنے۔ 1901-1902، میں کانگریس کی صدارت کی1908 اور 1918،امپریل اسمبلی کے ممبررہے،1912-1918لیکن رولٹ کی مخالفت میں استعفی۔ بنارس ہندویونیورسیٹی کے بانی اور1919-1939تک اسکے نائب وائس چانسلررہے۔ غیرمعاون تحریک کےدوران دوبارگرفتار، کانگریس کےدو پابندی عائد اجلاس کےصدر1932-1933ہندو،عظیم جلسہ کے صدر1932اور1936میں کانگریس کے پارلیمنٹری بورڈ سےاستعفی اور قومی پارٹی کا قیام، متحرک سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور 1946میں انکا انتقال ہوگیا۔ الگ انتخابی علاقوں پراپنی حمایت ظاہر کی اوراس بات پر تشویش جتایاکہ مسلمانوں کو غلط طریقے سے زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ یو۔پی۔ پنجاب، بنگال، آسام اور برما میں کارگردفترکےقیام کی مانگ کی اور بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کی مخالفت کی۔ گاندھی جی کے غیر تعاون احتجاج کی مدد کے لئے چندہ جمع کیا۔ چھبّیسواں اجلاس الہٰ آباد، 1910 صدر، ولیم بیڈربرن جنرل سکریڑی، دی۔ ای۔ واچا اور دی۔ اے۔ کھرے شرکاء۔636 ایڈورڈ ستپم کی موت اورجارج پنچم کی تاج پوشی سے مذہبی منافرت بڑھ رہی تھی۔ معاون بورڈ بنانے کی تجویز پیش کی گئی ۔ جس کے ذریعہ اس خطرے سے سامنا کیا جاسکے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کو بڑھاوادینے کی مخالفت۔ جنوبی افریقہ میں جاری جدوجہد کو سراہا گیا۔ ستائیسواں اجلاس کلکتہ، 1911 صدر، پنڈت بیشن نارائن دھر جنرل سکریڑی، دی۔ ای۔ واچا اور دی۔ کے۔ دھر شرکاء۔ 446 پنڈت بیشن نارائن دھر کی پیدائش1864میں کلکتہ میں ہوئی تھی۔ کلکتہ نگرنگم کے ممبر، بنگال اسمبلی کے رکن۔ کل ہند کانگریس تنظیم کلکتہ کے صدر،1911میں اترپردیش کے جانے مانے مصنف اور ہردل عزیز لیڈر کا انتقال 1961میں ہوا۔ بنگال بٹوار رد ہوگیا تھااور بہارنام سے ایک نیا علاقہ کی حقیقت سامنےآئی۔ دلّی کومرکزبنادیاگیا۔ کانگریس نے بریٹش حکومت کی کچھ اصلاح اور کاموں کیلئے مبارکباد دی۔ سیڈی سییس میٹنگ قانون، پریس قانون، جرم قانون زیرِ غور ترمیم قانون، کپاس پر حکومت کے اختیارکی مخالفت کی گئی اور سیاسی قیدیوں کی رحائی کی مانگ کی گئی۔ تلک، مانڈلے جیل میں بند تھے۔ اٹّھائیسواں اجلاس بانکیپور،1912 صدر، آر۔ این۔ مادھولکر جنرل سکریڑی، دی۔ ای۔ واچا اور دی۔ اے۔ کھرے جناب آر۔ این۔ مادھولکر کی پیدائش1857میں ہوئی، وہ الفنسٹن کالج کےفیلوبھی رہے، ‘‘ویدھرو‘‘رسالہ کی اشاعت، برارعام جلسہ کا قیام 1888کانگریس میں شمولیت، 1898سی۔ پی۔ اور برار علاقائی کانفرنس کے صدر، انکا انتقال 1921میں ہوا۔ اجلاس نے امپریل اور علاقائی بورڈ میں چنے ہوئے وفد کی مانگ کی، پنجاب میں کارگرپریشد کی مانگ۔ مقامی انجمنوںمیں صوبائی آزادی دینے کیلئے حکومت کی تجویز پراطمئنان ظاہر کیا۔ انگریزی جاننےوالوں کوہی مقامی منصبوں میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ استقبالیہ تنظیم کے صدر جناب مظہرالحق کوامید دلایا کہ ، کانگریس مستقبل میں مسلمانوں کی قیادت کریگی۔ انتسواں اجلاس کراچی، 1913 صدر، نواب سید محمد بہادر جنرل سکریڑی، دی۔ اے۔ کھرےاور دی۔ ای۔ واچا شرکاء۔ 349 نواب سید محمد بہادر کی پیدائش1869میں ایک نامی گرامی جاگیردارکے یہاں ہوئی۔ مدراس اسمبلی کے رکن 1902-1900،امپریل کاؤنسل کے ممبر،1894میں کانگریس میں شامل، انکا انتقال 1961میں ہوا۔ ہندو مسلم رشتوں میں بہتری، جنوبی افریقہ میں ہندستانیوں کی حالت پر خاص تذکرہ گاندھی جی کے ذریعہ چلائےجا رہے ہمت کے ساتھ جدوجہد کی تعریف اور ملک کے لوگوں سے اس میں تعاون کرنے کا اعلان۔ تیسواں اجلاس مدراس،1914 صدر، بھوپندرناتھ بسو جنرل سکریڑی، این۔ سُباراؤ اور نواب محمد بہادر شرکاء۔ 366 جناب بھوپندرناتھ بسوکی پیدائش 1869مں کلکتہ میں ہوئی۔ 1911میں استقبالیہ کمیٹی کےصدر۔ بنگال اورمرکزی اسمبلی جلسوں کےممبر۔ کل ہند کانگریس کےصدر1914 کلکتہ یونیورسیٹی کےنائب وائس چانسلر، سکریڑی آف اسٹیٹ فار انڈیا کی کاؤنسل کے رکن، 1942میں انکی وفات ہوگئی۔ کانگریس کے ذریعہ جنگ میں مدد کا وعدہ، لیکن اس شرط پر کہ ہندستانیوں کو بھی فوج میں اعلی عہدہ دیا جائے اور اسلحہ قانون ختم کیا جائے۔ خودمختاری کی مانگ۔ اکتیسواں اجلاس بمبئی،1915 صدر، سرستیندر پرسنّ سنہا صدراستقبالیہ، دی۔ای۔ واچا شرکاء۔ 2259 سرایس۔ پی۔ سنہا کی پیدائش 1864میں ہوئی۔ وہ بنگال کےایڈوکیٹ جنرل رہے،1908،وائسرائے کی دفترمیں پہلے ہندستانی قانون ممبر۔ 1906جنگ جلسہ میں ہندستانی وفد 1917-1918لارڈ سنہا آف رائپورکا شاندارطریقہ ست عزت افزائی ہوئی پریوی کاؤنسل کی جوڈیشیل کمیٹی کے ممبرگورنر کے عہدے پر پہلے ہندستانی 1921میں بہاراور اڑیسہ کے گورنر, 1928 میں انتقال۔ اترپردیش اس وقت کےمتحدہ صوبہ کیلئےایکزیکیٹیوکاؤنسل کی مانگ، پنجاب،برما اورمرکزی علاقہ(مدھیہ پریش)کیلئے ہائیکورٹ کی مانگ، مکمل اقتصادی آزادی آمد درآمدپراورخودمختاری کی مانگ،کانگریس کا نیا آئین بنایا گیاجس سےکہ حب الوطنی واپس آسکے۔ لوکمانیہ تلک نےاپنے ساتھیوں کےساتھ پھر کانگریس میں شامل ہونےکی خواہش ظاہر کی۔ گاندھی جی سبجیکٹ کمیٹی میں نہیں چنےجا سکے۔ لیکن صدر انہیں نامزدکیا۔ بتّیسواں اجلاس لکھنئو،1916 صدر امبیکا چرن مجمدار صدراستقنالیہ کمیٹی، پنڈت جگت نارائن شرکاء۔ 2301 پنڈت جگت نارائن کی پیدائش1851میں ہوئی، پریسیڈنسی کالج سے سند یافتہ ہوئے، اسکے بعد کلکتہ سے ایم۔اے۔ کیا، ایل۔ ایل۔ بی۔ کرنے کے بعد 1879سے وکالت کے پیشے سے اپنی زندگی کی شروعات کی۔ بعد کے زمانے میں وہ کانگریس میں شامل ہوئےاور کانگریس کی نشستوں میں شریک ہوکراپنےخیال کا اظہاربھی کرنےلگے۔ اعلی قسم کےمقرر، دوباراسمبلی اجلاس کےممبر۔ کل ہند کانگریس، لکھنئوکےصدر.1916. تاریخی اجلاس۔ کئی بڑے رہنماؤں کی شمولیت۔ ہندو،مسلم بھائی چارے کی وکالت۔ مسلم لیگ کا اجلاس بھی لکھنئومیں۔ کانگریس لیگ منصوبہ وائسرئے کو بھی بھیجا گیا۔ مسلم لیگ نے بھی خودمختاری کو اپنا مقصد اعلان کیا۔ کل ہند قومیت کو دبانے والے قانون‘ ریسیڈنس آف انڈیا قانون، اور1818 کا ریگولیشنس. 3 کے خلاف تجویز۔ اسلحہ قانون پریس قانون کی مزمت۔ خانگی احتجاج کی حمایت۔ تینتیسواں اجلاس کلکتہ، 1917 صدر، محترمہ اینی بیسنٹ استقبالیہ تنطیم کے صدر، پی۔ بی بیکنٹھ ناتھ سین جنرل سکریٹری سی۔ پی۔ راماسوامی ایّر، پی۔ کیشوپلّےاوربُھرگری شرکاء۔4967 محترمہ اینی بیسنٹ کی پیدائش1847مین ہوئی، وہ چارلس بریڈلا سےبہت زیادہ متائثرتھیں۔ میڈل باوتسفی کے رابطہ میں1882میں آئیں۔ شوسلزم کی طرف رغبت۔ شوسلزم رسالہ‘امبر کارنر‘کی ایڈیڑ، تھیوسیفک سوسائیٹی میں1889میں شامل۔ لیبر کانگریس پیرس میں1889میں شامل۔ بنارس میں ممبر اسمبلی کا قیام۔ بعد میں جو ہندویونیورسیٹی مرکزی کالج ہوا۔ کل ہند کانگریس تنظیم کی1917میں صدارت کی۔ موٹینگیو چیمسفورڈ اصلاح کی حمایت اور گاندھی جی کےغیرتعاون تحریک کی مخالفت۔ مدراس 1927میںخودمختارتجویز کی حمایت۔ نامور مصنّفہ، مقرر، تنظیمی امور اور سماجی کام۔ ہندستانی مستقل باشندہ انکا انتقال 1933میں ہوا۔ علی برادران کی رحائی کی مانگ۔ اپناملک پرخاص تجویز۔ رولٹ کمیٹی، پریس قانون، اسحلہ قانون کی مزمت۔ جوابدہ انتظامیہ کے قیام کیلئے مطئین وقت کی مانگ اور کانگریس، لیگ منصوبہ کو فوراً عمل میں لانےکی مانگ۔ پہلے پہل ترنگا پرچم اپنایا گیا۔ خاص اجلاس بمبئی،1918 صدر، سید حسن امام استقبالیہ تنظیم کے صدر، بلّبھ بھائی جے۔ پٹیل جنرل سکریڑی، سی۔ پی۔ راماسوامی ایّر، پی۔ کیشو۔ پّلیے، اور بھُرگری شرکاء۔ 3500 11871میں پیداہوئے جناب ایچ۔ امام انڈین سوسائیٹی انگلینڈ میں تھی اسکےسکریڑی تھے۔ انہوں نے دادابھائی نوروجی کےانتخاب میں کام کیا تھا۔ 1892میں ہندستان واپس آئےاوروکالت کرنے لگے۔1911میں کلکتہ ہائیکورٹ کےجج مقررہوئے.1913میں استعفی دیدیا۔ بنارس اورعلیگڑھ یونیورسیٹی کوسامان ہدیہ کروایا۔ 1909میں بہاری طلبہ جلسہ کی صدارت کی۔ رولٹ بل کےخلاف گاندھی جی کےساتھ بھوک ہڑتال کیا۔ 1933میں انکا انتقال ہوا۔ اس اجلاس میں خاص طورسےمونٹیگیو چیمسفورڈ رپورٹ پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی وقت مسلم لیگ کا اجلاس محموداباد کےراجہ کی صدارت میں ہواتھا۔ جسمیں کانگریس دانشوروں کےسامنے ہی تجویزرکھے گئےتھے۔ دانشوروں میںمونٹیگیورپورٹ پرغیراطمئنانی ظاہرکی گئی اوراسمیں کئی ترمیم کی مانگ کی گئی۔ ہندستان کے لوگوں کے لئے کئی اختیارات کی مانگ کی گئی۔انگلینڈ ایک وفد روانہ کرنے پر غورکیا گیا۔ چونتیسواں اجلاس دلّی،1918 صدر، پنڈت مدن موہن مالویا استقبالیہ تنظیم کے صدر، حکیم اجمل خاں جنرل سکریٹری، بی۔ جے۔ پٹیل، فضل الحق اور گوکرن ناتھ مشرا شرکاء۔4861 پنڈت مدنموہن مالویا نےاپنی معاشی زندگی کی شروعات اخبارنویسی سےکی۔ انہوں نےانڈین یونین کے1885-1905تک مدیررہے۔علاقائی اسمبلی کےوہ1902-1912تک رکن رہے۔1910-1919تک امپریل اسمبلی کےممبر رہے۔ رولٹ قانون کی مخالفت میں استعفی دیدیا۔ بنارس یونیورسیٹی کےبانی اورنائب جانسلرکی حیثیت سے1919-1939تک رہے۔ مرکزی اسمبلی کےرکن1924-1930تک رہے۔1946میں انکا انتقال ہوگیا۔ پہلی بار ہزاروں کسانوں نےکانگریس اجلاس میںحصہ لیا۔ ہندستانی زبان پرزور دیا گیا۔ اب کانگریس عوام کا جلسہ بن گئی تھی۔ احتجاجیوں پربنےتشدد پرمبنی قانونوں کو واپس لینے کی تجویز رکھی گئی۔ رولٹ قانون کی مزمت،علی برادران کی رہائی اوردوسرے قیدیوں کی رحائی کیلئےتجویز جاری کئے گئے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہندستان کو جنگ چندے کی شکل میں 4کڑورپچاس لاکھ روپئے کے نقدی سے آزاد کیا جائے۔ پینتیسواں اجلاس امرتسر1919 صدر۔ پنڈت موتی لال نہرو صدراستقبالیہ تنظیم، سوامی شردھانند جنرل سکریڑی، وی۔ جے۔ پٹیل، ایم۔ اے۔ انصاری اور پنڈت گوکرن ناتھ مشرا شرکاء۔ 7031 پنڈت موتی لال نہروکی پیدائش1861میں ہوئی۔ وہ ایک نامور وکیل تھے۔ کانگریس کےکچھ شروعاتی اجلاس میں شامل، 1907کےسورت کانگریس کی صدارت کیلئے ڈاکڑ راس بہاری گھوش کے نام کی تجویز رکھی۔ 1819میں متحدہ علاقہ( موجودہ اترپردیش)کےصوبائی اجلاس کےصدر۔ گاندھی جی کےاثرمیں آئے۔ 1919میں امرتسرمیں کل ہند کانگریس کےصدربنے۔ مستقل غیرمعاون بن جانےکےبعد اچھی خاصی وکالت کوترک کردیا۔ پرنس آف ولس کی آمد کےموقع پرمخالفت کا اہتمام۔ 1921میں گرفتاراورچھ مہینےکیلئے جیل۔ سی۔ آر۔ داس کےساتھ مل کرسوراج پارٹی کا قیام۔ 1923میںمرکزی اسمبلی کیلئےمنتخب۔ حزب مخالف کےرہنما۔ 1924میں گاندھی،داس،نہرومعاہدہ۔1925میںداس کی موت کےبعدسوراج پارٹی کے رہنما۔ 1926کےعام انتخاب میںمرکزی اسمبلی کیلئےدوبارہ منتخب۔ 1927میں یورپ کا سفر۔ 1928میں ہندستان کیلئےحتمی آینی تنظیم کےصدر۔ سائمن کمیشن کےبائیکاٹ کا اہتمام کیا۔1928میں کلکتہ میں کل ہند کانگریس تنظیم کےصدر۔ اپریل1930میں کانگریس کےکارگذارصدر۔ جون میں گرفتاراور 6 مہینے کی سزا۔ کانگریس کو‘ آنند بھون کا ہدیہ۔ ستمبرمیں رہا۔ 1931کے فروری مہینے میں انتقال۔ جلیانوالاباغ کےبعد بڑےجوش وخروش سے نشست منعقد۔ لوکمانئیے،علی برادران،مالویا۔ مونٹیگ-چمسفورڈ اصلاحوں کامہیہ نہ ہونا،غیراطمئنانی اورناامیدی بتاتےہوئےاسےنامنطورکرنے کیلئے دیش بندھوکےذریعہ خاص تجویزپیش کیاجانا۔ گاندھی جی نےحمایت کیلئےترمیم پیش کیا۔ مونٹیگ کو مبارکباد اورفوری قائم مقام حکومت قائم کرنےکاجلدازجلداختیارپانےکیلئے،اصلاحوں کےمدنظرکام کیلئےایک معاہدہ،مسودہ تیار۔ وائسرائےلارڈ چیمسفورڈپر۔۔اورانہیںواپس بلانےکی مانگ۔ پنجاب میں عام تشددکی مزمت۔ ہنٹرکمیشن کےبائیکاٹ کی منظوری۔ خلافت کےمعاملےپربرطانیہ وزیروں کےمخالف روئیےپراحتجاج۔ لوکمانئے،لالاجی اوراینڈریوزکی خدمت کے۔۔۔۔۔۔اشتہار۔ شنکرن نائرکواستعفی دینےپرمبارکباد۔ ہنریمین کے۔۔ مزمت۔ بنیادی حقوق پرتجویز۔ ۔۔اور تیسرے درجے کےمسافروں کی مشکلوں کی تفتیش کیلئےوعدہ۔ ملک کی دودھ دینےوالی گانیں اورسانڈوں اور صوبوں کی آبپاشی کی پالیسی پرتجویز۔ پریس قانون اور رولٹ قانون کو ختم کرنے کی دلیل۔ سال کےواقعات۔ ڈاکڑانصاری کی قیادت میں وائسرائے کے پاس خلافت حمایتی وفد۔ وائسرائےکا ناامیدی سےبھراجواب۔ فروری میں بمبئی میں تیسرا جلسئہ خلافت۔ مارچ میں مولانامحمدعلی کی قیادت میں مسلم وفد برطانیہ روانہ۔ 19مارچ کوخلافت برسی۔ گاندھی جی نے کل ہند ہوم رول لیگ کی صدارت قبول کی۔ لوکمانیئے نےکانگریس جمہوری پارٹی کا اعلانیہ خط جاری کیا۔ 14مئی کو ترکی کےساتھ امن کےمعاہدہے کی شرطیں شائع۔ ساتھ ہی ہنڑکی رپورٹ شائع۔ 20مئی کو بمبئی میں تنظیِم خلافت میں گاندھی جی کی غیرمعاون منصوبہ کومنظوری۔ چھتیسواں اجلاس ناگپور،1920 صدر، سی۔ وجیارادھواچاریر صدراستقبالیہ تنظیم، سیٹھ جمنالال بجاج جنرل سکریڑی، موتی لال نہرہ، سی۔ راجگوپال اچاریہ اور ایم۔ اے۔ انصاری شرکاء۔ 14538 جناب سی۔ وجیئے رادھواچاریہ کی پیدائش1825میں ہوئی۔ شروع سے ہی کانگریس سےوابسطہ رہے۔ 1887میں کانگریس آئین تیارکرنےوالی تنظیم کےرکن رہے۔1885-1901کےدوران مدراس لیجسلیٹیوکاؤنسل کےرکن۔ 1899-1900میں کل ہند کانگریس تنظیم کےصدررہے۔ 1900میں کالیکٹ میں مدراس علاقائی جلسہ کےصدررہے۔ 1902-1901میں ہندستان کلیئے۔۔۔ 1905کےاندر بنارس کانگریس میں غیرمعمولی کام۔ کلکتہ کانگریس میں تقریر۔ تشددپسندوں سےحمایت کیوجہ کرسورت میں بٹوارے کےبعد کانگریس سےالگ۔ 1916-1913میںلیجیسلیٹوکےرکن۔ 1916میں لکھنئو اجلاس کےبعد کانگریس میںپھرآمد۔ 1918بمبئی میںخاص اجلاس اور1919میں امرتسرکےاجلاس میںشمولیت۔ 1918میںمدراس میںمخصوص صوبائی اجلاس کےصدر۔ 1920میں ناگپورمیں کل ہند کانگریس کے صدر۔ غیر تعاون سے متفق نہیں تھے بعد میں ہندو جلسئہ عظیم کی حمایت کی اور ایک اجلاس کی صدارت کی۔ عمر بھر متشدد وطن پرست۔ 1943میں انکا انتقال ہوا۔ کلکتہ کےغیرتعاون تجویزکی دوبارہ موافقت۔ کل ہند تلک سوراج کے کام شروع۔ کناٹ کے ڈیوک کی مخالفت۔ امن پسند اورمثبت طریقوں کے ذریعہ سوراج کےحصول کیلئےکانگریس کااعادہ۔ لسانی بنیادپرصوبوں کس پھرسےترتیب دیاگیا۔ کل ہند کانگریس تنظیم کےممبرس کی تعدادبڑھاکر350کردی گئی۔ 15اراکین پر مشتمل ایک کارگذارتنظیم بنائی گئی۔ آئرلینڈ کے احتجاجی شہید میَک سیوینی کوتہنیت۔ ہندستانی سمندرکےپار رہنے والے لوگوں کے احتجاج کی حمایت۔خوردنی اشیاء کی برآمدات اور ریورس کاؤنسل کی لوٹ کی مزمت۔ سال کے بہران۔ غیر تعاون احتجاج عروج پر۔ تیسری بارمخالفت کیلئےمثبت ردِّ عمل۔ ملک بھرمیںقومی کالجوں اوریونیورسیٹیزکا سیلاب۔ سیٹھ جمنالال بجاج نے تلک سوراج انجمن کوایک لاکھ روپئہ دیا۔ کارگرتنظیم نے دیش بندھو داس کو شرم تنظیم کی دیکھ ریکھ کرنے کیلئےمقررکیا۔ مارچ میں ننکانہ حادثہ میں195 لوگوں کی موت۔ بیجواڑامیں کل ہند کانگریس تنظیم کےذریعہ تلک سوراج کےنیدھی کےمعرفت ایک کڑورروپئےجمع کرنے،ایک کڑورممبرس بنانےاور20 لاکھ چرکھہ شروع کرنےکا فیصلہ کیا گیا۔ داس، یعقوب حسن،لالاجی، راجندربابواور دوسرےلوگوں کے کہیں آنے جانے پر پابندی کے احکام۔ وائسرائے کےساتھ گاندھی جی کی گفتگو۔ جولائی تک سوراج نیدھی میں مطیئن رقم سے15لاکھ روپئےمزید کی رقم جمع۔ جولائی میں بمبئی میں کل ہند کانگریس تنظیم کےذریعہ پرنس آف ولس کی مخالفت کا فیصلہ مالابارمیں ُموپلا بغاوت۔ جولائی کراچی میںخلافت جلسہ۔ علی برادران کی گرفتاری۔ کراچی مقدمہ۔ چیرالا بھوک ہڑتال۔ مالابار می مارشل لاء۔ 17نومبرکو بمبئی میں پرنس آف ولس کی آمد۔ بمبئی مین فساد۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں۔ 40 ہزارسےزیادہ لوگ جیل میں۔ سویم سیوی تنظیموں کوغیر قانونی کا اعلان۔ کانگریس کےمنتخب صدردیش بندھوداس اجلاس سے پندرہ دن پہلے گرفتار۔ مخصوص اجلاس کلکتہ 1920 صدر، لالالاجپت رائے صدراستقبالیہ تنظیم، بی۔ چکرورتی جنرل سکریڑی، بی۔ جے۔ پٹیل، ایم۔ اے۔ انصاری، پنڈت گوکرن ناتھ مشرا جناب لالا لاجپت رائےکی پیدائش 1865میں ہوئی۔ وکالت کے پیشہ کواختیار کیا اورلاہور میں زورداروکالت کی۔ شروعاتی زندگی میں دیانند سرسوتی سے متائثرہوئےاور کئی سالوں تک آریہ سماج کے کاموں میں مشغول رہے۔ ڈی۔ اے۔ وی۔ کالج اوردوسرے انجمنوںمیں معاون رہے۔ کانگریس وفد کے رہبرکی حیثیت سےانگلینڈ کا سفرکیا۔ لوکمانئیےاور وپن چندر پال کےساتھ اہم تشددپسندلیڈر،1907تک رکناپڑا۔ ینگ انڈیا کی اشاعت جس پر ہندستان اورانگلینڈ میں پابندی۔ اگست1920کلکتہ میں کانگریس کےمخصوص اجلاس میں صدر۔ ہندستانی ٹریڈ یونین کانگریس کےصدر۔1921اور 1922میںدوبارگرفتار۔1923میںسوشلسٹ لیڈرکی حیثیت سےمرکزی لیجسلیٹواسمبلی کیلئےمنتخب مگربعد میںقومی پارٹی کاقیام اور1926کےانتخاب میں کامیاب۔ کئی کتابوں کےمصنف۔ اسمبلی میں سائمن کمیشن کی مخالفت کی تجویزپیش کی۔ 30 اکتوبر1926کولاہورمیں مخالفت نمائش کی قیادت۔ پولس کی مارسےزخمی۔انہوں نےکہا میرے اُوپرچلائی گئی لاتھی کی ہرچوٹ ہندستان میںبرطانوی شہنشاہیت کی قبرمیں کیل بنےگی، چوٹ کی وجہ کرموت۔ انکی وراثت کا ایک ٹرسٹ بنایاگیا جس سےہندستان سیوک سماج بنایا گیا، لائبریری اوراسپتال کھولاگیا۔1928میں انکی موت ہوئی۔ لوکمانئیےتلک اورڈاکٹرمہندرناتھ کی موت پردعائئیہ۔ پنجاب تفتیش تنظیم کی تفتیش پرحمایت کا اعلان کیا گیاکہ ہنڑتنظیم کی اکثررپورٹ جانبداری اور ذاتی منافرت سےبھری ہوئی ہےاور رپورٹ نامنظوراورقابل یقین نہیں ہے۔ پنجاب میں ہوئےمظالم کیلئےبرطانیہ کےوزیروں کی غیرہمدردی، بیجاروئیےکی مزمت کی اوراعلان کیا کہ اس نےبرطانوی انصاف میں ہندستان کےلوگوں کاسارااعتمادختم کردیا ہے۔ خاص تجویزعدم تعاون تجویزتھی جسمیںخطابوں کولوٹانےکا، حکومت جلسوں میں شامل ہونےسےانکار،اسکولوں،عدالتوں اوراسمبلیوں کی مخالفت،غیرملکی سامان اورکارپوریشنس کی مخالفت کرنے کی دلیل دیتے ہوئےگاندھی جی کےذریعہ تجاویز پیش کیاگیا۔ وی۔ پی۔ چندرپال نےبرطانوی وزیراعظم کےپاس ایک خاص وفد بھیجنےکےسلسلےمیں تبدیلی پیش کی۔ سی۔ آر۔ داس نےبدلاؤکی حمایت کی۔ شدید ترین بحث ہوئی۔ اکثرمعروف کانگریسی لیڈران جیسےلاجپت رائےاورکھاپڑے نےتجویز کی مخالفت کی اورپنڈت موتی لال نہرواورعلی برادران نےانکی حمایت کی۔ تجویز884 کےمقاقبلے 1886ووٹوں سے جاری ہوگیا۔ کلکتہ اجلاس سے پہلی بار گاندھی جے ملک کے معتبرلیڈرکی حیثیت سے سامنے آئے۔ سینتیسواں اجلاس احمداباد،1921 صدر، حکیم اجمل خاں (منتخب صدر، سی۔ آر۔ داس جیل میں) استقبالیہ تنظیم کے صدر،بلّبھ بھائی پٹیل موتی لال نہرو، سی۔ رجگوپال اچاریہ۔ وہ۔ جے۔ پٹیل، اے۔ رنگاسوامی اینگر شرکاء۔4726 حکیم اجمل خاں کی پیدائش1851میں ہوئی۔ مشہورحکیم خاندان سےتعلق تھا۔ اسلامی تعلیم کےبعد انہوںنےعلم طب کی تعلیم حاصل کی چونکہ حکمت سےانکےاجداد بھی وابسطہ تھے۔ وہ ایک مفکر،دانشوراورعظیم طبیب تھے۔ حکیم اجمل خاں نےدلّی میں اپنی حکمت شروع کی۔ 1904میںوسط یورپ کا ایک کارآمد سفرکیا۔1911میں یورپ کا سفرکیا۔ انگلینڈ اوریورپی جزیرہ کےخاص اسپتالوں کومعائنہ کیا۔ دواؤں کےبارے میں کئی کتابیں لکھیں۔ مسلم لیگ کےرکن اوربعدمیںصدر.1918میں کل ہندکانگریس کی استقبالیہ تنظیم کےصدربنے۔ گاندھی جی سےبڑےمتائثرتھے۔ اہم غیرمعاون اورتحریک خلافت کےحمایتی۔ احمداباد کانگریس کےمنتخب صدرسی۔آر۔ داس کےگرفتارہونےکی وجہ سےانکی جگہ پرمتفقہ فیصلےسےانکا انتخاب ہوا1921میں احمدابادمیں کانگریس اجلاس میںذمہ داری سےصدرکےفرائض کوبخوبی انجام دیا۔1922میںسرکاری نافرمان تنظیم کےصدر۔ 1924میںجلسئہ اتحاد میںشامل ہوئے۔ ہندو،مسلم اتحاد کےاہم طرفدار۔آخری سانس تک کانگریس کی کارگذارتنظیم کےرکن رہے۔ 1925میں اصلاِح صحت سےمتعلق مزید جانکاری کیلئےیورپ کاپھرسفرکیا۔ 1927میں مسیح الملک حکیم اجمل خاں کا انتقال ہوا۔ خاص جاری تجویزمیں غیرتعاون تحریک کےنظریہ اور پروگراموںمیں ایک ترمیم تھی سویم سیوک کی بحث شام کی گئی۔ گاندھی جی کوکانگریس کا تنہا ذمہ دارمنتظم منتخب کیاگیا اورکل ہند کانگریس تنظیم کی تمام طاقتیں اورنائب معتمد مقررکرنےکےسارے اختیاربھی انہیںسونپ دیا۔ مولانا حسرت موہانی نےسوراج تعریف مکمل آزادی حاصل کرنےکی تجویزپیش کی۔ گاندھی جی نےاسکی مخالفت کی اورتجویزکوردّکردیا۔ ہاتھ سےکتائی اوربنائی۔ مذہبی یکجہتی، ۔۔۔۔۔۔۔ اوردوبارہ عام تعاون دینے کیلئے گذارش کی گئی۔ یہ اعلان کیاگیاکہ غیرتعاون احتجاج یاتحریک خلافت کامعاملہ ہوبغاوت سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ پوڈانور ریل حادثہ پر تشویش ظاہرکیا گیا۔ یونانیوں پر کمال پاشا کی جیت کیلئے مبارکباد دی گئی ۔ کوماگھاٹاماروکے باباگرندت سنگھ کومبارکباد پیش کیاگیا۔ سال کےواقعات۔ بمبئی میںمتفقہ جلسہ۔ حکومت کی تشدد پسندحکمت عملی کی مزمت پرتجویزپاس کیاگیا اورمخصوص قوانین کوواپس لینے،تمام سیاسی قیدیوں کورہاکرنےاورگول میزکانفرنس منعقد کرنےکی مانگ کی گئی۔ وائسرائے کی طرف سے منظورکرلیاگیا۔ گاندھی جی نےپہلی فروری کوباردولی میں ۔۔۔۔ تحریک شروع کرنےکرنےکےاپنےفیصلےسے وائسرائےکوباخبرکیا۔ گنٹور میں حکومت ۔۔۔۔ 5 فروری کوچوری چورامیں مجمع کے ذریعہ 21پولس والوں اورایک سب انسپکٹرکو زندہ جلادیاگیا 12فروری کوکارگذارتنظیم نے باردولی میں۔۔۔۔ احتجاج ملتوی کردیا اورفیصلہ کن پروگرام شروع کرنےکا فیصلہ کیا۔ کل ہندکانگریس تنظیم نےدلّی میں٢٤اور٢٥فروری کو فیصلےپرغورکیا ۔ 13مارچ کوگاندھی جی کوگرفتارکرلیا گیا اورانہیں6 سال کی سزادی گئی۔ اڑتیسواں اجلاس گیا، 1922 صدر، دیش بندھوچترنجن داس صدراستقبالیہ تنظیم، برج کشورپرساد جنرل سکریٹری، معظم علی، بلّبھ بھائی پٹیل، راجندرپرساد شرکاء۔ 3248 دیش بندھو چترنجن داس 1870میں پیداہوئے۔ کلکتہ میںتعلیم حاصل کرنےکے بعد مزید تعلیم کیلئے انگلینڈ روانہ ہوئے۔ 1903میں بحیثیت بیریسٹر کےاندراج کرایا۔ مانک ٹولہ بم سانحہ اور‘میونیسس‘بورڈ واقعہ جیسےکئی سنسنی خیزمعاملوں(1911-1907)میں پیروی کی۔ 1919میںخلل ڈالنےکی حمایت کی۔ کلکتہ کےایک مخصوص اجلاس میں غیرتعاون احتجاج کی مخالفت کی لیکن 1920میں ناگپورمیں اسےمنظورکرلیاگیا۔ اپنی پچاس ہزار ڈالر سالانہ کی آمدنی والی وکالت کو خیرباد کہدیا۔ پرنس آف ولس کی مخالفت کا اہتمام کیا۔ 1921میں احمداباد کانگریس کےصدرنامزد ہوئے۔ مگراجلاس سے15دن پہلےہی گرفتار کرلئے گئے۔ 6 مہینے قید کی سزاہوئی۔ 1922میں گانگریس اجلاس گیامیںصدارت کی اورسوراج پارٹی بناڈالی۔1923میں سوراجیوں نے کاؤنسل میں شامل ہوئے لیکن داس نے بنگال میں وزیروں کا دستہ بنانےسے انکارکردیا۔ لاہور میں کل ہند مزدور یونین کانگریس کی صدارت کی۔ 1924میں کلکتہ نگم پرقبضہ کرلیا اور اسکے پہلے میربنے۔ گاندھی داس نہرومعاہدہ۔ تاکیشورمیں بھوک ہڑتال۔ کل ہند مزدوریونین کانگریس کے دوبارہ صدربنے۔ 1925ریڈنگ ریکن ہیڈ اورداس معاہدہ۔ ملک کی خدمت کیلئےاپنی ساری جانداد کا ایک ٹرسٹ بنادیا۔ 1925میں دارجلنگ میں انکا انتقال ہوگیا۔ کاؤنسل میں داخلے کیلئے تجویزاجلاس کا خاص موضوع تھا۔ تبدیلی کے خلاف لوگوں کی قیادت راجہ جی نے کیا اورسوراج کے حمایتیوں کی قیادت داس نےکی۔ جمیعتھ العلماء نےایک فتواجاری کرکے کاؤنسل میں داخلے کوممنوع قراردیا اورکہا کہ یہ حرام نہیں ہے۔ بڑی اکژیت کےذریعہ کاؤنسل کی مخالفت جاری رکھنےکا اعلان کیا۔ دیش بندھوداس نےصدارت سےاستعفی دیدیا۔ ملک میں اعلان کیاگیاکہ ۔۔۔۔ احتجاج کیلئےورکرس اوردولت تیاررکھاجائے۔ حکومت کو دھمکی دی گئی کہ وہ اسکےبعد اور ملک میں پناہ نہ لے۔ لوگوں سےگذارش کی گئےکہ وہ حکومت کی طرف سےجاری کئےگئے کسی بھی پناہ کیلئے کس بھی تعاون سے گریز کریں۔اکالیوں کو انکی ہمت بہادری اورعدم تشدد کےجذبات کیلئےمبارکباد دیا گیا۔ کمال پاشاکو بھی مبارکباد دیاگیا۔ سیاسی واقعات۔ مذہبی فساد کےذریعہ سیاسی ماحول میں بہران۔ کل ہندکانگریس تنظیم کےذریعہ صدرکےاستعفی پرتبادلہ خیال۔ مولانا آزاد کی کوششوں سے کاؤنسل افواہوں پرمعاہدہ۔اسمبلی کی طرف سےفروخت پرٹیکس نامنظور۔ وائسرائےکےجانب سے منظوری۔ جولوگ تبدیلی کے خلاف تھے ان کےطرف سے کارگر تنظیم سےاستعفی۔ کل ہند کانگریس تنظیم کے بمبئی اجلاس میںداس کا استعفی منظور۔ ڈاکڑ انصاری قائم مقام صدرمقررکئےگئے۔ ناگپور میں پرچم ہڑتال جاری۔اجلاس میںفیصلہ۔غیرممالک میں ہندستانیوں کےساتھ نارواسلوک کےخلاف احتجاج اسکےعلاوہ تمام شاہی نظام کےخلاف احتجاج اورعوامی جلوس۔ مخصوص اجلاس کےذریعہ کاؤنسل میں داخلےکی اجازت۔ ودھان منڈلوں کیلئےعام انتخاب۔ اوروسطی ریاستوںمیں انتخاب میں سوراجوادیوں نے اڑتالیس سیٹیںجیت لیں۔ انتالیسواں اجلاس کاکوناڈا،1923 صدر، مولانا محمد علی صدراستقبالیہ تنظیم، دیش بھکت کونڈا وینکٹ پیّا جنرل سکریڑی، ڈاکڑ ایس۔ ڈی۔ کچلو،گنگادھرراؤ، دیش پانڈے، جواہرلال نہرو، ڈی گوپال کرشنیّا شرکاء۔ 6188 مولانا محمدعلی کی پیدائش1878میں ہوئی۔ علیگڈھ مسلم یونیورسیٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم آکسفورڈ یونیورسیٹی برطانیہ سے حاصل کی۔ برطانیہ سے لوٹنے کے بعد چند عرصے تک نواب رامپور اور بڑودہ ریاست میں رہے۔ 1907میں اخبارکی دنیا میں آئےاور انگریزی ہفتہ وار‘‘کامریڈ‘‘شائع کیا اس کے مدیروہ خودتھے،اس کی شروعات کلکتہ سے کی لیکن بعد میں دلّی منتقل کردیا۔ 1914میں‘‘کم انٹومیسیڈونیا ایند ہلپ اس‘‘رسالہ ضبط ہوگیا۔اکتوبر1914میںجنگ شروع ہوجانےپربندہوگیا۔ تحریک خلافت کےقائداورگاندھی جی کےخاص الخاص پیروکار۔1920میںتحریک ِخلافت وفد کےقائد کی حیثیت سےبرطانیہ گئے۔ کانگریس کی کارگذارتنظیم کےرکن بنے۔ 1921میں کراچی میں کل ہندخلافت جلسہ کےصدرتھے۔ یہ اعلان کیا کہ مسلمانوں کا فوج میں کام کرناغیرقانونی ہے۔ ستمبر1921میںوالٹیرمیں گرفتارہوگئے۔ کراچی میںدوسال کی سزاہوئی۔1923میں کاکوناڈامیں ہندستانی قومی کانگریس کے صدررہے۔1924میں جلسئہ اتحاد سےوابسطہ آزادی کےمعاملےاورمذہبی منافرت معاہدہ کے معاملےمیں نہرو سفارش کی مخالفت۔ کانگریس سے کنارہ کشی۔ پہلے گول میزکانفرنس میں وفد کے ساتھ تھے۔ 1931میں انگلینڈ میں انکا انتقال ہوگیا۔ حکومت کی طرف سےمسلسل زیادتی کی مزمت۔ دیش بندھوداس کی کوشش بھی شامل۔ بنگال معاہدے کو ملکی معاہدے کے ساتھ شائع کرنے کی گذارش۔ آر۔ ایس۔ ایس۔ تنظیم کا قیام۔ کانگریس سےالگ ہوئی پارٹی کےمنصوبےکی مانگ اورمختلف شعبوںمیںتنخواہ پرکام کرنےوالے ملازموں کی ملکی خدمت کا منصوبہ۔ کینیائی میں رہائشی ہندستانیوں کیلئے ہمدردی اور کینیائی ہندستانی کانگریس کیلئے جارج جوزف اور سروجنی نائڈو کی تقرری۔ سلون میں ہندستانی باشندوں شہریوں کی حالت کی تفتیش کیلئےایک تنظیم کاقیام۔ اکالی دل پرالزام لگانےمیںحکومت کی کاروائی پر سکھوں کی حمایت کا فیصلہ کیونکہ یہ آزاد اسوسی یشن بنانے کےاختیارکو ایک چیلنج تھا۔۔۔۔۔۔ اوراحتجاجی تنظیموں کی کارگذار تنظیم میں شمولیت۔ ہندستان سے ہجرت روک دینے کا مشورہ۔ سال کے واقعات۔ گاندھی جی آنت کے مرض کیوجہ کراچانک کمزور ہوگئے۔ کرنل میڈک کے ذریعہ آپریشن۔٥ فروری کو فراغت۔ اسمبلی انتخاب میں خودمختارملک کےحمایتی کی جیت۔ بنگال اور مدھیہ پردیش میں دوہری انتظامیہ کا خاتمہ مرکزی اسمبلی میں بحالی درہم برہم۔ اکالی تحریک کواور مضبوطی ملی۔ کلکتہ کی سڑکوں پر آرنسٹ ڈے کا قتل۔ گوپی ناتھ ساہا پر دیناجپور تجویز۔ گاندھی جی داس اور نہرو میں جوہو ملاقات۔ جون میں احمدآباد کل ہند گانریس تنطیم۔ 2 ہزار گز سوت کانگریس کے رائےدہی کی شکل میں طئے۔ گوپی ناتھ ساہا تجویز۔ سبھاش چندرپوس اور دوسرے نامور کانگریسیوں کی گرفتاریوں کے بعد بنگال میںنئے ظلم کا دور۔ پورے ملک میں مذہبی فساد۔ گاندھی جی کا 21انشن۔ دلّی میں یکجہتی جلسہ 1ستمبر میں کلکتہ کے شہریوں نے حصہ لیا۔ مرکزی ملکی پنچایت کا قیام۔ تارکیشور میں ستّیا گرہ۔ دیش بندھوداس کی گرفتاری کی دھمکی۔ بمبئی میں سرودلیے جلسہ۔ مخصوص اجلاس دلّی، 1923 صدر، مولانا ابوالکلام آزاد صدراستقبالیہ تنظیم، ڈاکڑ۔ ایم۔ اے۔ انصاری جنرل سکریڑی، معظم علی، بلّبھ بھائی پٹیل، راجندرپرساد مولاناآزادکی پیدائش1988میںمکّہ مکرمہ میں ہوئی۔ بچپن عرب میں گذرا۔ الازہریونیورسیٹی قاہرہ میں تعلیم حاصل کی۔ ہندستان آنےکےبعد کلکتہ میںرہائش اختیارکی ہفتہ واراردوالہلال کی اشاعت شروع کی حکومت طرف سےزیادتی ہوئی۔ پھرالبلاغ شروع کیا اسی دوران گرفتار بھی ہوئے پھرعلی برادران کےساتھ رحائی ہوئی بعد میں گاندھی جی کےزیرِقیادت کانگریس میںشامل ہوئے۔ پہلےتحریک خلافت کےشامل ہوئےاور پھرغیرمعاونوں کےہم کارکن بنے۔ 1922-1921میں دیش بندھو داس کےساتھ قید ہوئے۔ 1923میں دلّی میں کل ہند کانگریس کےخصوصی اجلاس کے صدربنے۔ نمک احتجاج اور1932میں ۔۔۔ احتجاج کےسلسلے میں کئی بارجیل گئے۔ 1930میں کارگذارصدر بنے۔ بیس سال سےزیادہ وقت تک کارگرتنظیم کےصدربنے رہے۔1940میں رامگڑھ میں کل ہند کانگریس کےصدراور 1946تک اس منصب پرقائم رہے۔ آگےچل کربحیثیت مسلم مذہبی قائداورمفکرکےجانےگئے۔ پائےکےمصنف اورمقرر۔ 9 اگست 1942کو گرفتارہوئےاوراحمد نگرقلعےمیں نظربند ہوئے۔ آخری حکومت اور ہندستانی عارضی حکومت میں 1947میں وزیرتعلیم بنے۔ ایسے کانگریسیوں کواسمبلی ہاؤس میں داخلےکی اجازت جن پر‘کاؤنسل‘میں داخلےکےسلسلے میں کوئی مذہبی یا اخلاقی اعتراض نہ ہوں۔ کاؤنسل میں داخلےکے سلسلےمیںسارے اشتہارپرروک۔ کارآمد پروگرام کی طرف سےمزید کوششیں۔ کھادی لاکرغیرملک کےکپڑے کی مخالفت کی گذارش۔ شہری چوکیداروں کو تیار کرنا اورصحت عامہ پر زوردیاگیا۔ ہندستانی کارخانوں کی حوصلہ افزائی کرنےکی سب سےمناسب طریقوں کواستعمال کرنےکیلئےایک تنظیم۔ آئین میں تبدیلی کیلئےتنظیم بنائی گئی۔ ناگپور پرچم احتجاج کواسکی کامیابی پرمبارکباد۔ مذیبی فساد کےمعاملےسےمتعلق اطلاع دیتے وقت پریس کوصبراور احتیاط برتنےکی تنبیہ۔ مہاراج نابھا بلاتو عہدہ سےاستعفی دینےکی مزمت۔ جاپان کے زلزلہ متائثروں کیلئےاور بہار، کنارہ اور برما میںسیلاب زدہ لوگوں سےہمدردی کا اظہار۔ قیدیوں، خاص کر لالا لاجپت رائےاور مولانا محمد علی کی رحائی کا استقبال۔ کینیا کا غصّہ موضوع بحث۔ چالیسواں اجلاس بلگام، 1924 صدر، مہاتما گاندھی صدراستقبالیہ تنظیم، گنگادھرراؤدیش پانڈے جنرل سکریڑی، صاحب قریشی، بی۔ ایف۔ بھروچ، جواہرلال نہرو شرکاء۔ 1844 گاندھی جی پیدایئش2 اکتوبر1869کو ہوئی۔ بمبئی میں تعلیم حاصل کرنےکے بعد جنوبی افریقہ سےبیرسٹرکی سند حاصل کی۔ بوارجنگ اورجولوبغاوت کےدوران ایڈین ایمبولینس کی قیادت۔ جنوبی افریقہ میںستیہ گرہ اورگاندھی سیمٹرس معاہدہ۔ ستیہ گرہ اورچمپارن احتجاج۔ 1020کےبعد کانگریس کےبغیرکسی مخالفت کےقائد چنےگئے۔ مارچ1922میں گرفتار اور6 سالوں کی قید۔٤ فروری1924کورہا ہوئے۔ مذہبی اتحاد کیلئے21 دن کا انشن۔ 1924میں بلگام میں کل ہند کانگریس کی صدر۔ آئندہ 6 سالوں تک مثبت پروگرام۔ اپریل 1030میں نمک ستییہ گرہ کا اجرا جنوری 1932میں گرفتاری۔ مذہبی منافرت کے فیصلےکے خلاف امرن انشن۔ فیصلے میں ترمیم 1933میں رہا۔ ہریجن سیوک َسنگھ کا قیام۔ 1934میں کانگریس سےعلیحدہ لیکن کانگریس کےبغیرمخالف قائد بنے رہے۔ بہارزلزلہ متائژوں کی راحت کیلئےکام۔ راجکوٹ کا سانحہ اور1939میں انشن۔ 1940میں ذاتی طورپر ۔۔۔۔ احتاج شروع۔ 1942میں‘‘ہندستان چھوڑوتحریک‘‘9 اگست1942 کوگرفتاراورنظربند۔ فروری1943میں21 دن کا انشن۔ فروری 1944میں نظربندی کےدوران شریک حیات کستوربا کا انتقال۔ مئی 1944میں رہا۔ گاندھی جناح گفتگوکا دور۔ فساد میں راحت کیلئےنوآکھلی اوربہار کا دورا۔ ملک کےبٹوارےکے منصوبہ کی مخالفت لیکن ملک کو ماؤنبیٹن کے منصوبے سےمتفق ہونے کا مشورہ۔ کلتکہ میںمذہبی فساد بھڑک اٹھے اور بعد میں دلّی میںبھی۔ اس دورکا سب سے بڑے قتل وغارت گری سےنام سے مشہور۔ نومبرمیں کل ہند کانگریس تنظیم کے ذریعہ داس نہرو معاہدے کاخلاصہ۔ اسی کےمد نظر کانگریس رائےدہی میں تبدیلی۔ غیریقینی اورویکوم ستیہ گرہ پرتجویز۔ حاصل شسدہ تجویزوں کےذریعہ اکالی احتجاج۔ شراب اورافیم کی خفیہ تسکری پرغور۔ کوہال سےہندؤں کےبھاگنےکی مزمت اورکوہات کے مسلمانوں سےاپنےہندوبھائیوں کی جان مال کی پوری حفاظت کا بھروسہ اورہندوپناہ گزینوں کوواپس نہ جانے کا مشورہ صرف کوہات کےمسلمانوں کےذریعہ دعوت پرہی وہاں جانے کا مشورہ۔ نظام کی ریاست گلبرگ میں غم زدہ لوگوں کیلئے ہدردی جتائی۔ سال کے واقعات سوراجوادی مرکزی اسمبلی سےدستبردار۔ لگاتارستت ایک سمان،رکاوٹ اورنہیں۔ گاندھی جی کا جنوبی ہند کا دورا۔ ویکوم ستیہ گرہ کا اختتام۔ شرون کورعہدیداروں کےساتھ گاندھی جی کا معاہدہ۔ فرید پورکا صوبائی جلسہ۔ دیش بندھوکا تعاون کیلئےتجویز۔ لارڈ ریڈنگ کاانگلینڈ کا سفر۔16جون کو داس انتقال کرگئے۔ 16اگست کو سریندرناتھ بنرجی کا انتقال ہوگیا۔ اسکین کمیٹی میںنشست لینے کیلئے مرکزی اسمبلی میں پنڈت موتی لال نہرو کی تجویزکو منظوری۔ ڈاکڑسہروردی کا سوراج پارٹی سے استعفی۔ وٹھّل بھائی پٹیل اسمبلی کےصدرمقررہوئے۔ بنگال میںسوراجوادیوںمیں اختلاف۔ 21ستمبر کو پٹنہ میں کل ہند کانگریس تنظیم کی نشست۔ اکتالیسواں اجلاس کانپور، 1925 صدر، محترمہ سروجنی نائڈو صدراستقبالیہ تنظیم، ڈاکڑمرتی لال جنرل سکریڑی، ایم۔ اے۔ انصاری، اے۔ رنگا سوامی آینگر، پنڈت ستنام شرکاء۔ 2688 محترمہ سروجنی نائڈو کی پیدائش1879میں ہوئی۔ انہوں نےاپنی تعلیم حیدراباد اورکیمبرج میں مکمل کی۔ برطانیہ میں نظموں کےحصوں کی اشاعت ہوئی جن کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیاگیا۔ 1914میں رائل سوسائیٹی آف ادب کی فیلو۔ وہ خود بنگالی برہمن تھیں لیکن نہوں نے مدراس کے غیر برہمن سےشادی کی۔ 1915میں کل ہند کانگریس میں شامل ہونیں۔ 1920میں انگلینڈ گئیں اور اشتہارکیا۔ کینسر ہند طمغہ حکومت کو واپس کردیا۔ کانگریس کی کارگرتنطیم کی رکن بنیں۔ شمالی افریقہ اورکینیا کا سفرکیا۔ کانگریس کےطرف سےانکےکارناموں کی تعریف کی گئی۔ 1925میں کل ہند کانگریس کی صددربنیں۔ 1928میں امریکہ کا سفراوروہاں تقریر۔ نمک ستیہ گرہ میں شامل اورپھرگرفتار۔1931میں کانپورمیں گول میز کانفرنس میں شرکت۔ 1932میں کانگریس کی کارگذارصدر۔ پھرگرفتارہوئیں۔ خواتین تحریک سےوابسطہ۔ بذاتِ خود ۔۔۔۔ احتجاج میںستیہ گرہ کا مشورہ۔ پھرگرفتارہوئیں لیکن صحت خراب ہونےکی وجہ کروقت سے پہلے ہی رہاہوگئیں۔ 9 اگست1942کو پھرقید کرلی گئیں اورآغاخاں محل میں گاندھی جی کےساتھ نظربند کردی گئیں۔ 1943میں گاندھی جی کےمشہور انشن کےدوران انکی خدمت۔ خراب صحت کی وجہ سے جلد رہا ہوگئیں۔ 1947میں ایشائی رشتہ ہورہے جلسہ کی صدراور آئینی سبھاکی رکن۔ 1947میں اترپردیش کی کارگذار گورنربنیں۔ جنوبی افریقہ گئےوفد کا استقبال کیاگیا۔علاقےکا تحفظ اور۔۔۔۔اندراج کےمسودے1914میں پیش ہوئے۔ گاندھی سیمڑس معاہدے کی نافرمانی کا اعلان کیا۔گیا اورگفتگو کرنے کیلئے گول میز اجلاس کا مشورہ دیا گیا۔ بنگال حکم نامے کی مزمت۔ غیر برمی جرم ۔۔۔ کا خاتمہ۔ اور برمہ کےسمدری سفر پر لگےٹکیس کی مزمت۔ احتجاج پرمکمل اعتقاد جتایا۔ تفصیلی کارگرپروگرام کی منظوری۔ سوراج پارٹی کی مانگوں کاموازنہ اورمانگیں منظورنہ ہونےپرکاؤنسل سےسوراجوادیوں کےنکل ہٹ جانے کی مانگ۔ ہندستانی کانگریس کی زبان مطئین۔ کل ہندکانگریس تنظیم کاخارجی شعبہ کھولنےکی تجویز۔ سال کے واقعات اسمبلی کے اجراکےوقت لارڈ ریڈینگ کی مساواتی تقریر۔ دلّی میں کل ہند کانگریس تنظیم کی نشست۔ کانپور کانگریس کےفیصلےکی تصحیح۔ سیوادل اورغیرملکی اشتہارکیلئےرقم منظور۔ اسمبلی میں پنڈت موتی لال اورلالا لاجپت رائےکےدرمیان بحث۔ بمبئی میں انڈین قومی پارٹی کاوجود۔ اپریل میں سابرمتی میںسوراجوادیوں اورناقدوں کےدرمیان معاہدہ جلسہ۔ سابرمتی معاہدہ نامنظور۔ موتی لال انگلینڈ روانہ۔ ان کی جگہ پرجناب شرینیواس آینگرلیڈربنے۔ کلکتہ میں 6 ہفتے تک خوفناک ہندو مسلم فساد۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کےمتعلق ہلٹن ینگ کمیشن کی رپورٹ۔ اگست میںشائع۔ نومبر میں عام انتخاب۔ تاملناڈواورآندھرامیںمرکزی اسمبلی کیلئےجن نشست کیلئےانتخاب ہوئےان سبھی پرکانگریس کامیاب ہوئی۔ یو۔ پی۔ کانگریس میں کانگریس کے اختلاف بڑھکر بنگال تک پہئچے۔ سوامی شردھانند سرسوتی کی ایک مسلم کے ذریعہ قتل۔ بیالیسواں اجلاس گوہاٹی،1926 صدر، ایس۔ سرینیواس آینگر صدر استقبالیہ تنظیم، ٹی۔ آر۔ فوکُن جنرل سکریڑی، ڈی۔ ایم۔ اے۔ انصاری، اے۔ آر۔ سوامی، آینگر، پنڈت ایس۔ بی۔ جی۔ پٹیل شرکاء۔ 300 1874میں ایس۔ سرینیواس آینگرکی پیدائش ہوئی۔ شروعات وکالت سےکی اورجلد ہی بار کےلیڈر بن گئے۔ بعد میں مدراس ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل بنے۔ 1916-1912کےدوران مدراس سینٹ کےرکن بنے۔ 1916سے1920کےدوران مدراس شوشل ریفارم کےصدررہے1916سے1920تک ایڈووکیٹ جنرل ۔ 1921میں سی۔ آئی۔ ای۔ کاخطاب واپس کردیا۔ کاؤنسل کی سیاست سےاستعفی دیدیا۔ تاملناڈو صوبائی کانگریس تنظیم کےصدر بنے۔ مرکزی اسمبلی کیلئےمنتخب ہوئے۔ 1926میں گوہاٹی میں کل ہند کانگریس کےصدرمقررہوئے۔ مرکزی اسمبلی میںحزب مخالف نائب رہنما منتخب ہوئے۔ کئی سالوں تک کانگریس کی کارگذارتنظیم کےرکن رہے۔ سائمن کمیشن کےخلاف احتجاج میں اہم کرداراداکیا ‘انڈیپنڈنس آف انڈیالیگ‘ شروع کیا اور آزدی کے سوال پر نہرو ریپورٹ سے اختلاف ۔ 1930میں سماجی زندگی سے سبکدوش۔ 1941میں انکا انتقال ہوگیا۔ پریشدوں میں کام کےمتعلق اہم تجاویز۔ حب الوطنی کی مانگ کیلئےجب تک حکومت اطمئنان بخش رائےظاہرنہیں کرتی،کانگریسی لوگ وزارت کے عہدےاوردوسرےعہدوں کوقبول نہیں کرینگے۔ وہ تقرری خارج کردینگےاوربجٹ کوپھینک دینگےاورقانونی کارروائی کیلئےان سبھی تجاویزکونامنظورکردینگےجن سےحکمران اپنی طاقت کومضبوط کرنےکی سفارش کرتے ہیں۔ حالانکہ ان تجاویزکوپیش کرنےاوران اپائےکوشروع کرنےیاحمایت کرنےکی اجازت دیجائیگی جن سےقومی زندگی کی صحت،ترقی،ملک کےحقوق کی ترقی اورشہری آزادی کی حفاظت اورحکمرانی کو ختم کرنےکا انتظام ہو۔ گاندھی جی اورمولانا محمدعلی کےذریعہ سوامی شردھانند کوعقیدت پیش کیا۔ کینیا میں ہندستانی نژاد کےبسےلوگوں کے خلاف بھید بھاؤکی مزمت۔ بنگال میںنظربند لوگوں نبرد آزمائی کیلئے فوری قانون کی مزمت۔ ہندو، مسلم اتحاد، گرودوارا قیدیوں اور بنگال نظربندوں کے سلسلے میں تجاویز۔ سال کے واقعات مرکزی اسمبلی میں سوراوادیوں اور راشٹروادیوں کا میل۔ بجٹ کا سارا انودان پھینک دیا گیا۔ وینیمئےمعاملوں پرحکومت بال بال بچی۔ جنوبی افریقی ہندستانی مسئلے کا حل اور اختیار عزت مآب وی۔ ایس۔ سرینیواس شاشتری ہندستانی ایجینٹ کی حیثیت سے جنوبی افریقہ روانہ کئےگئے۔ بمبئی میں کل ہند کانگریس تنظیم کے ذریعہ مذیبی منافرت کو حل کرنےکی کوشش۔ سبھاش چندربوس چارسال کی قید کےبعد رہا ہوئے۔ خطرناک مذہبی فساد۔ 27 اکتوبرکو بمبئی میں کانگریس کے ذریعہ جلسہء اتحاد کاانعقاد۔ شرینیواس آینگر صدر۔ منافرتی نسخہ۔ 5 نومبر کو وائسرائےکےذریعہ اہم سیاست داں کو مدعوکیا۔ گاندھی جی کی بھی وائسرائےسے ملاقات۔ سائمن کمیشن کا اعلان۔ ہرجماعت کیطرف سےاسےصرف بہانا کہ کر مزمت۔ سائمن کمیشن کے خلاف سبھی جماعتوں کو اعلانیہ ۔ تینتالیسواں اجلاس مدراس،1927 صدر، ڈاکڑ ایم۔ اے۔ انصاری صدراستقبالیہ تنظیم، مُتّھورنگا مُودالیار جنرل سکریڑی، شعیب قریشی، جواہرلال نہرو، سبھاش چندربوس شرکاء۔ 2604 1880میں ڈاکڑ ایم۔ اے۔ انصاری کی پیدائش ہوئی۔ پہلےالہٰ آباد پھرڈھاکہ میں تعلیم حاصل کی۔ 1901میں ایڈینبرگ یونیورسیٹی میں داخل ہوئے اور ڈاکڑی کی ڈگری لینے کے بعد چارنگ ہسپتال میں ہاؤسسرجن بن گئے۔ رسیڈنٹ میڈیکل افسرلاک ہسپتال اورسینٹ پیڑس اسپتال،لندن میںمشیر علاج۔ یورپ میں د س سال کے بعد ہندستان واپس آگئے1913-1912میں ترکی میں کل ہندعلاج مشن کا انعقاد۔ 1918-1917میں ہوم رول(داخلی اقتدار)احتجاج میں بڑھ چڑھکرحصہ لیا۔ 1920میں کل ہند کانگریس مسلم لیگ کےصدر۔ خلافت اورغیرتعاون احتجاج کےاہم لیڈر۔ 1922میں گیا میںخلافت اجلاس کےصدر۔1927میںمدراس میں ہندستانی قومی کانگریس کےصدر۔ نمک ستیہ گرہ اورباہمی مفاہمت احتجاج میںحصہ لیا اورپھرگرفتار ہوگئے۔1933میں کانگریس پارلیمنڑی بورڈ کےصدر۔ پارلیمنڑی پروگرام کوکانگریس کےذریعہ منظورکئےجانے کیلئےخاص طورسےقابل ذکر۔اپریل 1935میں صحت اچھی نہ رہنے کیوجہ کر فعال سیاست سے علیحدگی ۔ 1936میں انکا انتقال ہوگیا۔ ‘ہرسطح اورہرحال میں‘سائمن کمیشن کی مخالفت کیلئےاہم تجویزجاری۔ الگ تجویزمیں کانگریس کاخاص نکتہ بیان کیاگیا‘‘ہندستانی لوگوں کا مقصدقومی آزادی ‘‘محترمہ اینی بیسنٹ نے بھی آزادی کی تجویزکی حمایت کی۔ کارگذارتنظیم کو یہ اختیاردیدیا گیاکہ وہ دوسری تنظیموں سے گفتگویا حمایت کرسکتی ہےاورآئین کا خاکہ تیارکرسکتی ہےاوراسے کارگرکرنےکیلئےمخصوص اجلاس کےسامنےپیش کرسکتی ہے۔ ایک تجویزمیں جنگ کےخطرے کی تنبیہ۔ اعلان کیا گیا کہ ہرشخص کا یہ فرض ہوگاکہ کسی بھی شہنشاہی جنگ میںحصہ لینےاورکسی بھی طریقےکےساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیں۔ جنرل اواری کو ستیہ گرہ اور انشن کیلئے مبارکباد۔ ہندستان سے برما کوالگ کرنے کی تجویز کی مخالفت۔ نظربندوں کی رہائی کی مانگ۔ سامراجواد، چین، پاسپورٹ دینے سےانکاربرطانوی سامان کی مخالفت، ہندو،مسلم اتحاد، پاسپورٹ دینے سے انکار۔ افریقہ میں ہندستانی اور آراجک قانون کےخلاف لیگ پرتجویز۔ سال کے حادثے 3 فروری کوسائمن کمیشن کا بمبئی کا رخ۔ ملکی پیمانےپرہڑتال۔ مدراس میں گولی چلی۔ کلکتہ میںطلبہ پولیس کےدرمیان جھڑپ۔ 7 فروری وائسرائےکوسائمن کاخط سات رکنی ہندستانی وفد کیلئے تجویز جو تعاون کرے۔ اسمبلی میں لالا لاجپت رائےکےذریعہ سائمن مخالف تجویز۔ سفارش جاری۔ مشہور‘نائٹ‘ خطاب سے منسوب لوگوں کے ذریعہ بمبئی میں سائمن کمیشن کی مخافت۔ دلّی میں باہمی اتفاق کےجلسہ میں آئین کا خاکہ تیار کرنے کیلئے موتی لال نہرو کی صدارت میں تنظیم عمل میں آئی۔ بلّبھ بھائی پٹیل کی قیادت میں باردولی ستیہ گرہ۔ باردولی ستیہ گرہ کامیاب رہی۔ بلومفیلڈ تفتیش۔ نہروکمیٹی کے ذریعہ ریپورٹ پیش۔ ۔۔۔۔۔۔اسمبلی میں پیش لیکن صدرکی رائے کےذریعہ نامنظور۔ بھگت سنگھ نےمرکزی اسمبلی میں بم پھینکا۔ شرینیواس آینگرکےذریعہ‘انڈی پنڈنس آف انڈیالیگ‘شروع۔ لاہورمیں لالاجی پرلاٹھی چارج۔ چوٹ لگنےسےانکی موت ہوگئی۔ لاہورمیں پولیس سپریٹنڈنٹ سنڈرس کوکسی نےگولی ماردی جس سےانکی موت ہوگئی۔ نوجوان احتجاج میں تیزی آئی۔ پورےملک میں گرفتاریاں۔ چوالیسواں اجلاس کلکت،1928 صدر، پنڈت موتی لال نہرو صدراستقبالیہ تنظیم، جے۔ ایم۔ سین۔ گوہا جنرل سکریڑی، ایم۔ اے۔ انصاری اور جواہرلال نہرو شرکاء، 5221 نہرو ریپورٹ پر خاص تجویز۔ دوسال کیلئے ڈومینیم کا درجہ دینےکونہرو ریپورٹ منظورکرتے ہوئے گاندھی جی نے ایک تجویز پیش کی مکمل آزادی کے اردے کو دہراتے ہوئے ایک ترمیم جواہرلال نہرو کے ذریعہ پیش۔ معاہدہ فارمولہ تیار۔ برطانوی حکومت کو الٹیمٹم کہ وہ ایک سال کے اندر نہرو ریپورٹ منظورکرےاوراگرحکومت ایسا نہیں کرتی ہےتوستیہ گرہ کا دورشروع کرینگے۔ مکمل آزادی کیلئےاشتہارجاری رکھنےکا فیصلہ۔ سال کیلئےکارروائی کا تفصیلی پروگرام جاری۔غیرممالک میں دوستوں کےذریعہ مبارکبادی تبادلہ۔ پین ایشائی فیڈریشن قائم کرنےکاخیال۔ جنگ کےخطرے کےبارےمیں مدراس تجویزکودہرایاگیا۔ باردولی ستیہ گرہ کی کامیابی پربلّبھ بھائی پٹیل کومبارکبادی۔ ہندستانی ریاستوںمیں قائم مقام حکومت کے قیام کی مانگ۔ لاہورمیں پولیس کےذریعہ دبش اور تلاشیوں کے متعلق تجویز۔ برطانوی سامان کی مخالفت سامراج واد کے خلاف لیگ کی مہم۔ کانگریس پنڈال میں 50,000 مزدوروں، کسانوں کا جلوس، انہوں نے قومی پرچم کو سلام کیا اور آزادی کی حمایت کی۔ سال کے واقعات کانگریس کےپروگرام کو موئژ شکل دینے کیلئے نائب تنظیم مقرر۔ مارچ میں گاندھی جی کلکتہ میں گرفتاراورغیرملکی کپڑے جلانے کے الزام میں ان پر ایک روپئے کا جرمانہ۔ گاندھی جی برما اور آندھرپریش کے دورے پر۔ بمبئی، پنجاب، یو۔ پی۔ میں گرفتاریاں۔ بعد میں میرٹھ کانپریسی واقعہ۔ صدرپٹیل نے اس بات سے انکار کیا کہ میرٹھ واقعہ کی وجہ کر عام تحفظ بل لایا جارہا ہے۔ کیونکہ معاملہ عدالت میں زیرِغورتھا۔ کل ہند کانگریس تنظیم کی بمبئی میںنشست۔ کانگریس کی دوبارہ قیام کی تجویز۔ سامرجواد کےخلاف لیگ کے کانگریس میں ہندستان کی قیادت کرنےکیلئے شیوپرساد گپتا مقررہوئے۔ سماج کی موجودہ اقتصادی معاشی اور سماجی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیوں کیلئے فیصلہ۔ بھگت سنگھ اور دت کوسزا۔ بمبئی کی ملوں اور بنگال کے پٹسن کارخانوں میں ہڑتال۔ لاہور کانسپریسی کےقیدیوں کی ہڑتال اور جیتندرناتھ داس کی شہادت۔ لاہور کانسپریسی معاملہ ۔۔۔ فینگی وجئیا کی شہادت۔ لیڈروں کے ساتھ لارڈ ارون کی گفتگو۔ وائس ریگل کی ریل گاڑی پر بم پھینکا گیا۔ پینتالیسواں اجلاس، لاہور،1929 صدر، پنڈت جواہرلال نہرو صدراستقبالیہ تنظیم، ڈاکڑ صیف الدین کچلو جنرل سکریڑی، سید محمد، شری پرکاش اور جئےرام داس دولت رام 1889میںصیف الدین کچلوکی پیدائش ہوئی۔ اعلی تعلیم کیلئے برطانیہ گئےاور وہاںسے بیرسڑکی ڈگری حاصل کی 1918میں ہوم لیگ کے سکریڑی بنے۔ اسی سال میں کل ہند کانگریس تنظیم کےرکن بھی بنے۔۔۔۔۔۔ 1921اور 1922میں جیل گئے۔ 1923میں کانگریس کےجنرل سکریڑی بنے۔ 1924میں الہٰ آباد نگرپالیکا کےصدررہے۔ 1926میں یورپ اور روس کا سفرکیا۔ 1927میں بوسلس میں دلت ۔۔۔۔ کےکانگریس میں شمولیت۔ مدراس کانگریس میں آزادی کی تجویز پیش کی۔ 1927میں کانگریس کےجنرل سکریڑی بنے۔ 1928 میںجھریا میں کل ہند کانگریس ٹریڈ یونین کانگریس کےصدر۔ انڈیپنڈنس آف انڈیا لیگ کے سکریڑی۔1929 میں لاہورمیں قومی کانگریس کےصدربنے۔ اپریل 1930میں گرفتارہوگئے۔ اکتوبر میںرہا اور پھر گرفتار۔ موتی لال نہرو کی موت، گاندھی ارون معاہدہ، یو۔ پی۔ کسان احتجاج کی قیادت۔ دسمبر1931میں پھرگرفتار۔ ڈھائی سال قید بامشقت کی سزا۔ اگست1933میں رہا۔ فروری 1934میں گرفتاراوردوسال کی سخت ترین سزا۔ ستمبر1935 میں رہا ہوئےاور بیمارپڑگئے،اسی حال میں کملا نہروکو دیکھنےجرمنی روانہ ہوئے۔ کچھ ہی دنوں بعد کملانہروکی موت ہوگئی۔ 1935میں لکھنئو میں قومی کانگریس کےصدردوبارہ بنے1937میں فیض پورکےاجلاس میں۔ 1936کےانتخاب میں کانگریس کی کامیابی کیلئےزوردار دورا۔1937میں کارگرتنظیم سےاستعفیٰ۔ فاسسٹ واد کےبڑےمخالف تھے۔ اسپینش ریپبلیکنوں کو تعاون کرتے۔ چین کاسفر۔ قومی منصوبہ کمیٹی کےصدر۔ نومبر1940میں چارسال کیلئے قیدبامشقت کی سزا۔ دسمبر1941میں رہا۔ کرپس کےساتھ گفتگومیں کانگریس کیطرف سےسفیر۔ 9 اگست، 1942میں گرفتار۔ احمداآباد قلعہ میں نظربند۔ 1946میںرہا۔ کل ہند کانگریس ریاستی اجلاس کےصدر،1947میں آخری حکومت کےپردھان۔ ہندستانی وزیراعلی اوروزیرخارجہ۔ 1947میں آخری بار دلّی میں ‘ایشاٹک ریلیشنس کانفرنس‘منعقد کیا۔ دنیا کےعظیم رہنما، نامورمصنف اپنی سوانح حیات‘ڈسکوری آف انڈیا‘جیسی کتابوں کےمصنف۔ سال کے حادثات۔ کارگرتنظیم کے ذریعہ 2جنوری کومکمل آزادی کےسال کا اعلان۔ پورے ملک میں جشن آزادی منائی گئی۔ گاندھی جی کےخاص گیارہ سُتر۔ سبھاش چندرہوس کوایک سال کی سزا۔ کانگریس کےسبھی ایم۔ ایل ۔اے۔ کا استعفیٰ۔ فروری میںسابرمتی میں کارگرتنظیم نےباہم احتجاج شروع کرنے کیلئے گاندھی جی کواختیار دیا۔ احمدآباد میں کل ہند کانگریس تنظیم کےذریعہ اجازت، ریجینالڈ رینالڈس کےتوسط سے گاندھی جی نےوائسرائے کو باخبرکیا 12 مارچ کوڈانڈی کیلئےکوچ۔ 6 اپریل کونمک قانون کی مانگ۔ پورے ملک میں نمک ستیہ گرہ۔ کانگریس صدرگرفتار۔ مداراس اور پیشاورمیں گولی چلی۔ لاٹھی چارج کرنا معمولی بات ہوگئی۔ کئی نئے فرمان۔ گاندھی جی گرفتاراور نظربند۔ مئی میں الہٰ آباد میں کارگرتنظیم کے ذریعہ باہمی احتجاج کا پھیلاؤ۔ کڈالا اوردھرسانا میں نمک پرچھاپے۔ مئی تک گولی باری کیوجکرمرنےوالوں کی تعداد 115 ہوگئی اورزخمیوں کی تعداد420. شولاپورمیں مارشل لاء۔ کانگریس تنظیمیں غیرقانونی کا اعلان۔ سلوکامبے انڑویو۔ ایک لاکھ سےزائد لوگ حراست میں۔ گول میز کانفرنس کے وفد کی واپسی۔ سپروجائکرگفتگو،گاندھی جی اورکارگرکمیٹی رہا۔ موتی لال کی وفات۔ گاندھی ارون معاہدہ اورعام معافی۔ بھگت سنگھ اورانکےساتھیوں کو پھانسی۔ چھیالیسواں اجلاس، کراچی، 1931 صدر، سردار بلّبھ بھائی پٹیل صدراستقبالیہ، ڈاکڑ چیت رام گڈوانی جنرل سکریڑی، سید محمد اور جواہرلال نہرو 1875 میں پیداہوئےاور‘پلیڈر‘کا امتحان پاس کرنے کےبعد گودھرامیں وکالت شروع کی۔ اسکےبعد برطانیہ گئےاور پھر وہاں سےبیرسڑبنّے کےبعد واپس آکراحمداآباد میں وکالت کرنے لگے۔ وکالت میں شاندارکامیابی ملی۔ 1916 میں گاندھی جی کے حمایتی بنے اور عوامی زندگی میں قدم رکھا۔ پہلے ‘کیرا‘ اوربعد میں ناگپورڈانڈی ستیہ گرہ کی وجہ کر بحیثیت قومی لیڈر کےمشہورہوئے۔ 1928-1927میں احمداآباد نگرپالیکا کےصدربنے۔ باردولی میںٹیکس نہیں،تحریک کی قیادت کی۔ نمک ستیہ گرہ میںحصہ اور1930میں گرفتار۔1931کراچی میں کل ہند کانگریس کمیٹی کےصدربنے۔ جنوری1932 گاندھی جی کے ساتھ گرفتار1818 کےقانون 3 کےتحت بغیرمقدمہ چلائے قید، جولائی 1934تک۔ کانگریس پارلیمانی کی نائب تنظیم کےصدربنے۔1939-1935تک کانگریس انتخابی امورکےمنتظم تھے،کانگریس امیدواروں کی کامیابی کیلئےخاص جوابدہ۔کانگریس میںخاص جنوب کےطرفدار۔ 1938-1939 میں راجکوٹ معاملےمیں ٹھاکرصاحب سے گفتگو۔ ہندستانی تحفظ بل 1940 کےتحت گرفتاراور نظربند۔ 1941میں رہا۔ 9 اگست کودوبارہ گرفتاراوراحمدابادقلعہ میںنظربند۔1947میں قائم مقام حکومت اورہند ستانی جماعت کےرکن رہے۔ صوبائی ریاستوں کو ہندستانی جماعت میں ملانےمیں اسمبلی اورخارجی شعبہ کے ساتھ مل کر قائد کا کرداراداکیا۔ بھگت سنگھ اوران کے حمایتیوں کی بہادری اور قربانی کی تعریف لیکن ساتھ ہی سیاسی نشدد کےمد نظرنا اطمئنانی جتائی گئی۔ بھگت سنگھ اور ان کےدوسرے ساتھیوں کی پھانسی کوانتقام کی اوچھی حرکت بتا کرمزمت کی گئی۔ سیاسی لوگوں کورہاکرنےکی حکومت کی اوچھی پالیسی کی مزمت ہوئی۔ گنیش شنکرطالبعلم کی قربانی کی تعریف۔ گاندھی ارون معاہدےمیں کانگریس کےنظرئےکواہمیت ملی۔ دوسرے گولمیزکانفرنس میں کانگریس کی قیادت کرنےکیلئےگاندھی جی کانام منظور۔ بنیادی حقوق پرتجاویز۔ ۔۔۔۔۔احتجاج کےمتائثرلوگوں مذہبی فسادوں،امن کےساتھ دھرنوں،سرحدی لوگوں،شمال مغرب علاقوں اورجنوبی اورمشرقی افریقہ میں ہندستانیوں کےسلسلےمیں دوسری تجویز۔ برماکوالگ کرنےکی مزمت مگرآزاد برما ملک کےاختیارکوقبولیت۔اجلاس کی قابل ذکربات یہ تھی کہ سرحدی علاقےسےبڑی تعداد میں خدائی خدمت گارلوگوںنےحصہ لیا۔ بغیرکسی شامیانےکےکھلےآسمان کےنیچے کانگریس کا اجلاس۔ بھگت سنگھ کی زندگی کی حفاظت نہ کرنے کیلئے کچھ نوجوانوں کے ذریعہ گاندھی جی کے خلاف کالےپرچم کا پردرشن۔ سال کے حادثے لارڈارون کی جگہ لارڈولینگڈن کی آمد۔ جون میں کارگرکیمیٹی۔ ہندستان کےہرحصےسے گاندھی ارون معاہدے کےردّ ہونےکی شکایتیں۔13اگست کوگاندھی جی کا لندن نہ جانےکا فیصلہ۔اگست میں کل ہند کانگریس تنظیم کےذریعہ بمبئی کےقایم مقام صدرکےقتل کی کوشش کی مزمت۔ چرکھےسےخالی زرد،سفید اورہرے رنگ کےنئےقومی پرچم کا فیصلہ۔ وائسرائے گاندھی، بلّبھ بھائی، جواہرلال اورپٹّابھی کی گفتگو۔ گاندھی امرسن معاہدہ۔ گاندھی جی برطانیہ روانہ۔ بلّبھ بھائی اورمولابھائی باردولی جانچ سے ہٹے۔ یو۔ پی میں زراعتی الجھن۔ سرحدی علاقےمیں حالات مزید خراب۔ 28 دسمبر کوگاندھی جی لندن سے واپس۔ جواہرلال، شیروانی اورٹنڈن گرفتار۔ خان عبدالغفارخان اور ڈاکڑخان صاحب کی گرفتاری۔ وائسرائے سے ملاقات کرنےکی گاندھی کی کوشش۔ ۔۔۔ کے بارے میں کارگرتنظیم کا فیصلہ۔ گاندھی جی اورکانگریس صدرگرفتار۔ خودمختارملک، لاٹھی چارج، جرمانے،ضبطی اور بڑے پیمانےپرگرفتاریاں۔ 1932 اور1933 اجلاسوں پر پابندی۔ 1932میں کانگریس کاغیرقانونی لیکن 1932میں دلّی میں اپریل میں کانگریس کااجلاس کیاگیا۔ پولس کی نگرانی کے باوجود500 سے زیادہ اراکین شامل ہوئے۔ منتخب صدرپنڈت مدنموہن مالویاکو راستے ہی میں گرفتارکرلیاگیا۔ چارتجویز جاری کئے گئے۔ جن میں کانگریس کا نشانہ مکمل آزادی، ۔۔ احتجاج دوبارہ شروع کرنےکی اجازت، گاندھی جی کی قیادت میں مکمل بھروسہ اورعدم تشدد پرمکمل اعتقاد، دوبارہ ضمانت کا حلف لیاگیا۔ سینتالیسواں اجلاس،کلکتہ،1933 صدر، محترمہ نلّی سین گپتا اپریل 1933میں کلکتہ میں ایک اجلاس تہذیب وتمدن کی روشنی میں منعقد کیاگیا۔ موتی لال پھرصدرچنےگئے۔ نلّی سین گپتا نےصدارت کی۔ شرکاء پر لاٹھی چارج اورگرفتاری ۔اجلاس میں 1932 کی تجاویزکو دہرایاگیا۔ 1932-33 میںحادثوں کا سلسلہ 1932-1933 میں دوسرا باہمی احتجاج۔ سخت مظالم کے باوجود احتجاج کارگر۔ برطانوی سامان کی بڑے پیمانے پرمخالفت۔ کئی جگہوں پر کرائے کی ادائیگی بند۔ 17اگست کو مذہبی منافرت کے فیصلے کےبارے میں ریمجےمیکڈونالڈ کا اعلان۔ آمرن انشن کرنے کا گاندھی جی کا فیصلہ۔ گاندھی جی میکڈونالڈ کےدرمیان مراسلہ ۔ 20 ستمبر سےانشن شروع۔ سبھی فرقے کے لیڈروں کا گاندھی جی کے ساتھ تبادلہ خیال۔ کئی مندروں اور عام جگہوں میں ہریجنوں کا داخلہ۔ 24ستمبرکوہریجنوں اورہندؤں کےلیڈروں اورکانگریسی لیڈروںنے یرود معاہدےپردستخط کئے۔26ستمبرکو انشن ختم۔ تیسرا گول میزکانفرنس۔ رائےعامہ مندرہریجنوں کیلئےکھول دئےگئے۔ ہریجن سیوک سندھ کا قیام اورہریجن ہفتہ واررسالہ شروع۔ 1933-34 میں سلسلہ وارحادثہ روحانی صفائی کیلئے گاندھی جی کےذریعہ21 دنوں کا انشن۔ کانگریس کی کارگذارتنظیم کی صدرمحترمہ اینی بیسنٹ کے ذرئعہ ۔۔۔ احتجاج چھ ہفتے کیلئے ملتوی کردیاگیا۔ 12جولائی کو پونا میں کانگریسی ورکروں کاغیرضروری اجلاس۔ گاندھی جی نے وائسرائےسےملاقات کی اجازت چاہی لیکن وائسرائے کیطرف سے انکار۔ ۔۔۔۔ احتجاج ردّ اور شخصی طور۔۔ احتجاج شروع۔ پہلی اگست کوگاندھی جی گرفتاراور ایک سال کی سزا۔ ہریجنوں کے کام کیلئے آسانی نہ دینے پر جیل میں انشن۔ 23اگست کورہا۔ اگست 1934تک ۔۔۔۔ سےالگررہنےکو فیصلہ۔ 20ستمبرکو محترمہ اینی بیسنٹ کی موت اور22ستمبرکو وٹّھل بھائی پٹیل کی موت۔ ہریجن کے مفاد کیلئےگاندھی جی نےہندستان کامثبت دوراکیا۔ بہارمیں زلزلہ اورراحت کا کام۔ 7اپریل کو ۔۔۔ احتجاج ردّ۔ ڈاکڑانصاری ڈاکڑبی۔ سی۔ رائےاور ستیامورتی نے مل کر سوراج پارٹی کا قیام کیا۔ پٹنہ میں کل ہند کانگریس کمیٹی کی نشست۔ پارلیمانی پروگرام کی اجازت۔ سوراج پارٹی اب کانگریس کا اٹوٹ حصہ بنی۔ 17مئی کوپٹنہ میں کانگریس شوسلسٹ پارٹی کا پہلا اجلاس۔ پونامیں گاندھی جی پر بم پھینکا گیا۔ مخالفت کرنے والوں کےعدم تحمل کےخلاف گاندھی جی کا ایک ہفتہ کا انشن۔ اڑتالیسواں اجلاس، بمبئی،1934 صدر، بابو راجندرپرساد صدر،استقبالیہ کیمٹی، کے۔ پی۔ جریمن جنرل سکریڑی، جے۔ بی۔ کرپلانی سیدمحمود جئےرام داس دولت جناب راجندرپرساد کی پیدائش3 دسمبر،1884میں ہونی۔ نہایت ہی شاندارتعلیمی ریکارڈ کےمالک۔ 1914سے1916تک یونیورسیٹی لاءکالج کے پروفیسراور بعد میں پٹنہ باراکے لیڈر۔ پٹنہ یونیورسیٹی کے قیام کےبعد سے سینت کے صدر۔ 1917میں چمپارن زراعتی احتجاج میں گاندھی جی کے ساتھ تعاون۔ 1920میں اچھی شان وشوکت والی وکالت چھوڑدی۔ بہاریونیورسیٹی کے رجسٹرار۔ 1922میں گیاکانگریس کے استقبالیہ کمیٹی کے صدر۔ کئی سالوں تک بہارریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر۔ 1932-1930کےدوران نمک ستیہ گرہ اور ۔۔۔ تحریک میں شریک رہے اور کئی بارجیل بھی گئے۔ مسلسل کانگریس کی کارگرتنظیم کے رکن رہے۔ بہارزلزلہ میں راحت کا ساراکام انہیں کےسپرد تھا۔ اکتوبر1934میں بمبئی مین ہندستانی قومی کانگریس کے صدر۔ اہم جنوب کےطرفدار۔ کانگریس پارلیمانی نائب تنظیم کے صدر۔ 1939میں سبھاش چندرہوس کےاستعفی کے بعد کانگریس کے کارگذارصدر۔ ذاتی طور۔۔۔ ۔۔۔میں ستیہ گرہ کرنے کی تجویز۔ اگست میں گرفتاراور پٹنہ و ہزاری باغ میںنظر بند۔ انترم حکومت کے رکن۔ ہندستانی آئینی جماعت کےصدر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور زراعت کےوزیر۔ کرپلانی کےاستعفی دینے کے بعد نومبر1947میں کل ہند کانگریس کمیٹی کے دوبارہ صدرمنتخب۔ مہان ویدھان انڈیا ڈیوائیڈڈ اور کئی کتابوں کے مصنف۔ بہارغیرمعترض لیڈر۔ تفصیل ؛ کانگریس کا گولڈن جبلی اجلاس۔ پارلیمانی بورڈ کے متعلق اور پالیسیوں پر کل ہندکانگریس کمیٹی کےتجویز کی اجازت۔ جرائت مندانہ قربانیوں اورمختلف اذیتوںسےگذرنےپرقوم کومبارکباد۔ کل ہند دہی کارخانوں کا قیام۔ اے۔ آئی۔ ایس۔ اے۔ اور کل ہند گرام کارخانے(اے۔ آئی۔ وی۔ اے۔) کیطرف سےکانگریس احتجاجیوں کو منعقد کرنے کا فیصلہ اوریہ بھی طئےکیاگیاکہ یہ احتجاجی جلوس استقبالیہ تنظیم کےذریعہ منعقد نہیں جائیگی۔ کانگریس دستورمیں کئے گئے تجربوں کو موئژشکل دیاگیا۔ منتخب رکنیت کیلئے ۔۔۔ اورکھادی استعمال ضروری ہوگا۔ کانگریس کے اراکین کے تعداد زیادہ سے زیادہ 2000رکھنے کا فیصلہ۔ کل ہند کانگریس کمیٹی کے ممبروں کی تعداد کم کرکے آدھی کردی گئی۔ 500 ابتدائی ممبروں پرایک ہی رکن کے چنّےاور اس طرح ملک کے صحیح اراکین کے چنّے کا فیصلہ۔ گاندھی جی مانگ کی کہ امن کے ساتھ اورجائزطریقوں کی جگہ پرکانگریس کا خاص مقصد سچاّئی اورعدم تشدد رکھا جائےلیکن انکی مانگ پوری نہ ہوسکی۔ حیرت انگیز پروگرام،غیرممالک میںبسےہندستانی شہریوں کے حالات پر تجویز۔ گاندھی جی نے ابتدائی رکنیت سے استعفی دیدیا اورکانگریس سے سبکدوش ہوگئے۔ سال کے واقعات کل ہند گرام کارخانہ سندھ کا 26اکتوبر کو وجود۔ مرکزی لیجیسلیٹیوکیلئےعام انتخاب کانگریس انتخاب جیت کراکژیت میں۔ کانگریس پارٹی کی مرکزی اسمبلی میںبھی حیرت انگیزکامیابی۔ شیروانی اورگڈوانی کی موت۔ ہندستانی حکومت کےبنائےمسودےکوشاہی گارگزارتنظیم کےذریعہ قانوناً منظوری اور آئینی مجلس کےذریعہ آئین تیار کئےجانےکی مانگ۔اسمبلی میں اوٹوامعاہدے کی مزمت۔ کوئٹا میں زلزلہ۔ کل ہند کانگریس کمیٹی کےذریعہ راحت کے کام۔ کل ہندکانگریس کیمٹی کے ذریعہ ریاستی امورکیلئے کانگریس کا نظریہ جاری۔ کملانہرو کی موت۔ انچاسواں اجلاس، لکھنئو،1936 صدر، پنڈت جواہرلال نہرو جنرل سکریڑی، اچاریہ کرپلانی، جئےرامداس دولت رام تفصیل۔۔ شہید وطن پرستوں کی شہادت گاہ میں نذرانہ عقیدت۔ قیدیوں کومارکباد سبھاش بوس کی گرفتاری کی مزمت اورشہری آزادی کی موئژاور زوردار سرزنش۔ رومیا رولنکو جنگ اورفاشسٹ واد کےخلاف عالمی کانگریس کودعوت نامہ کیلئےشکریہ۔ کسی بھی سامرجوادی جنگ میں حصہ لینے پراحتجاج کرنے کا اعلان۔ ابسینیا کیلئے ہمدردی کا اظہار۔ یہ سمجھاگیا کہ ہندستانی حکومت قانوناً لوگوں پرمسلسل زیادتی اوراستحصال کررہی ہے۔ لیکن ریاستی ودھان منڈل کیلئےانتخاب لڑنےکیلئےکانگریس کا تہیہ۔ رابطہ عامہ پروگرام شروع ۔ غیرممالک میںرہنےوالے ہندستانیوں کیلئے ہمدردی۔ کل ہندزراعتی پروگرام کرنےکا فیصلہ۔ اعلان کیا گیا کہ ریاستوں میں کوششیں ریاست کےلوگوں کےذریعہ ہی چلائی جائیگی ۔ سال کے واقعات۔ سواگاؤںمیںقیام کرنےکی گاندھی جی کا اعلان۔ گاندھی اورامبیڈکرکےدرمیان گفتگو۔ ڈاکڑانصاری اورعبّاس طیب جی کی موت۔ کانگریس کا انتخابی اعلانیہ جاری۔ جواہرلال نہروکا زوردارانتخابی دورا۔ کانگریس مخالف جماعتوں کےذریعہ کانگریس کےخلاف متحدمحازقائم کرنےکی کوشش۔ کانگریس پارلیمانی بورڈ کےکام کی شروعات۔ پچاسواں اجلاس، فیضپور، 1937 صدر، پنڈت جواہرلال نہرو صدراستقبالیہ کمیٹی، شکرراؤ دیو جنرل سکریڑی، جے۔ بی۔ کرپلانی اور جئےرامداس دولت رام تفصیل ۔۔ اعلان کیاگیاکہ جنگ ختم کرانےکیلئےسامراجواد کو ختم کیا جائے۔ اسپینش جدوجہد میں برطانوی حکومت کی مداخلت کی مزمت اور اسپین کےلوگوں کو ہندستانی ہمدردی کا بھروسہ۔ برما کی زیادہ تر تنظیموں کی خواہشوں کے خلاف اوربرطانوی سامراجواد کے حقوق کو مدّ نظر رکھتے ہوئےبرما کو الگ رکھنےکا اعلان۔ مخصوص حصوںمیں ۔۔۔۔ کےپھیلاؤکیلئےکانگریسی ایم۔ ایل۔ اے۔ اور کل ہندکانگریس کمیٹی کے اراکین کےکل ہند جلسہ کے انعقاد کا فیصلہ۔ سال کے واقعات۔ گاندھی جی کا ۔۔۔۔ سفر۔ عام انتخابوں میں سے8 ریاستوں میں کانگریس کی کامیابی۔ مارچ میں کل ہندکانگریس کمیٹی نےعہدہ منظورکرنےکیلئے اختیار دیا لیکن تب تک منظورنہیں کئےجائینگے جب تک کانگریس اس بات سےمطمئن نہ ہوجائےکہ ریاستوں کےگورنرس اپنی مداخلت کےخاص اختیاروں کا استعمال کرینگے۔ انترم وزارتی وفد گورنرس کےذریعہ ضروری امید اور6 ریاستوں میں کانگریسی وزارتی وفد کا قیام ۔ مسلم لیگ کی جانب سے آزادی کے نشانہ کا اعلان۔ ہندو مہاسبھاکی طرف سے بھی آزادی حاصل کرنا مقصد۔ انڈمان کے قیدیوں اور بنگال کےنظربندوں کو معاملہ۔ بمبئی ودھان سبھا کےذریعہ مندراجلاس جاری۔ ریاستی منتری منڈلوں کےذریعہ مفید کام۔ سیاسی قیدیوں کی رہائی کےمعاملےمیں گورنر کی مداخلت کی وجہ کر یو۔ پی۔ اور بہارمیں وزارتی پریشانی۔ بعد میں پریشانی کا حل۔ اکیاونواں اجلاس، ہریپورا،1938 صدر، سبھاش چندربوس صدراستقبالیہ تنظیم، دربار گوپالداس دیسائی جنرل سکریٹی، جے۔ بی۔ کرپلانی سبھاش چندربوس کی پیدانش1857میں ہوئی۔انڈین سول سروس میںداخل مگرغیرتعاون احتجاج میںشامل ہونےکیلئے1921میں استعفی۔ 1921-1922میںدیش بندھوداس کےساتھ گرفتار۔1922-1924فارورڈ کےپربندھک۔1924میں کلکتہ نگرنگم اوربنگال ودھان منڈل پریشدکے رکن۔1924میں وینیم3 کےتحت گرفتاراور1927میں رہا۔ سائمن کمیشن کی مخالفت میں اہم حصہ۔1930میں کلکتہ کانگریس میںسویم سیوکوں کےجنرل آفیسروں کےکمانڈر۔1930میں کلکتہ میر کئی سال تک بنگال ریاستی کانگریس کمیٹی کےصدر۔ نمک ستیہ گرہ میںحصہ اورقید۔ 1932میں ملک بدرکی شکل میں اخراج مگررہا اورعلاج کیلئے یورپ جانے کی اجازت۔ 1938میں ہریپورمیں ہندستانی قومی کانگریس1939میںتریپورا اجلاس میں دوبارہ صدرمنتخب مگرکانگریس ہائیکمان کے ساتھ اختلاف کی وجہ سےاستعفی۔ فاورڈ بلاک کا قیام اور اسکا اجرا۔1940میں جیل میں رہتےوقت مرکزی اسمبلی کےرکن منتخب۔ صحت خراہونے کی وجہ کرجیل سےرہا۔26جنوری،1941سےاپنےکلکتہ کےگھرسےلاپتہ۔ چھپ کرجرمنی گئے اوروہاں سے بعد میںسابق مورچے پر۔ آزاد ہند حکومت اور آزاد ہند فوج کا قیام۔ جہاز حادثہ میں موت ہونے کی خبر۔ نیتاجی کے نام سے سب سےمقبول وطن پرست لیڈر کی حیثیت سےمشہور۔ تفصیل ۔۔ سفارشی فیڈرل اسکیم کی مزمت دہرائی گئی۔ قومی تعلیم اوربنیادی قومی تعلیم کییلئے کل ہند تعلیمی بورڈ مقرر۔اقلیتوں کےترقی کیلئے زیادہ سےزیادہ کوشش کی یقین دہانی۔ مدناپورمیں کانگریس تنظیموں پرپابندی کی مزمت۔ آسام کےگیدالوں کی رہائی کی مانگ۔ بہاراوریو۔ پی میں وزیروں کےاستعفی کے بارے میں اعلانیہ۔ منشورمیں کی گئی مقامی ریایتوں میںجدوجہد کانگریس کےنام پر نہ کئےجائیں۔ لیکن یہ یقین دلایاگیاکہ کانگریس ان لوگوں کا پوری پوری حمایت کریگی۔ اعلان کیاگیا کہ عام طورپر کسان جلسوں کی اجازت لیتے وقت کانگریس کےبنیادی اصولوں کےخلاف ہوئی کارروائیوںسےکانگریس اپنارشتہ نہیں رکھےگی۔ آئین کمیٹی کا قیام۔ غیرممالک میں،زنجبارمیںبسےہندستانیوںودوسروں کی مخالفت، سریلنکا،چین اورفلسطین میںبسے ہندستانیوں کے بارے میں تجویز۔ خارجی پالیسی کے بارے میں کانگریس کا نظریہ اور جنگ کی بات کو دہرایاگیا۔ سال کےواقعات۔ گاندھی جی کا شمال مغرب سرحدی علاقوں کا دورا۔ وسطی علاقےمیں وزارتی کشمکش۔ ڈاکڑ کھرے کا استعفی اوردوسرے وزیروں کی برخاستگی۔ کارگذارکمیٹی کےذریعہ ڈاکڑکھرے کی کارروائی کی مزمت اورکل ہند کانگریس کمیٹی کے زریعہ انکے خلاف تادیبی کارروائی۔ گاندھی جی کے ذریعہ وسطی علاقےکے گورنرکے کردارکی مزمت۔ ملکی ریاستوں کےمعاملےمیںمداخلت نہ کرنے کی بات دہرائی گئی۔ دلّی میں ریاستی وزیروں کا جلسہ۔ جواہرلال نہروکی صدارت میں مولا ناشوکت علی کی موت۔ سبھاش چندربوس اورڈاکڑ پٹّا بھی کےدرمیان صدارتی انتخاب۔ سبھاش کی کامیابی۔ اس پر ہریجن میں گاندھی جی کا تبثرہ۔ راجکوٹ میں ۔۔۔ احتجاج اوراسکی جگہ۔ گاندھی جی امن کی تحریک پرراجکوٹ روانہ۔ 3 مارچ سےامرن انشن۔ وائسرائےسےمداخلت کی مانگ۔ مورس گوائر رابطےکیلئےچنے گئے۔ 52 اجلاس تریپورا،1939 صدر، سبھاش چندرہوس صدراستقبالیہ تنظیم، سیٹھ گووند داس جنرل سکریڑی، جے۔ بی۔ کرپلانی تفصیل۔۔ سبھاش‘ اسٹریچر‘پرچڑھکر اجلاس میںحصہ لینے گئے۔ گووند بلّبھ پنت نے اہم تجاویز پیش کیے۔ گاندھی جی اورقدیم کارکارنی تنظیم کیطرف اپنے مکمل یقین کا اعلان اور گاندھی جی کی خواہش کے مطابق نئی کارکارنی کمیٹی منتخب کرنے کیلئے صدرسے گذارش۔ توفانی بحث۔ کثیر اکژیت سے تجویز پاس۔ حب الوطنی جدوجہد، اتحاد بڑھانے اورتوڑپھوڑ کی بٹوارے کی خواہش رکھنے والی طاقتوں کو ختم کرنےکیلئے تیار رہنے کیلئے سبھی کانگریسی تنظیموں سے گذارش۔ تنظیموں کو خوداعتماد بنانے کیلئے کانگریس کے دستور میں ترمیم کرنے کیلئے کل ہند کانگریس کمیٹی کو اختیار دئے گئے۔ برطانوی خارجی پالیسی سے اپنے کو الگ کرنے اور اس سے نا اتفاقی ظاہر کرنے کا فیصلہ۔ وفد کے اراکین کااستقبال۔ فلسطین کے واقعے و غیر ممالک میں مقیم ہندستانیوں کی حالت کے متعلق تجویز۔ سال کے واقعات۔ راجکوت کےمسئلہ پرگوائرکا فیصلہ۔ فیصلےکوچھوڑدینےکےبارےمیں گاندھی جی کااعلان۔ کلکتہ میں کل ہند کانگریس کمیٹی۔ توفانی منظر۔ سبھاش چندر بوس کےذریعہ صدر کےعہدے سےاستعفی۔ ان کی جگہ پرنبابورانندرپرساد منتخب پرانی کارگذارتنظیم دوبارہ، منتخب۔ راجکوٹ میں توڑپھوڑکی کارروائیوںپرگاندھی جی کیطرف سےمعافی نامہ۔21مارچ کوسبھاش چندربوس کےمعرفت فارورڈ بلاک کا اجرا۔ وردھامیں کارگذارکمیٹی کیطرف سےجنگ کےخطرےسےآگاہی۔ سبھاش کےخلاف تین سال کیلئے قانون کی خلاف ورزی کرنےپرکارروائی۔ مرکزی اسمبلی میں ہندستان کےحفاظت کےمتعلق قانون جاری۔ یورپ میںجنگ۔ وائسرائےسے گاندھی جی کی ملاقات۔ آٹھ ستمبرکووردھامیں کارکارنی کمیٹی۔ جنگ کی وجہ سےجو صورتحال بگڑی اس سے بچنے کیلئےایک کمیٹی مقرر۔ راجندر پرساد اور نہرو کےساتھ وائسرئے کی گفتگو۔ 9 اکتوبرکو وردھا میں کل ہند کاگریس کمیٹی۔ کارگزارکمیٹی کےنظرئے کی حمایت کی گئی۔ کانگریسی وزیروں کے ذریعہ استعفی۔ آئین ردّ ۔22 دسمبرکو وردھا میں سدھن مثبت کام کیلئے کارکانی کمیٹی کا اعلان وائسرائے سے گاندھی جی کی ملاقات۔ ترپنواں اجلاس، رام گڑھ، 1940 صدر، مولانا ابوالکلام آزاد جنرل سکریڑی، اچاریہ جے۔ بی۔ کرپلانی تفصیل۔۔ رامگڑھ اجلاس کےسامنےسب سے اہم سوال جنگ سےابھری پریشانی پرغوروفکرکرنا تھا۔ سبھی کا دھیان اپنی طرف متوجہ کرنے والے صرف اسی موضوع پر ایک تجویز پاس کی گئی۔ شدید بارش کی وجہ اجلاس وقفے وقفےسے چلا۔ اسی وقت میں عدم تشدد کےاصول کےساتھ لگاتار میل کھاتاہوا ہندستان کا فرض کیا ہونا چاہیئے۔ اس وقت تک واقعات کی رفتارمیں کافی بدلاؤ آگیا تھا پہلے ہوسال کےنعد اجلاس ہوتےتھے، رامگڑھ کانگریس کا اجلاس ان سےبالکل مختلف تھا۔ جنگل کےعلاقے سے جنگ کی بگل کی آوازیں سنائی پڑتی تھیں۔ رامگڑھ کی پہاڑیوں چوٹیوں، گھاٹیوں اوراس کی ندی نالوں سے ہوکر اس وقت بھی جنگ کے بگل کی آوازیں سنی جاسکتی تھیں جبکہ ادھر اجلاس چل رہا ہوتا تھا۔ رامگڑھ کا پہلا اجلاس تھا جوجنگ شروع ہون کےبعد ہوا تھا اوریہ ایک ایسا اجلاس تھا جواس دوران ہوتھا۔ اس میں لوگوں کاخاصدھیان اس بات کیطرف تھاکہ مصیبت &
|